پاکستانی نصاب تعلیم : فیمنسٹ ماہرین کے نرغے میں — وحید مراد

0

مغربی استعماری طاقتوں نے جب مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ممالک پر سیاسی اور فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ کیا تو انہیں احساس ہوا کہ مسلمانوں کو انکی مضبوط دینی اور تہذیبی روایات کی وجہ سے مستقل غلام بنانا آسان نہیں۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کی تہذیب، ثقافت، زبان اور نظام تعلیم کو تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ برصغیر میں 1835 میں لارڈ میکالے کا نظام تعلیم نافذ کیا گیا جس کا مقصد بتایا گیا کہ اس سے مقامی لوگوں پر سرکاری ملازمت کے دروازے کھلیں گے اور انکے معاشی حالات بہتر ہو جائیں گے۔ لیکن اسکا مقصد مغربی اقدار اور تہذیب کیلئے راستہ ہموار کرتے ہوئے اسلامی اقدار کو مسخ کرنا، لادینیت کو فروغ دینا اور ایسے افراد تیار کرنا تھا جو رنگ و نسل کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہوں لیکن اپنی سیرت، اخلاق، سوچ، افکار اور نظریات کے حوالے سے مغربی تہذیب کے ترجمان ہوں۔ اسکے علاوہ اس نظام تعلیم کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ برصغیر کے لوگوں کو مغربی تہذیب سے مرعوب کرکے، یورپی مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ کھپت کیلئے اس خطے کو ایک وسیع مارکیٹ کے طور پر استعمال کیا جائے۔

اس نئے نظام تعلیم کے تحت پرائمری و ثانوی تعلیمی ادارے، کالجز، یونیورسٹیز قائم کی گئیں اور بعد ازاں تعلیم کو مفت اور لازمی بھی قرار دیا گیا۔ اسکے ساتھ یہاں صدیوں سے قائم مساجد، مدارس اور خانقاہوں کی سرکاری امداد بند کرکے انہیں مفلوج کر دیا گیا۔ جن جائیدادوں سے ان مدارس کی معاونت ہوتی تھی انہیں ضبط کرلیا گیا اور صرف چند مدارس باقی بچے جن کے مہتمم سخت جان ثابت ہوئے۔ تعلیم کے میدان میں علی گڑھ تحریک کےساتھ ساتھ دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء اور جامعہ ملیہ جیسی تحریکیں بھی اٹھیں لیکن یہ ادارے تعلیم کے نام پر آنے والے مغربی تہذیب و اقدار کے سیلاب کے سامنے بند باندھنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس جدید مغربی تعلیم سے نہ صرف مسلمانوں کا تعلیمی معیار پست ہوا بلکہ انکا روائیتی دینی ذوق اور تخلیقی صلاحتیں بھی مفقود ہو گئیں۔

قیام پاکستان کے بعد دینی عقائد و روایات، تہذیبی و ثقافتی اقدار اور ملکی ضروریات کے مطابق نظام تعلیم تشکیل دینے کی بجائے لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کو ہی معمولی تبدیلیوں کے ساتھ اپنا لیا گیا۔ اس نظام تعلیم کے زیر اثر آج ایک ایسی نسل تیار ہو چکی ہے جو بظاہر تعلیم یافتہ ہے لیکن ذہنی طور پر مغرب کی غلام ہے۔ انہیں اپنے دین اور تہذیب کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ علم نہیں جو اسلامیات لازمی اور مطالعہ پاکستان کے چند اسباق میں پڑھایا جاتا ہے لیکن وہ مغربی تہذیب کی تمام خرافات کی نقالی کا علم رکھتے ہیں۔ وہ بچے جنہیں والدین، محنت مزدوری اور اپنا پیٹ کاٹ کر تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں وہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد سیکولر نظریات و ثقافت کے علمبردار اور مغرب کے وفادار بن جاتے ہیں۔

پاکستان میں رائج نظام تعلیم:

ہمارا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہمیں قابل ڈاکٹرز، انجنئیرز، سائنس دانوں اور دیگر شعبہ جات کے ماہرین کی ضرورت ہے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ہمیں ایسے افراد کی بھی ضرورت ہے جو محب وطن ہوں اور قومی و ملی تقاضوں کو پورا کرتے ہوں۔ ہمارا تعلیمی مسئلہ کسی ایک جز کی اصلاح نہیں بلکہ پورے مغربی نظام تعلیم، اسکے مقاصد، اسکےنصاب، ماحول اور طریقہ تدریس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر قومی، ملی، اور دینی مقاصد و ضروریات کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔

ہمارے ملک میں کئی عشروں سے جو نظام تعلیم رائج ہے اسکی باگ ڈور ایسے طبقے کے ہاتھ میں ہے جو مغرب کی پیروی میں ہماری نصابی کتب میں موجود مذہبی تعلیمات پر نت نئے سوالات اٹھاتا رہتاہے۔ مثلاً مذہب دور رفتہ کی یادگار ہے اسکا جدید زمانے سے کوئی تعلق نہیں، آج کے دور میں چودہ سو سال پہلےکا نظا م نہیں چل سکتا، مادی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب کو بھی اپنایا جائے، مذہب جدید تمدنی ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہماری سول و ملٹری بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ کی ساری تعلیم و تربیت بھی چونکہ مغربی اداروں میں ہوتی ہے اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہونے کیلئے مغربی طاقتوں کی آشیر باد ضروری ہوتی ہے اس لئے وہ بھی پاکستان میں مغربی تہذیب و ثقافت کی ترویج کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ عوامی حلقوں میں سے جب بھی دینی، ملی و قومی تقاضوں کو پورا کرنے کی کوئی تحریک اٹھتی ہے تو مغرب زدہ حکمران اوربیوروکریسی اسکے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس لئے پاکستانی سیاست میں صرف وہی لوگ بر سراقتدار آتے ہیں جو مغرب کے وفادار ہوں اور عوام کو حقیقی نمائندے منتخب کرنے کا کبھی موقع نہیں دیاجاتا۔ ان مغرب زدہ حکمرانوں نے بے شمار این جی اوز کو یہاں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جو نسوانی اور انسانی حقوق کے نام پر معاشرتی بگاڑکا مشن سرانجام دے رہے ہیں۔

ان این جی اوز اور سول سوسائٹی نے بیوروکریسی اورسیاسی اشرافیہ کے ساتھ مل کر میڈیا کی آزادی پر کام کیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے مغرب کی کئی خرافات کو ہمارے معاشرے میں فروغ دیا گیا۔ میڈیا نہ صرف ڈس انفارمیشن کے ذریے معاشرے میں انتشار پیدا کرتا ہے، صوبائیت، لسانیت اور قومیت کا زہر گھولتا ہے بلکہ فحش فلموں، کارٹون، ماڈلنگ اوراشتہارات کے ذریعے نوجوان نسل کے اخلاق کا جنازہ نکال رہا ہے۔ میڈیا ہماری نئی نسل کو کشمیری، فلسطینی اور افغانی بھائیوں کے دکھ، درد میں شریک ہونے کیلئے کوئی کردار ادا کرنے کی بجائے ہر وقت انہیں ناچ گانے میں مست رکھتا ہے۔ میڈیا کے آزادی کے بعد ان این جی اوز نے حدود آرڈیننس کے خلاف مہم چلائی، اسلامی سزائوں کو غیر انسانی قرار دیا اورخواتین کے حقوق کے نام پر ایسی قانون سازی کروائی جو مدر پدر آزادی کیلئے راستہ ہموار کر رہی ہے۔

پاکستانی نصاب تعلیم میں عالمی اداروں کی مداخلت:

میڈیا اور خواتین کی آزادی کے ساتھ ساتھ تعلیمی نصاب سے اسلامی تعلیمات کو خارج کرنے کے کام میں بھی تیزی لائی گئی۔ 2004 میں ایک مقامی این جی او ‘ایس ڈی پی آئی’ نے پاکستان کے نصاب کے جائزے پر مبنی ایک ریسرچ پیپر متعارف کروایا۔ مقتدر حلقوں میں اس این جی او کا اس قدر اثر رسوخ ہے کہ سیاسی اشرافیہ نے اس ریسرچ پیپر و رپورٹ کے مندرجات کی صداقت چیک کئے بغیر اس  کو درست مان لیا اور اسکی بنیاد پر وزارت تعلیم نے نصاب کی اصلاح کا ایک کمیشن بھی قائم کر دیا۔ اس رپورٹ میں پاکستان میں پہلے سے موجود نصابی کتب کو ہدف تنقید بنایا گیاحالانکہ ان کے مصنفین اور مولفین بھی زیادہ تر لبرل اور سیکولر حضرات ہی تھے۔ اس تنظیم کو یہ کتابیں شاید اس لئے قابل قبول نہیں تھیں کہ انکے مصنفین میں روشن خیالی کے ساتھ ساتھ قومی و ملی حمیت کی کوئی رمق باقی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک ترقی پسند، اعتدال پسند اور جمہوری پاکستان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ نصابی کتب ہیں اس لئے ٹیکسٹ بک بورڈ اور وزارت تعلیم کے نصابی ونگ کو ختم کر دینا چاہیے۔ اس رپورٹ کے مطابق معاشرے میں دہشت گردی اور انتہاپسند اسلامی اقدار کی وجہ محض مذہبی مدارس ہی نہیں بلکہ حکومتی سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی ادارے اور ٹیکسٹ بک بورڈ بھی ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستان کو اسلامی ریاست کہنے پر تنقید کی گئی اور سوال اٹھایا گیا کہ اسلام اور پاکستانی نیشنل ازم کو لازمی درسی کتب میں مترادف معنوں میں کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ اس سے تو غیر مسلم پاکستانی تحفظات کا شکار ہوتےہیں۔ نظریہ پاکستان کے حوالے سے کہا گیا کہ تحریک پاکستان کےابتدائی ایام میں ریاست کی بحث کے دوران نظریہ پاکستان کی بات نہیں ہوتی تھی اس لئے ہمیں اسکی تاریخی حیثیت پر شبہ ہے۔ اس رپورٹ میں یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ اسلامیات لازمی کےعلاوہ دیگر لازمی درسی کتب میں قرآن مجید کی آیات کیوں شامل کی گئیں؟ جہاد اور شہادت سے متلق اسلامی تصورات سے معاشرے میں جنگجویانہ فطرت پنپ رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مصنفین نے اس بات پر رنجش کا اظہار کیا کہ ملک کے دفاع کو شہری کا اولین فرض کیوں کہا جاتا ہے اور راشد منہاس، لانس نائیک محفوظ شہید وغیرہ کے نام درسی کتب میں کیوں شامل ہیں؟ دفاعی اخراجات اور جدید ہتھیاروں کی تحصیل کا جواز کیوں پیش کیا گیا؟ یہ موضوعات تو ملٹری ہسٹری، اکنامکس آف وار اورملٹری اسٹیڈیز کے ہیں انہیں چھوٹے لیول کی درسی کتب میں شامل کرنے کا کیا جواز ہے۔

اس رپورٹ میں خواتین کے چادر اوڑھنے اور معقول لباس زیب تن کرنے کو بھی طنز کا نشانہ بنایا گیا اور ہوم اکنامکس کالجز کے قیام کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے خواتین کیلئے مخصوص شعبوں میں جانے کے راستے طے ہو جاتے ہیں جس سے مردوں کی برتری قائم رہتی ہے۔ اس رپورٹ میں عورتوں اور مردوں کیلئے الگ القاب اور صیغوں پر بھی اعتراض کیا گیا لیکن حیرت ہے کہ ایک طرف انہیں نسائی شناخت پر اعتراض ہے اور دوسری طرف حقوق نسواں کی تحریک پر کوئی اعتراض نہیں۔

اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر منیر الدین چغتائی نے کہا تھا کہ یہ نظریہ پاکستان اور پاکستان کے وجود کے خلاف کھلی جنگ ہے۔ ہمارے نام نہاد مفکرین کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستانی نصاب تعلیم سے ایسی تمام چیزیں نکال دی جائیں جو ہمارے نظریہ حیات کی بنیاد اور جو قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں۔ نیز انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

اسکے بعد علماء کرام نے این جی اوز، نصاب تعلیم میں تبدیلیوں اور اس معاہدے کے خلاف بھرپور تحریک چلانے کا اعلان کیا جس کے تحت امریکہ نے آغا خان فائونڈیشن کو ساڑھے چار لاکھ ڈالر کے عوض پورا نصاب تبدیل کرنے کا کہا تھا۔ بائیس جماعتوں پر مشتمل ‘تحفظ تعلیمی نصاب محاذ’ قائم کیا گیا تھا جس میں بحالی قرآنی آیات کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ علمائے کرام کی یہ تحریک پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 31 کے عین مطابق تھی جسکے تحت ریاست پاکستان، یہاں کے عوام کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگیاں اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق بسر کرنے کے قابل بنانے اورسہولیات بہم پہنچانے اور اقدامات کرنے کی پابند ہے۔ ریاست کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید اور اسلامیات کی تعلیم لازمی قرار دیتے ہوئے عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرے اور پاکستان کے مسلم طالب علموں کو اسلامی اقدار کی حفاظت اور پابندی کی تربیت دے اور بین الاقوامی سطح پر ایسا کوئی معاہدہ نہ کرے جو اسلام اور پاکستان کے مقاصد کے خلاف ہو۔

تحفظ تعلیمی نصاب محاذ اور اسکے بعد 2013 میں جماعت الدعوۃ کی ‘سیکولر نظام تعلیم کے خلاف تحریک’ کا بھی وہی حشر ہو ا جو یہاں ہر عوامی تحریک کا ہوتا ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے وعدہ وعید کرکے عوامی جذبات ٹھنڈے کر دئے جاتے ہیں اور پھر سیکولر بیوروکریسی وہی کرتی ہے جو اسے مغربی آقائوں کی طرف سے کہا جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں کئی غیر ملکی ادارے اور تنظیمیں اربوں ڈالر خرچ کرکے نصاب تعلیم کو تبدیل کرنے، تعلیمی اداروں کا اخلاقی ماحول خراب کرنے اور مدر پدر آزادی کا راستہ ہموار کرنے کے پروجیکٹس پر کام کر رہے ہیں۔ فیشن اور کلچرل شوز کے نام پر ناچ گانا، رقص و سروراور کیٹ واک اب تمام بڑے پرائیویٹ تعلیمی اداروںمیں غیر نصابی سرگرمیوں کا حصہ بن چکا ہے۔ لاہور کی ایک یونیورسٹی کے طباء و طالبات ‘ایام مخصوصہ کا دن’ مناتے ہوئے خواتین کے پیڈز پر اپنے پیغامات لکھ کر یونیورسٹی کی دیواروں پر چسپاں کر چکے ہیں۔ طلباو طالبات کی ایک بہت بڑی تعداد شراب اور منشیات استعمال کر رہی ہے۔ جنسی و تولیدی صحت و حقوق کے نام پر اب جنسی تعلیم کو بھی نصاب تعلیم کا حصہ بنانے کی کوششیں تیز تر ہو چکی ہیں۔ تمام گورنمنٹ اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنا معمول کی بات بن گئی ہے۔ اساتذہ کی طرف سے طالبات کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کیلئے دبائوں ڈالنے اور لالچ دینے کے کئے واقعات پیش آچکے ہیں جن پر کچھ طالبات خودکشی بھی کر چکی ہیں۔

ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان کو اپنے ملک کاتعلیمی نصاب تبدیل اور اپ ڈیٹ کرنے میں اتنی دلچسپی نہیں جتنی بین الاقوامی اداروں کو ہے۔ ورلڈ بینک اور یو ایس ایڈ پاکستان میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی بے شمار پروجیکٹس پر اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ انکی کوشش ہے کہ یہاں کا تعلیمی نظام مکمل طورپر انکی نگرانی میں چلا یا جائے۔ یو ایس ایڈ کے پروجیکٹس میں اساتذہ و منتظمین کی تربیت، تعلیمی وظائف، ریسرچ اسکالرز کی مالی امداد، بالغ طلباء و طالبات کی غیر ملکی سیر و سیاحت اور کئی دیگر پروگرامز شامل ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی رپورٹوں میں بھی پاکستان کانصاب تعلیم خاص نشانے پر ہوتا ہے اور اس سلسلے میں معلومات کی فراہمی کی خدمت بجا لانے کیلئے مقامی این جی اوز ہر وقت تیار ہوتی ہیں۔

اس کمیشن کی 2016 کی رپورٹ اور سفارشات میں کہا گیا کہ پاکستان کی نصابی کتب میں جنگوں اور جنگی ہیروز کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، محمد بن قاسم کی فتح سندھ، سلطان محمود غزنوی کی 17 مرتبہ سندھ پر حملہ فخریہ انداز سے نصابی کتب میں کیوں شامل ہے؟تہذیب و ثقافت کے اظہار کیلئے ناچ، گانا اور شادی بیاہ کی رسومات کو دکھانے کی بجائے جنگوں کو کیوں پیش کیا جارہا ہے؟ اس رپورٹ کیلئے ایک مقامی این جی او ‘ پیس اینڈ ایجوکیشن فائونڈیشن’ نے تحقیق کرکے سفارشات تیار کی تھیں۔ ا س این جی او نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس سے قبل اس کی طرف سے پیش کی گئی سفارشات کی بنیاد پر پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے سرکاری اسکولوں کی نصابی کتب میں تبدیلیاں لائی جا چکی ہیں۔

اس رپورٹ میں پاکستان، بھارت تنازعات کو مذہبی تناظر میں پیش کرنے، اور اسلامی عقیدے پر اصرار کرنے کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ پاکستان میں اسلام کو شناخت کی اعلیٰ ترین خاصیت کیوں قرار دیا جاتا ہے؟اس رپورٹ میں یہ سفارشات بھی پیش کی گئیں کہ نصابی کتب میں مذہبی آزادی واقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی باتیں اور عقیدے کی تعلیم کی بجائے غیر جانبدار باتیں شامل کی جانی چاہیں۔ مغربی ممالک اور عیسائیت کے حوالے سے بہتر رویہ اپنانا چاہیے اور صرف اسلام ہی درست مذہب ہے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ اس فائونڈیشن کے سرکردہ لوگوں نے حکومتی وزراء، گورنرز اور بااثر لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اس رپورٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے انکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔

پاکستان میں پرویز مشرف کے زمانے سے امریکہ اور یورپ کے دبائو پر تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اور جس کے تحت قرآنی آیات کو نصاب سے نکالا گیا تھا وہ ابھی رکا نہیں بلکہ خطرناک حد تک آگے بڑھ چکا ہے۔ کبھی کبھار کوئی خبر شائع ہو جائے تو لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ کچھ غلط ہو گیا حالانکہ یہ سلسلہ باقاعدگی کے ساتھ جاری ہے اور مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی 2020 کابینہ سے منظور ہو کر منظر عام پر آچکی ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے آئندہ تعلیمی سال سے یکساں قومی نصاب کا ملک بھر میں نفاذ اور ان بنیادی نکات کا اعلان کیا ہے جن پر یکساں قومی نصاب تعلیم تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ان نکات میں قرآن و سنت کی تعلیمات، آئین پاکستان کا تعارف، بانی پاکستان اور علامہ اقبال کے افکار، قومی پالیسیاں، قومی خواہشات و معیارات، مذہبی رواداری، ترقی کے اہداف کا حصول اور اساتذہ کی پیشہ وارانہ تربیت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تعلیمی پالیسی کوئی قانون نہیں بلکہ تعلیم کے فروغ کیلئے رہنما خطوط اور ایک فریم ورک ہے جس کی روشنی میں نصاب تعلیم، عملی منصوبہ اور قوانین وضع کئے جائیں گے۔

پاکستان میں مغربی ممالک کے فنڈز پر چلنے والی این جی اوز اور لبرل حلقوں کواس نئی تعلیمی پالیسی سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جس نصاب تعلیم کو وہ سیکولر خطوط پر استوار کر چکے ہیں اس میں تبدیلی لانے کے عمل سے پہلے ہی یہ حکومت ختم کر دی جائے گی۔ اگر یہ حکومت قائم بھی رہتی ہے تو جن مقتدر حلقوں نے انہیں سیکولر نصاب تعلیم کے تسلسل کی گارنٹی دے رکھی ہے وہ اسکا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیں گے۔ اس حکومت کی طرف سے اسلامی خطوط پر نئی تعلیمی پالیسی متعارف کروانے کے باجود صوبہ پنجاب (جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے) کے تمام بورڈز میں میٹرک اور انٹر میڈیٹ کےنصاب میں مطالعہ پاکستان کی جو کتب پڑھائی جا رہی ہیں وہ فیمنسٹ ماہرین کی تیار کردہ ہیں۔

مطالعہ پاکستان کی کتب میں فیمنسٹ نظریات کی دراندازی:

مقامی فیمنسٹ ماہرین نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی میٹرک اور انٹر میڈیٹ کی مطالعہ پاکستان کی دونوں کتب میں ‘تحفظ نسواں’ کے عنوان سے ایک باب شامل کیا ہے جس میں صنف اور جنس کی تعریفات میں بتایا گیا ہے کہ ‘ جنس’ مرد اور عورت کی حیاتیاتی تفریق کی طرف اشارہ کرتی ہے جبکہ’ صنف’، مرد و عورت کا وہ کردار ہے جس کا تعین معاشرہ، ثقافت اور مذہب کرتا ہے۔ ان کتب میں حقوق نسواں، عورتوں کی آزادی، خودمختاری اور مساوات کے مغربی تصورات کو ثابت کرنے کیلئے قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کا سہارا لیا گیا ہے۔ یعنی ایک طرف یہ بتایا گیا ہے کہ مذہب عہد رفتہ کی یادگار ہے، آج کی جدید تمدنی ترقی ومعاشرت میں رکاوٹ ہے اورچونکہ مذہب عورت کے صنفی کردار کا تعین کرتا ہے اس لئے تاریخی طورپر مرد وں کی طرف سے عورت پرہونے والے ہر ظلم کی بنیاد مذہب نے فراہم کی ہے۔ دوسری طرف اسی مذہب کے متون سے عورت کی اس آزادی اور خودمختاری کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئ ہے جو وہ مذہب سے بغاوت کے نتیجے میں حاصل کرنا چاہتی ہے۔

مرد و عورت کے صنفی کردار کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جدید غیر مذہبی معاشروں میں مردوں اور عورتوں کے سماجی تعلقات زیادہ مضبوط ہوتےہیں اور عورتوں کو بھی تعلیم، صحت، ملازمت اور دیگر شعبوں میں برابرکے مواقع ملتے ہیں جبکہ مذہبی معاشروں میں یکساں سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔ مذہبی معاشروں پر تنقید کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ان میں صنفی کردار کا تعین کرتے وقت عورت پر کچھ مخصوص کام تھوپ دئے جاتے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مردوں کے کام سرانجام نہیں دے سکتی حالانکہ مرد اور عورت یکساں طور پر ہر کام کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں مثلا کھانا پکانا، صفائی کرنا، بچوں کی دیکھ بھال کرنااورگاڑی چلانا وغیرہ۔ مذہب کے زیر اثر صنفی کردار سازی کے ذریعے مرد اور عورت کو مخصوص معاشرتی کردار نبھانے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے مثلاً لڑکے کو بیٹ یا ہاکی دو، لڑکی کو گڑیا، لڑکا باہر کےکام کرے، لڑکی گھر داری کرے وغیرہ اور اس عمل میں لڑکوں اور لڑکیوں کو یکساں مواقع فراہم نہیں کئے جاتے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ صنفی کردار کے تعین میں مذہب اور مذہبی اداروں کے علاوہ والدین، خاندان، گھر، محلہ، معاشرہ، اسکول، تعلیمی ادارے، ذرائع ابلاغ، کام کی جگہ، ریاست، حکومت اور سیاسی ادارے بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے طلباء و طالبات کو یہ تاثر دیا گیا کہ جب تک ان تمام اداروں سے مذہبی تعلیمات اورروائیتی اقدار کی بیخ کنی نہ کی جائے اس وقت تک جدید تمدن اور ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

اسی باب میں شادی اور نکاح کے موضوع پر بتایا گیا کہ مذہبی معاشروں میں مرد اور عورت کو شادی کے سلسلے میں فیصلہ کن اختیار نہیں دیا جاتا۔ عموماً مرد کے اس آزادانہ فیصلے کو تو تسلیم کر لیا جاتا ہے لیکن عورتوں پر کئی پابندیاں عائد ہیں اور وہ اپنے آزادانہ فیصلہ کرنے میں خود مختار نہیں۔ ایک طرف قرآن و سنت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ والدین اس بات کے پابند ہیں کہ بچوں اور بچیوں کا نکاح انکی رضامندی سے کریں اور دوسری طرف ان مغربی تصورات کی وکالت کی گئی ہے جو مغرب میں خاندانی نظام کا خاتمہ کر چکے ہیں۔

مغرب میں فیمنسٹ تحریک کا سارا زور اس بات پر ہے کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان خلیج پیدا کی جائے اور اس مقصد کے حصول کی خاطر عورتوں کو مردوں سے نفرت کرنے پر ابھارا جا رہا ہے۔ وہاں جو مرد، مذہبی و روائیتی اقدار، ثقافت اور معاشرت پر قائم رہنے پر مصر ہیں انکے اس رویے کو ‘زہریلی مردانگی Toxic Masculinity ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ پنجاب بورڈ کی انٹر میڈیٹ کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں بھی اسی اصطلاح کو استعمال کیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ زہریلی مردانگی، مردانہ برتری کا منفی رجحان ہے جس کے تحت خواتین کو مردانہ بالادستی کا احساس دلا کر ان پر جارحیت، رعب اور دبدبہ سے نظم و ضبط قائم کیا جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مردانہ برتری کے اظہار کو چونکہ معاشرہ اور مذہب تقویت دیتا ہے اس لئے خواتین بھی اس پر یقین کر لیتی ہیں اور یہ عمل خواتین کے اکیلے سفر کرنے، حصول تعلیم، ملازمت کرنے اور اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے۔ اس موقع پر ایک دفعہ پھر اسلامی متون کا سہارا لیا گیا اور حضرت شعیبؑ کی بیٹیوں اور حضرت موسیٰؑ کا قصہ اور کئی احادیث مبارکہ پیش کرکے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام مرد و زن کی مساوات کا درس دیتا ہے اور خواتین کے کسی آزادانہ عمل پر رکاوٹ عائد نہیں کرتا۔

پاکستان کی وہ خواتین جنہوں نے اپنی جدوجہد سے خودمختاری اور آزادی حاصل کی اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں سمیٹیں انہیں مذکورہ باب میں طالبات کیلئے آئیڈیل قرار دیا گیا اور ان میں سے کامیاب ترین خاتون بینظیر بھٹو صاحبہ ہیں جو دو بار پاکستان کی وزیر اعظم بنیں۔ انکے علاوہ عالمی اسکوائش کی کھلاڑی ماریہ طور پا کے وزیر کو باعزم خاتون کے طور پر پیش کیا گیا جس نے کھیلوں میں حصہ لینے کیلئے لڑکے کا بھیس بدلا اور راز افشا ہونے پر اسے دھکمیاں دی گئیں لیکن وہ پرعزم رہی اور آج وہ کئی عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہے۔ مریم مختار جنگی ہواباز خاتون، فٹ بالر شہلا بلوچ، ملالہ یوسف زئی نوبل انعام یافتہ و دیگر آزاد، خودمختار اور مغرب زدہ خواتین کو بھی اس لسٹ میں آئیڈیل خواتین کے طور پر شامل کیا گیا۔ فیمنسٹ ماہرین نےاس لسٹ میں حضرت شعیب کی بیٹیوں، حضرت مریم ؑ، صحابیات و مسلم تشخص کی حامل دیگر کسی خاتون کو شامل کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ انکے خیال میں ان خواتین کے کردار سے عورت کی آزادی اور مساوات کیلئے دلائل تو تراشے جا سکتے ہیں لیکن انکو طالبات کیلئے ایک آئیڈیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی مطالعہ پاکستان کی دونوں کتب کے مذکورہ باب میں قومی و پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ وومن پروٹیکشن ایکٹ 2010، جنسی ہراسمنٹ ایکٹ 2010، کم عمری کی شادی پر پابندی ایکٹ 2015 اور خواتین تحفظ ایکٹ 2016 کو تمام تفصیلات کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ ان قوانین کو منظور کروانے میں این جی اوز، فیمنسٹ تنظیموں اور مغرب کے سیاسی و مالی اداروں کا خاص کردار تھا اس لئے طالب علموں کو ان کارناموں سے روشناس کروانا ضروری سمجھا گیا۔ ان قوانین کی تفصیلات میں طلباء و طالبات کو بتایا گیا ہے کہ خواتین پر تشدد، دنیا کے تمام پسماندہ معاشروں کا مسئلہ ہے کیونکہ مرد خواتین کو کمتر سمجھتے ہیں۔ خواتین پر ہونے والے اس تشدد میں گھریلو تشدد، نفسیاتی و جذباتی تشدد، معاشی استحصال، تعاقب، دھمکیاں اور جنسی ہراسمنٹ شامل ہے اور ان سب جرائم کا ارتکاب مردوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین سے امتیازی سلوک، بدسلوکی، گھر میں خاوند کا ناروا رویہ، مردوں کے برابر کام کرنے کے باوجود کم اجرت، لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے میں والدین کی تنگ نظری، حقوق کی پامالی وغیرہ خواتین کے لئے عام عمل ہیں۔

ان ابواب میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ عورتوں کے خلاف ہونے والی جنسی ہراسمنٹ، جنسی پیش رفت، جنسی بد سلوکی، جنسی حملہ، چھیڑ چھاڑ، اسٹاکنگ، برہنہ تصاویر و ویڈیوز کی اشاعت اور دیگر تمام جنسی جرائم کا آغاز مغرب میں ہوا اور آج بھی امریکہ کے ایک قومی سروے کے مطابق وہاں میں ہر 5 خواتین میں سے 1 کے ساتھ اسکی زندگی میں کم ازکم ایک بار زنا یا اقدام زنا کا واقعہ ضرور پیش آتا ہے۔ اسی طرح ہر 38 مردوں میں سے 1 مرد اپنی زندگی میں کم ازکم ایک بار زنا کا عمل ضرور کرتا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر 6 میں سے 1 خاتون اور ہر 17 میں 1 مرد اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار اسٹاکنگ کا شکار ہوتے ہیں جس سے انکو جنسی خوف یا جان کا خوف لاحق ہوتا ہے۔ ہر 3 میں سے 1 خاتون کو اپنی زندگی میں ایک سے زائد مرتبہ اپنے جنسی پارٹنر کی طرف سے جنسی تشدد اور زبردستی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک تہائی خواتین اپنی زندگی میں ایک سے زائد مرتبہ اپنے جنسی پارٹنر کی طرف سے نفسیاتی اور جذباتی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں اور جنسی پارٹنر کی طرف سے جسمانی تشدد اور جذباتی و نفسیاتی تشدد کے سلسلے میں متاثر ہونے والے مردوں کی تعداد خواتین کے برابر ہے۔

مطالعہ پاکستان کی ان کتب میں طالبات کو اس بات سے آگاہ کرنا بھی ضروری خیال کیا گیا ہے کہ اگر خواتین اپنی آزادی میں کوئی رکاوٹ محسوس کریں تو پنجاب کے تمام اضلاع میں موجود دارالامان کی مفت ہیلپ لائن پر رابطہ کر سکتی ہیں اور عارضی پناہ گاہ کیلئے درخواست بھی کر سکتی ہیں۔ متاثرہ خواتین اپنے مجرموں سے تحفظ کے لئے ایک حفاظتی حکم نامہ بھی حاصل کر سکتی ہے جس کو یقینی بنانے کیلئے عدالت مجرموں کو جی ایس پی ٹریکنگ بریسلٹ پہنا دے گی اوراس عورت سے دور رہنے پر مجبور ہونگے۔ مجرم جب بریسلٹ اتارے گا تو مرکز انسداد تشدد برائے خواتین کو خود کار طریقے سے اطلاع مل جائے گی اور اسکے نتیجے میں مجرم کو 6 ماہ اضافی قید ہوگی۔ اگر عورت کی جان، عزت اور وقار کو مزید خطرات لاحق ہوں تو مجرم کو گھر سے جانے کا حکم دیا جائے گا مگر عورت کو گھر سے نہیں نکالا جا سکتا۔ عدالت مجرم کو یہ حکم بھی دے سکتی ہے کہ وہ متاثرہ عورت کے مقدمے، روزگار، طبی اخراجات وغیرہ برداشت کرے۔ اور آخر میں یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ تمام عورتوں، معاشرے اورریاست کو چاہیے کہ بدنامی کی وجہ سے اختیار کی جانے والی خاموشی کو ترک کریں اور کھلے عام عورتوں کی آزادی اور خودمختاری پر گفتگو کریں۔

آپ ذرا غور کریں کہ لبرل و فیمنسٹ ماہرین کو نصابی کتب میں قرآنی آیات، ‘ملک کادفاع شہریوں کا اولین فرض’ اور اور راشد منہاس، لانس نائیک محفوظ شہید جیسے ہیروز کے ناموں کی شمولیت پر اعتراض تھا۔ انکی دلیل یہ تھی کہ یہ موضوعات تو دینی ماہرین، ملٹری ہسٹری، اکنامکس آف وار اورملٹری اسٹیڈیز کے ہیں، انہیں چھوٹے لیول کی درسی کتب میں شامل کرنے کا کیا جواز ہے؟ اب انہی ماہرین کو جینڈر اسٹڈیز، ایم اے اور ایم فل سوشیالوجی میں پڑھائے جانے والے فیمنزم کے نظریات اور فلسفیانہ تصورات کو ان چھوٹے لیول کی کتابوں میں داخل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہیں اس بات پر بھی سنجیدگی سے سوچنا گوارا نہیں کیا کہ وومن پروٹیکشن ایکٹ 2010، جنسی ہراسمنٹ ایکٹ 2010، کم عمری کی شادی پر پابندی ایکٹ 2015 اور خواتین تحفظ ایکٹ 2016 ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کےنصاب کے موضوعات ہیں اور میٹر ک و انٹرمیڈیٹ کے طلباء و طالبات ان موضوعات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

ویسٹرن یورپ اور نارتھ امریکہ، جہاں کے تمام تعلیمی ادارے فیمنسٹ تحریک کے کنٹرول میں ہیں وہاں بھی یہ نظریات یونیورسٹی لیول سے نیچے نصاب کا حصہ نہیں ہیں۔ وہاں یہ نظریات سوشل سائنسز یا وومن اسٹیڈیز و جینڈر اسٹڈیز کے گریجوئیٹ و انڈر گریجوئیٹ لیول کےمضامین میں شامل ہیں لیکن دیگر مضامین پڑھنے والے طلباءو طالبات کیلئے ان کا مطالعہ لازمی نہیں۔ وہاں کے بہت سے ماہرین کو اس بات پر اعتراض ہے کہ انڈر گرئجوئیٹ لیول کے سوشل سائنسز کے طالب علموں کو یہ تھیوریز بتا کر انکا ذہن کیوں خراب کیا جا رہا ہے۔ طالب علموں کو یہ سکھانا کہ دنیا کو ظلم کی عینگ سے کس طرح دیکھنا چاہیے یہ صرف خطرناک ہی نہیں بلکہ خود ایک ظالمانہ فعل ہے۔ اس سے زیادہ ظلم کی کوئی اور بات نہیں ہو سکتی کہ پروفیسرز حضرات آپ کو سوشیالوجی کے ہر سبق کا مطلب صرف یہ بتا رہے ہوں کہ آپ بحثیت عورت ایک وکٹم ہیں۔

نئی نسل کیلئے عذاب :

یورپ اور امریکہ کے ماہرین جن نظریات و تجربات کی حقیقت سمجھنے کے بعد انہیں عذاب قرار دے رہے ہیں، ہمارے مقامی لبرل و فیمنسٹ ماہرین وہی تجربات دہرا کر اپنی قوم کو عذاب میں مبتلا کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ ان تجربات سے شاید پاکستان اور اسلام کے دشمن تو خوش ہو جائیں لیکن ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ہمارے یہ ماہرین اس بات سے صرف نظر کیوںکر رہے ہیں کہ ویسٹرن یورپ اور نارتھ امریکہ میں جہاں جہاں فیمنسٹ تحریک کے زیر اثر، کچھ عشرے پہلےقانون سازی ہوئی وہاں سنگین قسم کی معاشرتی پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ اس قانون سازی کے تحت ہر شعبہ زندگی میں عورتوں کو مردوں کی نسبت زیادہ اہمیت اوراولیت دے دی گئی۔ ان کے فیملی لاز میں شادی و طلاق کے امتیازی قوانین، بچوں کی حوالگی کے وقت عورت کی حمایت، عورتوں کے مقابلے میں مردوں کو زیا دہ لمبی سزائیں، عورتوں کیلئے مردوں کی نسبت زیادہ تعلیمی وظائف، عورتوں کی بیماریوں پر زیادہ فنڈز اور مردوں کی بیماریوں پر کم فنڈز مختص کرنے، عورتوں کےکہنے پر مردوں کو جبراً ناجائز بچوں کا والد قرار دینے، مردوں پر وائلنس اور ریپ کے الزامات لگانے، تعلیمی امتیازات اور کئی دوسرے امتیازات شامل ہیں۔

ان امتیازی قوانین سے سفید فام مردوں میں’ مردانگی کا بحران’ پیدا ہو گیا ہے نتیجتاً وہ بھی اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور یہ عمل اب’مردوں کےحقوق کی تحریک ‘کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ آپ غور کریں کہ جب کسی ملک اور قوم کے تمام مرد اور عورتیں اپنے اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہونگے تو کون کس کو حقوق دے گا؟ دونوں اصناف ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہونگی تو آنے والی نسل کی تعلیم و تربیت کون کرے گا؟ اس طرح توخاندانی نظام کی تباہی سے انسانیت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ آج کسی مسئلے کا حل تعصب، نفرت اور حقوق کی جنگ میں نہیں ہے۔ نسائی حقوق کے ماہرین اور مردوں کے حقوق کے ماہرین یہ بات سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں کہ اصناف کا امتیاز محض ایک نسبت ہے۔ ان میں سے ایک صنف کے حقوق کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے دوسری صنف پر مرتب ہونے والے اثرات کو جانے اور سمجھے بغیر آپ جو کام بھی کریں گے، کبھی بھی انسانیت پر اسکے مثبت اور دیرپا اثرات مرتب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ایک صنف کو نظر انداز کرکے جب دوسری صنف کے حقوق کے لئےکوئی منظم کام کیا جائے گا تو پہلی صنف بھی منظم ہو کر اسکے اثرات کو زائل کر دے گی۔

اس مضمون کی وساطت سے حکومت پاکستان اور وزارت تعلیم سے گزارش ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں شامل نکات اور رہنما اصولوں کی روشنی میں تمام صوبوں کے نصاب تعلیم کو فوری پر قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھالا جائے اور اس میں سے لبرل، سیکولر اور فیمنسٹ نظریات کے حامل مواد کو خارج کیا جائے۔ دینی جماعتوں، علمائے کرام اور والدین کو چاہیے کہ وہ نصاب تعلیم میں اسلامی تعلیمات کی شمولیت اور تحفظ کی خاطر مرکزی و صوبائی حکومتوں پر زور ڈالیں اور انہیں اس بات پر مجبور کریں کہ وہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 31 کے مطابق یہاں کے عوام کو انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق بسر کرنے کی سہولیات بہم پہنچائیں۔ قرآن و سنت کی تعلیم کو لازمی قراردیں، پاکستان کے مسلم طلباء و طالبات کو اسلامی اقدار کی حفاظت اور پابندی کی تربیت دیں اور بین الاقوامی سطح پر ایسا کوئی معاہدہ نہ کریں جو اسلام اور پاکستان کے مقاصد کے خلاف ہو۔

حوالہ جات:

  1. Pakistan Studies Class-10, Punjab Text Book Board, Godhra Publishers, Urdu Bazar, Lahore Chapter 10 “Tahafaz-e-Niswan” Page 143-152 https://drive.google.com/file/d/1zeJPEQcNGidKkZNS88xaIpwWyZOH2RSq/view
  2. Pakistan Studies Class-12, Punjab Curriculum and Text Book Board, Shamas Publishers, Lahore Chapter 10 “Tahafaz-e-Niswan” Page 134-138 https://www.scribd.com/document/456653666/2018-G12-PAKSTUDY-UM-pdf
  3. Madni, AbdulRehman, Hafiz (2002) “This Secular Education System” https://www.punjnud.com/ViewPage.aspx?BookID=14659&BookPageID=332379&BookPageTitle=Yeh%20Sikolr%20Nizaam%20Taleem%20!
  4. Madni, Hassan (2004) “ Pakistan ko derpash Nae Challenge” https://magazine.mohaddis.com/shumara/400-apr-2004/3773-pakistan-darpesh-chelange
  5. Siddiqui, M.,Umair, (2018) “ Pakistan key nizam-e-taleem mein gairmulki madakhlat” https://daleel.pk/2018/03/13/77910
  6. Abbasi, Ansar (2016) “Khabardar Hoshiyar” https://jang.com.pk/news/220195
  7. Akmal, Kashan (2020) “ Kia Pakistan ka mojuda taleemi nizam yaksan qoomi nisab ko apnane kelye tayar hae? https://www.bbc.com/urdu/pakistan-53720444
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20