کھیل کے میدان سے باہر کا کھیل: عثمان سہیل

0

حال ہی میں کرکٹ کے سابقہ کھلاڑی اور اب حزب مخالف کے ایک نمایاں سیاستدان جناب عمران خان نے پاکستان سپر لیگ کے لاہور میں منعقد ہونے والے فائنل میں شریک غیر ملکی کھلاڑیوں کا ذکر عامیوں کی بول چال کی زبان میں ‘پھٹیچر’ اور ‘ریلو کٹا’ جیسے الفاظ سے کیا۔ محمد حسین آزاد سے کے الفاظ میں اس طور کلام کرکے انہوں نے ایجاد کی ٹہنی میں ظرافت کےنئے پھول کھلائے۔ ازبسکہ روایتی اور غیر روایتی ہر دو طرز کے میڈیا میں اس بیان کا ایسا چرچا ہوا کہ جدھر دیکھو بچہ کیا بوڑھا اور جوان، مرد و زن سبھی اس بیان کا آپسی گفتگوؤں میں ذکر کرتے تھے۔ سٹاک ایکسچینج کی عمودی پرواز، پاک چین اقتصادی راہدی کی شاہراہیں اور عدالت عظمی میں پانامہ کا ہنگامہ سے لے کر دہشت گردی اور اور تزویراتی گہرائی جیسے سبھی موضوعات اسی بیان کی لہر میں بہ کر غرق ہوگئے۔  نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ ایک ہی بیان کے مضمون کو سو رنگ ڈھنگ سے باندھا گیا۔ دیس میں ہر جانب پھٹیچرون اور ریلو کٹوں کا اژدھام تھا۔۔

جیسا کہ ہر خاص و عام جانتا ہے ملکی و عالمی سطحوں پرہم ایک مربوط اور مضبوطی سے منظم سرمایہ دارنہ معیشت میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس نظام میں انفاس کو صارفین سمجھا جاتا ہے اور اسی طور پر ان سے معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس نظام میں آفاقی قدر اب ایک ہی ہے اور وہ ہے کاروبار کی قدر میں اضافہ۔ ہماری تعلم، ہمارا سلسلہ روز و شب یہاں تک کہ تفریح اور عادات بھی مخصوص سانچوں میں اس طور ڈھالی جا چکی ہیں کہ ‘کاروبار’ سلامت رہے، دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرے۔۔ اب ہم ورزش بھی کھلے میدان میں نہیں کرتے، اس کے لیے اندرون خانہ ورزش کے آلات و سہولیات مہیا کرنے والی دکانیں جابجا، شاہراہ تجارت پر کھلی ہیں۔ کاروباری تعلیم یافتہ لوگ جانتے ہیں کہ کاروبار کے مقاصد میں سب سے برتر کاروبار کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے بزبان انگلیشیہ to maximize shareholders’ wealth. اگرآپ اپنا کاروبار کرتے ہوں تو ذرا گردن جھکا کر دل میں جھانک لیجیے کس واسطے کرے ہیں۔

انجمن غفلت کے ممبران اگر تھوڑی دیر کیلیے عقل خوردبین کو صدر انجمن کر لیں تو کھیل کی دنیا میں در آنے والے کچھ نئے اجزا بھی نظر آنے لگیں گے جنہوں نے کھیل کی نامیاتی ماہیت میں کچھ جوہری تبدیلیاں برپا کردی ہیں۔ کھیل اب کھیل نہیں رہا بلکہ جب اس طرف نظر کرتے ہیں ایک کاروباری چیستاں کو نگاہ کےسامنے پاتے ہیں۔ بھلے وقتوں میں کھیل میں تین فریق ہوا کرتے تھے جن میں دو عدد متحارب کھللاڑی یا ان کی ٹولیاں اور تماشائی جبکہ تیسرا فریق منتظمین پر مشتمل تھا۔ آج ان میں کاروباری ادارے جن میں ذرائع ابلاغ، اپنی مصنوعات اور خدمات مہیا کرنے کے خواہشمند کاروبار، اشتہاری (ادارے) اور ان سب کے ساتھ کھیل پر جوا کرانے کے باقاعدہ اور بے قاعدہ ادارے بھی شامل ہوگئے ہیں۔ حال ہی میں ہمسایہ ملک میں نمائش کردہ فلم کے ایک مکالمہ نے دھوم مچا رکھی ہے۔ اس کا مرکزی کردار کہتا ہے ” کوئی دھندا چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا اور دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا”۔ اسی اصول پر کچھ ملکوں میں کھیل پر سٹہ کھلانے کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ میدان سے باہر بروئے کار آنے والے ان کھلاڑیوں کی وجہ سے کھیل ایک محض صحت مندانہ یا مسابقتی سرگرمی کے بجائے خالصتاً کاروباری نوعیت کا معاملہ ہو چکے ہیں۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی، فیفا (فٹ بال کی تنظیم) اور انٹرینیشنل کرکٹ کونسل کو باقاعدہ کاروپوریٹ ادارہ جات کی حیثیت حاصل ہے۔ جبکہ ممالک کی سطح پر ان اداروں کی رکن تنظیموں کو بھی حکومتی اثر و رسوخ سے باہر لانے کا کام کافی آگے بڑھ چکا ہے۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی ہدایت کے مطابق پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو جب سرکارِ بے سروکار کے کنٹرول سے باہر لانے کی کوشش کی گئی تو متعلقہ وزارتوں میں کھلبلی مچ گئی، وزیر اور بیوروکریٹ ڈٹ گئے۔ آخر سرکار کے خرچہ پر اولمپک مقابلوں دیکھنے اور غیر ملکی دوروں سے محرومی وہ کیونکر گوارا کرتے۔ معاملہ کئی برس عدالتوں، ٹی وی اور پریس میں چلتا رہا نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ پچھلے اولمپک مقابلوں میں ہمارے کھلاڑیوں کی شمولیت بھی خطرے میں پڑ گئی تھی۔ اس وقت ” امریکی فٹ بال” NFL میں شرکت کرنے والے کلب دراصل ایسے ادارے ہیں جن کے حصص کی بازار حصص میں باقاعدہ خرید و فروخت ہوتی ہے۔ بعینہ معاملہ فٹ بال (soccer) کلبوں کا ہے۔


کھیلوں کی عالمی تنظیموں کا بظاہر ایجنڈا یہ معلوم ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کی انفرادی کرپشن کو روکا جائے تاکہ ان کی اپنی منظم ہیرا پھیری میں فرق نہ آئے۔


سنجیدہ بات تو یہ ہے کہ کمرشل ازم کے اس دور میں جبکہ کھیل ایک صحت مند سرگرمی سے بدل کر خالصتاً کاروباری نوعیت کے ہو گئے ہیں قریب سبھی کھیلوں میں کاروباری نقطہ نظر سے کرپشن اور نتائج میں ہیر پھیر کافی عرصہ سے شروع ہے۔ فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا ہو یا آئی سی سی ان سب میں کاروباری مفاد کی اولیت اور کرپشن اب ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ فیفا پر مختلف ممالک میں تحقیقات جاری ہیں۔ ایک طرفہ تماشا یہ ہوا کہ بھارت میں سری نواسن جی کو نا اہل قرار دے دیا گیا تھا لیکن وہ کرکٹ کی عالمی تنظیم کا بدستور سربراہ رہے۔ کھیلوں کی عالمی تنظیموں کا بظاہر ایجنڈا یہ معلوم ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کی انفرادی کرپشن کو روکا جائے تاکہ ان کی اپنی منظم ہیرا پھیری میں فرق نہ آئے۔ کرکٹ کے کاروبار میں زیادہ آمدن پیدا کرنے والے ملکوں کی کھیل کے قوانین اور ضوابط پر بھی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔
کھیل کے کاروبار میں ایک تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ اس سے ملک میں معاشی اور پیداواری سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہوگی کہ کھیل کے کاروبار سے براہ راست جڑے ادارے جن میں ٹی وی چینل، اشتہار سازی کی صنعت اور فاسٹ فوڈ کے کاروبار میں نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آتی ہے۔ جوا بازی بھی عروج پر ہوتی ہے۔ لیکن مجموعی معیشت کو دیکھیں تو اس سے زرعی و صنعتی پیداوارمیں اضافہ ہونا محال ہے اور ایسی توقع رکھنا بعید از حقیقت۔ بیس کڑوڑ سے زائد آبادی کا حامل برازیل جنوبی امریکہ کا ایک بڑا ملک ہے۔ سنہ دو ہزار آٹھ کی عالمی کساد بازاری کی شروعات تک برازیل کی معیشت سالانہ چھ فیصد کی شرح سے آگے بڑھ رہی تھی۔ کساد بازاری کے بعد معیشت بحال ہو کر دوبارہ ساڑھے سات فیصد سالانہ تک پہنچی ہی تھی کہ اِدھر 2016 کے اولمپک کھیلوں کی تیاری نے عروج پکڑا اُدھر معیشت کی سالانہ شرح نمو سنہ دوہزار بارہ میں دو فیصد سے بھی گر کر دھول چاٹنے کے بعد دوہزار پندرہ میں منفی چار فیصد کی شرح سے زمین کے دھنستی نظر آتی ہے۔ انجام کار اگست 2016 کے اواخر میں اولپمک کھیلوں کے اختتام کے کچھ  بعد دن بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ماہر معیشت سیاستدان دلما روزیف اپنی دوسری مدت صدارت کے دس ماہ بعد بے آبرو ہو کر ایوان صدر سے رخصت ہوتی ہیں۔ آج برازیل میں مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اولمپک مقابلوں کے انعقاد پر بھاری اخراجات معیشت کے لیے ثمرآور ثابت نہ ہوسکے۔ اس صورتحال میں ناچیز کی رائے ہے کہ ہم غیر ترقی یافتہ معاشروں کو اس پر ایک حد سے زیادہ وسائل اور وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

About Author

عثمان سہیل باقاعدہ تعلیم اور روزگارکے حوالے سے پیشہ و ور منشی ہیں اور گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف کاروباری اداروں میں خدمات سر انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ ایک عدد زدہ مضطرب روح جو گاہے اعداد کی کاغذی اقلیم سے باہر بھی آوارہ گردی کرتی رہتی ہے۔دانش کے بانی رکن ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: