پروفیسر ڈوگن : امریکہ کی نظر میں دنیا کا خطرناک ترین فلسفی — وحید مراد

0

چند روز قبل دانش ٹی وی انگلش نے روس کے سیاسی تجزیہ کار اور فوجی حکمت عملی کے ماہر پروفیسر الیگزنڈر ڈوگن Professor Aleksandar Dugin کو ‘لبرل ازم’  کے موضوع پر گفتگو کیلئے مدعو کیا۔ پروفیسر ڈوگن سیاسی تجزیہ کار اور معاشیات، تاریخ اور فلسفے کے ماہر بھی ہیں، لبرل ازم انکی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔ پروفیسر ڈوگن روس میں اہم سیاسی و فوجی شخصیات کے مشیر ہیں اس لئے روس میں انہیں ‘صدر پیوٹن کا دماغ’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکی مقتدر حلقوں اورتھنک ٹینکس کا خیال ہے کہ امریکہ کے پچھلے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی حکمت عملی پروفیسر ڈوگن نے تیار کی تھی اس لئے امریکہ میں انہیں دنیا کا خطرناک ترین فلسفی و پولیٹیکل سائنٹسٹ سمجھا جاتا ہے۔ وہ تیس سے زائد کتب کے مصنف ہیں جن میں ‘جیو پالیٹکس کی فائونڈیشن’ اور ‘چوتھی سیاسی تھیوری’ زیادہ مشہور ہیں۔
دلچسپی رکھنے والے قارئین یہ مکمل گفتگو نیچے آخر میں دیئے گئے وڈیو کے لنک پہ سن سکتے ہیں۔


پروفیسر ڈوگن کا کہنا ہے کہ ماضی قریب میں دنیا پر اثر انداز ہونے والے تین اہم سیاسی نظریات میں لبرل سرمایہ داری و لبرل ازم، کمیونزم اور فاشزم شامل ہیں۔ فاشزم کی ناکامی، سویت یونین کی تحلیل اور کمیونزم کے خاتمے کے بعد، لبرل ازم فاتح نظریہ کے طور پر ابھرا ہے۔ اور اس وقت امریکہ دنیا میں انفرادی آزدی، عقلیت پسندانہ رجحانات، فری مارکیٹ اکانوی کا حامی اور لبرل ازم کا قائد اور سپہ سالار ہے۔ لیکن اب لبرل ازم بھی بحران کا شکار ہے اور یہ ‘nihilistic post-modern stage’ پر پہنچتے ہوئے اپنے آخری انجام کے بہت قریب ہے کیونکہ یہ اپنے آپ کو ‘عقلی اور منطقی سوچ کے جبر’ سے آزاد کرانے کی کوشش میں ‘فاشسٹ’ ہو چکا ہے۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ لبرل ازم اجتماعی شناخت کی ہر شکل سے آزادی حاصل کرنے پر زور دیتا ہے اور یہ انسان کو قومی، مذہبی اور دیگر تمام شناختوں سے آزاد کراتے ہوئے اجتماعی شناخت کی آخری قسم ‘جنس’ تک پہنچ گیا ہے۔ اب لبرل ازم اپنے جسم کے اعضاء کو دماغ کے قابو سے آزاد کرانے کی کوشش میں ایل جی بی ٹی LGBT اور ہم جنس پرستی کو قبول کرچکا ہے اور اس من مانی  خود اختیاری کا تسلسل لبرل ازم کی موت پر منتج ہوگا۔

پروفیسر ڈوگن نے اپنی کتاب ‘چوتھی سیاسی تھیوری’ میں لبرل ازم و سیکولرازم کے تقابل میں ایک سیاسی فکر پیش کی ہے جو انکے خیال میں ایک مکمل نظریہ اور متبادل سیاسی ماڈل ہے۔ یہ سیاسی فکر انفرادیت اور نسل و قوم پرستی پر مبنی نہیں ہے۔ اسکا جزوی ماخذ جرمن فلسفی مارٹن ہاڈیگر کے وہ فلسفیانہ خیالات ہیں جو انسانوں کی خود آگہی اور شناخت کو ہولناک ٹیکنالوجی سے تباہ و برباد ہونے سے بچانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پروفیسر ڈوگن کے خیال میں انسان کی خودآگہی کی بنیاد ہر ثقافت میں قدرے مختلف انداز سے پائی جاتی ہے لہذا اسکے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ دنیا کو واحد امریکی سپر پاورکے منہ میں نہ دھکیلا جائے بلکہ ایک کثیر الجہتی پاور ڈویژن کی طرف توجہ دی جائے۔ دنیا کے تمام انسانوں کو کھوئی ہوئی شناخت کا احساس دلانے کیلئے نئے طریقے تلاش کئےجائیں۔

