معیشت کے اسٹیک ھولڈرز معیشت اور عوام کا نصیب: (7) لالہ صحرائی

0

[کسی معیشت کے بینی فشریز کون کون ہوتے ہیں]

زمانہ قدیم سے دور حاضر تک معیشت کے تین اسٹیک ہولڈرز رہے ہیں، پہلے وہ ہم وطن جو نفع یا روزگار حاصل کرنے کیلئے کاروبار یا نوکری کرتے ہیں، دوسرے وہ بیرونی لوگ جو تجارت یا روزگار کیلئے ہمارے ہاں آتے ہیں اور تیسری اسٹیک ہولڈر حکومت ہوتی ہے جو اس معیشت سے ٹیکسز وصول کرنے کے عوض اس سارے نظام کی، محافظ، ڈیویلپر اور کیئرٹیکر ہوتی ہے۔

کاروبار اور مزدوری کرنے والے سب اپنے اپنے نصیب کا رزق حاصل کرلیتے ہیں، کسی کو ملتا ہے، کسی کو نہیں ملتا، کسی کو بہت ملتا ہے، کسی کو گزارے لائق ملتا ہے، کوئی دنوں میں اوپر چلا جاتا ہے اور کوئی دنوں میں اوپر سے نیچے بھی گر جاتا ہے، یہ سب کچھ حالات، پلاننگ، غلطیوں اور نصیب کے تحت واقع ہوتا ہے۔

 

 

معیشت کے ہر نظام میں انسان کو اپنی بقا کی فکر خود ہی کرنی پڑتی ہے لیکن ہمارے نظام میں یہ فکر ہم نے معاشرے یا ریاست پر چھوڑ رکھی ہے کہ وہ ہمیں میزکرسی والی اچھی نوکری دے تاکہ ہمارے خواب پورے ہو جائیں جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ عمومی تعلیم پر لاکھوں خرچنے کی بجائے آدھی قیمت میں کوئی ہنر سیکھ کر فرد کو اپنا کوئی کام کرنا چاہئے، یہ بات اور اس کے معاشرتی اثرات ہم پچھلے چیپٹرز میں اچھی طرح ڈسکس کر چکے ہیں۔

 

 

جب ہم فرد کو کسمپرسی کا شکار دیکھتے ہیں اور اس سے نکلنے کی کوئی راہ بھی نظر نہیں آتی تو ایک طرف متاثرہ افراد اور دوسری طرف فرد اور طبقات کو استعمال کرنیوالے لوگ ریاست کو یا دوسرے طبقات کو مورد الزام ٹھہرانے میں جت جاتے ہیں، اس سے انہیں کیا فائدہ ملتا ہے اس غیرضروری بحث میں جانے کی بجائے جیسے ہم نے معاشرے اور معیشت کا جائزہ لیا ہے اسی طرح اب ہم ریاستی نظام کا بھی ایک وسیع جائزہ لیں گے کہ ریاست کیا ٹیکسز لیتی ہے، انہیں کہاں استعمال کرتی ہے، اور وہ طبقات یا فرد کیلئے کیا کرنے کی ذمے دار ہے…؟

 

 

[سب سے پہلے ہم مرکز کو ڈسکس کرتے ہیں]

امور مملکت میں فیڈرل گورنمنٹ کے پاس تقریباً سات مرکزی محکمے ہوتے ہیں جن میں داخلہ، خارجہ، فائنانس، دفاع، مواصلات، انصاف اور انتظامیہ شامل ہیں، ان سب کے ذیلی ادارے ٹریژری یعنی اسٹیٹ بینک، سب ٹریژری یعنی نیشنل بینک، کرنسی، ریل، جہاز، شپنگ، سڑکیں، ایف بی آئی، ایف آئی اے، موٹرویز اتھارٹی، پیمرا، اوگرا، نیپرا، سینٹرل سروسز بیوروکریسی اور قومی شاہراہوں کی تعمیر و آپریشنل انتطامات وغیرہ سب شامل ہیں۔

 

 

ان کے علاوہ قومی سطح پر بعض ایسی سہولیات کا انتظام کرنا بھی مرکز کے ذمے ہے جن کا تعلق پبلک یوٹیلیٹیز سے ہے تاہم یہ عوامی ضروریات عوام کے خرچے پر ہی سرکاری کارپوریشنوں کے ذریعے بہم پہنچائی جاتی ہیں جن میں سرفہرست، بجلی، گیس، ٹیلیفون، ڈاک، راشن، شناختی کارڈ، مواصلات اور پاسپورٹ وغیرہ ہیں، ان محکموں کا نظام عوام کے خرچے پر عوام کیلئے قومی سطح پر بنیادی سہولتیں فراہم کرتا ہے اس لئے یہ اپنی سروسز نفع حاصل کرنے کی بجائے کاسٹ ٹو کاسٹ دینے کے ذمہ دار ہیں، یہ اپنی پراڈکٹ کی لاگت پلس انتظامی اخراجات ملا کر اس چیز کی ایک قیمت مقرر کرتے ہیں اور اسی ریٹ پر عوام کو فراہم کرتے ہیں۔

 

 

اگر کسی پراڈکٹ کی قیمت عوام کی قوت خرید سے زیادہ ہو تو ان سہولیات کو لاگت سے بھی کم قیمت پر فراہم کیا جاتا ہے، اس صورت میں کارپوریشن کو ہونے والا نقصان حکومت اپنی طرف سے سبسڈی دے کر پورا کرتی ہے، اگر ان محکموں کو کوئی نفع حاصل ہو تو وہ انہی کی گروتھ پر خرچ کیا جاتا ہے تاکہ ان کی سہولیات گراس رووٹ لیول تک پہنچ سکیں، اگر قومی بجٹ کو خسارہ درپیش ہو یا کسی محکمے کو اپنے نفعے کی ضرورت نہ ہو تو یہ نفع کیپیٹل پروسیڈز کی صورت میں قومی خزانے میں بھی جمع کرلیا جاتا ہے تاکہ بجٹ کے ذریعے عوام کے کام آجائے، اس کے علاوہ مرکز اپنے صوبوں کو صحت، تعلیم اور ہائر ایجوکیشن سمیت چند شعبوں کیلئے خصوصی گرانٹس بھی دیتا ہے، انکم سپورٹ پروگرامز اور روزگار فراہم کرنے کے مرکزی پروگرام بھی انہی گرانٹس کا حصہ ہوتے ہیں۔

 

 

مرکزی محکموں کی خدمات، ریل، جہاز، ڈاک، فون، راشن، بجلی، گیس، وغیرہ صوبوں تک پہنچانا اور صوبائی امن و امان میں معاونت کرنا کلی طور پر مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے، جہاں ان سہولیات کی فراہمی نہیں ہو رہی وہاں ان محکموں یا کارپوریشنوں کی آپریشنل کمزوری، انویسٹمنٹ کا فقدان، انفراسٹرکچر کی مشکلات یا ان کی ذاتی غفلت کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے جسے بہتر بنانا مرکزی حکومت کا ہی کام ہے، ان معاملات میں غفلت اور کجی کا ذمہ دار صوبائی حکومتوں کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

 

 

مرکزی حکومت ان سارے کاموں کے عوض ملکی معیشت سے سات قسم کے ٹیکسز اکٹھے کرتی ہے جو فیڈرل ٹیکسز کہلاتے ہیں، تنخواہ اور آمدنی پر انکم ٹیکس، ودھولڈنگ ٹیکس جو انکم ٹیکس کا ہی ایڈوانس پارٹ ہے، مینوفیکچرنگ، ٹریڈ اور سپلائیز پر سیلزٹیکس، امپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی، پراپرٹی و ایسیٹس کی بک ویلیو گروتھ پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور کیپیٹل گین ٹیکس، یہ سات ٹیکسز ملک کے طول و عرض سے ہر کاروبار پر وصول کئے جاتے ہیں جو ان ٹیکسز کی زد میں آتے ہوں۔

 

 

ان ٹیکسز سے جو آمدنی مرکزی سرکار کے پاس اکٹھی ہوتی ہے اسے قومی خزانہ کہتے ہیں، اس آمدنی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک حصہ مرکز اپنے پاس رکھتا ہے جس سے وہ ان تمام شعبوں کا انتطام چلاتا ہے جو اوپر بیان کئے گئے ہیں، قومی خزانے کا بقیہ حصہ ڈویژیبل پول divisible pool کہلاتا ہے جو این۔ایف۔سی ایوارڈ کے تحت ہر سال بجٹ سے قبل صوبوں کو تفویض کر دیا جاتا ہے، این۔ایف۔سی ایوارڈ کی تفصیلات اور مکمل ہسٹری چیپٹر۔نائین، ٹین اور الیون میں آئے گی۔

 

 

ڈویژیبل پول یا قابل تقسیم آمدنی سے این۔ایف۔سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو ملنے والی رقوم تمام صوبائی بجٹوں کا حصہ بنتی ہیں، یہ رقوم کس فارمولے سے تقسیم کی جاتی ہیں، اس تقسیم میں چھوٹے صوبوں کا کوئی استحصال ہوتا ہے یا نہیں، اس پر تفصیلی بات بلکہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک کی ساری صورتحال اگلے چیپٹر میں پیش کریں گے اور اس بات کو بھی موضوع میں شامل کریں گے کہ افواج پاکستان آپ کا سارا بجٹ کھا جاتی ہیں یا بھوکے پیٹ چلتی ہیں۔

 

 

[اب آتے ہیں صوبوں کی طرف]

صوبائی حکومتوں کی آمدنی کو ہم ریسورسز کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں، پہلا حصہ شہری آمدنی کا ہے جس میں ہر بزنس پر ٹریڈ لائسنس، پروفیشنل ٹیکس، انڈسٹریل پلاٹس پر گراؤنڈ رینٹ، کمرشل اور انڈسٹریل پلاٹس پر سالانہ پراپرٹی ٹیکس، رہائشی مکانات پر پراپرٹی ٹیکس، سالانہ موٹر وہیکل ٹیکس، پراپرٹی رجسٹریشن ٹیکس، وہیکل رجسٹریشن ٹیکس، اسٹیمپ ڈیوٹی، وہیکل و پراپرٹی ٹرانسفر فیس، کیمیکلز پر ایکسائز بشمول وائن، اسپرٹ، تھنرز و ٹنکچرز وغیرہ، روڈ ٹیکس، شہروں میں اینٹری ٹیکس، شہری سہولیات کے اداروں کی فیس جو مختلف جگہ مختلف ناموں سے لی جاتی ہے، ان میں بلدیاتی ٹیکسز یا منڈیوں، مارکیٹوں، بس اڈوں، ٹرک اڈوں، دکانوں اور پتھاروں سے کرایہ داری و تہہ بازاری فیس وغیرہ بھی شامل ہے۔

 

 

دوسرے حصے میں نیچرل ریسورسز، زرعی پانی کا آبیانہ اور مالیانہ، زرعی ٹیکس، مقامی سیاحت اور اوقاف کی آمدنی وصولنے کے علاوہ صوبے بعض کارپوریشنیں اور آٹونومس باڈیز بھی چلاتے ہیں جن کی آمدنی بھی صوبائی حکومتوں کی ہی ملکیت ہوتی ہے، ان میں تمام ہیوی انڈسٹریل زونز، سمال انڈسٹریز اور کاٹیج انڈسٹری کا انتظام کرنے والے ادارے یا اتھارٹیز کی آمدنی شامل ہے جو صوبائی وزارت تجارت کے زیر اثر آتے ہیں، اس کے علاوہ صوبائی حکومتیں اپنے قدرتی وسائل کو استعمال کرنے اور ان سے آمدنی حاصل کرنے میں بھی کلی طور پر آزاد ہیں، صوبوں کے بعض وسائل جو قومی سطح پر استعمال ہوتے ہیں ان کی رائیلٹی بھی صوبوں کو دی جاتی ہے۔

 

 

