طبیب اور طبِ اسلامی پہ وار — محمد شاہجہان اقبال

0

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ طبِ کا سفر اتنا ہی اولیت رکھتا ہے جتنا کہ انسان حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق قران مجید میں ارشاد ہے۔

علمہ ادم الاسمہ کلھا۔
ہم نے آدمؑ کو تمام چیزوں کے اسماء تعلیم کر دیئے۔

اس آیت کے ذیل میں مفسرین نے زبان سے لے کر تمام فنون(شرفاء) تک کی تعلیم کا ذکر کیا ہے یعنی اگر علوم کو دو بڑی شاخوں میں تقسیم کیا جاۓ تو ایک علم الادیان اور دوسرا علم الابدان کا علم ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پہلا انسان اپنے بدن کے ساتھ زمین پہ اتارا جاۓ مگر وہ بدن کی حالتِ صحت اور حالتِ مرض سے نابلد ہو۔ میرا خیال یہ ایک عمومی اور سطحی عقل رکھنے والا شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ اول انسان یعنی حضرت آدم علیہ السلام کے اندر اللہ تعالی نے اس شریفانہ علم وفن جیسے طب اور حکمت کا علم کہتے ہیں ودیعت فرمایا دیا تھا۔

اسی طرح حضرت لقمانؑ کا ذکر بھی قران مجید کے اندر موجود ہے جنہیں اللہ رب العزت نے حکمت و دانائی سے سرفراز فرمایا تھا۔
طب کی قدیم کتب میں بھی حضرت لقمان کا ذکر بطور طبیب موجود ہے۔

اسی طرح حضرت عیسیؑ کے دور میں طب کے عروج کے پیشِ نظر آپؑ کو معجزات جن میں مادرزاد اندھوں کو چشمِ بینا اور کوڑھی کو مکمل شفایابی شامل عطا کیے گئے ہیں ظاہر بات ہے کہ ان کی ایک نسبت جسمانی بیماریوں سے شفاء کے ذیل میں طبی بھی ہے۔ اس طرح اس فن کی اہمیت اور بھی دو چند ہو جاتی ہے۔

مرورِایام کے ساتھ یہ فن دیگر علوم و فنون کی طرح ترقی کی راہوں پہ گامزن رہا اس کے طور، طریقہ ہاۓ تشخیص و علاج اور اس کی اصطلاحات میں زمانے کی کروٹ کروٹ ارتقاء سے نیا پن آتا گیا۔ زمانی تسلسل میں اس فن کے ماہر کو کبھی طبیب٫ کبھی حکیم ٫ کبھی عباقر (Genius) اور کبھی سائنسدان کہا گیا۔

اس علم کے چشمے انسانی باطن سے پھوٹتے رہے۔ بہت سے حکماء نے اس کے الہامی ہونے پہ متعدد دلائل رقم کیے۔

تاریخِ انسانی کا بہت بڑا سرمایہ آج بھی اس فن کی قدامت اور شرافت پہ دال ہے۔ قبل مسیح کی دریافت شدہ تختیوں پہ طب کے قدیم طریقہ ہاۓ تشخیص و علاج آج کے انسان کے لیے یہ ثبوت فراہم کرنے کے لیےکافی و شافی ہیں کہ یہ فن ہمارے ابا و اجداد کی میراث ہے۔

جب یورپ تاریکی میں غرق تھا وہ تاریخ میں (dark ages) کے تاریک دور سے گزر رہا تھا اس وقت بھی روم, شام, بلخ, بخارہ اور اندلس میں عباقر اپنے فن کے جوہر دیکھا رہے تھے۔ ابن سینا, ابن ہاشم، الکندی، ابن الہیشم، جابر بن حیان, فارابی, قاسم الزہراوی جیسے کامل و اکمل حکماء اپنے فن کی بلندیوں کو چھو رہے تھے۔ انہی کی کتب کو یورپ نے چرایا اور انہیں دِیوں سے روشنی اخذ کر کے آج یہ طلسم ہوشربا منزل کو چھو رہے ہیں۔

آج کچھ عاقبت نااندیش اپنے عظیم ورثہ کو بھول کر طب اور طبیب کی تضحیک کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ یوں تو وہ آفتاب اقبال ہیں مگر اقبال کے اس شعر سے کیسے پہلو تہی کر سکتے ہیں۔

خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

وہ کس طرح اپنے اسلاف کے آدرش کو بھول سکتے ہیں۔ ایک پڑھے لکھے اور سلیقہ مند باپ کے پڑھے لکھے فرزند کے حثیت سے کیونکر حکمت اور حکماء کے لیے ایسے الفاظ بول سکتے ہیں۔

23دسمبر 2020 کو انھوں نے اپنے پروگرام میں ایک فرضی مطب بہ نام “ایٹم دواخانہ” لگا کراطبا کو بد نام کرنے کی کوشش کی۔ خیر! عزت و ذلت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ انھوں نے طبابت ایسے معزز پیشے کے بارے میں کہا:

“۔ ۔ ۔ کام برا ہے، گندہ ہے، بلکہ میں سمجھتا ہوں غلیظ ہے۔”

اور اپنے فرضی حکیم کو خبیث کہہ کر پکارا، اور مزید کہا:

” میں نے بڑے بڑے خبیث حکیم دیکھے ہیں۔

یہ اور اس طرح کے دیگر ہتک آمیز جملے کبھی بھی نہ تو ان کی زبان سے زیبا دیتے ہیں اور نہیں حکمت جیسا فن اس کا متحمل ہے۔

پاکستان کے آئین کے تحت ایک طبیب کو یہ آئینی اور قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اس عظیم طریقہ علاج سے لوگوں کی خدمت کر سکے۔ اس کے لیے باقاعدہ قومی طبی کونسل (National Council for Tibb) ایک انجمن ہے جو یونانی، آیور ویدک اینڈ ہومیوپیتھک پریکٹیشنرز ایکٹ، 1965، کے سیکشن 3 کے تحت قائم ہوئی تاکہ یونانی، آیور وید اور ہومیو پیتھی کے نظامِ طب کو عام کیا جا سکے۔ یہ کونسل طب یونانی اور آیور وید کی تعلیم و امتحان، نصاب تیار کرنے اور امتحان پاس کرنے والے اطباء/حکماء اور ویدوں کی رجسٹرین کی ذمہ دار ہے۔

اس آئینی اور قانونی حق کے تحت کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ طب اور طبیب کو سرعام ذلت و رسوائی کا نشانہ بناۓ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی وراثت سے تہہ دامن ہوۓ جاتے ہیں۔ بیچارہ طبیب جو ملک میں بغیر حکومتی سرپرستی کے اپنے ملک کے غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کے لیے سستا موثر اور دائمی علاج فراہم کر رہا ہے چہ جاۓ اس کے فروغ اصلاح اور ترقی کے لیے کمک فراہم کی جاۓ الٹا اس کو بے جا ذلیل کرنا سرا سر ناانصافی اور لا علمی ہے۔

ہمارے پڑھے لکھے طبقے کو کیونکر اس بات کا ادراک نہیں کہ دنیا فطرت کے قریب ترین ہوتی جا رہی ہے۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نِگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مردِ کُہستانی

دنیا کی ابھرتی ہوئی سوپر پاور چائنہ اپنے نیچرل ہربز کئیر طریقہ دنیا میں متعارف کروا رہی ہے اور اس کے بل بوتے پہ اپنا بہت سا سرمایہ جو میڈیسن خریدنے کی مد میں خرچ ہونا تھا اسے بچا رہی ہے۔

وہ اپنے دیگر طریقہ ہاۓ علاج کے ساتھ اسے بھی ترقی کی راہ پر گامزن کیے ہوۓ ہے وہ اپنے ثقافت اور ورثے کو مضبوطی سے تھامے ہوۓ ہیں۔ کرونا کے دوران انہوں نے ثابت کیا کہ کیسے جب لیبارٹریز کسی انہونی ان دیکھی مرض کے خلاف تعطل کا شکار ہوتی ہیں تو فطرت کی لیبارٹری اور چند معمولی جڑی بوٹیاں انسان کے لیے بقاء کا سفینہ ٹھہرتی ہیں۔

بہر کیف اس بات میں کسی کو شک نہ ہونا چاہیے کہ کالی بھیڑے ہر شعبے میں ہوتی ہیں خود ہمارے حکماء ان کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ ان نان کوالفائیڈ اور جعل ساز طبیب کے روپ میں دھوکہ بازوں کی فیور کرتے پھرے۔

مگر حقیقی فن اور اہل فن کی عزت ان کا اخلاقی آئینی قانونی اور مذہبی فریضہ ہے میں اپنے اطباء برادری کے ساتھ دامے درمے٫ سخنے شامل ہوں اور ان ہتک آمیز جملوں کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20