نیلوفر اقبال: ’’گھنٹی‘‘ سے ’’سیاہ سونا‘‘ تک —- محمد حمید شاہد

0

یہ سن ۱۹۸۹ء کے ’’فنون‘‘ کی کوئی اِشاعت تھی جس میں نیلوفر اقبال کا ایک افسانہ ’’گھنٹی‘‘ چھپا تھا۔ یہ وہ پہلا افسانہ تھا کہ لکھنے والی کے قلم کی دھاک ہر پڑھنے والے کے دِل پر بیٹھ گئی تھی۔ ’’گھنٹی‘‘ اس افسانہ نگار کا پہلا افسانہ نہیں تھا، وہ پہلے بھی کہیں چھپتی رہی تھیں مگر بیچ میں ایک لمبا وقفہ آیا۔ ’’گھنٹی‘‘ کی پذیرائی کے بعد اُن کا نام ’’فنون‘‘ میں قدرے تواتر سے نظر آنے لگا حتیٰ کہ ۱۹۹۶ء میں پندرہ افسانوں پر مشتمل مجموعہ ’’گھنٹی‘‘ ہی کے نام سے شائع ہوگیا۔ اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ ہی ہر کہیں اُن کے نام کا ڈنکا بجنے لگاتھا۔ مجھے یاد ہے ممتاز مفتی نے اُنہیں بڑی تخلیق کار قرار دِے کر اس کتاب کے افسانوں کے حوالے سے لکھا تھا کہ اِن پر ’’ماسٹرز‘‘ کی چھاپ لگی ہوئی ہے اور احمد ندیم قاسمی کا کہنا تھا؛ نیلوفر اقبال نے راست فکری اورراست گوئی کے ’’غیرفانی شہ پارے‘‘ تخلیق کیے ہیں۔

اگر آپ نے نیلو فر اقبال کے افسانوں کا پہلا مجموعہ نہیں پڑھا تو یقین جانیے آپ اُن کی تخلیقی توفیقات کی معراج کا گماں تک نہیں باندھ سکتے۔ ’’برف‘‘، ’’کھوٹا سکہ‘‘، ’’آنٹی‘‘، ’’گھوڑا گاڑی‘‘، ’’پائوں‘‘ اور ہاں ’’حساب‘‘ اور ’’گھنٹی‘‘ بھی؛ غرض ایک بھی افسانہ ایسا نہ تھا جو توجہ نہ کھینچتا تھا۔ ہر کہانی یہ ثابت کر رہی تھی کہ سماجی، سیاسی، جنسی یا نفسیاتی حقیقت نگاری کی روایت اور اسلوب میں بہت کچھ کہہ لینے کے امکانات موجود تھے؛ جی، بے پناہ امکانات؛ ایسے کہ انسانی زندگی کے وہ حقائق بھی فکشن کا حصہ بنائے جا سکتے ہیں جنہیں کسی اور طرح بیان کرنا ممکن نہیں۔

نیلوفر اقبال کو اُردوافسانے کی بیانیہ روایت سے وفادار افسانہ نگار کے طور پر شناخت ملی۔ یہ شناخت بجا مگر انہیں محض ماجرا نویس بھی نہیں کہا جاسکتا کہ کئی افسانوں میں وہ بیانیہ سے ایسی سطح پر معاملہ کرتی رہی ہیں کہ اس میں علامتی جہت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہیں میرا دھیان اُن کے ایک افسانے ’’برف‘‘ کی طرف جاتا ہے۔ جی، وہی افسانہ جس کے کردارملک کے ہر سیاہ و سفید میں دخیل ایک طاقت ورادارے سے لیے گئے ہیں اور انسانی نفسیات کی لطیف سطحوں سے ایسا معاملہ کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے اندر موجود طبقاتی استحصال کی کریہہ صورت سامنے آجاتی ہے۔ یہ ایک گورے چٹے اونچے لمبے صحت مند دیہاتی شیر علی کی فوج میں بھرتی ہونے، ایک کیپٹن کے بیٹ مین بن جانے اور پھر ترقی کرتے کرتے جنرل ببر علی کے عملے میں شامل ہوکر ڈوبرمین، جرمن شیپرڈ اور پوائنٹرکا خدمت گزارہو جانے کی کہانی ہے۔ وہ کتوں کا نوکر تھا تو اسے کتوں کے ساتھ رہنا تھا؛ کتے جو بادشاہ تھے یا وہ جو کتوں کے پہلے بیٹ مین میرزمان نے کہا تھا ’’کوہ قاف کے شہزادے‘‘ ۔ اُن کی خوراک بادشاہوں اور جرنیلوں والی تھی؛ روزانہ کا پانچ کلو گوشت، ڈیڑھ ڈیڑھ کلو دودھ ہر ایک کے لیے، روٹیوں بسکٹوں اور ڈبوں میں بند ڈاگ فوڈ الگ۔ میرزمان کہتا تھا ’’بندہ بیٹ مین نہ ہو ڈوبر مین ہو ڈوبر مین، تو پھر موجیں ہی موجیں۔‘‘ تو یوں ہے کہ نیلوفراقبال کا افسانہ ان کتوں کے بارے میں تھا جن کی موجیں ہی موجیں تھیںاور بل ڈاگ اور ببر شیر کی جھلک رکھنے والے جنرل ببر علی کی کہانی تھی جس کے کتے خوب موج اڑاتے تھے اور بیٹ مین شیر علی کی بھی جس کی زندگی کتوں سے بدتر تھی۔ اس افسانے کو جس خوبی سے اختتام تک لے جایا گیا ہے یہ کسی ماجرا نویس کے بس کی بات نہ تھی۔ میں نے اس افسانے کی علامت کو ذرا پھیلا کر دیکھا تو یہ وہاں وہاں منطبق ہو رہی تھی، جہاں جہاں طبقاتی تقسیم انسانیت کی تذلیل کا سبب ہوجاتی ہے۔

صاحب!یہیں میرا دھیان جارج آرویل کے ’’اینیمل فارم‘‘ کے ایک معروف جملے کی طرف جارہا ہے۔ وہی جس کے مطابق ’’تمام جانور برابر ہیں لیکن چند جانور دوسروں کے مقابلے میں زیادہ برابر ہیں۔‘‘ تو یوں ہے کہ فرد سے لے کر بین الاقوامی سطح تک، سب برابر سہی مگر واقعہ یہ ہے کہ ان میں کچھ زیادہ برابر ہو گئے ہیں۔ نیلوفر اقبال نے اس موضوع کو کچھ اور افسانوں میں، منظر نامہ بدل کر اور کچھ نئے موضوعات سے بہم کرکے، بھی برتا ہے۔ مثلاً اُن کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ہے ’’سرخ دھبے‘‘ ؛اُس میں شامل نائن الیون کے پس منظر میں لکھے گئے اُن چار افسانوں کو دیکھیے، جن میں جارح قوم کی حسیات کو جارحیت کا شکار ہونے والوں کی حسیات سے الگ کرکے دکھایا گیا ہے۔ اِس لڑی کے افسانوں کے نام ’’اوپریشن مائیس‘‘، ’’سرخ دھبے‘‘، ’’سفید للیز‘‘ اور ’’غبار‘‘ ہیں۔ ’’اوپریشن مائیس‘‘ میں ’’برف‘‘ کے جنرل جیسا ایک جنرل ہے۔ موخرالذکر افسانے کا جنرل ہے تو امریکی مگر اس کی نفسیات اور حسیات جس نہج سے سدھائی ہوئی ہیں وہ کتوں اور انسانوں سے معاملہ کرتے ہوئے جنرل ببر علی جیسا نظر آتاہے۔ امریکی فوج کے جنرل کا نام مرسی ہے اور نیلو فر اقبال نے اسے قدرے مختلف اور اپنے نام کی طرح رحمدل اور کسٹرڈ ہارٹ دِکھانے کے لیے، اس کی آنکھوں میں اُمنڈتے آنسو دِکھا دیے ہیں۔ یہ آنسو ایک پالتوکتیا کے لیے ہیں جو اسے اولاد کی طرح محبوب ہے۔ کتیا، جسے عین اُس روز ٹیکہ لگاکر موت کی گھاٹ اتارا جانا ہے جس روز جنرل مرسی کو پینٹاگون میں ایک اہم میٹنگ میں جانا ہوتا ہے۔ اس اہم میٹنگ میںاُس جنگ کے بارے میں فیصلے ہونے ہیں جو اُدھر بغداد میں لڑی جا رہی تھی اور جس میں انسان چوہوں کی طرح مارے جارہے تھے۔ طاقت ور کا ضابطہ اخلاق اس کا اپنا بنایا ہوا ہوتا ہے اور اس ضابطہ اخلاق کے مطابق ایک کتیا کے لیے آنسو بہائے جا سکتے تھے اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں جو اس کے نزدیک چوہوں سے بھی بدتر تھے۔ لہٰذا اُن پر اوپر سے بارود برسا کر انہیں مارا جاسکتا تھا اور مارا جا رہا تھا۔ یہ ایسے افسانے ہیں جو ٹھیٹھ حقیقت نگاری کی روایت میں ہو کر بھی علامتی جہت رکھتے ہیں۔ ایک ایسی علامتی جہت جہاں سے ظالم اور مظلوم، جارح اور جارحیت کا شکار ہونے والے، قوت رکھنے والے اورکچھ نہ رکھنے والے طبقات کی نفسیات کا بہت گہرائی اور باریک بینی سے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

اُردو فکشن میں عسکری زندگی کو اس رُخ سے کم کم موضوع بنایا گیا ہے جس رُخ سے نیلوفر نے موضوع بنایا ہے۔ ان کا ایک اور افسانہ ہے؛ ’’کھوٹا سکّہ‘‘ ۔ یہ ایک سپاہی کا افسانہ ہے۔ ایک گورا چٹا گھنگھریالے بالوں والا خوب صورت مگر نکھٹو طالب علم جس نے گھسٹ گھسٹا کر میڑک کیا اور فوج میں بھرتی ہو گیا تھا۔ محمد اکبرعرف بگا فوجی مہم پر ’’دوسرے ملک‘‘ بھیجا گیا ؛ وہاں جہاں جنگ لگی ہوئی تھی اور جہاں سے ایک روز اس کا تابوت واپس آیا تھا۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی، اس سے ایک قدم آگے بڑھی اور ہماری مذہبی نفسیات سے جڑ کر کہیں زیادہ بامعنی ہو گئی ہے۔ ماسٹرجی اپنے بیٹے کے تابوت پر غشی کے عالم میں گرگئے۔ کسی نے انہیں تابوت سے اُٹھاتے ہوئے ’’صبر صبر‘‘ کی تلقین کی اور کہا؛ ’’شہیدوں پر رویا نہیں کرتے‘‘ ۔ ’’شہید‘‘ ایسا لفظ رہا ہے کہ مرنے والا چاہے کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہوتا، اس کی لاش سامنے پڑی ہوتی تو بھی زخم پر پھائے جیسا لگتا تھا۔ ماسٹر جی کو بھی صبر آگیا تھا مگر قبر پر مٹی ڈالتے ہی وہ ایک بار پھر سسکاریاں مار کر رو رہے تھے کہ اُن کے بیٹے کو شہید نہیں کہا جاسکتا تھا۔ یہ افسانہ نیلوفر کے پہلے مجموعے میں شامل ہے۔ نائن الیون کے پس منظر میں لکھنے کی طرف وہ بعد میں متوجہ ہوئیں تاہم ہمارے ہاں دہشت گردی میں انسانی جانوں کے اتلاف میں جس تیزی سے ’جہاد‘ اور’ شہادت‘ جیسے الفاظ اپنے مذہبی مفہوم سے کٹ کر اپنی معنویت کھوتے چلے گئے ہیں، اس فضا میں یہ افسانہ اور بھی بامعنی ہو جاتا ہے۔

نیلوفر اقبال اپنے لیے موضوعات کو کبھی کبھی بہت غیر معمولی واقعات سے ڈھونڈ نکالتی ہیں۔ اُن کے دوسرے مجموعے میں شامل ایک افسانہ ’’آزادی‘‘ فارمی مرغیوں کی کہانی ہے جو قید میں پیدا ہوتی ہیں اور قید سے نکلتے ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ قید خانے سے باہر کی سنہری اور سبز دنیا کو ان مرغیوں نے آہنی جالیوں کے اندر سے ہی دیکھا ہوتا ہے؛اونگھتے اورچگتے پیتے ہوئے۔ ان میں ایک سیانی ہے جو انہیں آزادی کے سنہری خواب دکھاتے ہوئے کہتی ہے کہ جو جتنی جلد پل بڑھ کر توانا ہو جائے گی، پہلے باہر نکالی جائے گی۔ باہر نکلنے کی للک میں وہ خوب کھاتی ہیں اور وزن بڑھا لیتی ہیں لیکن ان کی آزادی کا مطلب ہے ایک قید سے دوسری قید اور پھر کسی آہنی ہاتھ کے شکنجے میں پہنچ کر چھری کے نیچے تڑپنا پھڑکنا۔ وہ آزادی کے خواب دکھانے والی سیانی ہو یا دوسری مرغیاں سب کو باری باری یونہی تڑپ پھڑک کر جان دے دینا ہوتی ہے کہ یہی آزادی ہے۔ اس آزادی کو ذرا اپنی زندگیوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھئے، آپ ایک عام سی بیانیہ کہانی کو مکمل ہوتے ہی علامت میں بدلتا ہوا پائیں گے۔ ایک بار کسی نے نیلوفراقبال سے پوچھا تھا کہ جب علامتی افسانوں کا سیلاب آیا تھا؛ تب بھی آپ کو خواہش نہیں ہوئی کہ تجربے کے لیے ہی سہی، علامتی یا تجریدی افسانہ لکھیں؟ تونیلو فر کا جواب تھا؛ علامتی افسانہ، بیانیہ افسانے کی نسبتاً ارفع صورت ہے کہ متن میں کئی پرتیں پیدا ہو جاتی ہیں مگر علامت کو غیر محسوس طریقے سے آنا چاہیے۔ اور اس پر یہ اضافہ کیا تھا؛ ’’علامت اظہار کو سہل بنا نے کا ایک ذریعہ ہی تو ہے، گو سمجھا ا سے اُلٹ جا تا ہے۔‘‘ پھر اپنے کچھ افسانے گنوائے تھے جو بیانیہ روایت کی پابندی کرتے ہوئے بھی علامت ہو جاتے تھے۔

نیلو فراقبال نے علامت کو درست تناظر میں سمجھا تھا یہی سبب ہے کہ وہ اپنے افسانوں کو سہل بنانے پر قادر رہیں۔ ان کے افسانوں کو پڑھنے والا گماں بھی کیسے باندھ سکتا ہے کہ وہ محض کہانی کو بیان کرکے مطمئن ہو جاتی ہوں گی۔ ان کے ہر افسانے میں کوئی کہانی ایک خاص بیانیہ قرینے سے کسی صورتحال یا اپنے کرداروں جیسے کئی اورانسانوں کی علامت میں ڈھل جاتی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان کے افسانوں کا بنیادی حوالہ عین مین دیکھے برتے گئے واقعات کا وہ بہائو ہی رہتاہے جو کسی پلاٹ کے اندرہوتا ہے اور پوری شناخت قائم کرنے والے کرداروں کے باہمی تعلق ہی سے متن ہوتا ہے یوں کہ علامت رخنہ نہیں بنتی، کوئی آڑ کھڑی نہیں کرتی، دیوار ہونے کی بہ جائے دروازہ ہوتی ہے، راستہ فراہم کرتی ہے ؛یوں کہ کردار اور واقعات قاری کا دھیان باندھ کررواں رہتے ہیں۔ کہیں اور بھٹکنے ہی نہیں دیتے۔ کہہ لیجئے، اس باب میںوہ ٹھوس حقیقت نگاری کی روایت کو عزیز رکھتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جس تخلیقی قرینے نے نیلوفر اقبال کو ان کے پہلے افسانے ہی سے لائق توجہ بنایا وہ یہی ٹھوس حقیقت نگاری کی رویت کا پاس تھا۔ یہ قرینہ بطور خاص ’’آنٹی‘‘، ’’حساب‘‘، ’’گھوڑا گاڑی‘‘، وغیرہ کے علاوہ پہلی کتاب کا نام ہونے والے افسانے ’’گھنٹی‘‘ میں بہت خوبی سے برتا گیا۔ دوسرے مجموعہ ’’سرخ دھبے‘‘ آیا تو اس میں شامل نائن الیون کے پس منظر میں لکھے گئے چارافسانوں نے ہماری ساری توجہ بٹور لی اور اس خوبی کی طرف ہمارا دھیان کم کم جاتا رہا جو ’’گھنٹی‘‘ میں بہت نمایاں رہی تھی۔ تیسرے مجموعے کی تیاری اور پہلے مجموعے کی اشاعت کے درمیان لگ بھگ ایک چوتھائی صدی پڑتی ہے اور ان برسوں میں نیلوفر اقبال کی نجی زندگی کا سفر ہو یا تخلیقی سفر دونوں ہموار نہیں رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اُن کی زندگی کے ساتھی اقبال احمد( کہ جن کے نام انہوں نے اپنے افسانوں کے دوسرے مجموعے کا انتساب کیا تھا)انتقال کر گئے۔ یہ صدمہ انہوں نے سہنا تھا اور سہا اور پھر ہمت کی اور لکھنے لکھانے کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ تخلیقی عمل کے اپنے تقاضے ہیں۔ فکشن لکھنا محض زندگی کے حوادث کے سامنے ہونا یا اس سے متعلق سوالات کونشان زد کرنا نہیں ؛ان سوالوں کے مقابل ہو کر ان کے جواب پالینے کی تاہنگ کو مسلسل زندہ رکھنا بھی ہے۔ اس تاہنگ کوایک تسلسل میں زندہ رکھنا دراصل اپنی زندگی کی ساری دوسری ترجیحات کو تج دینا ہے۔ خیر وہ جو صوفیا نے ایمان کے بارے میں کہہ رکھا کہ یہ ہمیشہ ایک سطح پر نہیں رہتا، گھٹتا بڑھتا رہتا ہے تو یوں ہے تخلیقی عمل میں بھی وقفے پڑتے ہیں۔ یہ وقفے نیلوفر اقبال کے ہاں قدرے زیادہ طویل ہوتے رہے ہیں۔ تاہم اس سارے عرصے میں وہ جب جب کوئی نیا افسانہ لکھنے کی نوید سناتی رہی ہیں ہم سب اُن کی جانب بہت محبت اور شوق سے متوجہ ہوتے رہے ہیں۔

افسانوں کے اس تیسرے مجموعے ’’سیاہ سونا‘‘ میں ایک مزاج کے افسانے نہیں ہے۔ ایک مزاج کے نہ ایک معیار کے۔ ممکن ہے آپ کے خیال میں آئے کہ ہو نہ ہو ’’لو اسٹوری‘‘، ’’جنت پلٹ‘‘ اور ’’کالک‘‘ جیسے بعض افسانے، افسانہ نگار نے اپنے ہاں در آنے والے اس انجماد کو توڑنے کے لیے لکھے ہوںگے جنہیں ادیب لوگ ’’رائیٹرز بلاک‘‘ کے طور پر شناخت کرتے ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہومگر ہم، جو نیلوفر اقبال کے مزاج آشنا ہیں جانتے ہیں کہ ان افسانوں کا شگفتہ بیانیہ ان کے زندگی کے عمومی رویے سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے۔ وہ خود بہت زیادہ فکشن پڑھتی ہیں اور اپنے مضامین اور فکشن میں جین آسٹن کے ’’فرسٹ امپریشن‘‘ والی روایت کو شعوری طور پر برتتی نظر آتی ہیں؛ جی، آپ ’’فرسٹ امپریشن‘‘ کے کرداروں کو پڑھتے ہوئے جس طرح مسکرادیتے ہیں ویسے ہی نیلوفر کی بعض کہانیوںکے کرداروں کو پڑھ کر مسکرائے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ کہیں کہیں تو قہقہہ بار بھی ہونا پڑے گا اور ممکن ہے ایسے میں آپ کسی تحریر کو انشائیہ کہہ دیں اور کسی کومزاح پارہ؛افسانہ ماننے ہی سے انکاری ہو جائیں۔ آپ مانیں نہ مانیں ؛ نیلوفر اقبال نے انہیں افسانے کے طور پر پیش کر دیا ہے اور اس کے پیچھے ان کا ایک نقطہ نظر ہے کہ افسانہ کسی بھی اسلوب اور کسی بھی فارمیٹ میں لکھا جا سکتا ہے۔

’’جنت پلٹ‘‘ بھی کسی اور اسلوب کا افسانہ ہے؛ کہہ لیجئے ایک فینٹسی۔ اورفینٹسی بھی ایسی کہ ایک مضحک صورت حال کی ترجمان ہو گئی ہے۔ کہانی کا آغاز جنت کے منظر نامے سے ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ جنت جانے والے شخص کو اس کے بیوی بچوں کی یاد ستانے لگی تھی حالانکہ وہ ایک عدد حورکے وصل کثیر سے لطف اندوز ہو رہاتھا۔ اس شخص کا زمین پر آنا، اپنی بیوی اور بچے کے معمولات کا جائزہ لینا اور پھر جنت پلٹ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی حور کو اپنی آغوش میں لے لینا اتنا دلچسپ ہے کہ آپ جملے جملے پر مسکرااُٹھیں گے۔

’’لو اسٹوری‘‘ میں کوئی فینٹسی نہیں ہے مگر ایک مرغ اور مرغی کی محبت کی کہانی کو فلمی فینٹسی سا بنا لیا گیا ہے۔ بیانیہ یہاں بھی شگفتہ ہے۔ کہانی میں کئی موڑہیں۔ یوں، جیسے رومانی فلموں اور ڈراموں کی کہانیوں میں کئی موڑ آیا کرتے ہیں۔ متن کومختلف عنوانات کے تحت بانٹ کر، اس میں کسی ڈرامے کے کٹ کٹ کر جڑتے مناظر کا سا دلچسپ بنا لیا گیا ہے۔ لیلیٰ نامی مرغی کی بے اعتنائی میں نہاں سیکس اپیل سے لے کر مجنوں کا نام پانے والے مرغے سے ملاپ تک کی اس لو اسٹوری کا انجام ایک نوٹ پر ہوتا ہے یہ نوٹ ایسا ہے جو اس کہانی میں سیاسی معنویت کا رُخ روشن کر دیتا ہے۔ اسی طرح کاایک نوٹ ’’کالک‘‘ کے آخر میں بھی دیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک طنزیہ تحریر ہے، جس میں فوجی آمر ضیا الحق کے زمانے میں ہونے والی اہل قلم کانفرنس کی بھد اُڑائی گئی ہے۔

’’رس گلے‘‘ اور ’’حلالہ‘‘ میں بھی مزاح کا عنصر حاوی ہے۔ ’’رس گلے‘‘ میں مزاح کی شیرہ زیادہ رہتا ہے جبکہ ’’حلالہ‘‘ طنز کی آنچ۔ ان دو افسانوں میں میاں بیوی کے رشتے میں ایک تیسرے شخص کے دخیل ہونے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ’’رس گلے‘‘ کے میاں بیوی حسن اور شیریں ہیں جب کہ تیسرا شخص عادل جس کی کمزوری شیریں ہوگئی تھی۔ ’’حلالہ‘‘ میں زرمینہ عرف جینا کے سابق شوہر کے درمیان جو شخص طلاق کا سبب بنا وہ شہریار ہے۔ جینا اسی سے حلالے کی خواہش مند ہے۔ یہ کہانیاں محض محبت کی تکون نہیں ہیں ہمارے ان اُتھلے روّیوں پر شدید طنز بھی ہیں جو معاشرتی بگاڑ کا سبب ہو رہے ہیں۔ نیلو فر اقبال نے معاشرتی بگاڑ کی کچھ اور صورتیں بھی دکھائی ہیں۔ افسانہ ’’خوشی‘‘ کو دیکھیے، اس میں ایک خاتون برانڈڈ ملبوسات میں خوشی تلاش کرتی ہے مگر ویسا لباس کسی اور کو پہنے دیکھ کر دکھی بھی ہو جاتی ہے۔ اسی خاتون کے گھر کام کرنے والی صغریٰ اُس کی اترن پہن کر خوش ہے۔ آپ افسانہ ’’لفافہ‘‘ پڑھیں گے تو عین آغاز میں اس کا موضوع بھی بیان ہوتا ملے گا، جس کے مطابق ایک ایماندار آدمی کرپٹ دفتر میں یوں ہوتا ہے جیسے نیوڈ کلب میں کوئی شخص کپڑے پہن کر داخل ہو جائے۔ اجنبی، سب سے الگ اور سب کی نظروں میں چبھتا ہوا۔ امین صاحب بھی ایسے ہی دفتر میں تھے اور الگ تھلگ کر دیے گئے تھے مگر انہوں نے ایمانداری کی روش ترک نہ کی۔ پوری زندگی تنگدستی میں گزار کر ریٹائر ہو گئے توگھر تھا نہ سواری۔ اگر پاس کچھ تھا تو بس ایک ایمانداری اور اپنے شعبے کا تجربہ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انہیں اس راشی شخص کے پاس نوکری کرنے جانا پڑتا ہے جو کبھی ان کا باس رہا تھا، اورجس نے لمبا ہاتھ مار کر اپنی کمپنی بنا لی تھی کہ اسے امین جیسے ایمان دار آدمی کی ضرورت تھی۔

نیلوفر اقبال نے جس غیر معمولی جرات اور سلیقے سے اپنے پہلے مجموعے کے افسانے ’’آنٹی‘‘ اور ’’پائوں‘‘ میں جنسی حقیقت نگاری کو برتا ہے لگ بھگ اسی جرات اور سلیقے کا مظاہرہ اس نئے مجموعے کے افسانوں میں بھی ہوا ہے۔ مثلاً افسانہ ’’یوسف‘‘ کا مرد شرافت اپنی بڑھ چکی عمر کے حجاب میں بیس بائیس برس چھوٹی رفیقہ سے شرافت سے پیش آتا ہے اتنا کہ رفیقہ کو چاہتے ہوئے بھی اُسے کھو بیٹھتاہے۔ رفیقہ جواں سال تھی مگر اسے جوان لڑکوں سے کچے انڈوں کی بو آتی تھی۔ اسے جو بات بڑی عمر کے مردوں میں نظر آتی تھی، کچی عمر کے بچھڑوں میں وہ نہ تھی لہٰذا وہ شرافت کی جانب لپکی تھی۔ جب کہ شرافت کا کرتا آگے سے پھٹا اور نہ پیچھے سے۔ انجام کار وہ بھونچکے بیٹھے سوچ رہے تھے کہ ان سے غلطی کیا ہوئی تھی۔ افسانہ ’’پھر‘‘ کا موضوع بچوں کا جنسی استحصال ہے؛ جی آج کا سلگتا ہوا موضوع۔ اس افسانے میں اس موضوع کو وہاں سے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جہاں سے ہم دیکھنے کے عادی نہیں ہیں۔ وکیل اور صحافی کے لیے ساری دلچسپی جنسی استحصال کا شکار ہونے والی بچی میں ہے۔ اس جسم میں جو آدھا ہسپتال کے سرخ کمبل کے اندر ہے، ۔ وہ اس کی کانپتی ہوئی ٹھوڑی اور پھڑپھڑاتے ہونٹ دیکھ رہے ہیں مگران بد بختوں کے لیے اتنا کافی نہیں ہے۔ اپنے بیان میں معصوم بچی جنسی استحصال کرنے والے چاچا سراج کو ’’ننگے کا ننگا‘‘ دکھا دیتی ہے مگر پھر بھی ’’پھر، پھر‘‘ کی گردان جا ری رہتی ہے حتی کہ بچی کا زخم زخم باقی ماندہ جسم بھی سرخ کمبل سے باہر ننگا ہو جاتا ہے۔ کہانی اس ننگے جسم کی نہیں اس وکیل اور صحافی کے ننگے اور غلیظ باطن کی ہے جو مجموعی طور پر اس باب میں ہمارے سماجی رویوں کو بھی ننگا کر گئی ہے۔ نیلوفر اقبال نے ایک ایسی ماںکی کہانی بھی لکھی ہے جو جنس بیچنے پر مجبور ہے۔ کہانی کا نام ’’مراد‘‘ ہے۔ مراد اسی ماں کا بیٹا ہے جس کے پاس اس کی ضروریات اور خواہشات پوری کرنے کے لیے جنس ہی ایک قیمتی شے ہے جسے بیچا جا سکتا تھا اور وہ اسے بیچنے کے لیے لاہور شہر کی دھند میں ڈوبی ہوئی ایک سٹرک کے کنارے کھڑی ہے۔ منصور اس کہانی میں ایک گاہک بن کر داخل ہوتا ہے اورایک جسم بچنے والی کے ہاں اس کی ممتا کو دریافت کرنے کے بعد اپنے رویے سے بچی کھچی انسانیت پر ایمان تازہ کر جاتا ہے۔

افسانہ ’’نانی کی ننھی‘‘ میں بھی جنس کا کا روبار کرتی عورتوں کو موضوع بنایا گیا ہے اور ایسی بچی کو بھی، جو پیشہ کرنے والیوں کے ہاں بیٹی کی صورت پل بڑھ رہی تھی۔ اس افسانے کانام دیکھتے ہی میرا دھیان عصمت چغتائی کے معروف افسانے ’’ننھی کی نانی‘‘ کی طرف جاتا رہا ہے۔ جی، عصمت کا وہی افسانہ جس میںنانی اپنی اکلوتی نواسی ننھی کو کڑک مرغی کی طرح پر پھیلائے پوٹے تلے دابے رکھتی تھی، کیا مجال کہ نظر سے اوجھل ہو مگر اسی ننھی کو ڈپٹی صاحب نے چوزے کی یخنی سمجھ کر ڈکار لیا تھا۔ نانی کو ننھی نے کئی دُکھ دیے اور پھر وہ کسی کے ساتھ نکل گئی تھی۔ کوئی کہتا کسی نواب نے گھر ڈال لی تھی اور کوئی کہتا وہ ہیرا منڈی میں دیکھی گئی۔ نیلوفر اقبال نے جس ننھی کی کہانی لکھی، وہ یوں مختلف ہو گئی کہ اس میں نانی کی محافظت سے نکل کر ننھی بھاگی نہیں، اسی کی خواہش کے عین مطابق ڈھل رہی تھی۔ ننھی کی ایک سہیلی تھی ماکھو۔ وہ کسی جج کے گھر میں کام کرتی تھی اور فیری جیسی فیری کی نانی کو لیڈی کہتی تھی۔ مال دار لیڈی جو اپنی نواسی کے لیے باہر سے بہت سے کھلونے لاتی۔ ننھی کی نانی لیڈی نہیں کنجری تھی اس لیے کچھ نہیں لاتی تھی۔ اس بات کا انکشاف ماکھو نے کیا تھا۔ کنجری، رنڈی، پیشہ کرنے والی ؛ کتنے ہی لفظ تھے جن کا مفہوم ننھی کومعلوم نہیں تھا اور جب اس نے نانی کی موجودگی میں اپنی ماں سے ان لفظوں کا مفہوم جاننا چاہا تھا تو خوب فساد برپا ہوا تھا۔ یوں یہ ایک ماں اور ماں کی ماں کی کہانی بھی ہے اور اس ننھی کی بھی جو فیئری کی نانی کو اپنی نانی کی جوتی کے برابر نہیں سمجھتی تھی۔ عصمت اور نیلوفر نے اپنے اپنے افسانوں میں جنس کے موضوع کو خوبی سے برتا ہے مگر دونوں کا حتمی موضوع جنس نہیں ہے۔ عصمت کے افسانے کی نانی سارے دُکھ، ساری تہمتیں اور ساری ذلتیں برداشت کر گئی۔ ننھی نے منہ پر کالک پوت دی تو سمجھی تھی کہ یہ آخری گھائو تھا مگرزندہ رہی۔ مری تو اس ذلت کے سبب جو اس کے تکیے کا راز کھلنے پر اُسے سہنا پڑی تھی۔ یہ ذلت وہ سہہ نہیں پائی اور اکڑوں بیٹھے بیٹھے مر گئی تھی۔ نیلو فر کے افسانے کا موضوع نانی ہے نہ اس کے کسی تکیے میں چھپی کوئی ذلت۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نانی کے پاس کوئی تکیہ نہیں ایک صندوقچی ہے جس میں چھوٹے چھوٹے گھنگھرو پڑے تھے۔ ننھی بھی بہت بے چینی سے سال گزرنے کا انتظار کر رہی ہے جب ڈانس ماسٹر نے اسے ڈانس سکھانے آئے گا اور وہ یہ گھنگھرو پہنے گی۔ دیوار عین مین بنیاد پر اُساری جارہی تھی۔ کہہ لیجئے سارے واقعات ایک سیدھ میں چل رہے ہیں، کہیں کوئی بل چھل نہیں۔

’’سیاہ سونا‘‘ نامی افسانے میں بھی کوئی بل چھل نہیں ہے۔ اس افسانے میں ماں باپ اور اولاد کے درمیان بظاہر بہت مستحکم رشتے کو وہاں سے موضوع بنایا گیا ہے جہاں سے یہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔ انسانی رشتوں کا مختلف جہتوں سے مطالعہ نیلوفر اقبال کے محبوب موضوعات میں سے ایک ہے۔ قبل ازیں وہ اس موضوع پر ’’گھنٹی‘‘ اور ’’حساب‘‘ جیسے بڑے اہم افسانے دے چکی ہیں۔ ’’گھنٹی‘‘ میں باپ بیمار ہو کر اولاد پر بوجھ ہو گیاتھا۔ اس اولاد پر، جس کا وہ ہنسی خوشی بوجھ اٹھالیا کرتا تھا۔ نیلوفر نے اس افسانے کے تانے بانے میں انسانی نفسیات کو بہت سلیقے سے گوندھ لیا ہے۔ یہ نفسیات رشید نامی کردار کی تھیں، اُس کے بوڑھے اور بیمار باپ کی یا اس کی خدمت گزار بیوی اور بچوں کی ؛ سب انسانی سطح پر جس صورت حال میں پھینک دیے گئے تھے، اپنی فطرت کے عین مطابق ردعمل ظاہر کررہے تھے اور اسی سے افسانہ زندگی کی سچی تصویربن گیا تھا۔ لگ بھگ ایسا ہی ’’حساب‘‘ میں ہوا۔ بے جی اور اس کے بچے جس طرح کہانی کے اندر ظاہر ہوئے، اس نے پڑھنے والوں کا کلیجہ چیر کر رکھ دیا۔ زیر نظر مجموعے کا افسانہ ’’سیاہ سونا‘‘ قحط زدہ علاقے کی کہانی ہے۔ یہ اپنے قاری کو پہلے سیاسی اور سماجی سطح پر ہمارے ناروا رویوں کی تصویر دکھانے کے بعد ایک احاطے کی اس جھگی میں پہنچا دیتی ہے جس میں بوسیدہ بستر پر ایک تین سالہ بیمار بچہ پڑا ہے۔ اس بچے کا باپ ایک عجیب خبر اپنی عورت کو سناتا ہے۔ یہی کہ جن کے بچے اس قحط میں مر گئے ہیں حکومت انہیں پانچ پانچ لاکھ روپے دے گی۔ ان کے آس پاس کسی جھگی میں رہنے والے میرو کا لڑکا بھی مرگیا ہے۔ عورت کو وہ یاد آجاتا ہے اور وہ بے چینی سے کہتی ہے: ’’پھر تو اچھا رہا میرو، جس کا لڑکا مویا تھا پچھلے ہفتے ہسپتال میں۔‘‘ یہیں افسانہ نگار نے بوڑھی عورت کے منہ سے کہلوایا ہے: ’’سب کی قسمت ایک جیسی نہیں ہوتی‘‘ اور پھر باپ کو اپنے مریل بیٹے کی طرف تاسف سے دیکھتے، دکھا دِیا ہے یوں کہ پڑھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔

’’ڈیپارچر لائونج‘‘ قدرے طویل افسانہ ہے اور اس میں واقعات کے بہائو سے زندگی کی اصل لذت کشید کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بیوی اپنے شوہر کو گھر سے رخصت کرتی ہے اور شوہر ہنسی خوشی ٹیکسی پر سوار ہو کر ائیر پورٹ کی طرف نکل پڑتا ہے مگر کہانی بیانیہ روایت کو توڑ کر کچھ اپنے اندر بھید سمیٹ لیتی ہے اب اوپر تلے جو واقعات ہو رہے، ان میں علت اور معلول کا رشتہ قائم کرکے قاری کوخود ایک معنویت قائم کرنی ہے۔ نیند کا غلبہ طاری ہونااور حواس بحال ہونے پر تباہ شدہ گاڑی دیکھنا، اس کے بالکل قریب ایک لمبی سیاہ کار کا رکنا، کلائی سے گھڑی اوراس ہینڈ کیری کا غائب ہوناسے لے کر جہاز کے ہچکولوں اور ہنگامی لینڈنگ کے لیے واپس ہو لینے تک ملکیت کا وہ مسئلہ بھی سامنے آجاتا ہے جو ایک بریف کھوجانے سے بہت سنگین ہو گیا ہے۔ میں نے کہا ناکہ نیلو فر کا یہ افسانہ کچھ بھید لے کر چلتا ہے۔ وہ بھید کیا ہیں پیار کرنے والے میاں بیوی کے کرداروں کو کہانی کے بہائو میں رکھ کر اورعین آغاز میں بیان ہو چکے واقعات کو آخرمیں پھر سے کہانی کا حصہ بناتے ہوئے مسافر کو خالی ہاتھ دِکھا کر سجھا دیے گئے ہیں۔

افسانہ ’’بت‘‘ ایسے بادشاہ کی کہانی ہے جسے ایک صبح جاگنے پر معلوم ہواتھا کہ وہ معزول ہو چکا تھا۔ روایت یہی تھی کہ معزول ہونے والے قتل کر دیے جائیں تاہم اسے یہ موقع فراہم کیا گیا تھا کہ وہ جان بچانے کے لیے وہاں سے دور نکل جائے۔ وہ وہاں سے نکل کر اپنے ایک دوست ہاں پناہ گزیں ہوا۔ معزول بادشاہ کی اس کہانی میں، ایک مینڈولین بجاتا لڑکا، اس کا کتا اور اس کی بہن داخل ہوتے ہیں، یوں کہ معزول بادشاہ کو اپنی تنہائی ختم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ کہانی کا مواد قدیم منظر نامے سے اٹھا کر ایک نئی متھ بنانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن کئی مقامات پر ایسا محسوس ہوا کہ لکھتے ہوئے نیلوفر اقبال جدید زندگی کے منظر نامے سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہیں ہیں بہ طور خاص وہاںجہاں انہوں نے بادشاہ کے دوست ہمدان کے فارم ہائوس اور لائبریری کے واقعات کو کہانی کا حصہ بنایا ہے۔
اور آخر میں ایک ایسے افسانے کا ذکر جس میں انسانی نفسیات کی اس گرہ کو موضوع بنایا گیا ہے جو کہیں پڑ جائے تو آدمی اسی میں بندھا رہ جاتا ہے؛اس گرہ میں بندھنا ایسی اذیت ہے جو لذت ہو جاتی ہے۔ اس افسانے کو نیلوفر نے ’’سوکری‘‘ کا نام دیا ہے۔ سوکری ترکی میں استنبول کے قریب ساحلی علاقہ ہے، جس میں اس کہانی کے مرکزی کردار کا کچھ وقت گزارا تھا۔ بہت مختصر ؛ اس کی زندگی کا بہترین وقت ؛اور اتنا طویل کہ ابھی تک وہ اسی میں رہ رہا ہے اور شاید اپنی موت تک اسی میں رہے گا۔
نیلوفر اقبال محض احساس کی ایک جنبش یا خیال کی ایک لہر کو نہیں بلکہ پورے زندہ انسان اور اُس کے دُکھ سکھ کو فکشن بناتی ہیں۔ وہ موضوعات اور واقعات کے ایک سلسلے کو لے کر چلتی ہیں اورہرکردار کو مکمل شاخت عطا کرنے کے بعدواقعات میں یوں داخل کرتی ہیں کہ ہرکہانی، اس گوں کے لوگوں کی زندگیوں کی جیتی جا گتی تصویر ہو جاتی ہے۔ نیلوفر اقبال کا مشاہدہ بھرپور، تخیل ہرا بھرا، سوچ مثبت، دِل دردمند اور نظر گہری ہے۔ انہوں نے اِن وسائل کو اپنے افسانوں میں اخلاص بھرے قرینے سے برت کر بیانیے میں ایسی تخلیقی چھپ ایزاد کر لی ہے جو بہت کم لکھنے والوں کے ہاں جھلک دے پاتی ہے۔ یہیں سے وہ مختلف ہوتی ہیں اور لائق توجہ بھی۔

میں ’’گھنٹی‘‘ اور ’’سرخ دھبے‘‘ جیسے مجموعوں سے توقیر پانے والی افسانہ نگار کے تیسرے مجموعے ’’سیاہ سونا‘‘ کی اشاعت کا خیر مقدم کرتا ہوں۔  (نیلوفر اقبال کے تازہ مجموعے ’’سیاہ سونا‘‘ میں بہ طور دیباچہ شامل تحریر)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20