ذوالفقار علی بھٹو: مسلم دنیا کا نپولین بوناپارٹ؟ — ڈاکٹر غلام شبیر

0

کسی چیز کو جتنا قریب سے دیکھیں اتنی درست دکھائی دیتی ہے مگر تاریخ کا معاملہ یوں ہے کہ یہ ہمیشہ دور سے زیادہ درست دکھائی دیتی ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے مفروضیت کے بادل چھٹتے جاتے ہیں اور  مطلع صاف ہوتا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے باب میں یہی ہوا ہے کہ جب نصیب دار ہوئے تو اپنی ماضی قریب کی سیاسی دشمنیوں اور حکومتی اور ریاستی امور پر قابض فوجی طالع آزما کے سبب اسے ولن اور ہیرو کے دو متضاد عدسوں سے دیکھا گیا۔ تاریخ جس قدر آگے بڑھ رہی ہے بھٹو صاحب سے متعلق ایک معروضی بیانیہ تشکیل پارہا ہے۔ اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے کہ ضیا الحق کے سیاسی ورثے نے بھی اپنا وزن بھٹوازم کے پلڑے میں ڈال دیاہے، یہ الگ بات کہ پیپلزپارٹی کچھ سیاسی مصلحتوں کے سبب ضیا ازم کا ورثہ بننے کا سوچ رہی ہے۔ گڑھی خدابخش میں بھٹوز کی قبروں پر بلاول بھٹو کیساتھ گلاب بکھیرتی مریم نواز کی تصویر سے ضیاالحق پہ جو گزری سو گزری ہوگی تاہم تاریخ کو اس پہ خندہ زن پایا۔ شکیب جلالی نے بھی کیا خوب کہا تھا۔

فصیل جسم پہ تازہ لہوکے چھینٹے ہیں
حدودوقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی!

ذوالفقار علی بھٹو جاگیردارباپ اور غریب ماں کی بدولت ہرچند کچھ بنیادی تضادات کے حامل لیڈرتھے، اسٹینلے وولپرٹ کے الفاظ میں اس بعدالمشرقین کے سبب وہ ون یونٹ سائیکی کے برعکس کثیرالقطبی نفسیات کا پیکیج لیکر تاریخ کے افق پر طلوع ہوئے تھے مگر کیا کیجئے کہ بھٹو کا انسپائریشنل ماڈل نپولین بوناپارٹ جسے جدید تہذیب مغرب کا بانی کہا جاتا ہے کچھ ایسی ہی خوبیوں کا خواہاں تھا۔

The hero of a tragedy, in order to interest us, should be neither wholly guilty nor wholly innocent…all weakness and all contradictions are unhappily in the heart of man, and present a coloring eminently tragic. .۔

اور پھرجب تاریخ کسی بڑے اخلاقی آئیڈیل کیلئے کسی کا خون قبول کرلے تو عام بشری کمزوریاں ثانوی حیثیت اختیار کرجاتی ہیں۔ سلاخوں کے پیچھے نہتے بھٹو کی طاقت کا سرچشمہ یہی اخلاقی سچائی تھی کہ اس نے صعوبتوں کا بلا سمجھوتہ مردانہ وار مقابلہ کیا اور عقابی انداز میں آندھی کے منہ پہ تھوک کر اڑ گیا۔ شاید جدہ کیلئے کوالیفائی نہ کرتاہو دبئی کیلئے جلاوطنی کی خواہش تو کرسکتا تھا مگر وہ پابند سلاسل الٹا زیادہ مثالیت پسند ہوکر سوچ رہا تھا کہ مسلم ایشیا اور افریقہ میں پے درپے مارشل لائوں نے صورت حال گھمبیر کردی ہے مگرجنوبی افریقہ میں گوروں کیخلاف مزاحمت کی تحریک اور دیگر افریقی ممالک میں جمہوری روح کی بیداری ایک دن دنیا پرثابت کردے گی کہ کالا رنگ بھی ایک خوبصورت رنگ ہے۔

بھٹو صاحب نے نپولین بونا پارٹ سے پالیٹکس آف پاور اور کمیونسٹ مانوفیسٹو سے غریب کا درد سیکھا۔ تاہم بھٹو فہمی میں ایک بڑا خلا بھٹو صاحب کو اپنے والد سر شاہنواز بھٹو کے تسلسل سے آنکھیں چرا کر سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔ قیادت کی چند عظیم خوبیاں بھٹو صاحب کو اپنے والد سے ورثے میں ملی تھیں۔ ان میں پہلی چیز نپولین بوناپارٹ سے محبت ہے جو سر شاہنواز بھٹو کا فیورٹ لیڈرتھا۔ شاہنواز رسمی تعلیم حاصل نہیں کرسکا تھا مگر ممبئی مالابار ہل پر قیام گاہ کے سبب اسے اس کمی کا شدید احساس ہوا تھا اور عہد کیا تھا کہ اپنے بیٹے کی تعلیم میں وہ حتی المقدور وسائل بروئے کار لائے گا۔ شاہنواز کا تجربہ تھا کہ ساری کی ساری سیاست کا انحصار “پوز” اور “اسٹائل پر ہوتا ہے۔ شاہنواز بھٹو سرد و گرم چشیدہ ہونے کے سبب بھٹو فیملی کے شاید متوازن ترین فردتھے کیونکہ انہوں نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو خاندان چند بڑے بحرانوں کی زدمیں تھا جس وجہ سے وہ رسمی تعلیم کے حصول میں مشکلات کا شکار رہے تھے۔ انہوں نے انہیں تجربات کی بنیاد پر اپنی یادداشتوں میں اپنے بیٹے کو وصیت کیلئے کمال جملہ لکھا تھا ”Until the day of Judgment everything is temporary”۔ اس جملے نے بھٹو صاحب کو زندگی بھر بوالہوسی سے دور رکھا اور مین ہٹن میں فلیٹ خریدنا تو دور کی بات اسے لاہور اور اسلام آبادمیں بھی بلاول ہاوس بنانے کی نہ سوجھی ان شہروں میں ان کا قیام ہوٹلوں میں ہوا کرتا تھا۔ سر شاہنواز نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ سیاست کا سیاستدان سے اولیں مطالبہ یہی ہے کہ وہ عوام کی منزل اور تقدیر بدل دے۔ بھٹو خاندان میں بالعموم بدلتے حالات سے ہم آہنگی کی روش رہی ہے تاہم اپنی زمین، اپنے مذہب اور کلچر پر سمجھوتے کا چلن کبھی نہیں رہا۔ بھٹو خاندان کو زمینیں مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں ملی تھیں، دیگر جاگیرداروں کیطرح انہیں انگریزوں سے جاگیریں نہیں ملی تھیں ہاں انگریزوں سے اپنی زمینیں بچانے میں خوب توانائیاں صرف ہوئیں۔ سر شاہنواز قیام پاکستان کے بعد لاڑکانہ، کراچی، بمبئی دہلی اور لندن میں مقیم حریفوں کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انگریز کے بوٹ پالشیے کتنی ڈھٹائی سے آزادی کے مردان حرہونے کا مصنوعی پوز دیتے ہیں۔ اسٹینلے وولپرٹ لکھتا ہے کہ اگرچہ سر شاہنواز نے اپنے ہم عصر انگریز وائسرائیز اور گورنرز کیساتھ پرشکوہ میزوں پر بیٹھ کر خورونوش کیا مگر کبھی یہ فراموش نہ کیا کہ وہ ایک مسلم تشخص کا حامل شخص ہے اور سندھ اس کی دھرتی ماتا ہے۔ لندن میں گول میز کانفرنسوں کے دوران سرشاہنواز کا برطانوی حکام کو سندھ کی ممبئی سے علحدگی پر رضامند کرلینا ان کی اتنی بڑی کامیابی تھی جس سے بڑی کامیابی صرف قائداعظم کو ملی تھی کہ وہ بعد میں پاکستان بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ چند سال قبل راقم نے نیوزویک میگزین کے ٹائٹل پیج پر Sukhar Barrage the creator of Pakistan کا ٹائٹل دیکھا تو بسرعت مضمون پڑھا جس میں مصنف نے تھیسس پیش کیا تھا کہ سکھر بیراج کے جدید نہری نظام اور ممبئی سے سندھ کی علحدگی کیوجہ سے سندھ اس قدر خوشحال ہوا کہ پاکستان کے قیام کیلئے سب سے پہلے سندھ اسمبلی نے قرارداد منظور کی اور پاکستان ایک حقیقت بنا یوں سکھر بیراج کو پاکستان کا خالق سمجھا جانا چاہئے۔ راقم کا اس منطق کے تحت خیال سرشاہنواز بھٹو کیطرف گیا۔

یوں دیکھا جائے تو ذوالفقارعلی بھٹو کیلئے جہت نمائی کا بنیادی فریضہ خود سر شاہنواز نے انجام دے دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی چند ماہ کراچی کی اسکولنگ کے بعد سرشاہنواز کو ممبئی کے گورنر لارڈ برابورن کی کیبنٹ میں شمولیت کیلئے 1934 میں ممبئی شفٹ ہونا پڑگیا۔ لندن میں سندھ کی ممبئی سے علحدگی کا منصوبہ طے پاچکا تھا مگر اس پر عمل 1937 کے ایکٹ کے تحت ہونے والے انتخابات کے بعد ہونا تھا۔ یہاں ممبئی میں مالابار ہلز پر سر شاہنواز کو عظیم الشان رہائش ملی تھی۔ پڑوس میں نہرو کی بہن کرشنا نہرو کا گھر تھا۔ محمدعلی جناح کی رہائش بھی ادھر تھی۔ اسی علاقے میں ڈاکٹر پٹیل کا کلینک تھا جہاں قائداعظم اور سر شاہنواز کا بسلسلہ چیک اپ مستقل بنیادوں پر آنا جانا تھا ڈاکٹر پٹیل کے ہاں شام ساڑھے چارسے چھ بجے تک صحبت یاراں میں چائے کا دور چلتا تھا۔ کم سن بھٹو بھی کرکٹ سے فرصت ملنے پراپنے والد کیساتھ ان خوش کلامیوں سے مستفید ہونے کیلئے کھلے کانوں سے سنا کرتے تھے جہاں سرکائوس جی اور دیگر قائداعظم سے آزاد قیام پاکستان اور ممکنہ مسائل پر سوال اٹھایا کرتے اور وہ دلائل سے جواب دیاکرتے تھے۔ یہ وہ دن تھے جوکم سن زلفی کے ذہن میں سیاست کی تخم ریزی کر رہے تھے۔ یہ ڈاکٹر پٹیل وہی فزیشن تھا جس نے قائداعظم کی ٹی بی رپورٹ کو پردہ اخفا میں رکھا تھا اگر بروقت بتا دیتا تو شاید پاکستان یہ بنتا نہیں اگر بنتا تو 1947 کو ہرگز وقوع پذیر نہیں ہوسکتا تھا۔ اکثر لوگ ڈاکٹر پٹیل کو پروفیشنلزم کی داد دیتے ہیں مگریہ بھول جاتے ہیں کہ سر شاہنواز جب ممبئی کے وزیر صحت تھے تو ڈاکٹر پٹیل نے پروموشن کے کتنے زینے چڑھے تھے۔ اپنے محسن کے دوست کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہوتا ہے یہ روش بلا تخصیص مذہب برصغیر کی مٹی کی بہت بنیادی قدر رہی ہے۔

یہاں ممبئی میں جب سرشاہنواز اپنے نو سالہ بیٹے کو کیٹھڈرل بوائز اسکول میں ایڈمشن کیلئے لے گئے تو پرنسپل نے کہا کہ ان کا کچھ وقت ضائع ہواہے اس لیے پہلے گرلز اسکول میں کچھ وقت کیلئے داخل کروا دیں جب کچھ بنیاد بن جائے تولے آنا ابھی باقی بچوں کے ساتھ چلنا مشکل ہوگا۔ کم سن بھٹو نے پرنسپل کے اس خیال سے اختلاف اور بغاوت کا اظہار کیا۔ پرنسپل نے اس انداز کا برا منانے کے برعکس کم سن بھٹو کو سراہا۔ کم سن بھٹو کا عملی زندگی میں یہ پہلا “پوز” اور “اسٹائل” تھا جو زندگی بھر بھٹو صاحب کی تعلیمی زندگی اور سیاسی کیرئر کا جزولاینفک رہا جس کی نشاندہی اور سفارش سرشاہنواز نے ابتداً کردی تھی۔ ممکن ہے سر شاہنواز نے یہ پوز اور اسٹائل قائداعظم میں ملاحظہ کیا ہو جس نے بھگت سنگھ کی پھانسی پر برطانیہ کیخلاف دوٹوک موقف اختیار کیا تھا اور رولٹ ایکٹ کی منظوری پر امپیریل کونسل سے استعفیٰ دے مارا تھا۔ بہرحال بھٹو کیلئے قائداعظم ایک آئیڈیل لیڈر تھے۔ ممبئی اور امریکا میں ذولفقارعلی بھٹو کے ہم مکتب اور ہم دم دیرینہ دوست پیلومودی کا یہی کہنا ہے کہ امریکا میں تعلیم کیلئے قیام کے دوران ہمارے درمیان اکثر بحثیں ہوا کرتیں تھیں میں نہرو کا دفاع کیا کرتا اور بھٹو قائداعظم کا دفاع کرتے فرق اتنا ہے کہ نہرو سے میری محبت بتدریج ماند پڑتی گئی اور قائداعظم سے ذوالفقارعلی بھٹو کی محبت بتدریج پختہ اور مستحکم ہوتی چلی گئی۔ قائداعظم کی طرف سے ڈائریکٹ ایکشن کی تحریک پرکم سن بھٹو قائداعظم کے مالابار ہائوس میں پروٹیسٹ کا منصوبہ طے کرنے کیلئے دیگر مسلم اسٹوڈنٹس کے ہمراہ جمع ہوئے تھے اور کالج کا گھیراو کیا تھا جس کی کوریج ممبئی کے اخبارات نے کی تھی یہ بھٹو کا قائداعظم کے زیرسایہ سیاسی بپتسمہ تھا۔ پھر تو وہ جان حیا ایسا کھلا ایسا کھلا کہ ممتاز بھٹو نے کہا تھا کہ بھٹو کے جسم میں خون کے برعکس سیاست دوڑتی تھی۔

امریکا میں حصول تعلیم کے دوران بھٹو کو عالمی سیاست کو گہرائی سے دیکھنے کا موقع ملا مگر یہاں کسی احساس کمتری کے برعکس سر شانواز کی طرح ایک لمحہ بھی یہ فراموش نہ کرسکا کہ اسلام اس کا مذہب اور پاکستان اس کی دھرتی ماتاہے۔ یہاں بھٹو کو محسوس ہوا کہ نسل پرستی کی جڑیں گہری ہیں اور اس کی حیثیت کسی میکسیکن یا نیگرو سے زیادہ نہیں ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو اس ماحول میں پان اسلام ازم کے گرویدہ ہوئے۔ وہ ہمیشہ عالمی طاقتوں کیخلاف ایک اسلامی بلاک بنانے کی باتیں کیا کرتے تھے ایرانی طالبہ للی بختیار کہتی ہیں نمجھے ان کے اس جنون سے بہت خوف آتا تھا جب ہم امریکا میں زیرتعلیم تھے۔ بھٹو یہاں ڈیبیٹس میں بہت سرگرم تھے۔ فروری 1948 میں بھٹو نے ایک مباحثے میں کہا تھا بطور ایک عالمی شہری کے یہ میرا فرض ہے کہ میں لوگوں کو قائل کروں ہماری نجات ایک دنیا کے قیام میں ہے۔ آئو انسانیت کی خاطر بلاتعصب ہم سیاسی اصولوں کا ازسرنو جائزہ لیں۔ آئو ہم خونی جنگوں کا باب بندکریں اور انسانوں کے درمیان ہم آہنگی کی راہیں تلاش کریں۔ آئو ہم اپنے ذہنوں سے قومیت پرستی کا ناسور کھرچ ڈالیں جس کی کوکھ میں شدت پسندی اورعدم برداشت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بھٹو نے پرزور مدلل انداز میں اپنا تھیسس پیش کیا کہ کہ بلا تفریق رنگ و نسل ایک دنیا کے قیام کا ہتھیار ایٹم بم نہیں ہوسکتا۔ محبت کا ہتھیار بروئے کار لانا ہوگا۔ اس کیلئے سادگی کے عقیدے کو شعاربنانا ہوگا۔ وہ سادگی جس کا مظاہرہ محمدعربیﷺ نے انتہائی موثر انداز میں صحرائے عرب میں کیا تھا۔ یکم اپریل 1948 میں بھٹو نے یونیورسٹی میں ایک مباحثے میں گویا ہوئے کہ میراث اسلامی کو میں اپنی کامیابی اور کارنامہ تصور کرتا ہوں کیونکہ عالم اسلام کی کسی بھی کامیابی اور کارنامے کو میں اپنا کسب سمجھتا ہوں بعینہ عالم اسلام کی کسی بھی ناکامی اور ہزیمت کو میں ذاتی ناکامی اور ہزیمت سمجھتا ہوں۔ ہمارے اوپر عالم اسلام کا اتحاد قرض ہے باوجود اس کے کہ اس امت مرحومہ کا جسد تاتار اور چیتھڑوں میں منقسم ہے۔ ہرچند کہ میں کوئی سرشار فدائی مسلمان نہیں ہوں میری دلچسپی اسلام کے سیاسی معاشی اور ثقافتی ورثے میں گندھی ہوئی ہے۔ بھٹو صاحب نے اسلام کی ابتدائی تاریخ اور عقیدے کی ڈیویلپمنٹ پر پرمغز اور روح پرور گفتگو کرتے ہوئے کہا آج ہماری حالت قابل رحم حدتک غیر مستحکم ہے۔ استعماریت نے ہمارا جوہر زندگی ہم سے چھین لیا ہے کرہ خاک و آپ کے ہرحصے میں ہمارا خوں ارزاں ٹھہرا ہے۔ مسلم دنیا کی جوان نسل جو ایک نئی طاقت اور مبنی بر انصاف نظام عالم کی نیو اٹھائے گی استحصالی نظام کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ایک اسلامی کنفیڈریشن کے تحت مستقبل کی دنیا کم ازکم امت محمدیہﷺ زیادہ محفوظ و مامون ہوگی۔ منزل اور تقدیر اتحاد عالم اسلامی کا تقاضا کررہی ہے۔ سیاسی حقیقت اس کا جواز پیش کر رہی ہے، ہماری آئندہ نسل اس کی منتظر ہے اور خدا کی قسم ہم یہ منزل حاصل کرکے رہیں گے۔ حوصلہ اور بہادری ہمارے خون میں ہے۔ ہم گراں قدر میراث کے حامل ہیں۔ ہم کامیاب ہوں گے۔

ان الفاظ پر غور کیا جائے تویوں لگتا ہے کہ بھٹو میں سرسید احمد خان یا محمد علی جناح کے برعکس سید جمال الدین افغانی اور علامہ اقبال بول رہے ہوں کیونکہ سرسید اور قائداعظم کا عملیت پسند مزاج برصغیر کے مسلمانوں کیلئے بروئے کار آیا تھا۔ ان الفاظ میں تو مثالیت پسند افغانی کی گھن گرج ہے جو یورپی استعمار کیخلاف عالم اسلام کی فصیل تھا اور نکی کیڈی نے بجا طور پر اس کی سوانح عمری کا عنوان Islamic response to Western imperialism رکھا تھا۔ امریکا میں قیام کے دوران ذوالفقارعلی بھٹو اپنے ہم مکتبوں سے کہا کرتا تھا کہ میں پاکستان واپس جاکر Pan Islamic league کا سنگ بنیاد رکھوں گا۔ 5 جنوری 1949 میں اکیسویں سالگرہ کے موقع پر سر شاہنواز نے اپنے ہونہار بیٹے کو ولیم سلوون کی پانچ جلدی نپولین بوناپارٹ کی سوانح عمری اور کارل مارکس کی کمیونسٹ مانیفسٹو بھیجی۔ ان بعدالقطبین شخصیات سے بھٹو نے خوداپنے الفاظ میں بہ یک وقت پالیٹکس آف پاور اورپالیٹکس آف پاورٹی سیکھی۔ نپولین جس نے نوسال کی عمرمیں روسو کی آٹھ سو صفحات پر مشتمل تصنیف پڑھ لی تھی اور بچپن سے ہی کھیل سے زیادہ تاریخ کے مطالعے سے شغف رکھتا تھا اور اس نتیجے پرپہنچا تھا

The reading of history very soon made me feel that I was capable of achieving as much as the men who are placed in the highest ranks of our annals.

تاریخ عالم کے اس تاریخ سازلیڈرکی سوانح عمری بھٹو کیلئے اپنے پہلو میں بہت کچھ رکھتی تھی۔ نپولین نے اسکندر اعظم کو اپنا رول ماڈل بنایا تھا اور خود کو سلطنت روم کا وارث قراردیتا تھا اور کہا کرتا تھا میرا تعلق اس نسل سے ہے جس کا مرغوب مشغلہ سلطنتوں کا قیام ہے۔ اپنے ممدوح کے پیٹرن پر ذوالفقار علی بھٹو نے خود کو میراث اسلامی کا وارث قرار دیا اور اپنے خاندان کو یقین دلایا کہ بھٹوز دنیا میں حکمرانی کیلئے پیداہوتے ہیں کسی دوسرے ملک کے بدذوق ایمبیسیڈر نے کہہ دیا تھا کہ بھٹو پھانسی کیلئے پیدا ہوتے ہیں۔ بھٹو جب کلکتہ میں حسنہ شیخ کیساتھ عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے تیسری دنیا کے اتحاد یا اسلامی بلاک کی تشکیل اور سربراہی کا خواب دیکھتے ہوئے یہ رونا رو رہے تھے کہ شاید میری زندگی بہت کم ہے اور میں اتحاداسلامی کا خواب نہ دیکھ سکوں تو کرشمہ ساز حسنہ شیخ اسے باکل نپولین کے انداز میں حوصلہ دے رہی تھیں کہ کسی دل میں خداکسی خیال کی تخم ریزی اس وقت تک نہیں کرتا جب تک اس میں اسے بروئے کار لانے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔

تاہم جب کیلیفورنیا سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مذید تعلیم کیلئے انگلینڈ کیلئے عاز م سفر ہوئے تو پل بھرکیلئے غور کیا کہ آخر یہاں سے کیا سیکھا ہے تو میکیا ولی گویا ہوئے اگرہمیں کامیاب سیاستدان بننا ہے تو اصولوں کی نفع بخش عدم موجودگی درکار ہوگی۔ ہمیں دوسروں سے وہی کرنا ہے جو دیگر ہم سے روا رکھتے ہیں مگر دوسروں کو موقع ملنے سے قبل ہی ہمیں یہ کر گزرنا ہوگا۔ اسٹینلے وولپرٹ لکھتا ہے کہ بھٹو پاکستان کے ہر پاور کوریڈور میں جہاں بھی داخل ہوا میکیاولی کا سبق اسے ازبر تھا۔

بھٹوصاحب قائداعظم سے حددرجہ انسپائر تھے وہ امریکا میں کوئی جناح اور پاکستان کو جانتا ہو یا نہیں یہی کہا کرتے تھے کہ قائداعظم میرا آدمی اور میرا بت ہے جس کی میں تعظیم کرتا ہوں۔ قائداعظم کی رحلت پر بھٹو نے امریکا میں پاکستانی سفارت خانے کو تعزیتی خط لکھ کر قائداعظم سے گہری محبت اور عقیدت کا اظہار کیا مگر قائداعظم کا یہ پرستار پاکستانی سیاست میں فرنٹ کے بجائے پچھلے دروازے سے داخل ہوا۔ سیاسی کامیابیوں کے زینے جلد طے کرنے کیلئے کبھی سکندر مرزا کو قائداعظم سے بڑا لیڈر قرار دیتے دیتے جھجک جاتا کہ کہیں خوشامد کا گماں نہ ہو کبھی ایوب خان کو ڈیڈی کہتا کبھی جنرل ڈیگال قرار دیتا، اپنی سالگرہ کے موقع پر لاڑکانہ کی شکار گاہوں میں برسر اقتدار شخصیات کی ضیافتیں ہوتیں اور اگلے زینے پہ پائوں رکھتے ہی پچھلے زینے کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا جاتا۔

تاہم ایک دفعہ سیاسی قدبن گیا تو بھٹو بہت جلد ایک میچور لیڈر کے طور پر ابھرا۔ پاکستان میں جمہوریت کی حقیقی دھمال کا سہرا اسی کے سر جاتاہے۔ وہ ووٹ کیلئے ایک جھونپڑے کے بھی اتنے چکر کاٹتا تھا کہ غریب ہاری رو کر فریاد کرتا تھا سائیں کہہ دیا نا ووٹ کیا جان بھی حاضرہے۔ پیر پرست ہاری ببانگ دہل کہتا تھا دل پیر پگاڑو کا اور ووٹ بھٹو صاحب کا۔ جب پیرصاحب پگاڑو نے ایک غریب ہاری سے پوچھا کہ بھٹونے ایسا کیا دیا ہے آپ غریبوں کو کہ اسے ووٹ دیتے ہو۔ ہاری کا جواب تھا سائیں بھٹو سے پہلے ہم آپ کے آستانے پر پوچھنے کیلئے آتے تھے کہ سائیں ووٹ کس کو دینا ہے؟ بھٹو نے ایسا جمہوری ماحول بنایا ہے کہ آپ کو ووٹ کیلئے اب ہمارے پاس آنا پڑتا ہے۔ بھٹو کے ممدوح نپولین بوناپارٹ کا ماننا تھا Defeat had been, as it is so often in history, the mother of reform. سانحہ مشرقی پاکستان یعنی اکہترکی شکست کو بھٹو نے اسی اصول پر برتا۔ تہتر کا آئین ہو یا شناختی کارڈ کا اجرا، پاکستانیوں کی اوورسیز جابز میں کھپت کا معاملہ ہو یاخارجہ پالیسی کے خط وخال۔ نئی ابھرتی طاقت یعنی چین پر دوستی کا کمند ڈالنے کا معاملہ ہو۔ پاکستان میں عالمی اسلامی تنظیم کے سربراہان کا اجلاس ہویا ٹیکسلا میں چین کے تعاون سے ٹیکسلا ہیوی کمپلیس کا قیام وغیرہ وغیرہ سب ایسی اصلاحات تھیں جن کا ہیولیٰ سانحہ مشرقی پاکستان سے ہی اٹھا تھا۔

مسلم دنیا کا نپولین بوناپارٹ ذوالفقار علی بھٹو عالم اسلام کے جھلسے بدن پر بام شفا رکھنے کیلئے اس قدر آگے بڑھا کہ سوچنے لگا اگر عیسائی یورپ ایٹمی طاقت کا حامل ہوسکتا ہے، یہودی اسرائیل ایٹم بم بنا سکتا ہے اور کنفیوشس چین نیوکلئر بم رکھ سکتا ہے تو تہذیب اسلامی کواس ٹیکنالوجی سے کیونکر محروم رکھا جاسکتا ہے۔ کہا گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ پٹرولیم مصنوعات کے وسائل سے مالا مال عرب قیادتیں بھٹو پر ایسی فریفتہ ہوئیں کہ مالی وسائل ایٹمی پلانٹ کی تعمیر میں آڑے آنے سے رہے۔ یوں بھٹو نے ایٹمی پلانٹ کی بنیاد رکھ کر پاکستان کے دفاع کو ہمیشہ کیلئے محفوظ بنانے کی طرف جست عظیم کا مظاہرہ کیا۔

بھٹو صاحب سے کچھ سیاسی غلطیاں ضرور ہوئیں فاشزم کو شعار کیا، اپوزیشن کو بند گلی میں دھکیل دیاگیا۔ مگر اس کی سزا مارشل لا کا نفاذ یا بھٹوکی پھانسی ہرگز نہیں بنتی تھی۔ تاہم جس جرات بہادری اور شان ور فعت اور وقارو مستقل مزاجی سے بھٹو نے جیل کی صعوبتوں اور عدالت کی ناانصافیوں کا مقابلہ کیا اس نے بھٹو کو تاریخ کے کٹہرے میں عظیم بنادیا۔ بھٹوکے ممدوح نپولین بوناپارٹ کا ماننا تھا کہ جان دینا اتنا اہم نہیں جتنا وہ اصول یا جان دینے کا سبب اہم ہوتا ہے۔ بلاشبہ بھٹو نے پاکستانی عوام کے حق حکمرانی کیلئے جان جان آفرین کے حوالے کی۔ پاکستان تاریخ کے نازک ترین دوراہے پر کھڑا ہے۔ پاکستانی کاروان سیاست کے تاجر رہنما میاں نوازشریف نے بھی بھٹو ورثے کو اپنانے کا اعلان کیا ہے، محمد علی درانی اورگجراتی چوہدری برادران بھی کسی جہت سے بھٹو ورثے کے حامل ہیں جبکہ بھٹو کی اپنی پیپلز پارٹی گومگو کا شکار ہے۔ تاہم بھٹو اپنی حتمی کارکردگی کی بنیاد پر گڑھی خدابخش کے قبرستان سے پسماندگان کو یہی کہہ رہا ہے کہ جو قتل ہوکر نہ آئے وہ میرے قبیلے سے نہیں ہے۔ تاہم بھٹو کے وارث اب بھٹو زرداری ہیں دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20