شکنتلا (ڈراما) اور فطرت کی قربتیں —– ظہور احمد

0

آج کے انسان کے برعکس ماضی کا انسان فطرت کے قریب تھا۔ فطرت کا مشاہدہ بھی اس قربت کی بنا پر بہت عمیق تھا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، انسان کے شعور نے ارتقا کی منازل طے کیں۔ مگر یہ ارتقا ماحول دوست ثابت نہ ہو سکا۔ انسان نے اپنی سہولیات کی خاطر ماحول کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ ہیروشیما پہ حملہ ہو یا اپنی طاقت کے اظہار کے لیے ایٹمی دھماکے یا پھر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، فطرت کو زخمی کیا گیا۔ دوسری طرف انسان نے اپنی معاشی ضروریات اس قدر بڑھا لیں کہ اسے فطرت کی طرف توجہ کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ اگر کوئی سیر کے لیے جاتا ہے تو وہ فطرت کو سرسری طور پر دیکھتا ہے۔ شہر کے شہر آباد ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ دیہاتوں میں کمی واقع ہورہی ہے۔ اور ہم فطرت کے نظاروں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ”ماحولیاتی تنقید“ ایک نیا مطالعہ ہے جس نے ادب اور طبعی ماحول کے مابین رشتوں کے مطالعے کو مدِ نظر رکھا۔ (۱) ماحولیاتی تنقید نے بشر مرکز فکر کو چیلنج کیا ہے۔ اس کے مطابق فطرت کے تمام افراد یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ انسان خبطِ عظمت کا شکار ہوا تو اس نے فطرت کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ اس نے چاہا کہ فطرت کو اپنے مطابق ڈھال لے، مگر یہ اس کی بھول تھی۔ نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ بے تحاشا بارشیں، طوفان، زلزلے اور اوزون کی تہ میں سوراخ۔ گلین اے لوّ نے درست کہا: ”ہمارا مقصد فطرت کی ایسی تجدیدِ نو نہیں کہ وہ انسان کے لیے موافق ہو، انسان کو فطرت کے موافق بنانا ہمار نصب العین ہے۔“(۲)

ماحولیاتی تنقید کے تناظر میں اردو ادب میں کیا تخلیقات ہمارے سامنے آئیں اس پر سیر حاصل گفتگو کی جاسکتی ہے۔ سرِ دست میرے سامنے ہندوستانی ادب کا ایک شاہ کارڈراما ”شکنتلا“ ہے۔ اردو ادب کے قارئین یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کہ کالی داس کا لکھا ہوا یہ ڈراما کلاسیکی حیثییت سے بے مثل ہے۔ اس کا انگریزی میں ترجمہ ولیم جونسن نے 1889 ء میں کیا تھا۔ (۳) 1801ء میں اس کا اردو میں ترجمہ کاظم علی جوان نے فورٹ ولیم کالج کے زیرِ نگرانی کیا تھا۔ (۴) میرے سامنے جو ترجمہ موجود ہے، اختر حسین رائے پوری نے کیا ہے۔ (۵) ڈرامے میں مجھے فطرت کے عناصرنظر آئے تو سوچا کہ اس پہ ماحولیاتی تنقید کے حوالے سے کام کیا جائے۔

راجا جب ہرن کا شکار کرتے ہوئے تپ بَن کی طرف جا نکلتا ہے تو فوراً قاری کا ذہن بَن نگاری(wilderness writing) کی طرف چلا جاتا ہے۔ بن نگاری میں ”صنعتی معاشرے کی شہری زندگی کے برعکس غیر آباد خطوں کی تصویر کشی کی جاتی ہے۔ “(۶) ڈرامے کی ابتدا میں گانے والی سوتر دھار کے کہنے پر گاتی ہے:”سرس کے پھولوں کو بہت نزاکت سے توڑ کر سندریاں کانوں کے لیے جھومر بنا رہی ہیں۔ ان کے زرتار کتنے حسین ہیں اور انھیں بھنوروں نے ابھی ابھی چوما ہے۔ “(۷) تپ بن میں انسان بس رہے ہیں، اور ان کا فطرت سے رشتہ قربت پہ مبنی ہے۔ اس مشاہدے کی گہرائی دیکھیے کہ انھیں بھنوروں کے بوسوں کا اندازہ بھی ہورہا ہے۔

راجا اور اس کا رتھ بان جب بن میں پہنچتے ہیں تو سادھو انھیں بتاتا ہے کہ رِشی شکنتلا پر آنے والی بپتا کی روک تھام کے لیے منت ماننے سوم تیرتھ گئے ہیں۔ راجا اسے بتاتا ہے:”سلوں کی چکناہٹ صاف بتارہی ہے کہ ان پر مالکنگنی کے پھل توڑے جاتے ہیں۔“(۸) انسان جس ماحول میں رہتا ہے تو وہ اس کی تمام اشیا سے مانوس ہوجاتا ہے۔ اس ماحول کی تمام اشیا اس کے لیے عام سی حیثیت رکھتی ہیں۔ اب اگر راجا کا مالکنگنی کے رس کے بارے میں یقینی اندازہ لگانا ہمارے لیے باعثِ حیرت ہے تو راجا کے لیے قطعاً نہیں ہے۔ مگر یہ کہنا بجا ہے کہ اس وقت کا انسان فطرت کے بہت قریب تھا۔ اس بات کو راعیانیت (pastoralism) کے ضمن بھی دیکھنا بعید از قیاس نہیں ہے۔ راعیانیت ”فطرت سے قربت اور فطرت کے براہِ راست مشاہدے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ “(۹)

فطرت کی قربت کی بنا پر اس وقت کا ادب بھی فطرت کے مظاہر کو تشبیہ اور استعارے کے طور پہ استعمال کر رہا ہے۔ جیسے راجا بن کی کنواریوں کو دیکھتا ہے جو بن کے پودوں کو پانی دے رہی ہیں تو کہتا ہے:”چمن کی بیلیں جنگلی بیلوں سے آنکھیں نہیں ملا سکتیں۔ استعارے کے استعمال نے اس ماحول کو اظہرمن الشمس کردیا ہے۔ اور فطرت کے مظاہر سے ادب کی خوب صورتی میں اضافہ کردیا ہے۔ شہری اور جنگلی زندگی میں بھی فرق واضح ہوگیا ہے۔

کرسٹوفرمینز حیوانات اور پرندوں کی زبان سیکھنے کو احسن عمل قرار دیتا ہے۔ (۱۱) تو دوسری طرف مظاہر پسندی (animism) اس بات کا قائل کرتی ہے کہ فطرت کے تمام مظاہر ذی روح ہیں۔ (۱۲) اگر چہ اسے اساطیری انداز میں دیکھا جا سکتا ہے مگر اب یہ ماحولیاتی تنقید میں اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ علامہ اقبال نے بھی سکوتِ لالہ وگل سے کلام پیدا کرنے کا کہا ہے۔ جب شکنتلا ڈرامے میں شکنتلا کا ذکر آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا پودوں سے بہناپے کا رشتہ ہے۔ (۱۳) اسی طرح اس کی سکھی اس سے کہتی ہے کہ پل بھر تم یہیں کھڑی رہو کیوں کہ تمھاری قربت پہ گمان ہوتا ہے کہ اس مولسری کو دل لگانے کے لیے ایک بیل مل گئی ہے۔ (۱۴) اس طرح جب شکنتلا رخصت ہورہی ہوتی ہے تو رِ شی سے کہتی ہے:”اچھے بابا!یہ ہرنی جو حمل کی وجہ سے کٹیا کے پاس سے آہستہ سے گزر رہی ہے، جب یہ بچے جن دے تو مجھے سندیسا بھیجنا۔ ان میں انسان اور فطرت کی دوستی کو بہت خوب صورتی سے آشکار کیا گیا ہے۔ آج کا انسان تو دیوارورں، سڑکوں اور اونچے اونچے محلات سے گفتگو کرتا ہے۔ اسے فطرت کے سامان کہاں میسر ہیں۔ اگر کچھ لمحات کے لیے اسے فطرت میسر آتی ہے تو بھی فطرت اور انسان میں اجنبیت در آتی ہے۔

ندی کے کنارے بیلوں کا کنج ہے۔ اور راجا، شکنتلا کی محبت میں گم اسے تلاش کرتا ہے۔ تو کہتا ہے”میں سمجھتا ہوں کہ وہ سیم تن ابھی ان ننھے پودوں کے جھنڈ سے گزری ہے، جن ڈنٹھلوں سے پھول توڑے گئے ہیں ا ن کے گھاؤ ابھی ہرے ہیں۔ اورجن سے پتیاں توڑی گئی ہیں ان کی کوروں پر اب بھی دود ھ کی بوندیں چھلک رہی ہیں۔ (۱۶) ایک طرف محبوب کا فراق ہے تو دوسری جانب فطرت کی قربت۔ عاشق اپنے محبوب کے راستوں کو فطرت کی مدد سے تلاش کررہا ہے۔ اس ڈرامے میں بشر مرکزیت (anthropocenterrism) کے عناصر خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ بل کہ فطرت کی معصومیت کی حفاظت کے مناظر ملتے ہیں۔ جب راجا اور رتھ بان تپ بن میں پہنچتے ہیں اور ہرن کا شکار کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کا مادھو انھیں کہتا ہے ”آشرم کا ہرن کشتنی نہیں ہے“۔ (۱۷) اور محبت کیا شئے ہے !کہ انسان کے سارے وجود میں انقلاب لے آتی ہے۔ جب راجا شکنتلا کی محبت میں مجذوب سا بن جاتا ہے تو سپہ سالار سے کہتا ہے: ”بھینسوں کو تالاب کے پانی میں ڈبکی لگانے دو۔ ہرنوں کو گھنی چھانو میں سبھا رچانے دو اور اتھلی جھیلوں میں جنگلی سوروں کو بے کھٹکے گڑھے کھودنے دو۔ “(۱۸) محبوب کا تصور اور اس کا فراق راجا کو بے کل کردیتا ہے۔ مگر یہ بے کلی فطرت کے لیے رحمت بن جاتی ہے۔ انسان کا تخریبی کردار یک لخت رک جاتا ہے۔ اور دل یہ کہتا ہے کہ فطرت کے دشمن کو راجا کی طرح کسی سے محبت ہو اور وہ اس کے فراق میں ہلکان ہوجائے۔ پھر اسے فطرت کے بے کس اور معصوم افراد پہ ظلم کرنے کا موقع نہ ملے۔ یہ المیہ (راجا کے لیے ہے) فطرت کے عاشقوں کے لیے طربیہ ہے۔

بن میں کھڑے ہوکر راجا شکنتلا کی باتیں سنتا ہے جو وہ سکھیوں سے کہ رہی ہوتی ہے کہ اسے راجا سے محبت ہوگئی ہے۔ اگر چہ وہ ہجر کے صدمے برداشت کررہا تھا، لیکن یہ الفاظ اس کے لیے حیات بخش بن جاتے ہیں۔ اس لیے وہ موسم کے تناظر میں تشبیہ لاتا ہے:”عشق نے درد دیا اور پھر اس کا مداوابھی دیا۔ جیسے ساون کا دن گھمس سے بے کل ہوتا ہے اور پھر کالی گھٹا لا کر چین بھی پہنچاتا ہے۔ “(۱۹) ماحولیاتی تنقید میں منظر نگاری کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ محدود قطعۂ زمین پر جلوہ افروز فطرت پہ بات کرتی ہے۔ (۲۰) موسم بھی کسی خاص علاقے کا اہم جزو ہے۔ ساون تو ہندی ادب کا جزوِ لاینفک ہے۔ راجا نے اسی موسم کا ذکر کیا ہے۔ اسے مقاماتی ادب کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ (۲۱) چونکہ مقاماتی ادب مخصوص مقام کے فطری مظاہر، حالات و خصوصیات اور ان کے انسان سے تعامل پہ بات کرتا ہے تو ساون بھی ہمارے جغرافیائی اور موسمیاتی پس منظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ برِ صغیر کے لوگ جانتے ہیں کہ شدید گرمیوں میں ہوا رکنے سے کس طرح سانس لینا دوبھر ہوجاتا ہے۔ مگر جب ساون برستا ہے تو انسان کے سارے غم دور ہوجاتے ہیں۔

اس ڈرامے میں راجا چترکار(مصور) سے کہتا ہے: ”مالتی ندی کا ایک منظر بنانا ہے جس کی ریتی پر ہنس کے جوڑے کلیلیں بھر رہے ہوں۔ دونوں طرف ہمالیہ کی پہاڑیاں پھیلی ہوں۔ اور ان پر ہرنوں کے جھنڈ جگالی کررہے ہوں۔ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ ایک ایسا پیڑ دکھایا جائے جس کی ڈال پر چھال کے کپڑے سوکھ رہے ہوں۔ اور نیچے ایک ہرنی اپنی بائیں آنکھ کسی کالے ہرن کے سینگ سے کھجا رہی ہو۔ “اس عبارت کو منظر نگاری(landscap writing) کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ منظر نگاری مقامی جغرافیے کا ذکر کرتی نظر آرہی ہے۔ جس میں ہنس ہیں، ہمالیہ کی پہاڑیاں ہیں اور ہرنوں کے جھنڈ۔ پورا منظر ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ منظر نگار اورمصورایک ہی صفحے پہ نظر آتے ہیں۔

کرسٹوفر مینز کے بقول مظاہر پسندی کئی قبائلی معاشروں کے لیے استحکام کا باعث ہے۔ جیسا کہ اس نے زمانۂ قبل مسیح میں خود ہمارے معاشرے کو استحکام اور تقویت دی تھی۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جدید تکنیکی معاشروں میں بھی مظاہر پرستی کا عکس ایک لطیف شکل میں موجود ہے۔ کاروں اور کھیلوں کے نام جانوروں کے نام پہ رکھنے اور گڑیاؤں اور جانوروں سے بات کرنے والوں کو بیمار ذہنیت کا حامل نہیں سمجھا جاتا۔ (۳۲) اس ڈرامے میں ہمیں مظاہر پسندی کے واقعات بھی ملتے ہیں۔ اور فطری محسوس ہوتے ہیں۔ جیسے راجا کا یہ کہنا: ”ارے دیوانے تیری بھنوری اس پھول پہ بیٹھی تیرا انتظار کررہی ہے۔ تیرے بنا اس سے رس نہیں پیا جاتا“۔ (۲۴) اسی طرح یہ بھی کہتا ہے: ”اگر تو ان ہونٹوں کو چھونے کا جتن کرے گاتو تجھے کنول کے دل کے اندر بند کردوں گا۔ “(۲۵) یہاں راجا بھنورے سے گفتگو کر رہا ہے۔ یہ مظاہر پسندی کے دو خوب صورت نمونے ہیں۔ پورے ڈرامے کے لینڈ سکیپ کو ذہن میں لائیے تو بن، پہاڑ، ہرن، پھول، بھنورے، کنواریاں اور وہاں راجا کی موجودگی۔۔۔ یہ اس دور کی یادگاریں ہیں جب انسان صنعتی انقلاب کا تصور خواب میں بھی نہیں کرسکتا تھا۔ اس وقت اسے فطرت سے گفتگو کرنے کے کئی مواقع ملتے تھے۔ اس لیے وہ فطرت شناس تھا۔ اس منظر کو دیکھیے تو راجا کی بھنورے سے گفتگو بڑی فطری معلوم ہوتی ہے۔ اختر حسین رائے پوری نے فٹ نوٹ میں بتایا ہے کہ شام کو جب کنول کا منھ بند ہوجاتا ہے تو کبھی کبھی اس پر بیٹھا ہوا بھنورا اندر ہی رہ جاتا ہے۔ اور صبح تک وہیں گرفتار رہتا ہے۔ یہ مشاہدہ فطرت کی قربت اور کے مشاہدے پہ دال ہے جو آج سے سیکڑوں سال پہلے کیا گیا۔

اس ڈرامے مین شِمن پرستی(shaminism) کے عناصر بھی مل جاتے ہین۔ شمن پرستی کا تعلق ماورائی دنیا سے ہے۔ کرسٹوفر مینز نے بھی اپنے مضمون میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ہندی دیومالا تو اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اس ڈرامے میں مادھو خون سے لت پت پڑا ہوتا ہے۔ عرض بیگن کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ کسی بھوت پریت کا اثر ہے۔ وہ راجا کو بتاتی ہے:”اس(بھوت یا پریت)نے مادھو کی مشکیں کس کر میگھ بھون کی منڈیر پر ڈال دیا ہے۔ “(۲۶) پس پردہ راجا کو آواز سنائی دیتی ہے کہ میں تیرے لہو کا پیاسا ہوں۔ تجھے کھا جاؤں گا۔ (۲۷) لیکن راجا گھبراتا نہیں ہے۔ بعد ازاں اس پہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ماتلی ہے۔ جو اندر دیوتا کا رتھ بان ہے۔ اسے اندر نے راجا کے ہاں بھیجا تھا کہ وہ راکششوں (سیاہ فام وحشیوں) پر حملہ کرے کیوں کہ اِندربھگوان ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ یوں اس واقعے کا تعلق اس دنیا سے جا ملتا ہے جس کا ہمارے حواسِ خمسہ سے تعلق نہیں ہے۔ یہاں راجا اندر بھگوان سے رشتہ جوڑے ہوئے ہے۔ اور ماتلی کے ذریعے ہی راجا کی ملاقات اپنی بچھڑی بیوی اور بیٹے سے ہوجاتی ہے۔ اس طرح ایک چیلے کا واقعہ بھی ہماری نظروں سے گزرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم ابھی گل چینی کر رہے تھے کہ کسی پیڑ نے ہماری طرف ریشمی دوپٹا لہرایا جو چاندنی کی طرح سفید ہے۔ ایک نے مہاور ٹپکایا جس سے پاؤں رنگے جاتے ہیں۔ پریوں نے ہماری ہماری طرف رنگ برنگے گہنے بڑھا دیے۔ ان کی کلائیاں لچیلی ٹہنیوں کی طرح تھیں۔ (۸۲) یہاں پودے بھی کام کرتے ہیں اور بن کی پریاں گہنے بھی دیتی ہیں۔ پودوں کی حرکت مظاہر پسندی کی طرف اور پریوں کی موجودگی ماورائی دنیا کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پریوں کی کلائیوں کو لچیلی ٹہنیوں سے تشبیہ دینا بھی فطرت کی قربت کا اشارہ ہے۔

الغرض شکنتلا ڈراما اپنے اندر فطرت کی خوب صورتی، نازکی، پاکیزگی اور منظر نگاری کے تمام عناصر کو ہمارے سامنے لاتا ہے۔ انسان فطرت سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ انسان اور فطرت کے درمیان ناتا ایسے ظاہر ہوتا ہے جیسے خونی رشتوں میں ہوتا ہے۔ فطرت کے مظاہر کی باریکیاں بھی ہمارے سامنے آتی ہیں۔ مثال کے طور پر جل سوسن اور چاند، سورج اور کنول، چکور اور چکوری، بھنورا اور کنول۔ یہ باتیں ایک طرف فطرت کی قربت کو ظاہر کرتی ہیں تو دوسری طرف تشبہیات اور استعارات کے طور پر ان مظاہر کو استعمال کیا جاتا ہے۔ قاری کی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جیسے جل سوسن کا کھلنا اور چاند کی موجودگی۔ جب چاند غروب ہوتا ہے تو جل سوسن بھی مسکرانا چھوڑ دیتا ہے۔ اس طرح کنول کا کھلنا سورج کی موجودگی پر موقوف ہے۔ چکور اور چکوری کا فراق رات کو ہونا۔ بھنورے کا کنول کا رس چوستے چوستے اس میں بند ہوجانا۔ یہ فطرت کے دل آویز مظاہر ہیں جن تک کالی داس کی رسائی تھی۔ ماورائی دنیا سے تعلق بھی اس ڈرامے کا ایک اہم موضوع ہے۔ ماتلی کا سادھو کو زخمی کرنا اور راجا کو غصہ دلانا۔ اندر بھگوان کے رتھ میں اسے فضاؤں میں اڑانا، پریوں کا گہنے پیش کرناایسے واقعات ہیں جن کا تعلق حواس کی دنیا سے نہیں ہے۔ مگر مصنف نے انھیں اپنی تخلیق میں شامل کر کے دل چسپی کا عنصر پیدا کیا ہے۔ اور ماحولیاتی نقاد اس مظہر کو اہمیت بھی دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس ڈرامے میں فطرت کے جان داروں سے تعارف کرایاگیا ہے۔ جن میں مولسری، بھنورا، مالکنگنی، ہنس، چکور، چکوری، ہرن، جل سوسن، آم اور چمیلی وغیرہ کا ذکر آتا ہے۔ شفق، چاند، سورج، پہاڑ، آسمان اور پانی فطرت کے غیر جان دار اجزا ہیں جنھیں ڈرامے کا حصہ بنایاگیا ہے۔ یہ سب مل کر اس ڈرامے کا ماحولیاتی نظام بناتے ہیں۔ مولسری، بھنورا، چکور، چکوری وغیرہ اس خاص خطے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں یہ ڈراما لکھا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ماحولیاتی تنقید ٹیکنالوجی کی حامل جدید معیشتوں کوماحولیاتی بحران اور وسائل کی کمی کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ وسائل کی کمی اور ماحولیاتی مسائل کا سبب انسانی آبادی کو قرار دیتی ہے۔ جس وقت یہ ڈراما لکھا گیا، اس وقت انسانی آبادی یقینا کم ہوگی۔ شکنتلا کے مناظر ستھرے، شستہ اور خوب صورت نظر آتے ہیں۔ شکنتلا کا فطرت سے بہناپے کا رشتہ بھی اس دور کی دین ہے۔ سکھیوں کا پودوں کو جاں فشانی سے پانی دینا بھی فطرت سے محبت کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ آبادی کی کمی کی وجہ سے تخلیق کار کے سامنے لینڈ سکیپ کے وسیع وعریض سلسلے تھے۔ الغرض آج کے تناظر میں شکنتلا ہمارے لیے فطرت سے محبت اورفطرت کی کی حفاطت کا استعارہ ہے۔

