ادب کا ساحر، شاہ اور صاحب قراں رخصت ہو گیا ——-صفدر رشید

0

گنگا اور جمنا کے سنگم پر آباد الہ آباد، ہمارے شمس الرحمن فاروقی کا مسکن تھا اور مسکن ہے۔ کئی پہلوؤں سے وہ گنگا جمنی تہذیب کے  نمایندہ ہیں کہ بہت سے دریا ان کی شخصیت میں رچ بس گئے ہیں۔ ۶۰ برس سے رواں دواں یہ دریا ۲۵ دسمبر کو آب گم ہو گیا۔

مصنف (درمیان میں) فاروقی صاحب کے ساتھ

پچاس برس قبل کی گئی محمد حسن عسکری کی یہ  بات مجھے  بہت دیر سے سمجھ آئی کہ فاروقی کا نام حالی کے بعد لیا جارہا ہے۔ عسکری کی اس بات کی معنویت نے ابھی اگلے پچاس برسوں میں کھلنا ہے۔ ہر شعبے میں اہم افراد بہت ہوتے ہیں، مگر نظریہ ساز اور عہد ساز خال خال۔ حالی کے بعد تنقید میں نظریہ سازی کا عمل کمزور پڑ گیا۔ کچھ عرصہ حالی ہی کی تائید یا مخالفت میں آوازیں بلند ہوتی رہیں۔ پھر احتشام حسین، آل احمد سرور، کلیم الدین احمد اور محمد حسن عسکری تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوتے ہیں اور تنقید نے ایک ڈسپلن کے طور پر سامنے آنا شروع کیا۔ ان چاروں میں کافی کچھ مشترک ہے۔ سب اپنی روایت سے جڑے ہوئے تھے اوران کے سامنے مغربی ادب کا دریچہ بھی کھلا تھا۔ سب  نے متنوع موضوعات پر لکھا، لیکن زیادہ تر تحریروں کا اسلوب موضوعی اور تاثراتی ہے۔ ایلیٹ نے کہیں اس طرح کی بات کی ہے کہ  کسی عظیم شاعر کی پیدایش حادثاتی طور پر نہیں ہوجاتی، زبان اور تہذیب کسی خاص مقام پر پہنچ جائیں تو ایسا ممکن ہوتا ہے۔ فاروقی اور ترقی پسند تحریک کی پیدایش کم و بیش ایک ساتھ ہوئی۔ فاروقی نے بچپن میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک دیکھی۔ نانہال مسلم لیگی تو ددھیال کا رخ کانگریس کی طرف۔ ننھیال مسلکاً بریلوی تو ددھیال دیوبندی۔ انگریزی ادب میں ایم اے، مگر گھر میں عربی اور فارسی پڑھی۔ یوں ان کی شخصیت مختلف اطراف سے مسلسل اثرات قبول کرتی رہی، مگر وہ کسی ایک نظریے یا شخصیت کے حالے کی گرفت میں زیادہ دیر نہیں رہے۔  شاید اسی لیےفاروقی کے ہاں ہمیں  رواداری کا رویہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

ادب میں انھوں نے ہر شے کو اپنی کسوٹی  پر قبول کیا۔یہ کسوٹی انانیت پر نہیں بلکہ اس اصول پر استوار تھی کہ ادب کسی مخصوص نظریے کی لونڈی بن کر نہ رہ جائے۔ مختصر الفاظ میں، فاروقی کی عمر بھر کی “جدوجہد” یہ ہے کہ ادب سب سے پہلے ادب ہو اور یہ کہ ادب کو پرکھنے کے معیار ادبی ہوں۔

جدیدیت پر بات کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، یہاں صرف ایک بات کی وضاحت ضرور کرنا چاہوں گا کہ جدیدیت پسند ہونے کے باوجود فاروقی نے کلاسیکی ادب کو اپنا مسئلہ کیوں بنایا؟ بلکہ یہ بات ایک اعتراض کی صورت میں بھی کی جاتی ہے۔ مغربی ادبی جدیدیت اور ہماری ادبی جدیدیت کے خمیر میں یہ بات شامل ہے کہ اپنی جڑوں کو تلاش کیا جائے۔ کوئی تہذیب اور ادب اپنی جڑوں کو کاٹ کر نہیں پنپ سکتے۔ اسی لیے فاروقی ۱۸۵۷ کو تہذیبی انقطاع بھی تصور کرتے ہیں۔

فاروقی کی فتوحات پر بہت کچھ لکھا جا چکا، تاہم کلاسیکی شعریات کی بازیافت کے ضمن میں “شعر شور انگیز” کے دیباچے اور “ساحری، شاہی، صاحب قرانی” کی جلد اول کو دنیا کے سامنے فخر سے پیش کیا جا سکتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply