پنجابی اور سندھی کہانیاں، اردو قارئین کو علاقائی ادب سے آشنا کرنے کی اچھی کوشش

0

صریر پبلشرزنے علاقائی زبانوں پنجابی اور سندھی کہانیاں شائع کرکے ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔ ہمارے ادبی جرائد میں اکثر علاقائی زبانوں کے ادب کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جس سے قارئین کو اردو کے ساتھ پنجابی، سندھی، سرائیکی، پشتو، بلوچی، ہندکو اوردیگرزبانوںکے جدید ادب سے آگاہی ہوتی ہے۔ اکادمی ادبیات کے جریدے ’’ادبیات‘‘ کے ہرشمارے میں علاقائی زبانوں کے ادب کوشامل کیا جاتاہے۔ جبکہ مختلف زبانوں اوراس کے نامور ادیب وشعراء پر خصوصی شمارے بھی شائع کیے گئے ہیں۔ صریر پبلشرز نے ادارے کے پہلے سال میں ’’پنجابی کہانیاں‘‘ اور ’’سندھی کہانیاں‘‘ شائع کی ہیں۔ ان کے آئندہ پروگرام میں دیگرزبانوں کے ادب کی اشاعت بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ’’جاپانی کہانیاں‘‘ بھی شائع کی گئی ہیں۔ اس طرح بین الاقوامی ادب کی دیگر اہم زبانوں کی کہانیاں بھی شائع کی جائیں گی۔

’’پنجابی کہانیاں‘‘ اور ’’سندھی کہانیاں‘‘ کاانتخاب اورتراجم عامرصدیقی نے کیے ہیں۔ کتابوں کے خوبصورت سرورق سے پنجاب اور سندھ کے رنگارنگ کلچرعمدگی سے عکاسی کی گئی ہے۔ دوسوچوبیس صفحات پرمشتمل ’’پنجابی کہانیاں‘‘ میں اٹھائیس کہانیوں کے تراجم شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتربھارتی پنجاب کے ادیبوں کے تراجم ہیں۔ پاکستان کے صرف ایک ادیب افضل احسن رندھاواکی کہانی ’’کھوئی ہوئی خوشبو‘‘ کاترجمہ ہی جگہ حاصل کرسکاہے۔ اس سے سرحدکی دوسری جانب کے پنجابی ادب کی پیش رفت سے آگاہی توہوتی ہے، لیکن پاکستانی پنجابی ادب کی سرگرمیوں سے قاری لاعلم رہتاہے۔ مجموعی طورپریہ مجموعہ عمدہ تحریروں سے آراستہ ہے۔ ’’سندھی کہانیاں‘‘ دو سو اٹھاسی صفحات پر مبنی ہے۔ جس میں چونتیس کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔ ان کہانیوں کومختلف ادوارکے اعتبارسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیاہے۔ پہلے حصے میں جدیدسندھی افسانے کے دس مصنفین کی کہانیاں دی گئی ہیں۔ حصہ دوم میں قیام پاکستان سے قبل کے گیارہ افسانہ نگاروں کوشامل کیاگیاہے۔ جبکہ حصہ سوم میں تیرہ پرانے ادیبوں کو نمائندہ تحریروں کو جگہ دی گئی ہے۔ اس طرح سندھی افسانے کی پوری پیش رفت قارئین کے سامنے آ جاتی ہے۔

’’پنجابی کہانیاں‘‘ میں پنجابی کی بے مثال شاعرہ اورافسانہ نگارامرتاپریتم کی چار، اجیت کور کی، گرمیت کڑیا والی اور جسونت سنگھ وردی کی دو، دوکہانیاں شامل کی گئی ہیں۔ سکھبیر، نوتیج سنگھ پریتلڑی، گردیال سنگھ، رام سروپ انکھی، سنتوکھ سنگھ دھیر، کلونت سنگھ وِرک، سنت سنگھ سیکھوں، کرتارسنگھ دُگل، سجان سنگھ، گربخش سنگھ، گرمکھ سنگھ، نانک سنگھ، منموہن باوا، بلدیو سنگھ، تلوندرسنگھ اوربلراج سنگھ سدھوکی ایک ایک کہانی کاترجمہ کیا گیا ہے، اوریہ تمام پنجابی کے نمائندہ کہانی کارہیں۔ عامرصدیقی کے تراجم میں تخلیق کارنگ موجود ہے۔ کئی تراجم اتنے عمدہ ہیں کہ ان پر تخلیق کاگمان ہوتاہے۔

اجیت کورکے افسانے ’’ایک اور فالتو عورت‘‘ کا اقتباس ملاحظہ کریں۔ عورت کے بارے میں کیاعجیب تبصرہ ہے۔ ’’کمبخت عورت بھی ماں کے پیٹ سے ایکٹنگ سیکھ کرآتی ہے۔ اپنے مردکوخوش کرنے کے لیے ایکٹنگ، اپنے لیے چھوٹی سی رعایت لینے کی خاطر ایکٹنگ۔ اڑوس پڑوس، رشتے داروں کی غمی خوشی کاساتھ دینے کے وقت ایکٹنگ۔ اسی کو ’تریا چرتر‘ کہتے ہیں۔۔ طعنے میں۔ ۔ ملامت میں۔ لیکن کیوں؟ اس میں جومحنت خرچ ہوتی ہے، اس کی مزدوری کاحساب کیوں نہیں کیا جاتا۔‘‘

پریم پرکاش نے اپنے افسانے’’ڈیڈلائن‘‘ میں زندگی اورموت کی حقیقت بیان کی ہے۔ ’’ست پال، ایس کے پی آنند، ستی یا پالی، مرنے والے کی ہی نام تھے۔ جب میں اس گھر میں بیاہ کرآئی تھی تومعاشرتی رشتے میں وہ میرادیورتھا۔ آنگن میں گیند سے کھیلنے والا، چھوٹی چھوٹی بات پرروٹھنے والااورجوبھی سبزی بنتی، اسے نہ کھانے والا لیکن جذباتی رشتے سے وہ میرا بیٹا تھا، بھائی تھا اورپریمی بھی۔ آج ا س کی پہلی برسی تھی۔ ستی اپنی عمرکے آخری نوماہ پچھلے تئیس سالوں سے بھی زیادہ طویل کرکے جی گیا۔ گلے کے کینسرکے بارے میں ڈاکٹرپوری کی رپورٹ ملنے کے بعد اس نے نو مہینے کی زندگی کیسے گزاری، یہ مرنے والاہی جانتا تھا یا پھر میں۔ کینسر کے مریضوں کے بارے میں، میں نے جو کچھ پڑھ رکھا تھا، وہ آدھاجھوٹ تھا، سچ تو وہ تھاجو ہم پر بیتاتھا۔ بی اے کرکے ایک سال کی بیروزگاری کے بعدستی کونوکری ملے اور منگنی ہوئے ابھی پوراسال بھی نہیں بیتاتھاکہ گلے میں ہونے والی خارش کانام کینسر پڑگیا، جس کی رپورٹ دیتے ہوئے ڈاکٹر پوری، جورشتے میں ماموں بھی لگتے تھے، کے چاندجیسے سر پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگی تھیں۔ انہوں نے میرے اورآنندصاحب کے کندھے پرہاتھ رکھ کر کہاتھا، بیٹا، چھے مہینے بعدیہ اپنانہیں رہے گا۔ علاج کا کوئی فائدہ نہیں۔ پھر بھی پیسے خرچ کرناہی چاہتے ہو تو کہیں دھرم ارتھ لگادو، نام کے لیے میں دوا دیتارہوں گا۔ لیکن ڈاکٹر پوری کو کیا معلوم کہ بنا کوئی چارہ کیے جینا کتنا کٹھن ہوتاہے۔ شام کے وقت میں نے سترہ ہزارروپے والی مشترکہ کھاتے کی پاس بک اس کے بھائی کے آگے رکھ کر کہا، یہ پیسہ ہم کس کے لیے بچاکررکھیں گے؟‘‘

زندگی کے تلخ حقائق کواس افسانے میں کچھ یوں بیان کیاگیاہے کہ ایک ایک لفظ حساس دل میں اترجاتاہے۔ سکھبیر کا افسانہ’’اکائی‘‘ ایک خوبصورت تحریرہے۔ امرتاپریتم کے چارافسانے’’ایک جیوی ایک رتنی، ایک خواب‘‘، ’’شاہ کی کنجری‘‘، ’’منیا‘‘ اور’’ناخدا کا پھیرا‘‘ پنجابی کہا نیاں میں شامل ہیں۔ امرتاپریتم درددل سے مالامال مصنفہ تھیں۔ ان کی تحریریں ہردل پر اثر کرتی تھیں۔ ’’مِنیا‘‘انسانی زندگی میںتنہائی کے المیہ کابیان ہے۔ مِنیا ایک سیدھاسادھا انسان ہے۔ جوتنہاہے۔ لوگوں کے ساتھ رہتے ہوئے بھی تنہا۔ پہلے السی بیاہ کرکے اسے تنہا کرگئی اورپھر بندیا کا بیاہ طے ہوگیا۔ مِنیا کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں سکا۔ لیکن اس کاحساس دل تو سانحے سے ٹوٹ گیا۔ وہ کس سے اورکیابیان کرے۔ دل کے تارچھیڑتی تحریر اور اتنا ہی عمدہ ترجمہ۔

’’پنجابی کہانیاں‘‘میں دیگرکہانیاں بھی بہت عمدہ ہیں۔ ان میں گردیال سنگھ کی ’’سانجھ‘‘ رام سروپ انکھی کی’’لوہے کا گیٹ‘‘ سنتوکھ سنگھ دھیر کی ’’کوئی اور سوار‘‘ کرتارسنگھ دگل کی’’چاندنی رات کا کرب‘‘ سبحان سنگھ کی ’’قلفی‘‘ گربخش سنگھ کی ’’بھابی مینا‘‘ اور اجیت کورکی ’’نہیں، کوئی تکلیف نہیں‘‘ بہترین اور ناقابل فراموش تحریریں ہیں۔ افضل احسن رندھاوا پنجابی کے نمائندہ لکھاری تھے۔ ان کی کہانی ’’کھوئی ہوئی خوشبو‘‘ کا اقتباس ملاحظہ کریں۔

’’میں کون سے کہانی لکھوں؟ جب بھی میں کہانی لکھنے کاسوچتاہوں، کتنی ہی کہانیاں مجھے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں۔ کسی کہانی کے ہاتھ سخت محنت سے کھردرے ہوگئے ہیں، کسی کہانی کے بال مٹی میں مل کرمٹی ہوگئے ہیں، کسی کہانی کے سرپر چادر نہیں۔ کسی کہانی کامکھن سا بدن بھنبھوڑنے کی وجہ سے چھلنی ہوگیاہے، کسی کہانی کے خوبصورت چہرے پر بارود کی بدبو اور خون کے داغ ہیں، کسی کہانی کابازوکٹ گیاہے، تو کسی کی ٹانگ نہیں۔ کسی کی آنکھیں نکل گئی ہیں، کسی کا گوشت نیپام بم کی آگ میں جھلس گیاہے۔ اورآج کسی گاؤں میں پناہ گزین چچا ٹہل سنگھ، پتانہیں کتناخوش ہے؟ اور اب پتانہیں پال سنگھ میری طرح آدھے دھلے بال والے سرمیں، اپنی روشن بادامی آنکھوں میں کوئی خواب رکھتاہے یانہیں؟ چچا ٹہل سنگھ کہا کرتا تھا، ہم سب کی کہانیاں ہیں، پر ہمیں لکھنے والا کوئی نہیں۔‘‘

افسانے میں اردگرد بکھرے المیوں کاذکرکرتے ہوئے مصنف کہتاہے کہ کہانیاں بے شمارہیں۔ ان میں سے لکھنے کاچناؤ انتہائی دشوار ہے۔ سندھی شاعری کی طرح سندھی کہانی بھی ایک مضبوط صنف کی حیثیت سے رکھتی ہے۔ تقسیم ِ ہند کے بعد توسندھی کہانی کافی ترقی کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ نئے تجربات، اچھوتے خیالات اورتخلیقی پختگی کی وجہ سے سندھی کہانی نہ صرف برصغیرکی دوسری زبانوں کے مقابل کھڑی نظر آتی ہے بلکہ اسے آسانی سے عالمی ادب کے ساتھ بھی رکھاجاسکتاہے۔ آج سندھی کہانی ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے مارکسیت، رومانیت اورترقی پسندیت کے دور سے گزرچکی ہے۔ اب کہانی پچھلے کچھ عرصہ سے دوبارہ لوٹ آئی ہے۔ آج کا قاری اس میں ایک بارپھر ’کہانی پن‘ ڈھونڈ رہا ہے اوراس نے واقعے، کردار، خیال، ماحول اورتحلیل نفسی پر مبنی کہانی کو تلاش کرنا شروع کردیا ہے۔ ذہنی پیچیدگیوں اور تقسیم کے دردکے بارے میں لکھی گئی کہانیوں کادور بھی تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ آج کی سندھی کہانی زندگی کے بہت قریب آچکی ہے، اتنی قریب کہ اس میں انسان کے دل کی دھڑکن کا احساس ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ انسان اسے دل کی آنکھ سے پڑھتا، دامنِ احساس کو آنسوؤ ںسے بھگوتا اور مدتوں یاد رکھتاہے۔ عامرصدیقی نے ’’سندھی کہانیاں‘‘ عمدہ کہانیاں منتخب کی ہیں اوران کارواں اور سلیس اردو ترجمہ کیا ہے۔

کتاب کے حصہ اول میں دس کہانیاں شامل ہیں۔ جن میں امداد حسینی کی ’’پیارکاساون‘‘ سحر امداد کی ’’جلتے ہوئے انگارے‘‘ تنویر جونیجو کی ’’سیاست، میڈیا اور عجیب بو‘‘عبدالرحمان سیال کی’’ چوراہے سے شمال کی جانب‘‘ رشیدہ حجاب کی ’’ملاقات‘‘ پوپٹی ہیرانندنی کی ’’مضبوط ٹکا ہوا بٹن‘‘ مشتاق احمدشورو کی’’بیمارخواہشوں کی تلاش‘‘ نورالہدیٰ شاہ کی ’’دنیا ایک اسٹیج‘‘ ڈاکٹر ہدایت پریم کی ’’درد کی پگڈنڈی‘‘ امر جلیل کی ’’غار‘‘ شامل ہیں۔ یہ دورجدید کے نمائندہ سندھی افسانہ نگارہیں۔ ان کے موضوعات اور اسلوب منفردہیں جن سے سندھی کہانی کے ارتقا کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

امر جلیل معروف کالم اورسندھی کی اہم ادیب ہیں۔ ان کاافسانہ’’غار‘‘تقسیم کے ایک المیہ کوکس کرب ناک انداز میں بیان کرتا ہے۔ ’’اگر آسمان تک میری پہنچ میری رسائی ہوتی، توشایدمیںمرتے دم تک تم سے کبھی نہ پوچھتا۔ میں نے اماں سے کہا اور پھر پوچھا۔ اس لیے، تم بتاؤ کہ میں کس کابیٹاہوں؟ اماں کانپ گئی، میری طرف بڑھی، مجھے پیارسے شرابور کرتے ہوئے کہا۔ کیایہ کافی نہیں کہ میں تمہاری ماں ہوں؟ جس قیامت سے میں گزرا ہوں، اس میں یہ کافی نہیں ہہہے۔ مجھے بتاؤ کہ میں کس کا بیٹاہوں؟ اماں لاچار ہوکر یہاں وہاں دیکھنے لگی، اورپھر ٹوٹے پھوٹے لہجے میں جیسے اپنے آپ سے بات کرتے ہوئے کہاتھا۔ ملکوں کے بننے اور بگڑنے کے بعدکئی ایسے لڑکے پیداہوتے ہیں، جنہیںاپنے باپ کاپتہ نہیں ہوتا ہے، وہ اپنی ماں سے باپ کے بارے میں سوال نہیں پوچھتے۔ میرے پیداہونے سے نہ ملک بناتھا اورنہ ہی کوئی ملک ٹوٹا تھا، ہاں میرے پیدا ہونے سے ایک آدمی کا بھرم ٹوٹ گیا تھا۔‘‘

حصہ دوم میں ہری موٹوانی کی’’باردو‘‘ مددعلی سندھی کی ’’دل کے کچے دھاگے سا!‘‘ شوکت حسین شوروکی’’غیرت مند‘‘ کھمن مولانی کی ’’انتظار‘‘جگدیش لچھانی کی ’’مصائب زندگی ہیں‘‘بنسی خوب چندکی ’’صلہ‘‘ ایشور چند کی ’’اپنے ہی گھرمیں‘‘ اندراوسانی کی ’’جلوس‘‘ قاضی خادم کی ’’نیاموسم‘‘ ہری ہمتھانی کی ’’اسٹیل کی تھالی‘‘ اور گوند مالہٰی کی ’’یہ بھی کوئی کہانی ہے؟‘‘منتخب اورترجمہ کی گئی ہیں۔

’’سندھی کہانیاں‘‘کے حصہ سوم میں ستیش روہڑاکی ’’اورگنگا بہتی رہی‘‘بنسی خوب چندانی کی ’’بکٹ لسٹ‘‘ شوکت حسین شورو کی ’’ہونٹوں پر اڑتی تتلی‘‘ ویتاشرنگی کی ’’جیل کی ڈائری‘‘ جیٹھولالوانی کی ’’جلاوطنی‘‘ ڈاکٹرکملا گوکلانی کی ’’کہانی اور کردار‘‘ بھگوان اٹلانی کی’’خون‘‘ ارونا جیٹھوانی کی ’’کوکھ‘‘ موی لال جوتوانی کی ’’لالٹین، ٹیوب لائٹ اور فانوس‘‘ واسودیو موہی کی ’’لاٹری‘‘تیرتھ چاندوانی کی ’’نجات‘‘ ٹھاکر چاو لہ کی ’’پینتیس راتیں، چھتیس دن‘‘ اور جگدیش لچھانی کی ’’محبت بھرا ساتھ‘‘ شامل کی گئی ہیں۔ ان چونتیس نمائندہ سندھی کہانیوں سے سندھی نثرکے ارتقا اور نت نئے موضوعات کے چناؤ، بیانیہ کے اندازمیں تبدیلیوں کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ صریر پبلی کیشنز نے سندھی اور پنجابی کہانیاں اردو قارئین کے لیے پیش کرکے ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔ پبلشر محمود ظفر اقبال ہاشمی سے درخواست ہے کہ سرائیکی، ہندکو، پشتو، بلوچی، شینا اور پاکستان کی دیگر زبانوں کو قریب لانے کے لیے ان کی کہانیوں کو بھی جلد اردو میں پیش کیاجائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20