مولاناابوالکلام آزاد کی تحریریں: نقد ونظرکی کسوٹی پر (حصہ 4)

0

 کسی بھی معاشرے میں شخصیات کے مطالعہ کیلیے انکا تجزیہ انسانی سطح پر کیا جانا اسلیے ضروری ہوتا ہے کہ شخصیت پرستی کے بجاے انکے اعلی اوصاف حقیقی تناظر میں سامنے لاے جاسکیں۔ دانش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر ایک جامع تحقیق و تنقید کا آغاز یہاں سے ہو رہا ہے۔ یہ اس سلسلے کا چوتھا مضمون ہے۔  زیر نظر مضمون شایع کرنے کا مقصد محض ایک علمی بحث کا آغاز ہے، اگر کوئی صاحب اسکے جواب میں کچھ لکھنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم موجود ہے۔

 

مولانا آ زاد کی زندگی کے چند متضاد واقعات

سابقہ مضامین میں ہم نے مولانا کی اپنی تحریروں اور بیانات سے ان کے ان متضاد بیانات و واقعات کا تجزیہ پیش کیا تھا جس کا تعلق مولانا کے اسلاف سے تھا۔اب یہاں ہم مولانا آ زاد کی ذاتی زندگی کے چند واقعات پیش کرتے ہیں جو مولانا آزاد اپنی ایک کتاب میں کسی خاص اندازسے بیاں کرگئے۔ مگر بعد میں وہی واقعہ کسی دوسری کتاب میں اس کے بالکل متضاد لکھ دیا۔ یا تو مولانا جان بوجھ کر تضاد پیدا کرتے ہیں یا پھر دوسری بار وہی واقعہ بیان کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ پہلے کیا کہہ چکے ہیں۔

1مولانا آزاد نے اپنی کتاب “تذکرہ” میں اپنے ایک جدی بزرگ مولانا شیخ جمال الدین کے احوال لکھتے ہوئے ان کی عظمت ثابت کرنا تھی اور اکبری دربار کے علماء کو علمائے سو ظاہر کرنا تھا تو اس کے لیے انہیں ملا عبد القادر بد ایوانی کی کتاب “منتخب التواریخ” کے حوالے درج کرنے تھے۔ مولانا آزاد جانتے تھے کہ اس معاملے میں ملا بد ایوانی کو بیانِ واقعہ میں کلی طور پر حق بجانب نہیں سمجھا جا تا۔اس لیے مولانا آزاد ملا بد ایوانی کو اس طرح حق بجانب ثابت کرتے ہیں۔ “بعض خوش اعتقاد بزرگوں کا خیال ہے کہ ملا عبد النبی اور مخدوم الملک کی نسبت ملا عبد القادر بد ایوانی نے “منتخب التواریخ” میں جو کچھ لکھا ہے اس کو ملا صاحب کی نکتہ چین طبعیت کی بے اعتدالیوں اورمعاصرت کے تعصب پر محمول کرنا چاہئے۔ لیکن ان بزرگوں کو معلوم نہیں یہ باتیں اس دور کے اور واقائع نگاروں نے بھی لکھی ہیں۔

شاہ عبد الحق محدث دہلوی نے “اخبارالاخیار” میں جو کچھ لکھا ہے اس سے زیادہ بد ایوانی نے کون سی بات لکھی ہے۔البتہ شاہ صاحب تہذیبِ نگارش وطریقِ احتیاط و عفو پر نظر رکھ کر پردے میں لکھتے ہیں اور بد ایوانی اپنے جوشِ حق گوئی و اضطرابِ راست بیانی میں کسی بات کی پرواہ نہیں کرتے۔” مگر اسی ملا عبد القادر بد ایوانی کے متعلق مولانا آزاد نے “غبارِ خاطر” کے خط نمبر 17میں،جہاں انہوں نے انانیت کے مسئلے کو موضوع بنایا ہے،جو یہ لکھا ہے کہ۔’’بدایوانی کا معاملہ اوروں سے الگ ہے۔ طبقہ عوام کا ایک فرد جس نے وقت کی درسیاتی تعلیم حاصل کر کے علماء کے حلقے میں اپنی جگہ بنائی اور دربارِ شاہی تک رسائی حاصل کر لی۔ اس کی زندگی کی تمام سرگرمیوں میں اگر خصوصیت کے ساتھ کوئی چیز ابھرتی ہے تو وہ اس کی بے لچک تنگ نظری،بے روک تعصب اور بے میل راسخ الاعتقادی ہے۔ ہمیں اس کی انانیت نہ صرف بہت چھوٹی دکھائی دیتی ہے بلکہ قدم قدم پر انکار و تبریٰ کی دعوت دیتی ہے۔”‘‘