حوالہ جات:

۱۔ اورنگ زیب نیازی، ڈاکٹر، ماحولیاتی تنقید:نظریہ اور عمل، اردو سائنس بورڈ۲۹۹ اپر مال لاہور، ۲۰۱۹، ص ۸

۲۔ اورنگ زیب نیازی، ڈاکٹر، ماحولیاتی تنقید:نظریہ اور عمل، اردو سائنس بورڈ۲۹۹ اپر مال لاہور، ۲۰۱۹، ص۸۵

۳۔ سلیم اختر، ڈاکٹر، اردو ادب کی مختصر ترین تاری، تیسواں اڈیشن، سنگ میل پبلی کیشنز، ۲۰۱۳، ص ۷۷۔ ۳۷۶

۴۔ جمیل جالبی، ڈاکٹر، تاریخِ ادبِ اردو، جلدسوم، مجلس ترقی ادب اردو، ۲۰۰۸، ص ۵۲۵

۵۔ اختر حسین رائے پوری، (مترجم)، شکنتلا، انجمن ترقی اردو دہلی، ۱۹۴۳

۶۔ اورنگ زیب نیازی، ڈاکٹر، ماحولیاتی تنقید:نظریہ اور عمل، ص۲۳۵

۷۔ اختر حسین رائے پوری، (مترجم)، شکنتلا، انجمن ترقی اردو دہلی، ۱۹۴۳، ص ۸

۸۔ ایضا، ص ۱۴

۹۔ اورنگ زیب نیازی، ڈاکٹر، ماحولیاتی تنقید:نظریہ اور عمل، ص۲۳۸

۱۰۔ اختر حسین رائے پوری، (مترجم)، شکنتلا، ص۱۵

۱۱۔ اورنگ زیب نیازی، ڈاکٹر، ماحولیاتی تنقید:نظریہ اور عمل، ص ۵۵

۱۲۔ ایضا، ص۲۴۲

۱۳۔ اختر حسین رائے پوری، (مترجم)، شکنتلا، ص ۶۵

۱۴۔ ایضا، ص ۱۵

۱۵۔ ایضا، ص ۱۵

۱۶۔ ایضا، ص ۴۰.۴۱

۱۷۔ ایضا، ص۱۲

۱۸۔ ایضا، ص۳۰

۱۹۔ ایضا، ص۴۴

۲۰۔ اورنگ زیب نیازی، ڈاکٹر، ماحولیاتی تنقید:نظریہ اور عمل، ص۲۴۱

۲۱۔ ایضا، ص ۲۴۲

۲۲۔ اختر حسین رائے پوری، (مترجم)، شکنتلا، ص ۲۰۱۔ ۱۰۱

۲۳۔ اورنگ زیب نیازی، ڈاکٹر، ماحولیاتی تنقید:نظریہ اور عمل، ص۵۵

۲۴۔ اختر حسین رائے پوری، (مترجم)، شکنتلا، ص ۱۰۲

۲۵۔ ایضاً

۲۶۔ ایضاً، ص ۱۰۸

۲۷۔ ایضا، ص ۱۰۸

۲۸۔ ایضا، ص۶۱

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20