تیسری طرف اٹھارہویں ترمیم کے بعد 2010 سے اب ہر صوبے کو سروسز سیلز ٹیکس وصولنے کا مکمل اختیار بھی مل چکا ہے جو کچھ سالوں بعد دیگر تمام ذرائع سے آنے والے محصولات کے حجم کو بہت پیچھے چھوڑ جائے گا، اس ترمیم کے بعد ہر صوبے کا اب اپنا اپنا ریونیو بورڈ بھی قائم ہو چکا ہے جو ایف۔بی۔آر کے سسٹم کی ہی کاپی ہے، اس قانون میں ہر وہ بندہ جو اپنی پروفیشنل خدمات پر معاوضہ وصول کرتا ہے جن میں ڈاکٹرز، وکلاء، کنسلٹینٹس، اسپیشلسٹس، کارگو ہینڈلرز اور کئی دیگر پیشہ وارانہ سیکٹرز بھی شامل ہیں وہ صوبائی حکومتوں کو اپنی مزدوری پر تیرہ فیصد سروسز سیلز ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہیں، اس کے علاوہ صوبائی محکموں کو سپلائیز و سروسز دینے والے کچھ لوگ بھی اس ضمن میں آتے ہیں جیسے کہ بلدیات، شہری، ضلعی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ کام کرنے والے مختلف قسم کے ٹھیکیدار اور کنسلٹنٹس وغیرہ شامل ہیں۔

 

 

یہاں واضع کر دینا چاہئے کہ سروس سیلز ٹیکس اپنی جیب یا مزدوری میں سے ادا نہیں کیا جاتا بلکہ جس سے آپ اپنی مزدوری کا سو روپیہ وصول کرتے ہیں اسی سے تیرہ روپے سروس ٹیکس بھی وصول کرکے حکومت کو ادا کرتے ہیں، یعنی آپ نے اگر سو روپے کا کام کیا ہے تو خدمت لینے والے سے ایک سو تیرہ روپے وصول کریں گے اور تیرہ روپے گورنمنٹ کو جمع کرائیں گے، یہ بالکل وہی طریقہ ہے جو پچھلی قسط میں بیان ہوا تھا جس کے تحت آپ کو سگریٹ، صابن، گھی یا تیل کا پیکٹ بیچا جاتا ہے۔

 

 

الغرض ان سات مرکزی ٹیکسز کے علاوہ صوبے میں آمدنی کے جو بھی ذرائع موجود ہیں وہ سب صوبائی حکومتوں کی اپنی ملکیت ہیں، یہ تمام ٹیکسز اکٹھے کرکے اس میں این۔ایف۔سی ایوارڈ کے تحت ملنے والی رقوم شامل کرکے صوبائی بجٹ بنایا جاتا ہے جس میں سے مرکز کو کچھ نہیں دیا جاتا بلکہ مرکز سے کچھ مزید گرانٹس ضرور لے لی جاتی ہیں، این۔ایف۔سی ایوارڈ کی رقم صوبائی حکومتوں کی اپنی لوکل آمدنی سے عموماً دوگنا زیادہ ہوتی ہے۔

 

 

ان سب محصولات کے عوض اپنے صوبے میں صحت، تعلیم، پولیس، انتطامیہ، لوکل انفراسٹکچر، دیہی ترقی، شہروں کی صفائی، لوکل سڑکوں کی تعمیر، ضروریات زندگی کی فراہمی و دیگر عوامی خدمات و معاملات شہری حکومتوں کی ذمہ داری میں آتے ہیں ان کو سنبھالنا کلی طو پر صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہوتی ہے، اگر کسی صوبے میں لوکل ڈویلپمنٹ، لوکل انفراسٹرکچر، صوبائی محکموں کی ترقی اور شہری مینٹیننس سمیت یہ خدمات عوام کو نہیں مل رہیں تو اس کی تمام تر ذمے داری صوبائی حکومتوں پر ہی عائد ہوتی ہے، مرکز اس معاملے میں یکسر بیگناہ ہے۔

۔۔۔۔۔

قومی خزانے کی کل مالیت ماضی میں کیا تھی اور حال میں کیا ہے، صوبوں کو ماضی میں کیا ملتا تھا اور اب کیا کچھ اور کیوں ملتا ہے، اس کی مکمل تفصیل ہم اگلے باب میں پیش کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مضمون کا چھٹا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: