پاکستانی خواجہ سراوں پر عالمی ایواڈز کی بارش کیوں؟ — وحید مراد

0

یہ کوئی اتفاقی امر نہیں کہ پاکستانی خواجہ سرائوں پر اچانک عالمی ایوارڈز اور نوازشات کی بارش ہونے لگی ہے۔ یہ انٹرنیشنل لیزبیئن Lesbian، گے Gay، بائی سیکچوئل Bisexual، ٹرانس اور انٹرسیکس ایسوسی ایشن (ILGA) کے اس ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت انہیں پاکستان میں ہم جنسی پرستی کے فروغ کیلئے سفیروں کی تلاش ہے۔ برونائی، ایران، موریطانیہ، نائیجیریا، یمن اور سعودی عرب میں ہم جنس پرستی کے جرائم پر موت کی سزا ہے اور پاکستان سمیت افغانستان، قطر، صومالیہ، اور متحدہ عرب امارات میں اس جرم پر مو ت کی سزا دینے کے امکانات موجود ہیں۔ گے اینڈ لزبئین انٹرنیشنل ان سزائوں کو ختم کروانے کیلئے جہاں سیاستدانوں، بیوروکریٹس، این جی اوز اور میڈیا پر کام کررہی ہے وہیں انہیں ہم جنس پرستی پھیلانے والے افرد کی بھی ضروت ہے۔

گے اینڈ لزبئین انٹرنیشنل (ILGA) کی سالانہ رپورٹ 2020 میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک درجنوں ملک ایسے ہیں جہاں ہم جنس پرستی ایک سنگین جرم اور غیر فطری فعل ہے اور اسکے کیلئے سخت سزائیں اور معاشرتی سطح پر رکاوٹیں بھی ہیں۔ اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بھارت جیسے ممالک میں سپریم کورٹ کے ججوں کے ذریعے اس جرم کی سزا کو ختم کر ا لیا گیا اور افریقی ملک گبون کے آئین میں اسے ایک فطری فعل تسلیم کر الیا گیا ہے۔ اسی طرح سوڈان میں اس غیر فطری فعل کیلئے موت کی سزا کو ختم کرنے کے اقدامات بھی خوش آئند بات ہے۔ لیکن دنیا کے انہتر ممالک میں اسے ابھی تک ایک مجرمانہ فعل ہی سمجھا جاتا ہے اور اکاون ممالک میں ہم جنسی کجروی کے فروغ کیلئے تنظیمیں قائم کرنے کی اجازت نہیں، جس پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ‘پیو ریسرچ سینٹر’ کے مطابق پاکستان کا شمار ہم جنسی کجروی کے لیے نامواقف ترین ملکوں میں ہوتا ہے اور 2013 میں کیے گئے سروے کے مطابق ستاسی فیصد پاکستانی اس قبیح فعل کے سخت خلاف ہیں۔

ہر خواجہ سرا ایوارڈ کا حقدار ہے: جنت علی | Independent Urduنایاب علی اور جنت علی جیسے خواجہ سرائوں کو ہم جنسی کجروی کا راستہ ہموار کرنے کے صلے میں ایوارڈز سے نوازنا کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل برطانوی نوآبادیاتی دور میں ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو بھی خطابات سے نوازا جاتا رہا جو فریڈم فائٹرز کی مخبریاں کرتے تھے۔ بعد ازاں یورپ، امریکہ کے لبرل و سیکولر معاشروں کیلئے قابل قبول اسلام کے ایک ‘ماڈرن ورژن ‘کی تخلیق کیلئے بھی بے شمار متجددین کو بھاری معاوضوں اور مراعات کے ساتھ مختلف مغربی ممالک کی شہریت دی گئی ہے چنانچہ خواجہ سرائوں کو ایوارڈز دینا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

15 دسمبر 2020 کو اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے خواجہ سرا نایاب علی کو عالمی ایوارڈ ”دی فرینکو جرمن 2020‘‘ سے نوازا گیا۔ اس سے قبل نایاب علی نے30 نومبر 2020 کو تھائی لینڈ میں ہیرو ایوارڈ اور 11فروی 2020 کو آئیر لینڈ کا ‘دی گالا ایوارڈ’ اپنے نام کیے۔ اسکے علاوہ لاہور سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا جنت علی کو ایپکام کے زیر اہتمام ایشین ہیرو ایوارڈ 2020 کے لیے نامزد کرلیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں کچھ مغربی سفیروں نے نایاب کو فرینکو جرمن ایوارڈ دیتے وقت یہ ظاہر کیا کہ یہ خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے نمایاں خدمات سرانجام دینے پر دیا جا رہا ہے حالانکہ با خبر لوگ جانتے ہیں کہ ان خدمات کی حقیقت کیا ہے۔ گالا ایوارڈ کے لیے نایاب کی نامزدگی ایمنسٹی انٹرنیشنل، فرنٹ لائن ڈیفینڈرز اور نیشنل ایکشن فاونڈیشن نے کی تھی اور اس ایوارڈ کا اعلان آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں ہونے والی ایک تقریب میں کیا گیا تھا۔ رواں برس دنیا بھر سے چار شخصیات کو اس ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا تھا جن کا تعلق برازیل، قازقستان، کرغزستان اور پاکستان سے تھا۔ نایاب علی نے یہ ایوارڈ وصول کرنے کے بعد جب پیغام دیا کہ پاکستان ایل جی بی ٹی کیلئے محفوظ ملک ہے تو ایوارڈ دینے والوں کی خوشی سے بانچھیں کھل اٹھیں کیونکہ انہیں پاکستان میں’ گے و لزبئین ازم’ کے فروغ کیلئے جن لوگوں کی تلاش ہے نایاب ان میں سے ایک ہونہار خادم ہے۔

نایاب کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں ٹرانس جینڈر رائٹس کنسلٹنٹ کے نام سے کمپنی رجسٹرڈ کرانے میں گے انٹرنیشنل نے خصوصی مدد کی۔ نایاب علی کی طرح جنت علی نے ساؤتھ ایشیا کے بڑے ایوارڈ ’ہیرو‘ کے لیے نامزد ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہیرو ایوارڈ میں میرا نام ٹرانسجینڈر ہیرو کے طور پر نامزد ہواہے لیکن پاکستان میں ہم جنس پرستی کو غیر فطری فعل سمجھے جانے کی وجہ سے خواجہ سرائوں کو ایوارڈ نہیں دئے جاتے۔ میرا ماننا تو یہ ہے کہ ہر خواجہ سرا بچپن سے لیکر جوانی تک جو خدمات سرانجام دیتا ہے اسکے مطابق سب کے سب خواجہ سرا ایوارڈ کے حق دار ہیں کیونکہ ہماری جدوجہد میں ہر دن ایک نیا چیلنج ہے۔ ہیرو ایشیا ایوارڈ کے لیے انڈیا، بنگلا دیش، نیپال، اور بھوٹان سمیت تمام ایشیائی ممالک سے 250 ٹرانس جینڈر افراد کو نامزد کیا گیا تھا تاہم یہ ایوارڈ پاکستانی خواجہ سرا نایاب علی کے حصہ میں آیا۔

اس سے قبل22 مئ 2019 کو فرانس کے شہر کانز کے فلمی میلے میں پاکستانی ہم جنس پرستوں کی زندگی پر بننے والی مختصر دورانیے کی فلم ’رانی‘ کی نمائش کی گئی۔ فلم کا مرکزی کردار ’رانی‘ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ماڈل اور اداکارہ کامی سڈ نے نبھایا ہے۔ فلم کے ہدایتکار پاکستانی نژاد امریکی حماد رضوی ہیں اور یہ فلم گرے سکیل پروڈکشن ہاؤس کی پیشکش ہے۔ مختصر دورانیے کی پاکستانی فلم ’رانی‘ کو کئی بین الاقوامی ایوارڈز دیئے جا چکے ہیں جن میں لاس اینجلس ایشین پیسیفک فلم فیسٹیول کا سپیشل جیوری ایوارڈ اور سان لوئی اوبسپو انٹرنیشنل فلم فیسٹول کا بہترین نیریٹو شارٹ ایوارڈ بھی شامل ہیں۔

ہم جنس پرستی کو فروغ دینے میں اس وقت امریکہ اور کئی یورپی ممالک سرگرم عمل ہیں۔ گے اینڈ لزبئین انٹرنیشنل کی طرف سے کئی اسلامی ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کیلئے کام ہو رہا ہے جن میں پاکستان سر فہرست ہے۔ پاکستان انکا خصوصی ٹارگٹ اس لئے بھی ہے کہ اگر یہ عمل یہاں جائز ہو جاتا ہے تو دیگر اسلامی ممالک میں اس کے خلاف مزاحمت دم توڑ جائے گی۔ غیر ملکی سفارت کار اور خاص طور امریکی سفارت کار پاکستان میں ہم جنس پرستی کو پروموٹ کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی سفارتخانے میں گے انٹرنیشنل اور اسکی ذیلی تنظیموں کے تعاون اور اشتراک سے اجتماع ہوتے رہتے ہیں جس میں ہم جنس پرستی کا شوق اور شغف رکھنے والے پاکستانی افراد کو ایڈز کی روک تھام کے نام پر بلایا جاتا ہے اور خصوصی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ امریکی سفارت کار کئی مواقع پر پاکستانی ہم جنس پرستوں کو یقین دلا چکے ہیں کہ وہ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ پاکستان میں ہم جنس پرستوں کے غیر ملکی تنظیموں سے رابطے ہیں اور انکے تعاون سے زیر زمین اجلاس ہوتے ہیں اور ان کو آن لائن رابطے اور ڈیٹنگ کے لئے ایپلیکیشنز مہیا کی گئی ہیں۔

چند ماہ قبل گے اینڈ لزبئین انٹرنیشنل کے مقامی ایجنٹوں نے دو لڑکیوں نیہا علی(لڑکی) اورعاصمہ بی بی (عرف علی آکاش) کی شادی کروادی تھی۔ لڑکی نیہا علی کے والد نے عدالت میں درخواست دی تھی کہ یہ شادی غیر قانونی اور غیر اسلامی ہے لہذا اسکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ 7 اگست 2020 کو لاہور ہارئی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کے دوران وزارت داخلہ کو دولہے عاصمہ بی بی عرف علی آکاش کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا حکم اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو عاصمہ بی بی عرف علی آکاش کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے قبل کی سماعت میں عدالت نےنام نہاد دولہے کو جنس کے تعین کے لیے بنائے گئے میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی لیکن اس نے میڈیکل بورڈ میں پیش ہونے کی بجائے روپوشی اختیار کر لی۔ درخواست گزار کے وکیل راجہ امجد جنجوعہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ پاکستان میں ’ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کے ایجنڈے‘ پر کام کر رہے ہیں اور دو لڑکیوں کی آپس میں شادی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکی نیہا کو لاہور میں ایک غیر سرکاری تنظیم نے شیلٹر ہوم میں رکھا ہوا تھا۔ راجہ امجد جنجوعہ کی اطلاعات کے مطابق ملزمہ عاصمہ بی بی نے جرمنی کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے سفارتخانے میں درخواست دی ہو ئی تھی۔ بعد ازاں اس سلسلے کی کوئی پیش رفت میڈیا پر رپورٹ نہیں ہوئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گے و لزبئین انٹرنیشنل کے مقامی ایجنٹوں نے عاصمہ بی بی (عرف آکاش) کو بیرون ممالک فرار ہونے میں کامیاب کرا دیا۔

پاکستان کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک میں سعودی عرب گے اینڈ لزبئین انٹرنیشنل Gay and Lesbian Association کے خاص نشانے پر ہے۔ 28 مئی 2020 کو ایک غیرسرکاری تنظیم ‘مختلف’ سویڈن میں رجسٹر ہوئی اور یہ سعودی عرب میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے میدان میں اتری ہے۔ سویڈن میں رہائش پذیر چھبیس سالہ خاتون روان اوطیف نے اس تنظیم ‘مختلف‘ کی بنیاد 2017 میں رکھی تھی۔ اوطیف کے مطابق وہ سویڈن سے ہی سعودی ہم جنس پرستوں کے حقوق کی جنگ لڑنا چاہتی ہیں۔ اوطیف کے مطابق اس تنظیم کے چار مقاصد ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ سعودی عرب میں ہم جنس پرستی قانونی طور پر قابل سزا جرم نہ رہے، دوسرا ہم جنس پرستوں کو قانونی تحفظ فراہم کرانا، تیسرا مقصد اسکولوں وغیرہ میں اس جیسے ممنوعہ موضوعات پر بات کرنے کی اجازت دلوانا اور چوتھا مقصد یہ ہے کہ سیکس ورکرز کو صحت اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔

دوسری جانب سعودی عرب میں اس حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں۔ انیس سو اسی کی دہائی میں بنائے جانے والے ایک قانون کے مطابق ہم جنس پرستی سنگین جرم ہے اور ایسا ثابت ہونے پر ملزم کو جیل میں قید کر دیا جاتا ہے۔ عرب خطے میں ہم جنس پرستی کس قدر متنازعہ موضوع ہے، اس کا اندازہ الجزیرہ کے مشہور صحافی احمد منصور کی ایک ٹویٹ سے ہوتا ہے۔ احمد منصور کا کہنا تھا کہ “خادم الحرمين الشريفين کا بس یہ کام رہ گیا ہے؟ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ یہ سعودی عوام کو کس راستے پر لے کر جانا چاہتے ہیں؟ کہاں ہیں وہ علماء، جنہوں نے اپنی زبانوں پر تالے ڈال دیے ہیں اور جن کے دل نابینا ہو چکے ہیں۔‘‘ تجزیہ کاروں کے مطابق ہم جنس پرستی صرف سعودی عرب ہی نہیں دیگر خلیجی ریاستوں میں بھی ایک جرم ہے۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان اصلاحات کا اعلان تو کر چکے ہیں لیکن وہاں ہم جنس پرستوں کو حقوق ملنا ابھی بہت دور کی کوڑی ہے۔

گے اینڈ لزبئین انٹرنیشنل ایک زمانے سے مسلم ممالک میں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے کوشاں ہے لیکن اسکے راستے میں ایک مشکل یہ آرہی تھی کہ جن افراد کو اس کام کیلئے منتخب کیا جاتا تھا انکے کردار کی وجہ سے انکو مقامی معاشرے میں اور خاص طور پر مذہبی حلقوں میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اب یہ عالمی تنظیم مقامی ایجنٹوں کی مدد سے بڑے بڑے سیاستدانوں، دانشوروں اور نام نہاد مفتیوں کی خدمات بھی حاصل کر رہی ہے جن کی مقامی معاشروں اچھی فالونگ ہے۔ مارچ 2018 میں جب پاکستان میں ٹرانس جینڈر رائٹس پروٹیکشن ایکٹ پاس کیا گیا تو اسکو منظور کروانے کیلئے، گے اینڈ لیزبئین انٹرنیشنل Gay and Lesbian Association کے مقامی ایجنٹوں نے روبینہ خالد، کلثوم پروین اور کریم احمد خواجہ جیسے سینٹرز کی خدمات حاصل کیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مذہبی علماء کی ایک تنظیم سے ٹرانس جینڈر کی شادی کے بارے میں فتوہ بھی لیا گیا۔ مفتیان کے روپ میں مغرب کے ایجنڈے پر کام کرنے والے کچھ افراد نے اس بل کا متن پڑھے بغیر یہ فتویٰ دے دیا کہ زنانہ خصوصیات رکھنے والی اور مردانہ خصوصیات رکھنے والے ٹرانس جینڈر ز میں شادی ہو سکتی ہے۔ عالمی میڈیا نے اس خبر کو اپنی فتح سے تعبیر کرتے ہوئے اس طرح اچھالا کہ پاکستان میں علماء نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو جائز قرار دے دیا حالانکہ علماء کرام کو اس بات کی خبر بھی نہیں تھی۔ اس کے بعد مفتی منیب الرحمن نے نام نہاد مفتیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے اپنے ایک کالم میں فرمایا کہ :

‘ہمارے پرجوش مفتیانِ کرام کو چاہیے کہ کسی جدید مسئلے پر فتویٰ جاری کرنے سے پہلے اس کے عواقب پر ضرور غور فرمائیں۔ جن باتوں کے فروغ کے پس پردہ این جی اوز کارفرما ہوں اور وہ اتنی موثر ہوں کہ ارکانِ پارلیمنٹ کے تساہُل اور شہرت پسندی کے سبب پارلیمنٹ کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتی ہوں ‘تو یقینا اُن کے پیچھے عالمی ایجنڈا اور دور رس ودیرپا مقاصد ہوتے ہیں۔ پھر وہ معاملات کی تشریح اپنے مقاصد کے تحت کرتے ہیں اور کسی قسم کی لفظی ہیرپھیر سے گریز نہیں کرتے‘نیز جب ایک لفظ یا اصطلاح متعدد یا متضاد معانی کی حامل ہو تو اس کے بارے میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

”تحفظ ِ حقوقِ خواجہ سرابِل‘‘ کی دفعہ3 میں کہا گیا ہے کہ ایک ٹرانس جینڈر کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اُسے اس کے اپنے خیال یا گمان یا زعم کے مطابق خواجہ سرا تسلیم کیا جائے قطع نظر کہ وہ پیدائشی طور پر مردانہ خصوصیات کاحامل تھا یا زنانہ۔ ذیلی سیکشن2 میں کہا گیا ہے کہ ‘نادرا ‘سمیت تمام سرکاری محکموں کو اس کے اپنے دعوے کے مطابق ‘اُسے مرد یا عورت تسلیم کرنا ہو گا اور اپنی طے کردہ جنس کے مطابق‘ اُسے قومی شناختی کارڈ ‘ڈرائیونگ لائسنس ‘ چلڈرن رجسٹریشن سرٹیفکیٹ وغیرہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ اس بل میں یہی وہ شق ہے‘ جو مغرب میں LGBT گروپ کے مقاصد کی تکمیل کا سبب بنتی ہے ‘تحفظِ حقوقِ خواجہ سرا بل کے نام پر یہی وہ روزن ہے ‘جہاں سے نقب لگایا جاسکتا ہے۔ جن سینیٹرز کی طرف سے یہ بل سینیٹ میں پیش کیا گیا‘ انہیں بھی اس کے عواقب اور اس کی بنیادوں میں نصب کردہ بارود کا علم نہیں ہوگا۔ ان کے ہاتھ میں ایک چیز تھمادی گئی اور انہوں نے سینیٹ میں قانون سازی کے لیے تحریک پیش کردی۔ اس بل میں ایک طرف یہ کہا گیا ہے پبلک مقامات پر خواجہ سرائوں کی راحت میں کوئی رکاوٹ نہین ڈالی جائے گی لیکن انکے لئے جیل خانے وغیرہ الگ بنائے جائیں گے۔ یعنی کوئی مردانہ خصوصیات کا حامل خواجہ سرا تو بلاتردد زنانہ واش روم استعمال کر سکے گا لیکن جیل میں اسکے ساتھ کسی غیر خواجہ سرا مرد کو رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس تضاد کے کیا معانی ہیں؟ پیدائشی خواجہ سرا کے حقوق اور تکریم سے ہمیں کوئی انکار نہیں لیکن پیدائشی طور پر مکمل عورت یا مکمل مرد ہوتے ہوئے، ڈاکٹروں کی مدد سے ہارمونز میں تبدیلی لا کر اپنی جسمانی ساخت و دیگر خصوصیات میں تبدیلی کروانے کا عمل شیطانی فعل ہے اور مذہبی تعلیمات  میں اسکے لئے کوئی گنجائش موجود نہیں۔

اس حوالے سے اگر پاکستانی قوانین کا جائزہ لیں تو تعزیرات پاکستان کا سیکشن تین سو ستتر ‘غیر فطری جرائم’ کا احاطہ کرتا ہے اور اسِ شق کے مطابق ‘قانونِ فطرت کے خلاف’ کسی مرد، عورت یا جانور کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے والے شخص کو جُرمانے کے ساتھ ساتھ عمر قید یا دو سے دس سال جیل کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح حدود آرڈیننس 1989 کی شق چار اپنے شریکِ حیات کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ جنسی تعلق کو جُرم قرار دیتی ہے۔ اِس قانون کے مطابق زنا کی سزا سنگساری یا سو کوڑے ہے۔ ٹرانس جنڈر افراد قانونی طور پر شادی شدہ نہیں ہوتے لہذا یہ شقیں اُن پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ لیکن وہ پاکستانی قانون دان جو ‘گے و لزبئین انٹرنیشنل’ کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں وہ ان قوانین کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حدود آرڈیننس کے بارے میں یہ واضح نہیں کہ آیا یہ قانون ‘گے’ اور ‘لیزبین’ افراد پر لاگو ہوتا ہے یا نہیں لیکن چونکہ معاشرے، پولیس اور عدلیہ سے منسلک کچھ افراد کے نزدیک ہم جنس تعلقات ناپسندیدہ ہیں لہٰذا بیشتر صورتوں میں حدود آرڈیننس کا اطلاق ہم جنس تعلقات پر بھی کیا جاتا ہے۔

گے اینڈ لزبئین انٹرنیشنل، اسکے مقامی ایجنٹس اور انکے لئے خدمات سرانجام دینے والے کچھ وکلاء، سیاستدان، نام نہادمفتیان اور میڈیا جتنا مرضی ہے زور لگا لیں لیکن روائیتی مسلم معاشروں میں الہامی مذاہب کی تعلیمات کے مطابق ہم جنسی کجروی کو غیر فطری عمل، فساد فی الارض اور گناہ عظیم ہی سمجھا جاتا رہے گا۔ قرآن مجید میں واضح احکامات ہیں کہ “کیا تم خالق کی طرف سے بنائی گئی خواتین کو چھوڑ کر مردوں سے اختلاط کرتے ہو؟ توہی حد سے بڑھنے والے ہو”۔ مسلمانوں کے تمام فقہاء کے مطابق ہم جنس پرستی ممنوع ہے اور گناہ کا عمل ہے اور اس پر حد اور تعزیر جاری ہوتی ہے۔ اس غیر فطری عمل کا ارتکاب کوئی عام آدمی کرے یا یہ کسی سیاسی و مذہبی شخصیت سے سرزد ہویہ ایک ہی طرح کا گناہ ہے اور سب کیلئے برابر کی سزا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ گناہ کرنے والوں کا اس مذہب یا تہذیب سے رشتہ ختم نہیں ہوجاتا۔ گناہ کا عمل اس وقت سرزد ہوتا جب کوئی شخص کسی ہیجان کا شکار ہوتا ہے اورنفسانی خواہشات پروقتی طور پر قابوپانے میں ناکام ہوتا ہے لیکن بعد میں جب اسے غلط عمل کے ارتکاب کا احساس ہوجاتا ہے تو صغیرہ گناہوں کا توبہ کے ساتھ کفارہ ہو جاتا ہے لیکن بڑے جرائم پر توبہ کے ساتھ عدالت کی طرف سے عائد کردہ سزا بھی بھگتنا ہوتی ہے۔

اسلامی معاشروں میں اگر کسی سے گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ اسے گناہ ہی سمجھتا ہے ثواب کا عمل نہیں سمجھتا اور نہ ہی گناہ کے عمل کو اپنی شناخت بنایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی میں قاتلوں، ڈکیتوں، چوروں، شرابیوں، زانیوں اور دیگر گناہ کرنے والوں کیلئے تو رہنے کی جگہ ہے کیونکہ انکے گناہوں پر انہیں سزائیں مل جاتی ہیں، وہ توبہ کر لیتے ہیں اور وہ پاکستانی ریاسست، دین اسلام اور سوسائٹی کےاخلاقی قوانین کے خلاف بغاوت پر آمادہ نہیں ہوتے۔ لیکن ‘فساد فی الارض’ کی شکل میں غیر فطری عمل کرنے والے لزبئین، گے، اورہم جنس پرستوں کیلئے یہاں کوئی جگہ نہیں۔ وہ غیر فطری عمل کے گناہ کو اپنی مستقل شناخت بنانا چاہتے ہیں جو ریاست، مذہب اور معاشرے کے خلاف بغاوت ہے اور کسی بھی معاشرے میں باغیوں کے رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

اس موضوع پہ یہ بھی دیکھئے:

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20