لفظوں کی عدالت —- سعدیہ بشیر

1

شہر میں برپا ہونے والے سانحوں کا کوئی وقت مقرر نہ تھا۔ انہونی خبروں کے لیے بھی وقت و موسم کی تخصیص نہ تھی۔ چٹ پٹی خبروں کی تشہیر کے لیے شہر میں اخبار وافر تھے اور ان گنت میڈیا ہاؤس بھی موجود تھے جن پر ہر وقت میک اپ سے لتھڑے چہرے، منہ ٹیڑھا کر کے، چیخ چیخ کر اپنی بات دہرائے چلے جاتے یا پھر مائیک ہاتھ میں تھامے گلی محلوں اور بازاروں میں راہ چلتے راہ گیروں پر کیمرا ڈالتے اور اپنی تشہیر کے لیے انکا مذاق اڑانے لگتے۔ اس عمل میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کے لیے موضوع کا تنوع بے معنی تھا۔ خبروں کی تصدیق سے زیادہ ان کو پھیلانے کا شوق شہر کے بچے بچے کی عادت بن چکا تھا۔ پوری خبر سے آدھا سچ اچکنے والے ٹک ٹاکر He اور she کی شناخت سے بھی بے نیاز تھے۔ شہر میں درجن بھر اخبار دوا کے نسخے کی طرح صبح، دوپہر، شام باقاعدگی سے نکلا کرتے تھے۔ اور اخبار بیچنے کے لیے لاغر، مدقوق اور چہرے پر محروم زندگی کی پیلاہٹ سجائے مزدور نما آدمی ان اخبارات کا چھوٹا بڑا پلندہ لیے شہر کے ہر چوک پر بھکاریوں کے ساتھ ہی موجود رہتے تھے۔ اخبار میں چھپی خبروں کو سنسنی خیز بنانے کے لیے ان کے ساتھ موجود تصاویر میں اتنے تیز اور چمکیلے رنگ بھرے جاتے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتے تھے۔ نتیجتاََ نہ تو اخبار کی سرخیوں کے نیچے پوری خبر کا سانحہ دکھائی دیتا اور نہ تصدیق کا ذریعہ سجھائی پڑتا تھا۔ اخبار تھامے بجھے چہروں کی چمک کون سا سانحہ لے گیا، یہ سوچنے سے بے نیاز لوگ تصویر میں ننگے کاندھوں پر ہاتھ پھیرنے کی کوشش میں اخبار پھاڑ ڈالتے۔ سنسنی بڑھانے کے لیے کئی بار پورے چہرے کی جگہ محض ایک گلابی سیب جیسے گال کی تصویر ہوتی، جس پر بنی آدھی آنکھ بہت سے پورے جسموں میں آگ بھر دیتی۔ کان کی مدھم لو میں جھولتا جھمکا دیکھنے والوں کو نشے سے ہلکورے لیتا محسوس ہوتا۔ ان کے ہاتھ نیفوں میں اڑسی سرنج پر جاتے اور لگاتار ٹریفک اور موبائل پر مصروف وارڈن سے بے نیاز وہ وہیں بیٹھ کر نہ دکھائی دینے والی، خون سے بے نیاز شریانوں میں زہر انڈیل کر آنکھیں موند لیتے۔ ان کے خوابوں میں کیا کچھ بھرا تھا، خالی آنکھوں میں اس کا عکس تک نہ ابھرتا تھا۔ خبریں تصویروں تلے چھپی رہتیں۔ اخبار تھامے مزدور کے ہاتھ کم زور اور بھیک مانگتے گروہ طاقت ور تھے۔ بھکاری متوسط طبقےسے زیادہ کما لیتے تھے اور طنزیہ نظروں سے متوسط اور مزدور طبقے کو دیکھ دیکھ ہنستے۔ ان میں اپنا حق چھیننے کی جرات بھی زیادہ تھی۔ یہ منظر ہر روز تھوڑا بہت بدلتا لیکن معیشیت کے اژدھے کی پھنکار بڑھتی جا رہی تھی۔ یہ آگ غریب کے شکم میں ایندھن نہیں ڈال سکتی تھی۔ یہ صورت حال تبدیلی کے نام سے واقف نہیں تھی۔

البتہ جس دن یہ خبر چھپی سارے اخبار ہاتھوں ہاتھ نکل گئے۔ یہ ایسی خبر تھی جس نے ہلچل مچا دی۔
لفظوں پر مقدمہ؟
یہ کیا ؟
دماغ چل گیا ہے ان کا
یہاں انسانوں کی نہیں سنی جاتی۔
 اس شہر میں تو مجرم کو قید میں رکھنا امتحان بن جاتا ہے ناک کے نیچے سے نکل جاتے ہیں

 کیا پھر سے کوئی نیا تماشا ہونے کو ہے یا پھر عوام کو ہنکانے کا نیا طریقہ نکالا ہے۔ غرض ہر شخص تجزیہ دان بنا نئے نئے نکتے لارہا تھا لیکن یہ خبر پہلی خبروں کی طرح وقت کی دھول نہیں بن پائی۔ بند کمروں میں انصاف کی تصویر بنانے والے مصور اس بار اپنا ہنر کھلے عام دکھانے والے تھے۔ لفظوں پر مقدمہ شہر کے مرکزی سٹیڈیم میں چلنے والا تھا۔ جہاں گینز ریکارڈ کے لیے سرکاری ملازمین کو پابندی سے اور سرکاری و پرائیویٹ طلبہ کو گاڑیوں پہ لاد کر لایا جاتا تھا۔ وہاں خلقت امڈ آئی۔ لوگوں کو روکنا محال ہو رہا تھا۔ ہر طرف لوگ ہی لوگ۔ لفظوں کے تیر سہنے والے۔ ان کی سحر انگیزی پر بکنے اور بیچنے والے۔ لفظوں کی کمائی کھانے والے اور بنانے والے۔ لفظوں کے جادو سے پتھر ہو جانے والے اور الفاظ کی ساحری سے پتھروں کو شاہکار دکھانے والے۔ الفاظ کی حرمت بیچنے والے۔ الفاظ کے دھاگے پرو کر خواب دکھانے والے۔ سخت لفظوں کی اذیت سہنے والے۔ نرم لفظوں پہ موم ہو جانے والے۔
ہر طرح کے لوگ۔

ہارنے والے سر جھکائے خود کو گھسیٹ رہے تھے اور جیتنے والے شاداں و فرحاں سلطان بنے ہوئے تھے۔ آج سے پہلے وقت، زمانے، قسمت اور آسمان کو دوش دیا جاتا تھا اور آج الفاظ کٹہرے میں تھے۔ کس قدر عجیب بات تھی۔ کچھ لوگ ہنس رہے تھے۔ کافی سے زیادہ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے جو نہ بہتے تھے نہ کسی دریا میں گرتے تھے۔ یہ سب لوگ الفاظ کی طاقت کے منکر نہیں تھے اور اپنی زبان پر قدغن بھی نہیں لگانا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن اپنے کہے الفاظ پر نادم ہونا ان کے بس سے باہر تھا۔ منبر سجا تھا اور خاصی بلندی پر تھا۔ فیصلہ کیا گیا تھا کہ کاروائی سب لوگوں کو نظر آسکے۔ الفاظ قطار بنا کر کٹہرے میں جا کھڑے ہوئے۔ ان کی متانت و وقار قابل دید تھا۔ وہ کسی کے غلام نہیں تھے۔ ان کی صورت پہچان میں نہیں آرہی تھی۔ ملتے جلتے لباس، ایک سا انداز۔۔۔۔ لفظ ہی لفظ۔ ناچتے گاتے اور مہر لگے لفظوں کا اژدحام تھا جو بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ مقدمے کا آغاز ہوا۔ منفی اور مثبت طاقت رکھنے والے الفاظ کو الگ الگ کٹہروں میں منتقل کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ مددگار آگے بڑھے۔ جس جس نے کسی لفظ کو ہاتھ لگایا وہ لفظ اسی ہاتھ میں موم ہو گیا۔ یہ صورت حال تشویش ناک تھی۔ اس مقدمے کے لیے منصفین کا ایک پورا پینل موجود تھا چنانچہ الفاظ سے کہا گیا کہ وہ خود ہی اپنی جگہ پر تشریف رکھیں۔

اب مقدمے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی۔ لفظوں پر الزامات کی ایک طویل فہرست تھی جس کے خلاصہ پر اکتفا کیا گیا۔

الفاظ کو مجرم گردانتے ہوئے ان پر اپنی شباہت چھپانے کا الزام تھا۔ بتایا گیا کہ الفاظ اپنی ہیئت تبدیل کر لیتے ہیں جس سے ان کی اصل صورت اور مفہوم الجھ جاتا ہے۔ یہ سادہ لوح انسانوں پر ظلم ہے۔ الفاظ پر آگ بھڑکانے کا بھی الزام تھا۔ الفاظ کو جادو گر بھی کہا گیا۔ فرد جرم کے سنتے سنتے بھنبھناہٹ شروع ہو چکی تھی۔ الفاظ سرے سے اس الزام کےہی منکر تھے جو ان پر عائد کیا گیا تھا۔ خواب تو خود تعبیر کی تلاش میں ہلکان بہت کچھ گنوا چکے تھے۔

ہم پر کیوں الزام ؟ وہ چلائے

جواب دینے کی بجائے تعبیر نے اپنی جگہ بدل لی۔ محبت خود کو بھی محسوس کرنے سے قاصر تھی۔ ہوس اس کے ساتھ یوں چپکی کھڑی تھی کہ محبت کے لیے سانس لینا دشوار تھا۔ غرض بے غرضی کے لبادے میں گھس گئی۔ بے بسی، لاچارگی اور محرومی کراہ رہی تھی لیکن سب کی توجہ طاقت کے شان دار اور پر ہیبت وجود پر تھی۔ وہ خباثت، زور آزمائی، چالاکی اور استحصال کے ساتھ مل کر غضب ناک ہو رہی تھی۔ نفرت کے تعاون نے طاقت میں زہر بھر دیا تھا۔ مروت، رواداری دبی کھڑی تھیں۔ تحمل، تدبر اور مصلحت نے ایسی صورت حال میں دم سادھ لیا تھا۔ چاپلوسی زور سے ہنسی اور چالبازی اور مکاری کی تہوں سے لپٹی طاقت کے گلے جا لگی۔ ۔ طاقت کا حجم بڑھتا جارہا تھا۔ امید کو نا امیدی نے جکڑ رکھا تھا وہ اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔ لوگ گونگے ہو چکے تھے اور لفظ ان کی آنکھوں کے سامنے برسر پیکار تھے۔ ہار جیت کا مفہوم بدل رہا تھا۔ الفاظ کچھ سننے کو تیار نہ تھے۔ وہ اپنے اپنے مقدمے لیے چلا رہے تھے۔ انھیں انسانوں سے شکوے تھے کہ وہ انھیں سنبھال نہیں سکے۔ ان کی زبان نے الفاظ کی زندگی کے معانی بدل کر رکھ دیے تھے۔ الفاظ کو اپنی بے قدری کا بھی رونا تھا کہ حضرت انسان نے ان کی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ وہ اپنے الزام کو مذید پر اثر بنانے کے لیے ساتھی لفظوں سے مدد لے رہے تھے لیکن طاقت کے سامنے چھوٹے پڑ رہے تھے۔

لوگوں کی زبان کے غلام الفاظ کسی کی نہیں سن رہے تھے لیکن طاقت کے سامنے ان کی ایک نہیں چل رہی تھی۔ طاقت ان کو پہچاننے سے منکر تھی کہ اچانک امید کی گھٹی گھٹی آواز آئی کہ عدل و انصاف کو بلائیں وہ سب کو پہچانتے ہیں۔

لفظ جیسے جی اٹھے
ہاں ہاں عدل اور انصاف ہمیں پہچانتے ہیں۔ وہ ضرور ہمارے حق میں گواہی دیں گے۔ ہاں ہاں۔۔
بلاؤ۔ بلاؤ
عدل و انصاف کو بلاؤ۔ ایک شور مچ گیا، کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی۔ اس سے پیشتر کہ جج کوئی فیصلہ لکھتا۔ طاقت نے پرواز کی اور منصفین کے گروہ پر جا پڑی۔ فیصلہ سنانے والا جج اور اس کا ہتھوڑا گویا پتھر کے ہو گئے۔ عدل و انصاف کی پکار پڑ رہی تھی لیکن وہ تو گویا ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ عدل و انصاف تو ڈھونڈے سے نہیں ملے۔ امید کی سانس رکنے لگی۔ خواب ہانپتے ہوئے وہیں گر پڑے بچے کچھے لفظ انسانوں کی زبان پر مچلنے کے لیے تڑپ رہے تھے لیکن اب سب کچھ جادو کی چھڑی سے تبدیل ہو چکا تھا۔ ڈھول پہ پڑنے والی تھاپ بغیر ردھم اور بے سری تھی لیکن اتنی ہی زوردار۔ اس کے ساتھ ہی بے ہنگم رقص شروع ہو گیا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. مدت بعد ایک اچھا افسانہ پڑھا ۔ افسانہ مجھے پکڑ کے اخر تک لے گیا ورنہ پانچ سات سطروں کے بعد ہی پتا چل جاتا ہے کہ آگے کیا ہے اور سفر رک جاتا تھا ۔ بہت خوب سعدیہ بشیر ۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20