کہاں یہی ملا عبد القادری بدایوانی تعصب سے پاک اور جوشِ حق گوئی و اضطرابِ راست بیانی میں کسی کی پرواہ نہ کرنے والا بتایا گیا تھا اور کہاں یہ حال کہ اسی بد ایوانی کو معمولی قوم کا فرد،متعصب،بے لچک،تنگ نظر،چھوٹی انانیت کا نمونہ اور قابلِ انکار و تبریٰ ٹھہرایا جا رہا ہے۔ شاید ’’تذکرہ‘‘میں اپنے خاندان کے ایک افسانوی بزرگ کی عظمت دکھلانے کے لیے ملا عبد القادر بدایوانی کی ہمنوائی کی ضرورت تھی لہٰذا اسے قابلِ تعریف ٹھہرایا گیا۔ مگر “غبارِ خاطر” میں اس کی انانیت پرحرف بھیجنےتھے تو اسے قابلِ ملامت بنا دیا۔ یا پھر مولانا آزاد “غبارِ خاطر”  لکھتے وقت یہ بھول گئے تھے کہ وہ اس سے پہلے اسی ملابدایونی کی کس انداز سے تعریف کر چکے ہیں۔

22۔ مولانا آزاد کے خطوط بنام غلام رسول مہر”نقشِ آزاد” کے نام سے شائع ہوئے تھے۔ان میں ایک ہی واقعے سے متعلق دو مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ جو بنیادی تفاصیل میں ایک دوسرے سے بے حد مختلف ہیں۔ مرزاغالب سے اپنی عہدِ طفلی کی غیر معمولی قابلیت کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی شاعری کاایک واقعہ دو مختلف صورتوں میں بیان کیا ہے۔ کمال یہ ہے کہ مولانا کا حافظہ غیر معمولی طور پر قوی تھا۔ اس کے باوجود انہیں یاد نہیں رہا کہ پہلے وہ کیا واقعہ بیان کر چکے ہیں۔ ظاہر ہے ان دو قصوں میں سے ایک ہی صحیح ہو سکتا ہے۔ دسمبر1935ء کے خط میں لکھتے ہیں۔ “اس زمانے میں مرزا غالب کے ایک شاگرد نادر خان شاہ شوخی کلکتہ میں مقیم تھے۔ انہیں کسی طرح یقین نہیں آتا تھا کہ جو غزلیں میں سناتا ہوں میری ہی کہی ہوتی ہیں۔ ایک دن مسجد سے نکل رہا تھا کہ ان سے مڈبھیڑ ہو گئی ۔ مجھے پکڑ کر ایک کتب فروش کی دکان پر لے گئے ۔ کہنے لگے ایک شاگرد نے جان عذاب میں ڈال دی ہے۔ میں بیمار ہوں وہ غزل کے لیے متقاضی ہے۔ چند شعر اسی وقت کہہ دوں۔ میں سمجھ گیا امتحاں لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے زمیں بتلائی “یاد نہ ہو شاد نہ ہو” میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے سات شعر کہہ دیئے۔ کہنے لگے اشعار کے تعداد طاق ہونی چاہئے۔ میں نے ایک اور شعرکہہ دیا۔ کہنے لگے صورت سے تو دس بارہ برس کے صاحبزادے معلوم ہوتے ہو لیکن خدا کی قسم عقل باور نہیں کرتی۔”‘‘

جبکہ مولانا غلام رسول مہر کی کتاب “غالب” کے سلسلے میں فرماتے ہیں۔

’’”ایک دن دکان میں بیٹھا تھا کہ نادرشاہ آگئے اور مجھ سے کہنے لگے۔صاحبزادے میاں آپ کی شاعری کی تو بڑی دھوم ہے لیکن لوگ کہتے ہیں حضرت مولانا کا کلام ہو گا(یعنی والد مرحوم کا)۔ میں نے کہا شاید آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت شاعری نہیں کرتے اور اگر انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ مجھے یہ خبط ہوا ہے تو سخت ناراض ہوں۔ کہنے لگے میاں برا نہ ماننا میں ایک طرح دیتا ہوں دو شعر کہہ کر سنا دوعمر بھر دعائیں دیتا رہوں گا۔ میں نے غالب جیسے استاد کی آنکھیں دیکھی ہیں۔ بڑی دعائیں لو گے،خوش رہو گے۔ میں نے کہا فرمائیے۔انہوں نے ایک شعر”یاد نہ ہو شاد نہ ہو” سنایا۔ میں نے اسی وقت پانچ چھ شعروں کی پوری غزل لکھ کر دے دی۔

’’”کہہ نہیں سکتاانہوں نے غزل سن کر کیا تماشا دکھایا،سندر پارٹی کا بازار،شام کا وقت،کاندھے سے کاندھا چھل رہا تھا۔ راہگزاروں نے جو یہ عالم دیکھا تو ٹھٹ کا ٹھٹ لگ گیا۔ پہلے بیٹھے بیٹھے تحسین کی،پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور پکار پکار کرداد دینے لگے اور اس طرح جھوم جھوم کرکہ لوگوں نے سمجھا کہ کوئی دیوانہ رقص کر رہا ہے۔”‘‘

دو قصوں میں سوائے ’’یاد نہ ہو شاد نہ ہو‘‘کے کوئی بات بھی مشترک نہیں۔

 ۔3 سن 1945ءمیں مولانا آزاد قلعہ احمد نگر جیل میں تھے جب ان کی اہلیہ بیمار ہوئیں اور ان کا انتقال ہوا۔ مولانا نے اپنی اہلیہ کی بیماری اوران کے انتقال کا احوال دو جگہوں پر لکھا ہے اور دونوں جگہوں پر مختلف اور متضاد انداز سے۔ مولانا آزاد نے اپریل1945 کے”غبارِ خاطر” کے خط نمبر 21میں لکھا۔

’’”جس دن تار ملا،اس کے دوسرے دن سپرنٹنڈنٹ میرے پاس آیا اور یہ کہا کہ اگر میں اس بارے میں حکومت سے کچھ کہنا چاہتا ہوں تو وہ اسے فوراً بمبئی بھیج دے گا۔اور یہاں کی پابندیوں اورمقررہ قاعدوں سے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں پڑے گی۔ وہ صورت حال سے بہت متاثر تھا۔ اور اپنی ہمدردی کا یقین دلانا چاہتا تھا۔ لیکن میں نے اُس سے صاف صاف کہہ دیا کہ میں حکومت سے کوئی درخواست کرنی نہیں چاہتا۔ پھر وہ جواہر لال کے پاس گیا اور ان سے اس بارے گفتگو کی ۔ وہ سہ پہرمیرے پاس آئے اور بہت دیر تک اس بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ میں نے ان سے بھی وہی بات کہہ دی جو سپرنٹنڈنٹ سے کہہ چکا تھا۔ بعد کو معلوم ہوا کہ سپرنٹنڈنٹ نے یہ بات حکومتِ بمبئی کے ایماءپر کی تھی۔”‘‘

اس خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ان کے لیے ہر قسم کی آسانیاں بہم پہنچانے کے لیے آمادہ تھی لیکن مولانا کی بلند ہمتی اور خودداری نے گوارا نہ کیا کہ وہ حکومت کے آگے ہاتھ پھیلائیں۔ مگر اس واقعے کا ذکر “آزادی ہند” میں مختلف طریقے پر کرتے ہیں۔ وہاں وہ بیان کرتے ہیں۔

’’”شروع1945ء میں مجھے گھر سے خبر ملی کہ وہ (اہلیہ) پھر سخت بیمار ہیں۔ اس کے بعد اور خطرناک خبریں آنے لگیں۔ ڈاکٹر سخت پریشان تھے اور انہوں نے خود ہی گورنمنٹ کو لکھ دیا کہ مجھے ایک مرتبہ بیوی سے مل لینے دیا جائے کیونکہ اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ گورنمنٹ نے اس خط پر کوئی توجہ نہ دی ۔ میں نے وائسرائے کو خط لکھا لیکن ہماری خط و کتابت نامکمل رہی۔ ایک دن چیتا خاں(سپرنٹنڈنٹ )دوپہر کے وقت خلافِ معمول آیا اور ایک تار مجھے دیا جس میں میری بیوی کے مرنے کی اطلاع تھی۔ میں نے وائسرائے کو یہ لکھا کہ گورنمنٹ آف انڈیا آسانی سے مجھے کلکتہ عارضی طور پر منتقل کر سکتی تھی تا کہ میں اس کے مرنے سے قبل ایک مرتبہ اس کو دیکھ سکتا۔اس خط کا کوئی جواب نہ ملا۔”‘‘

واضح رہے”غبارِ خاطر” والا خط ان کی بیگم کے انتقال کے دو روز بعد لکھا گیا ہے جس میں صرف اپنی خود داری ،علو ہمتی اور بے اعتنائی کا اظہار کرنے کے لیے مختلف قصہ بیان کر دیا۔ جبکہ بارہ سال بعد اصل حقیقت “آزادی ہند” میں تفصیل سے بیان کی تو اس خود داری اور بلند ہمتی کا کہیں ذکر نہیں۔ شاید اصل حقیقت لکھتے وقت مولانا کو یہ خیال نہ رہا کہ غبارِ خاطر میں وہ کیا لکھ چکے ہیں۔

مولانا کی ذاتی زندگی کے ان واقعات اور اپنے اسلاف کے احوال سے یہی بات بخوبی عیاں ہوتی ہے کہ مولانا کو اپنے اور اپنے اسلاف کی عظمت،بلند ہمتی اور خود داری کے افسانوی قصے تراشنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی ۔ اور پھر بے دھیانی میں اصل حقیقت بھی عیاں کر بیٹھے ہیں۔معلوم نہیں یہ سب مولانا کی شخصیت اور نفسیات کا کونسا رخ ہے جو انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتا تھا۔

۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: