طاقت ور: یعنی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھنے والا؟ — قاسم یعقوب

2

طالب علم نے استاد سے پوچھا؛ دنیا کا طاقت ورترین شخص کون ہے؟ اس نے کہا؛ ’تم‘۔ طالب علم بڑا حیران ہوا کہ میں کیسے دنیا کا طاقت ور ترین شخص ہو سکتا ہوں۔ اُس نے وجہ جاننا چاہی تو استاد بولا؛ ’’تم اس لیے طاقت ور ہو، کیوں کہ تم دنیاوی طور پر ایک کمزور ترین آدمی یعنی مجھے طاقت ور تصور کررہے ہو۔ اسے اپنی زندگی کے لیے کارآمد اور مفید سمجھ رہے ہو۔ یہ دنیا کا سب سے طاقت ور رویہ ہے، جو تم میں موجود ہے۔ جب تم اس بے لوث اور نظر نہ آنے والی قوت سے محروم ہو جائو گے تو تم دنیاوی طور پر طاقت ور بن جائوگے اور اندر سے کمزور ترین۔‘‘

ہمارے سماج میں طاقت کا تصور بھی بڑا دلچسپ معنی رکھتا ہے۔ فرد میں طاقت سے مراد ایسی قوت ہے جو کسی پر غلبہ پانے یا نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ایک ایسا فرد جو خود کو طاقت ور کہہ رہا ہو یا اُسے طاقت ور مانا جاتا ہو، تو سمجھ لیجئے اُس کے پاس نقصان پہنچانے والی طاقت آچکی ہے۔ وہ کسی کا نقصان کر نے کی صلاحیت سے ’مالا مال‘ ہو چکا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ’طاقت ور‘ کے ساتھ ’نقصان‘ ہی کا یہ تصور کیوں قائم ہوتا ہے۔ کیا وہ کسی کو فائدے پہنچانے کی صلاحیت حاصل کر لینے کے بعد ’طاقت ور‘ نہیں کہلا سکتا؟ اپنی نہاد میں تو اصل طاقت ور وہی ہے جو کسی کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ کر سکتا ہو مگر ہمارے سماج میں چوں کہ ہر چیز بے ترتیب اور پست درجے پر ہے، اس لیے طاقت کے تصور کا اطلاق بھی اُلٹ ہے۔

Highlights from the Artprice Contemporary Art Market Reportجب کبھی کوئی فرد کچھ خاص ذمہ داریوں کا حق دار ٹھہرایا جاتا ہے تو اس کی طاقت کا اندازہ اس کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت سے کیا جاتا ہے۔ یہی طاقت جب ختم ہو جاتی ہے تواس کا مطلب ہے کہ وہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت سے محروم کر دیا گیا ہے۔

دنیا کے اکثر بڑے جریدے اور نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ، ٹائم میگزین، بی بی سی، سی این این وغیرہ، تقریباً ہر سال دنیا کے بااثر اور طاقت ور افراد کی فہرست جاری کرتے ہیں۔ ان میں بعض اوقات ایسے افراد بھی ہوتے ہیں، جن کا کردار ہمارے سماج میں بے کار اور نہایت ’گھٹیا‘ تصور کیا جاتا ہے۔ مثلاً فارچون جریدے نے طاقت ور افراد کی اپنی ایک فہرست میں یو ٹیوب کی سی ای او کو دنیا کے طاقت ور افراد میں شامل کیا۔ وجہ بتاتے ہوئے لکھا کہ ’’یو ٹیوب کی سوسن وُچسکی نے گوگل کی ملکیت کی آن لائن وڈیو سائٹ میں لائیو سٹریمنگ اور ورچوئل ریئلٹی کی وڈیوز کا اضافہ کیا ہے۔ کیا آپ ’’گوگل ڈوڈل‘‘ سے لطف اندوز ہوتے ہیں؟ گو گل کے دلکش اور اکثر متاثر کرنے والے اُس ’’لوگو‘‘ میں بھی وُچسکی کا ہاتھ تھا۔‘‘ میرے خیال میں طاقت کے اس تصور کا شائبہ بھی ہمارے سماج میں رائج نہیں۔ اس طرح کی فہرستوں میں بعض اوقات سنگرز اور پینٹرز بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کچھ بنانے یا سماج کو فائدہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہا ہوا تعمیری اثر رکھتا ہے۔ اس طرح کے لوگوں کو ہمارے سماج میں کوئی مقام نہیں مل پاتا۔ ہم صرف اُس طاقت کا سماج پر اثر انداز ہونا جانتے ہیں جو کسی کو مشکل میں ڈال سکتی ہو۔ کسی کو اپنا مطیع بنا کر زندگی اجیرن کر سکتی ہو۔

ہمارے ایک دوست ڈاکٹر شاہد رشید صاحب لاہور میں ’زاویہ سکول ٹرسٹ‘ کے نام سے ایک بڑا تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں۔ انھوں نے چند برسوں میں ہی اس ادار ے کو مثالی ادارہ بنا دیا ہے۔ میں اکثر اس ادارے سے وابستہ افراد کے متعلق سوچتا ہوں کہ کیا اس قدر منظم اور تخلیقی قوت سے مزین اس ادارے کی تعمیر کرنا ان لوگوں کے ’طاقت ور‘ ہونے کی نشانی نہیں؟ مگر نہایت افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسا نہیں۔ ’’زاویہ‘‘ کے افراد سماج کے طاقت کے تصور پر پورا نہیں اترتے۔ یہی شاہد رشید صاحب اگر لاہور شہر ہی میں کسی بھتہ مافیا کے سربراہ، بڑے پولیس آفیسر یا سیاست دان ہوتے تو وہ یقیناً طاقت ور کہلاتے۔ ایسے افراد جو ماحول کو بدل دینے اور تعلیم کا نیا تصور قائم کر دینے کی ’طاقت‘ سے مالا مال ہوں، طاقت ور نہیں کہلائے جاتے۔ تعمیر کرنا بہت مشکل کام ہے جب کہ تخریب کے لیے صرف ایک دھکا چاہیے ہوتا ہے۔ سکول گرانے کی صلاحیت زیادہ محنت نہیں مانگتی مگر بنانے کے لیے عمارت کی اینٹ اینٹ اکٹھی کرنی پڑتی ہے۔ بکھرا ہوا شخص اپنی ذات میں جمع ہوگا تو وہ باہر تعمیر کر سکے گا۔ یہ کیسا شرم ناک سماجی تجربہ ہے کہ سکول بنانے والا تو طاقت ور نہیں جب کہ اسے گرانے کی قوت رکھنے و الا ’’طاقت ور‘‘ کہلاتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ’رعایا‘ کے منت کرتے جمگھٹوں میں براجمان، اپنے گھومنے والی کرسی کی نشہ کر دینی والی لذت کا مزہ لینے والے بیوروکریٹ کیوں طاقت ور ہوتے ہیں؟ اس لیے کہ وہ تعمیر کرنے کی نہیں بلکہ گرا دینے (نقصان پہچانے) کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمارا سماج اس قدر گھٹیا سطح پر جا چکا ہے کہ اچھا خاصا ’’شریف‘‘ شخص جونہی کسی ’سیٹ‘ کا معمولی سا بھی اختیار حاصل کرتا ہے تو اسے اپنی سماجی قوت کا اندازہ ہونے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ نہیں بلکہ ’’یک مشت‘‘ بدل جاتا ہے۔

سماجی سطح پر طاقت کے ان تصورات نے نفسیاتی طور پر فرد کو توڑ کے رکھ دیا ہے۔ جس طرح بہت زیادہ بد نظم کھانے سے صحت خراب ہونے لگتی ہے، اسی طرح ہمارے سماجی رویوں میں عدم توازن کی وجہ سے یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے کہ فرد کا اصل چہرہ کیا ہے؟ ہم غلام عباس کے بہروپیے بن چکے ہیں۔ جس کا اصل چہرہ پہچاننا نہایت مشکل کام ہے۔ ہم خود نہیں جانتے کہ ہم کس چہرے میں اپنی اصلی حالت میں ہیں۔ ایک وقت تھا کہ سماج کی حرکت کو سمجھنے والے کچھ لوگ طاقت کے ان چہروں کے پیچھے ان کے کھوکھلے پن کو پہچان لیتے تھے مگر آج صورتِ حال یہ ہے کہ معاشرتی اور معاشی عدم تحفظ نے ناانصافی کو ہر فرد کا مقدر بنا دیا ہے۔ افراد اپنے آپ کو ایسی طاقتوں کے سپرد کر دینا چاہتے ہیں، جو ان کے لیے تحفظ کا باعث ہوں یا وہ خود اس طاقت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ عدم تحفظ کے اس احساس سے نجات مل سکے جو کسی کو نقصان پہنچانے کی قوتوں سے جنم لیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کیوں نہ خود نقصان پہنچانے کی صلاحیت کر لی جائے۔

ہمیں سماجی سطح پر نئی تعمیر(Re-Structuring)کی ضرورت ہے مگر مسئلہ تو یہ ہے کہ اس بلی کے گلے میں گھنٹے کون ڈالے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. یاسر اقبال on

    طاقت کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے سماجی سطح پر طاقت ور کے کردار کو واضح کر دیا ہے۔مسلمہ حقیقت یہی ہے کہ پوری دنیا میں طاقت اور طاقت ور کا یہی تصور پنپ رہا ہے۔وہی ملک سب سے زیادہ طاقت وار مانا جاتا ہے جو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کی قدرت رکھتا ہے۔اپ نے اپنا نقطہ نظر خوب واضح کر دیا اس مضمون میں۔۔۔

  2. سید عارف بخاری on

    بہت خوب۔ قاسم یعقوب صاحب کے تجزئیے سے مکمل طور پر اتفاق کرنا پڑتا ہے۔
    طاقت کا یہ منفی تصور ہمارے معاشرے میں اس حد تک سرائیت کر چکا ہے کہ ہمارا فرد تو فرد ہمارا کوئ ادارہ بھی اس سے مبرا نہیں رہا۔

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20