پی ٹی وی کے زبیرالدین ۔ کچھ یادیں کچھ باتیں (دوسرا حصہ)

0

سوال۔۔ آپ اپنے ساتھیوں میں کس سے متاثر تھے؟

 زبیرالدین۔۔میں وراثت مرزا سے بہت متاثر تھا۔ یا پھر خالد حمید تھے۔ بہت اچھی آواز اور پرسنالٹی بھی بہت اچھی تھی۔ ہم کراچی سے خبریں پڑھتے تھے۔ پھر جب نیٹ ورک شروع ہوگیا یوں مجھے اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور وغیرہ بھی بھیجا جاتا۔ میں نے چاروں اسٹیشنوں سے خبریں پڑھیں۔ سب سے ملاقات رہتی تھی۔

سوال۔۔۔ خبروں کے علاوہ اور چیزوں کی پیش کش ہوئی۔۔ڈراموں وغیرہ کی؟

 زبیرالدین۔نہیں۔۔ریڈیو پر میں نے ڈرامے وغیرہ کئے تھے لیکن پھر یہ ہوا کہ جب خبریں پڑھنا شروع کیں تو سوچا کہ ایک کام تو بہتر کرلوں پھر دیکھا جائے گا۔۔

 ہاں الیکشن ٹرانسمیشن کئے، ستر کے اور ستتر کے الیکشن میں۔ غزالہ یاسمین وغیرہ کے ساتھ۔

سوال۔۔غزالہ یاسمیں، راحت سعید وغیرہ سے آپ کی ملاقاتیں رہیں۔

 زبیرالدین۔۔شادی کے بعد وہ دونوں ٹی وی پر نہیں آئیں۔۔ میری یہاں ٹورونٹو میں نکہت آفرین، حریم عارف وغیرہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ایک سعید احمد نسیم ہوا کرتے تھے، ہفتے دس دن میں ان سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ نکہت آفرین تقریباً چالیس سال بعد ملنے آئیں تھیں۔

سوال۔۔خبریں پڑھتے ہوئے، وقفے کے دوران کبھی ایسی ویسی حرکت ہوئی؟.

زبیرالدین۔۔۔خبریں پڑھتے ہوئے غلطی ہوجاتی ہے، لیکن وقفے کے دوران مجھے یاد نہیں کہ میرے ساتھ ایسا کچھ ہوا۔ لیکن ایسا ہوتا رہتا ہے۔ بعد میں سب بہت ہنستے بھی ہیں۔

 ایک بار ایسا ہوا کہ ہمارے دوست، اللہ ان کی مغفرت کرے، اکرام علی شمسی تھے، وہ اور میں خبریں پڑھ رہے تھے۔ لاہور کے کسی مذہبی جماعت کے جلسے کی فلم چل رہی تھی جس میں ایک مولانا آئے، ان کی اتنی سی داڑھی تھی، دوسرےمولانا آئے تو ان سے بڑی داڑھی تھی اور تیسرے آئے تو بہت ہی بڑی داڑھی تھی۔ اب جیسے ہی فلم کٹ ہوئی اور کیمرہ شمسی پر آیا تو وہ کہہ رہے تھے، ” ابے! اس کی تو سب سے بڑی ہے”۔ لیکن لوگوں نے اسے نوٹ کیا۔ میں نے وقفے میں بتایا کہ ان کا جملہ آن ائیر چلا گیا ہے۔ کہنے لگے نہیں یار۔۔

 ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہ گذرا تھا کہ ٹی وی اسٹیشن کے باہر پچاس ساٹھ لوگ جمع ہوگئے کہ اس ‘ کافر’ شمسی کو باہر نکالو۔ اس نے شعاءر اسلامی کا مذاق اڑایا ہے۔

 اس۔ بے چارے کو دو تین ماہ کے لئے ہٹا دیا گیا۔ جماعت اسلامی وغیرہ سے معافیاں مانگی گئیں۔

سوال۔۔کیا کبھی غلط خبر پڑھ گئے اور بعد میں کسی نے توجہ دلائی ؟

 زبیرالدین۔۔دیکھیں اگر خبر غلط لکھی ہے اور میں نے ویسا ہی پڑھا ہے تو ظاہر ہے میرا قصور نہیں۔

 ایک بار ایسی بات ہوئی کہ مجھے زندگی بھر طعنے ملتے رہے۔

 ایم کیو ایم کی ہڑتال وغیرہ ہوتی تھی اور شہر بند ہوتا تھا لیکن ہمیں خبریں دی جاتیں کہ جزوی ہڑتال ہوئی اور دکانیں کھلی رہیں۔ اب ایسے ہی ایک بار گوشت کی دکان کھلی دکھائی گئی جبکہ وہ منگل کا دن تھا۔ ان دنوں منگل کو گوشت کا ناغہ ہوتا تھا۔ اب ایم کیو ایم والے طعنے دیں کہ یار تم جھوٹی خبریں پڑھتے ہو۔ بھلا اس میں میرا کیا قصور، مجھے جیسی خبر دی، پڑھ ڈالی۔

سوال۔۔کیا کبھی کسی خبر کا اثر ہوا اور آپ جذباتی ہوگئے۔؟

 زبیرالدین۔۔دیکھیں، انسان ہیں، اثر تو ہوتا ہے، لیکن ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ خبر آپ نے کروڑوں لوگوں تک پہنچانی ہے۔ جذبات کا مظاہرہ یا ڈرامے بازی نہیں کرنی۔ ہمیں تو مسکرانے تک کی اجازت نہیں تھی۔

 ہاں، اب ذرا وژن میں اضافہ ہوا تو دیکھا کہ بی بی سی، سی این این وغیرہ پر لوگ خبروں پر تبصرہ بھی کرلیتےہیں۔ آپس میں ہنسی مذاق بھی کرلیتے ہیں۔

سوال۔۔۔یہ جو آج کل خبروں میں چیخ پکار ہوتی ہے، اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟

 زبیرالدین۔۔ پچھلے دنوں کراچی گیا تو پی ٹی وی پر بلایا گیا تھا۔ جیو اور اے آر وائی کے بھی ایک دو نیوز کاسٹر تھے۔ یہی بات ہورہی تھی۔ وہ، ظاہر ہے اس کی حمایت کررہے تھے۔ دراصل ریٹنگ وغیرہ کا چکر ہوتا ہے۔ ہمیں تو یہی سکھایا گیا تھا۔ اس طرح کا چیخنا چلانا تو بی بی سی اور سی این این پر بھی نہیں ہوتا۔۔ یہ جو آج کل ایک ہی خبر کو بار بار پڑھنا، سخت کوفت ہوتی ہے، کانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

سوال۔۔ آپ کے دور میں کون سے بہترین خبریں پڑھنے والے تھے۔

 زبیرالدین۔۔یہ دوہی تھے، وراثت مرزا اور خالد حمید

سوال۔ اور شکیل احمد اور انور بہزاد؟

 زبیرالدین۔۔دیکھیں وہ ایک دور تھا۔ اس زمانے میں یہ انداز مقبول تھا۔اب اس طرح خبریں نہیں پڑھی جاتیں۔۔ اب ریڈیو پر بھی مختلف انداز ہے۔ ہر دور کے مختلف تقاضے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے دور کے مقبول ترین نیوز ریڈر تھے۔ حالانکہ شکیل احمد اور انور بہزاد کا انداز ڈرامائی تھا۔ وراثت مرزا مجھے اس لحاظ سے سب سے بہتر لگتے تھے۔

 میں نے کرنٹ افئیرز کے پروگرامز بھی کئے۔ آپ کو یاد ہوگا، سنیما ھالوں میں پاکستان کا تصویری خبر نامہ ہوتا تھا، وہ بھی میں کیا کرتا تھا۔

سوال۔۔۔ وہ طلعت حسین اور عبدالماجد بھی کیا کرتے تھے۔

 زبیرالدین۔۔کس نے نہیں کیا؟۔ اسلم اظہر، ضیاء محی الدین۔ عبدالماجد، ایس ایم سلیم۔ محمود خان مودی، سب نے کیا۔ وہ بڑا پاپولر تھا۔ یہی تصویری خبروں کا زریعہ تھا اور سنیما ہال میں چلانا لازمی تھا۔ میں نے بھی بیس سال کیا۔

 بہت ساری ڈاکیومینٹری وغیرہ بھی کیں۔

سوال۔ کبھی کسی دوسرے چینل سے پیشکش ہوئی؟

 جب میں پاکستان سے نکلا ہوں تو اس وقت پرائیوٹ چینل شروع ہوئے تھے۔ سن دو ہزار سے آجا رہا تھا۔ دو ہزار پانچ میں کینیڈا چلآگیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ اب تو پیسے کمانے کا وقت آیا ہے۔ لیکن پیسہ ہی تو سب کچھ نہیں۔ بچے ہیں، فیملی ہے۔ اب پوتے پوتیاں ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں ناں، اصل سے سود زیادہ پیارے ہوتا ہے۔ بس اب انہی کے ساتھ وقت گذرتا ہے۔ ٹورونٹو میں البتہ خبریں پڑھتا ہوں۔

 چار بیٹے ہیں۔ سب کی شادی ہوگئی ہے۔ سب ساتھ رہتے ہیں۔ اور الحمدللّٰہ برسر روزگار ہیں۔

سوال۔۔ خبریں پڑھنے کے علاوہ اور کیا شوق تھے۔

 زبیرالدین۔۔ڈراموں کا کیڑا تو اسی وقت مرگیا تھا۔ بس اب مشاعروں وغیرہ میں جاتے ہیں۔ بیگم کے سات لانگ ڈرائیو پر نکل جاتا ہوں۔ سیاحت کا شوق ہے۔ ہر سال کہیں نہ کہیں ضرور جاتا ہوں۔

سوال۔۔ کراچی میں کہاں رہے؟

 برنس روڈ اور جہانگیر روڈ پر رہے۔ جہانگیر روڈ پر اس زمانے کی ‘کریم ‘رہتی تھی۔ ریڈیو کے فنکار، شاعر، ادیب اور بہت سے مشہور لوگ وہاں رہتے تھے۔ ایم کلیم بھی وہیں رہتے تھے۔ وہ ریڈیو میں انجینئر تھے۔ ہنڈا ففٹی ہوتی تھی اس پر آیا جایا کرتے۔برنس روڈ اب بھی جاتا ہوں۔ بھلا اسے کون بھول سکتا ہے۔ لیکن ہم بعد میں دوسری جگہوں پر بھی رہے. سندھی مسلم سوسائٹی میں بھی رہے اور کینیڈا آنے سے پہلے ہم.ڈیفینس شفٹ ہوگئےتھے.

ریڈیو کی عمارت کو آگ لگ گئی۔ اسے محفوظ کرنا چاہئیے۔ مجھے ڈر ہے کہ اسے کہیں پلازہ وغیرہ نہ بنا دیں۔ ریکارڈ کچھ محفوظ ہے کچھ جل گیا ہے۔ آرکائیوز میں یقیناً محفوظ ہوگا۔ ریڈیو کی اہمیت اب بھی ہے۔ پوری دنیا میں ہے لیکن گاڑیوں کے اندر۔گھروں میں اب کوئی ریڈیو نہیں سنتا۔ وہاں بھی اردو چینلز ہیں۔ بس مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے لوگ سپورٹ نہیں کرتے۔ اشتہار تو چلو ادیں گے لیکن پیسے نہیں دینگے۔ انڈین بزنس کمیونٹی اپنے ریڈیو کی پوری طرح سرپرستی کرتے ہیں۔ بس مائنڈ سیٹ کا معاملہ ہے۔

سوال۔ چلتے چلتے یہ بھی بتاتے چلیں کہ عوامی اور سرکاری سطح پر کس قسم کی پذیرائی ہوئی۔ کوئی ایوارڈ یا انعام وغیرہ بھی ملا؟

زبیرالدین۔۔ میں تین دفعہ پی ٹی وی ایوارڈز کے بہترین نیوز کاسٹر کے لئے نامزد ہوا اور دوبار مجھے ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ نگار ایوارڈ کی تاریخ میں شاید پہلی اور آخری بار بہترین نیوز ریڈر کا ایوارڈ دیا گیا جو مجھے ملا۔ اس کے علاوہ بے شمار ایوارڈ ملے جن میں سندھ اسمبلی کا ایوارڈ، وحید مراد ایوارڈ، لہری ایوارڈ وغیرہ بھی ملے۔

میرے اس سوال کے جواب میں کہ کیا کوئی صدارتی تمغہ بھی ملا؟’ زبیرالدین صاحب نے ” ہم ہنس دئے، ہم چپ رہے ” والا انداز اختیار کیا۔ حالاں کہ میرے علم میں ہے کہ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے دونیوزریڈرز کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی دیا گیا تھا۔ شاید کراچی، اسلام آباد سے بہت دور ہے اور ارباب اختیار کی نظریں وہاں تک نہیں پہنچتیں.

کیا یہ ستم ظریفی نہیں ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ریڈیو اور ٹیلیوژن پر بتیس سال تک مسلسل خبریں پڑھنے والا اور آج بھی امریکہ اور کینیڈا میں پاکستانی اور اردو بولنے والوں کے لیے خبریں پڑھانے والے زبیرالدہن جن کی اس شعبے میں تقریباﹰ گولڈن جوبلی ہوچکی ہے ہماری وزارت اطلاعات اور براڈکاسٹنگ کے کرتا دھرتاؤں کی نظروں سے اوجھل ہوں.

بہر حال یہ پاکستان ہے اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ حقدار کو اس کا حق نہ دیا گیا ہو. شاید کسی کے دل میں اترجائے مری بات.

زبیرالدین صاحب کے ساتھ وقت گذرنے کا احساس ہی نہیں رہا۔ جی چاہتا تھا کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ طوالت کے خوف سے میں نے بہت مختصر بات چیت یہاں پیش کی ہے، بے حد سادہ سی شخصیت کے مالک زبیر بھائی سے ملاقات کے بعد تو مجھے ان پر رشک آیا کہ میں سمجھتا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو بڑا سنبھال رکھا ہے اور وزن کو قابو میں رکھا ہے۔ زبیر صاحب مجھ سے چند سال بڑے ہی ہیں لیکن مجھ سے کہیں کم عمر نظر آرہے تھے۔

 زبیر بھائی نے میری تحریر کی تعریف کی اور یہی ستائش اس انٹرویو کے تاخیر کا باعث بنی۔ میں سوچتا رہا کہ اسے بہت خوبصورت الفاظ میں پیش کروں گا۔ لیکن مجھے زبیر بھائی کے سادہ جملوں سے زیادہ بہتر الفاظ نہیں ملے۔ زبیر بھائی اس مختصر ملاقات میں اپنی محبت کی دھنک چھوڑ گئے۔ ہم نے مروجہ روایت کے مطابق ایک سیلفی بھی بنائی۔۔ ان سے دوبارہ ملاقات کی شدید خواہش ہے۔ دعاؤں میں تو وہ شامل ہیں۔

یار زندہ صحبت باقی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس انٹرویو کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: