اوج زوال میں کیا! مخفی کمال ہے —- محمد خان قلندر

0

فوجی سیاست یا سیاسی فوج، یہ موضوع اس وقت ملک عزیز کو درپیش ہے، فوج کے پرانے پروردہ اپنی جگہ نئے چہرے دیکھنے کے روادار کبھی نہ تھے، لیکن انہوں نے اپنے زعم عظمت میں جو خلا پیدا کیا وہ تغیر نے بھرنا تھا بھر دیا۔

اب ہمارے ہاں یہ مثل صادق آتی ہے کہ: تیری تعمیر میں مضمر ہے “ہر” صورت خرابی کی۔

ہم بے سمتی کے اس قدر شکار ہیں کہ چھوٹا سا مسئلہ ایک بڑا ایشو بن جاتا ہے، بلکہ ایسا کچھ نہ ہو تو ہم مسئلہ پیدا کر لیتے ہیں، پھر اسے حل کرنے کرانے میں چند روز گزار لیتے ہیں۔ حرکت محسوس ہوتی ہے پر پندار وہیں رہتا ہے۔ زمینی حقائق سے لگتا ہے ہم پچھلی صدی کی پچاس کی دہائی میں واپس پہنچ گئے ہیں یا شاید ہم وہیں پر کھڑے ہیں اور عین اسی طرح آئینی بحران کا شکار ہیں۔

کوئٹہ حادثہ اس آئینی انتشار کا شاخسانہ ہے، اگر قتل ہوئے تو مقامی انتظامیہ اور پولیس فوری طور حرکت میں آتی، جائے وقوعہ سیل کرتی، شواہد اکٹھے کئے جاتے، علاقہ کی ناکہ بندی ہوتی، مقتولین کے پوسٹ مارٹم ہوتے، پولیس رپورٹ تیار ہوتی، ایف آئی آر کا اندراج اور ضابطے کی انتظامی کاروائی مکمل کر کے میتوں کے وارثان سے تدفین کرائی جاتی۔ امن و امان صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے قانون کا اطلاق مقامی انتظامیہ نے کرنا ہوتا ہے، کوتاہی ہوتی نظر آئے تو ہائی کورٹ اس کا نوٹس لے سکتی ہے۔ اگر وفاقی پارلیمانی نظام فعال ہوتا اور آئین کے مطابق قانون حرکت میں آتا تو اسلام آباد کے مقیم وفاق کے سربراہ حکومت کی وہاں حاضری کی نوبت نہ آتی، لیکن یہ آئین سیاسی مفاد کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے اور رہے گا، ظلم کی انتہا ہے کہ ہر متعلقہ فورم نے لاشوں پر سیاست کی۔

لگتا ہے کہ 1956 کا دستور پاس کرنے والی شائد پہلی دستور ساز اسمبلی تھی جس کے بنائے آئین کو پہلے نظریہ ضرورت کا زہرآلود انجکشن دے کے سکندر مرزا نے مارشل لا لگایا۔ جنرل ایوب خان کمانڈر انچیف کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔ جنرل صاحب نے مرزا کو پیک کرا کے ملک بدر کیا اور خود حکومت سنبھال لی، نومولود آئین اپنی موت آپ مر گیا۔

آج مارشل لا نہیں لگا ہوا لیکن حالات بالکل جوں کے توں ہیں، بلکہ فوج کے لئے دگرگوں ہیں۔ اپوزیشن حکومت کی ہر ناکامی جو روز ہوتی ہے اسے فوج کے گلے ڈال دیتی ہے کہ یہ سرکار تو آپ نے بنوائی ہے۔ حکومت کا ڈھانچہ اتنا عجیب و غریب ہے کہ کسی بھی واقعے یا حادثے کی ذمہ داری لینے والا تو کوئی ہے نہیں، ترجمان اپنی ا پنی ڈفلی بچاتے ہاتھ جھاڑ کے حاکم اعظم کو بری الذمہ قرار دینے پر زور لگاتے ہیں تو بھی ملبہ پنڈی کے گیٹ پر گرتا ہے۔
پارلیمان تو شائد معطل ہے، عدالت عُظمی ہو یا عالیہ اس حکومتی وبال سے لاتعلق ہیں، حکومت اور اپوزیشن یہ جانتے ہیں کہ جس طرح معاملات چلائے جا رہے ہیں یہ دستوری طور غیرآئینی ڈیکلیر ہو سکتے ہیں اس لئے ان میں سے کوئی عدالت جانے کا رسک نہی لے سکتا، کہ کل یہی عمل اس کے گلے پڑے گا۔

اس پہلے آپ، پہلے آپ کی گردان میں معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، پی ٹی آئی کی مقبولیت تو اڑھائی سال میں ملکی پیداوار کی منفی شرح نمو کی طرح معکوس پذیر ہو چکی ہے، اب تو صرف قبولیت پر کام چل رہا ہے۔
دوسرے ہمارا پنجاب کا کلچر شدت پسندی کا مرقع ہے۔ لوگ بھاگ کسی ولن کو مطعون کرنے کے لئے ہیرو تراش لیتے ہیں، آج نیازی صاحب کی حُب سے زیادہ شریف خاندان سے بغض فعال ہے جو جائز بھی ہے۔ یہ فیملی اپنی دستکارانہ بیک گراؤنڈ کے احساس کمتری کی وجہ سے اپنی امارت کے زعم عظمت کی اسیر ہے، تیسری دفع وزیراعظم بننے پر اسمبلی کے فلور پر نواز شریف کی تقریر اظہار تفاخر سے بھرپور تھی۔ کروڑوں کی رسٹ واچ، دنیا کے مہنگے ترین برانڈ کے سوٹ اور جوتوں تک کی نمائش کے علاوہ تقریر میں کچھ نہیں تھا۔ پانامہ کا کیس انہوں نے خود مشہور کیا کہ دنیا کے امیر ترین وزیراعظم ہونے کی تشہیر ہو، پارلیمانی کمیٹی کی بجائے سپریم کورٹ جانا بھی اسی تشہیر کا غماز تھا۔ حتیٰ کہ ڈان لیکس پر افواج کو زیر نگوں کرنے کی خواہش سے رینک اینڈ فائل تک سب سے دشمنی پال لی۔

آج جس صورت حال سے ہم دوچار ہیں وہ آئین سے روگردانی کی وجہ سے ہے، ادارے مفلوج ہو رہے ہیں شخصیات قومی منظر پر چھائی ہوئی ہیں۔ لیکن کب تک؟ خطرہ ہے یہ موجود عمرانی معاہدہ جیسا تیسا بھی ہے کہیں لپٹ جائے گا کہ اس میں تو پہلے جنرل ضیا کی اور بعد میں جنرل مشرف دور میں یہ معطل ہوا، پھر ان ادوار میں ہوئی ترامیم کو شرف قبولیت بخشا گیا، جس سے اس کے ڈھانچے کی اساس بہت کمزور ہوئی۔ برُا بھلا کمزور لاغر جیسا بھی ہے اگر یہ آئین لیٹر اینڈ سپرٹ میں آج بھی نافذ کر دیا جائے اور پارلیمان اس کی حفاظت کا ذمہ لے عدالت عالیہ اس کے اندر ابہام دور کرنے کی تشریح کرے تو حالات سنبھل سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ سارے باغبان ذاتی مفاد کے لئے گلشن ہی اجاڑنے کے درپے ہوں تو پھر ملک اور عوام کا اللہ حافظ

بر سبیل تذکرہ برصغیر کی تقسیم کے ہنگام میں دو واقعات نے بہت گہرا اثر چھوڑا۔ ایک کشمیر میں ہونی والی شورش اور وہاں یو این کے ریزولیشن پر جنگ بندی کو لائن آف کنٹرول کا قیام جو عارضی بندوبست کے طور ہوا۔ لیکن ایک مستقل ناسور بن گیا۔ دوسرا لیاقت علی خان کے وزیراعظم بننے کے لئے قائداعظم کا وزیراعظم کی بجائے گورنر جنرل بننا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھارت کے گورنر جنرل بنے تو تاج برطانیہ کی یکطرفہ حمایت بھی بھارت کے حق میں چلی گئی۔ سردار شوکت حیات جو اس وقت قائداعظم کے اے ڈی سی تھے، اُن سے ایک بار یہ سوال پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ بھی قائد کے وزیراعظم بننے کے حق میں تھے لیکن جب انہوں نے مشورہ دیا تو قائداعظم نے انہیں سائیڈ روم میں جمع ہزاروں ٹیلی گرام دیکھنے کا کہا اور فرمایا کہ جب عوام اتنی شدت سے میرے گورنر جنرل بننے کے حق میں ہیں تو انکی رائے کا احترام کرنا پڑے گا۔ وہ ٹیلی گرام کا ڈھیر کس نے کیسے جمع کیا؟ یہ پوچھنے کی جرآت کس کو تھی۔
انتقال آبادی سے ممکنہ بدامنی اور قتل و غارت سے نپٹنے کا کسی نے بھی نہی سوچا تھا۔ اس دوران لیاقت علی خان کی امریکہ یاترا، پاکستان کے امریکی بلاک میں شامل ہونے، سیٹو سینٹو کا ممبر بننے کے ساتھ پاکستانی فوج جو جذبہ آزادی سے سرشار تھی جنگی بنیاد پے منظم ہو گئی، لیاقت علی خان کے قتل کے بعد چھ سال میں چھ وزیراعظم بدلے، غلام محمد اور سکندر میرزا گورنر جنرل رہے، دستور سازی ہوئی 1956 کا آئین بنا، باوردی کمانڈر انچیف کابینہ کے رکن بنے، مشرقی اور مغربی پاکستان میں کشمکش بڑھتی رہی، بنگلہ دیش بن گیا۔

باقی ماندہ پاکستان میں فوج کی ایک فعال ادارے کی طرح اقتدار پر گرفت مضبوط تر ہوتی گئی، 1973-77 کے چار سال چھوڑ کر 1958 سے 1988 تک ملک فوجی حکومت کے تحت رہا، پھر 1999 سے 2008 تک پچھلی اننگ بھی فوج نے کھیلی، اب یہ جملہ معترضہ ہے کہ فوج آئی یا بلائی گئی؟ مسند اقتدار کے بھوکے سیاسی فصلی بٹیرے ہر حاکم کی جھولی اٹھانے کو بیتاب ہر دور میں موجود ہوتے ہیں۔ جب یہ سارے ٹیک اوور کو عدالت نے جائز قراد دیا، ایوان نمائندگان نے آئینی ترامیم سے انہیں تحفظ دے دیا، تو اب کسی کو بھی فوج پر تنقید کا آئینی یا اخلاقی جواز حاصل نہیں۔

مسئلہ آئین کی حکمرانی کا ہے، جسے مستعد پارلیمان اور فعال عدلیہ ممکن بنا سکتی ہیں۔

ایک حسرت یہ ہے کہ کاش ہمارے دفاعی ادارے مغربی سرحد کی تزویراتی گہرائی کے ساتھ اب تک اسے محفوظ بنا چکے ہوتے، یہ نازک موضوع تو پورے مقالے کا متقاضی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20