کائنات کے رمز شناس رنگ — (قاسم یعقوب)

2

رنگ بنیادی طور پر کائناتی سطح پر اُس شناخت کا حوالے ہیں جن سے اشیا کو ادراکی صورت ملتی ہے۔ انسان کا بصری اظہارریہ رنگ سے متعین ہوتا ہے۔ وہ بصارت جس میں رنگ پہچاننے کی صلاحیت نہیں ہوتی، بھی رنگ کی ایک متعین اور خاص حالت کی شناخت رکھتی ہے۔ رنگ جس شناخت سے اپنی شناخت پاتے ہیں، وہ روشنی ہے۔ روشنی کا حوالہ سب رنگوں کا مرکزی حوالہ ہے۔ اشیا اپنی کمیتی اور کیفیتی حدود میں ایک جیسی نہیں، ان کا تعین رنگوں جیسی لامحدود دنیا کی بصارت سے ممکن بنایا جاتا ہے۔ رنگ ہی بتاتے ہیں کہ تناقضات سے بھری اس وسعت آمیز زمین پر کون کس سطح پر کن حوالوں سے زندہ ہے۔ شعر میں رنگ ان بنیادی تناقضات کے استعارے بن کے طلوع ہوتے ہیں اور روشنی کو جنم دیتے ہیں۔

ارشد محمود ناشاد کی شاعری میں رنگ اور اس کے متعلقات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی کتاب کا نام ہی ’رنگ‘ ہے۔ ان کے ہاں کائناتی رمز رنگوں کی شکل میں ان کے وجدان پر طلوع ہوتے ہیں اور منظر کی تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ جہانِ معنی کا در کھولتے ہیں:

اک حرفِ یقیں کی خوش بُو نے سرشار کیا ہے مکانِ وجود
اک عکسِ لطیف کی برکت سے صحرائے جہاں گلزار ہوئے

ان کے ہاں رنگ محض رنگ کے معنوں میں نہیں بلکہ تخلیقی توانائی کے ان ذرائع کی بنیاد بن کے آتا ہے جو کائنات میں ارادی قوتوں کے لیے نمو کا باعث ہیں۔ ہر وہ شے جو انسان کے تخلیقی نمو پذیری میں مم ہو سکتی ہے وہ رنگ اور اس کے فروعات میں سے ہے۔ یوں پوری کائنات رنگ سے وابستہ ہے اور ایک دوسرے سے اپنی حیات کا سامان لیتی ہے۔ ناشاد نے رنگ کو اپنی تخلیقی وقت کا مرکز(pivot)بنایا ہے۔

روشنی سے رنگ اور رنگ سے خوش بُو، صبا، ہوا، جنگل، شجر، اور مظاہرِ فطرت صحرا، سمندر، سورج، چاند اور ستارے جنم لیتے ہیں۔ یوں انسان کے وجود کو اس تمام فطرت نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ ا سان کے پاس ذوقِ نمو اور جذبِ مسلسل ہے، وہ اپنے یقین کی قوت سے ان مظاہر کو اپنا لباس بناتا ہے، ان سے وہ تخلیقیت کشید کرتا ہے جو اس کے حیات افروز کیفیات کی پیدائش کا موجب بنتی ہے:

عزمِ سفر سے مٹ جاتے ہیں دیواروں کے نقش
خوشبوئوں کو جیسے ہر سو رستا مل جاتا ہے

یہ رستہ شاعر کی ذات ہے۔ فرد کی تکمیل ہے۔ شناخت کی بحرانی کیفیات کو تقین کی دولت سے مالا مال ہونا ہے۔ جس طرح روشنی رنگ کا حوالہ بنتی ہے اسی طرح خوش بُو رنگوں کی قزح کو معنی دیتی ہے۔ خوش بُو کا احساس رنگوں کے وجودی احساس کو جنم دیتا ہے۔ ناشاد کے ہاں خوش بُو کا استعارہ حیات آمیز تحریک ہے۔ شہزاد احمد کا ایک شعر ہے:
اپنے لیے تو خاک کی خوشبو ہے زندگی
لازم نہیں کہ آب وہوا خوشگوار ہو
مگرناشاد نے اسی خوشبو کے بطن سے خوشگواری کو ممکن بنایا ہے۔ وصل اور ہجر کے تناقض کی بجائے ان کے ہاں ممکنات کے باہم عمل سے کائنات کا نظم بہتر کرنے کا رجحان غالب ہے۔ عموماً ہم عصر شعری فکر میں تناقض(Paradox) کاتلازمہ غالب نظر آتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تیقن کی دھند میں گمانی کیفیات کا غلبہ ہونے لگتا ہے۔ تناقضات میں بظاہر اشیا اپنی حقیقت سے محروم ہو جاتی ہے مگر پس منظر میں جھانکنے سے اپنی ’اصل‘ کے ساتھ مودار ہوتی ہیں۔ ظاہر یا سطح سے زیریں سطح کا سفر مشکل مرحلہ ہے۔ ناشاد کی شعری کائنات ہم شعری فکر کی تناقضاتی صورتِ حال سے الگ راستہ بناتے ہیں:

یہ اور بات کہ ٹوٹا نہ کہنگی کا طلسم
زمانے والے تو منظر نئے بناتے رہے

پرانا پن نئے پن کی محض دریافت تک محدود عمل نہیں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ نئے اور پرانے کے انجذاب سے کچھ ایسا بنایا جائے جو پرانا بھی ہو اور نیا بھی۔ یعنی یہ لازمی نہیں کہ موجود سے انحراف کیا جائے۔ ارشدمحمود ناشاد کہانی اور داستان کے طلسم سے نئے اور شناسا امکانات تخلیق کرتے ہیں:

وہ ماہِ خرام آمادہ کب بادل کے حصار میں ٹھہرا تھا
کیوں گہری جھیلوں کے پانی اب اُس کے لیے دیوار ہوئے
کہانی کے مسافر شاہ زادے کی طرح اب
طلسماتِ انا میں جاوداں رہنا پڑے گا
جہاں شہزادگانِ عہدِ رفتہ گُم ہوئے تھے
اُسی شہرِ فسوں سے ہم گزرنا چاہتے ہیں
اک زمانہ تھا گوش بر آواز
جانے کیا سحر داستان میں تھا

ہم خواب کیوں دیکھتے ہیں؟ کیا یہ بدن کا فطری تقاضا ہے یا ہمارے معروض کا احساساتی تجربہ ہمارے اندر سے نکل نکل آتا ہے؟ کیا ایسا بھی ممکن ہے جو ہم دیکھتے ہیں ان کا وجود ہمارے باہر کہیں موجود ہی نہ ہو۔ ہم ایک عرصۂ خواب کے ہمیشہ سپرد عمر گزار دیں۔ لیکن خواب جن آنکھوں میں اترتے ہیں کیا وہ اپنے باہر جھانکنے کی عادت سے انکاری ہو سکتی ہیں؟ اگر یہ ممکن نہیں تو خواب کا باہر سے کیا تعلق بنتا ہے؟ ناشاد کے ہاں خواب اپنے طلسمی رشتوں کے ساتھ موجود اور وجود کے درمیان سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ہاں خواب کسی آنے والی حقیقت کا پیش منظر کی بجائے ایک تحرک دینی والی قوت کا عمل ہے، جو خود ان کے بس میں نہیں:

کھلا نہ پھول کوئی شاخِ ارزو پہ کبھی
نظر میں جب سے بسایا ہے خوابِ موسمِ گل

عام انسانی تجربہ بدن اور احساس کے تخلیقی رشتوں میں خواب کو ھوالہ بناتا ہے۔ ناشاد نے ایک ایسا خواب تخلیق کیا ہے جو اپنے ظاہری حوالوں میں ناپید ہے۔ یاد رہے کہ نایاب کا وجود ہوتا ہے مگر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے مگر ناپید کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ ان کے شعر میں خواب ایک طلسمی قوت کا استعارہ ہے جو اپنے احساستی وجود میں بدن کے شجر پرخود نہیں کھلتا بلکہ اس کے رنگ کھلتے ہیں۔ خواب اپنے احساساتی وجود سے مادی وجود میں منتقل ہوتا ہے۔ اسے شناخت ملتی ہے۔ خواب کا عمل اپنے وجود کی نفی پر اپنی پہچان کا حوالہ بنتا ہے:

پھول پامالِ دہر ہوا
ہو گئی سرخ رُو خوش بُو

یہ تقلیب(Metamorphosis) کا عمل ہے۔ اس عمل کی تکمیل میں بعض اوقات بہت سے اشیا اپنے ادھورے پن کی وجہ سے وجود سے عدم وجود کاحصہ ہو جاتی ہیں۔ خواب کو بدن مہیا کرنا عام تخلیقی تجربہ نہیں۔ ناشاد نے اسے اپنے وجود کی قیمت پر حاصل کیا ہے:

دیارِ جاں میں بھڑکتا رہا ہے شعلۂ شوق
رہی ہے سایہ فگن ہم پہ مہربانیِ ہجر
ابھی شوق سفر باقی ہے ہم میں
مگر پائوں میںزنجیریں پڑی ہیں
میں کہ اپنی تلاش میں گم ہوں
جاگ اٹھا ترا سوال کہاں

گویا خواب اپنے وجود کا استعارہ تراشتے ہیں۔ صرف رنگ ہی نہیں بلکہ صبا، موسم، خوش بُو، باغ سب خواب کے استعارے ہیں۔ بدن کی شاخ پر کھلے امکانات کی بہاریں ہیں۔

ناشاد نے نئی زبان سے اجتناب برتا ہے۔ نئے استعارے بناتے ہوئے زبان کا اسلوبی ڈھانچہ روایت کے ساتھ منسلک رکھا ہے۔ مصرع کی بُنت کاری پر انھوں نے بہت توجہ صرف کی ہے۔ زبان کی کلاسیکی فنی آراستگی کے قریب رہنے میں انھیں سہولت رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا خیال فنی باریکیوں کو سمیٹ کر طلوع ہوتا ہے۔ شعر کے دو مصرعوں میں جمال کاری کا نمونہ نظر آتا ہے۔ ’رنگ‘ میں اشعار کی مختلف تصویر کش مناظر سے کتاب کا حسن بڑھ گیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. بہت شکریہ اس کتاب سے متعارف کرانے کا۔ کتاب حاصل کرنے کا طریقۂ کارکیا ہے؟

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20