پروفیسر ڈوگن کے کثیر الجہتی پاور ڈویژن کے نظریہ اور سازشی تھیوریز کے کثیر الجہتی نظریے میں کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی۔ پروفیسر ڈوگن سازشی تھیوریز کے کثیرالجہتی نظریہ کے سخت مخالف ہیں جو ‘عالمی حکومت’ کی تحریک کی شکل میں نظر آتا ہے اور جس کی سربراہی ‘گلوبل اشرافیہ’ کر رہی ہے۔ اس نظریے کا مقصد دنیا کے انسانوں کی شناخت بچانا نہیں بلکہ اسے تباہ و برباد کرنا ہے۔ یہ نظریہ لوگوں کو کارپوریٹ سیکٹر کا محکوم بنا کر انسانی شناخت سے محروم کردیتا ہے۔

دنیا میں متعدد علاقائی سپر پاورز کی موجودگی میں روس کیا کردار ادا کرے گا؟ اس حوالے سے یوریشین یونین میں روس کو نمایاں حیثیت دلانے اور اسے یقینی بنانے کیلئے پروفیسر ڈوگن نے بین الاقوامی یوریشیا موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ یوریشیا بنیادی طور پر سابقہ سویت یونین کا ایک علاقہ ہے جسکے نام کو پروفیسر ڈوگن ایشیاء اور یورپ کی مرکزیت کی علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ پروفیسر ڈوگن کا خیال ہے کہ روس چونکہ ایک منفرد ثقافت کا حامل ملک ہے لہذا اسے ایک ایسا مرکز بننا چاہیے جس میں ایشیاء اور یورپ کی تمام ثقافتوں کے عناصر شامل ہوں اور یہ ان دونوں براعظموں کی وسعت کی نمائندگی کرے۔ پروفیسر ڈوگن کے خیال میں مغرب میں روس کی سیاسی تاریخ کو مسخ شدہ انداز میں پیش کرتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ سویت یونین نے بالشویک انقلاب کے دور میں بہت سے پڑوسی خود مختار صوبوں پر قبضہ کیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ روس کے اندر سیاسی، تاریخی اور ثقافتی نمائندگی کی حیثیت سے الگ و خودمختار صوبے کبھی بھی نہیں تھے۔ سویت یونین کے خاتمے کے بعد ان میں مصنوعی، خودمختار سرحدیں قائم کی گئیں جو اس سے قبل موجود نہیں تھیں۔

پروفیسر ڈوگن کے خیال میں یوریشین یونین کے قیام کا ہدف تاریخی غلطی کو درست کرتے ہوئے روس کی سیاسی و ثقافتی مرکزیت کو بحال کرنا ہے۔ انکے خیال میں یوریشیا کا موجودہ حریف صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ بحر اوقیانوس کو عبور کرنے والی یورپی، امریکی اور کنیڈین بحری طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان تعاون کا محور ‘اٹلانٹزم’ ہے جو آزاد قومی انفرادیت اورمارکیٹ فورسز کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انکے مقابلے میں یوریشیا ان براعظموں کی روایتی ثقافتوں کا امین ہے جن کی بنیاد مذاہب، روایت پسندی اور پرامن بقائے باہمی پر ہے۔ ڈوگن کے خیال میں انسانی تاریخ میں اصل لڑائی سمندری طاقتوں اور زمینی طاقتوں کے درمیان رہی ہے۔

پروفیسر ڈوگن کہتے ہیں کہ

“ہمیں اپنی وجودی شناخت، بنیادی مقدس اصولوں، مابعد الطبیعات، ثقافت، روایات، مذہب، روایتی معاشرتی و سیاسی اداروں کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے جن کے ماخذات میں روح کو مادے پر اولیت دی جاتی ہے۔ اسکے مقابلے میں جدیدیت کا تمام مواد سطحیت، تنزلی اور شیطانیت پر مشتمل ہے۔ جدیدیت نےانسان کی تمام تخلیقات سائنس، اقدار، فلسفہ، آرٹ، معاشرت اور سچائیوں کو آلودہ اور بانجھ کر دیا ہے۔ ہمیں ان سب چیزوں کو جدیدیت کے چنگل سے آزادی دلاتے ہوئے آلودگی سے پاک کرنا اور پہلے پوزیشن پر بحال کرنا ہے۔

پروفیسر ڈوگن نے لبرل ازم کی تاریخ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لبرل ازم نامینل ازم Nominalism کی جدید شکل ہے۔ مابعد الطبیعات میں Nominalism ایک فلسفیانہ نظریہ ہے جس کے مطابق ‘کلیات’ منفرد اشیاء کے محض اسماء ہیں۔ یہ علامتیں اور اسماء تمام اشیاء اور انواع کی صرف انسانی ذہن میں نمائندگی کرتے ہیں۔ نامینلسٹس کے خیال میں حقیقت کا کلیات سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ حقیقت منفرد اشیاء پر مشتمل ہوتی ہے۔ مثلاً انکے خیال میں جس چیز کو ہم ‘انسانیت’ کہتے ہیں وہ انسانی تعقل کی نظری تشکیل کے سوا کچھ نہیں مگر اسکے برعکس ہر منفرد شخص ایک حقیقی ذات کی حیثیت سے معروضی وجود رکھتا ہے۔ اس نظریہ کی رو سے شے پہلے وجود رکھتی ہے کلیات اسکے بعد وجود میں آتے ہیں، حقیقت عالم محسوسہ میں موجود ہوتی ہے نہ کہ عالم امثال میں۔ منفرد اشیاء ہی وہ حقائق ہیں جنکا آلات حس کے ذریعے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جبکہ اسکے برعکس حقیقت کے افلاطونی نظریہ کے مطابق کلیات پہلے وجود رکھتے ہیں اور منفرد اشیاء ان کلیات کی امثال ہوتی ہیں۔

نامینلزم کے فلسفہ سے بوژوا کا تصور سامنے آیا جو کسی ٹھوس قابلیت کے بغیر معاشرے یا ریاستی گروہ کا ممبر بن جاتا ہے، اسکے بعد قومی ریاستیں وجود میں آئیں اور پھر قومی ریاستوں سے فرد کو آزاد کرانے کا نظریہ سامنے آیا۔ لبرل ازم ان سب سے آگے بڑھ کر فرد کی آزدی کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ مذہبی اور قومی شناخت کے خاتمے کے بعد جنسی شناخت کی اجتماعیت کو بھی ختم کرنے کا خواہاں ہے اور اسکی رو سے ایک عورت اور مرد کا انفرادی فیصلہ اسکے مرد اور عورت ہونے پر حاوی ہے۔ لبرل ازم کا جوآخری مرحلہ سامنے آ رہا ہے وہ انسان کو انسانیت سے آزاد کروانے کا ہے اور یہ اسکے تمام مراحل اور اسکی تمام تر ترقی کا منطقی انجام ہوگا۔ یہ انسانیت کی تباہی ہے کیونکہ پوسٹ ہیومن نہ کوئی ذاتی اور وجودی شناخت رکھتا ہے اور نہ اس میں انسانیت پائی جاتی ہے۔ اس میں صرف اور صرف افراد ہیں اور یہ ایک ایسی زنجیر ہے جو نومینلزم سے شروع ہوئی اور ہومن ازم، ماڈرن ازم، پوسٹ ماڈرن ازم، پوسٹ ہیومن ازم، پوسٹ مین کائینڈ (Post mankind)، سرمایہ داریت، فری مارکیٹ اکانومی سے ہوتی ہوئی، آرٹی فیشل انٹیلی جنس اور singularity moment پر اختتام پذیر ہو رہی ہے۔

لبرل ازم ایک طرح سے جدیدیت کا دل اور مغربی تہذیب اور نوآبادیات کا بنیادی محور ہے۔ مشرقی اسلامی روایت میں اسے دجال کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اسکا مقصد تمام اقدار کو پامال کرنا اور انسانیت کی تباہی ہے۔ اب لبرل ازم کی صنفی سیاست، انسانیت اور خدا کے صدیوں سے قائم رشتے کو کھونے کے قریب ہے۔ انسان، خدا کی مخلوق ہے اور خدائی تخلیق کا یہ عمل انسانیت کی بنیاد اور اساس ہے۔ انسانیت سے فرد کے رشتے کو ختم کرنا گویا خدا سے فرد کے تعلق کو ختم کرنا ہے۔ ہم اپنے آپ کو خدا سے آزاد کرکے انسان نہیں رہ سکتے۔ لبرل ازم جب خدا سے آزادی کی بات کرتا ہے تو وہ دراصل انسانیت سے بھی آزادی کی بات ہوتی ہے۔ لبرل ازم صرف اسلام اور عیسائیت کا دشمن نہیں یہ ہندو ازم، تائو ازم، چین اور مشرق کی تمام روائیات کا دشمن ہے بلکہ یہ ان تمام لوگوں کا بھی دشمن ہے جن کا انسانیت سے کسی بھی قسم کا تعلق باقی ہے۔

‘لبرل ازم’ ہی انسانیت کیلئے اصل خطرہ ہے۔ یہی وہ عالمگیر قدر ہے جس نے انسانوں کے تمام امتیازات اور ثقافتی تنوع کو ختم کر دیا ہے اور اس کرہ ارض پر رہنے والے تمام انسانوں کو نوآبادیاتی غلاموں کی طرح استعمال کر رہا ہے۔ لبرل ازم سے کسی ایک قوم کی جنگ نہیں بلکہ یہ مسلمانوں سےلیکر چین، روس، عیسائی دنیا، یورپ اورامریکہ تک سب عوام کی مشترکہ جنگ ہے اور لبرل ازم کی ہر شکل کے ختم ہونے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

لبرل ازم کس قسم کی آزادی کی آزادی کی بات کرتا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر ڈوگن نے کہا کہ:

لبرل ازم آزادی کی بات کرتا ہے لیکن آزادی کے معنی کے بارے میں اسکا رویہ مطلق العنانیت کا ہے۔ لبرل ازم صرف اجتماعی شناخت سے آزادی کی بات کرتا ہے لیکن ہمیں اجتماعیت سے آزادی کی ضرورت نہیں بلکہ اجتماعیت کو آزاد کروانے کی ضرورت ہے۔ لبرل ازم کے تحت جب فرد کو اجتماعیت سے آزاد کروایا جاتا ہے تو وہ مسلمان، ، ہندو، عیسائی ہونے بلکہ انسان ہونے سے بھی آزاد ہو جاتا ہے۔

لبرل ازم آزادی کی بات کرتا ہے لیکن آزادی کے معنی کے بارے میں اسکا رویہ مطلق العنانیت کا ہے۔ ہم جس آزادی کی بات کر رہے ہیں وہ انسانیت کے جوہر کی مکمل آزادی ہے۔ اسکی نوعیت انفرادی آزادی کی نہیں بلکہ یہ ہر روایت کی اجتماعیت کی آزادی ہے۔ آزادی کے حصول کیلئے انسان کو اپنے اندر کے داخلی سفر کی ضرورت ہے اور یہ اتنا آسان نہیں جتنا لبرل ازم نے سمجھ رکھا ہے۔ لبرل ازم صرف اجتماعی شناخت سے آزادی کی بات کرتا ہے لیکن ہمیں اجتماعیت سے آزادی کی ضرورت نہیں بلکہ اجتماعیت کو آزاد کروانے کی ضرورت ہے۔ لبرل ازم کے تحت جب فرد کو اجتماعیت سے آزاد کروایا جاتا ہے تو وہ مسلمان، ، ہندو، عیسائی ہونے بلکہ انسان ہونے سے بھی آزاد ہو جاتا ہے۔

ہمارا مشن یہ ہونا چاہیے کہ ہم اسلام، ہندو ازم، عیسائیت اور انسانیت کی ہر روایت کو لبرل ازم کے چنگل سے آزاد کروائیں۔ ہم جس آزادی کی بات کرتے ہیں لبرل ازم نہ اسکے حق میں ہے اور نہ اسکو تسلیم کرتا ہے اس لئے ہر ایسے فلسفی کو وہ دنیا کا انتہائی خطرناک، فاشسٹ اور دہشت گرد قرار دیتا ہے جو انسانیت کو لبرل ازم سے آزاد کروانا چاہتا ہو۔ لبرل ازم کے نزدیک فریڈم آف چوائس سےمراد صرف ان باتوں میں انتخاب کا حق ہے جو اسکی تجویز کردہ ہیں انکے علاوہ کسی چیز کا انتخاب اسکو قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔

پروفیسر ڈوگن نے  لبرل ازم کے خلاف  دنیا بھر کی مذہبی روایتوں کی مشترکہ جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:

میرا مقصد نہ کمیونزم اور فاشزم کا دفاع ہے اور نہ ہی میں غاصبیت اور استبدادیت کے حق میں ہوں بلکہ میں مطلق العنانیت کی ہر شکل کے خلاف ہوں۔ میرے نزدیک مطلق العنانیت کی ہر شکل خواہ وہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی شکل میں ہو یا مغرب کی توسیع اور تسلط کی شکل میں، اسے مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم مغرب کو صرف انسانی روایت کے ایک حصے کے طور پر ہی قبول کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی پسند کی عالمگیریت پر ضد اور اصرار نہیں ہے ہم دوسروں کے انتخاب کا احترام کرتے ہیں اور آزادی کے حقیقی محافظ کی طرح دوسروں کی آزادی کیلئے انکے ساتھ ملکر لڑنے کیلئے بھی تیار ہیں خواہ انکا انتخاب ہم سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ ہم روسی سچائی کو امریکی سچائی پر مسلط کرنے کے حق میں نہیں اور نہ ہی عیسائی سچائی کو اسلامی سچائی پر مسلط کرنے کے حق میں ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ لبرل ازم کے تحت مغرب کی توسیع پسندی دنیا بھر کے انسانوں کے خلاف ہے خواہ انکا تعلق سچائی کی کسی بھی روایت سے ہو۔

ہمارا کہنا یہ ہے کہ ہر قوم کو اس بات کا حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی روایت کے فطری تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے ماضی کے کسی اصول میں کوئی تبدیلی یا ترمیم کرنا چاہے تو کر لے لیکن کسی اور روایت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسری روایت پر مسلط ہوکر انکی سچائیوں کواپنے مقاصد کے حصول کیلئے تبدیل کروائے۔ اسلام کا اصول ہے کہ دین میں جبر و اکراہ نہیں ہو سکتا لیکن لبرل ازم کا یہ اصول نہیں ہے۔ مذہبی روایات نہ صرف دیگر مذہبی روایات کا احترام کرتی ہیں بلکہ ان لوگوں کا بھی احترام کرتی ہیں جن کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ لیکن لبرل ازم ایک ایسا زہر، طاعون اور بیماری ہے جو ہر انسانی روایت کیلئے مہلک ہے کیونکہ اسکے پاس کسی کا کوئی احترام نہیں۔

انتخاب، آزادی اور نجات کا راستہ کثیر الجہت اور کثیر العمل ہو سکتا ہے۔ اس میں نہ قطعیت ہے اور نہ ہی کوئی قوم پرستی، مذہبیت یا نسلیت حائل ہو سکتی ہے۔ یہ انتخاب ہر روایت کی اجتماعیت کو خود کرنا ہے اس میں کسی دوسری اجتماعیت کو مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ لیکن لبرل ازم اور گلوبلائزیشن ہر روایت کی اجتماعیت کو روندتے ہوئے اس پر اپنا انتخاب مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ کام ہے جو اس کائنات کے خالق و مالک یعنی خدا کو بھی پسند نہیں۔ خدا انسانوں پر اس طرح کی زبردستی نہیں کرتا جس طرح لبرل ازم کر رہا ہے۔ انسانیت کی تمام روایات کے ماننے والوں کو چاہیے کہ لبرل ازم کے خلاف مشترکہ طور پر جنگ کریں۔

تمام مشرقی تہذیبوں اور روایتوں کا انتخاب یہ ہے کہ ہمیں اپنی جڑوں اور بنیادوں کی طرف لوٹنا ہے۔ ہم سب خدا کے ماننے والے اور اس بات پر یقین رکھنے والے ہیں کہ ہمیں دوبارہ جی کر اٹھنا ہے اور اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ ہمارے راستے کثیر ہو سکتے ہیں لیکن یہ سب ایک ہی طرف جاتےہیں۔ ہمیں انسانیت کے اس تعلق کو محفوظ بنانا ہے جو سب سے پہلے خدا کے ساتھ ہے۔ ہم خدا سے تعلق کے بغیر کسی اور تعلق کو اولیت نہیں دے سکتے۔ خدا کے ذکر کے بغیر ہم کسی آزادی، مساوات اورانسانی حقوق کا آغا ز نہیں کرنا چاہتے۔ خدا کے بغیرہم نہ کسی قانون کو قانون مان سکتے اور نہ کسی قدر کو قدر کیونکہ اس کائنات کی ہر چیز کے ساتھ ہمارا رشتہ خدا سے تعلق کی بنیاد پر قائم ہے۔

مکمل گفتگو اس وڈیو میں سنی جاسکتی ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20