سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند ہونے پر ہمارا رویہ اور تلخ حقیقت — حافظ محمد زوہیب

0

اکثر ایسا ہوتا رہا ہے کسی بھی معاملے پر جب کوئی ٹاپ ٹرینڈ بن جاتاہے چاہے وہ مذہبی ہو یا سیاسی تو ہمارا اکاؤنٹ کچھ وقت کے لیے یا پھر مستقل بند کردیا جاتاہے۔ اس پر ہم سب بڑے ناراض ہوجاتےہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو فیس بک/ٹویٹر /انسٹا گرام (یعنی اس ایپ کو چلانے والے یا صرف مالک) سے برداشت نہیں ہوا اور پھر ہم اپنی افادیت ثابت کرنے کے لیے ان نیٹ ورکس اور اپنے مخالفین کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں۔

بہ ظاہر یہ باتیں جائز لگتی ہیں کیوں کہ یہ مطالبہ آزادیِ اظہار رائے کی صور ت میں جائز ہے۔ ہماری آواز کو کیوں بند کیا جارہا ہے؟ کیا ہمارے مطالبات یا ہماری رائے یا ہمارے دلائل اتنے مضبوط ہیں کہ نیٹ ورکس بنانے والوں کے پاس کوئی جواب نہیں؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انھوں نے راہِ فرار اختیار کی۔ یہ تمام باتیں سچ اور تصویر کا ایک رخ ہیں۔ اب آتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی طرف۔ یہ بات ذہن میں رکھیے کہ جتنے بھی نیٹ ورکس ہیں یہ ہمارے اپنے بنائے ہوئے نہیں ہیں۔ اُن کی اپنی چیز ان کی اپنی مرضی، جیسے چاہے استعمال کریں جسے چاہیں روکیں جسے چاہیں آنے دیں، آپ اور میں کون ہوتے ہیں؟ ہم کس بات پرشکوہ کرکے سوشل میڈیا پر پرچار کرتے ہیں؟ ہو سکتا ہے یہ بات بہت بری لگے اور اُلٹا فدوی کو ہی برا بھلا کہنا شروع کردیا جائے۔ آئیے کچھ مثالوں سے سمجھتے ہیں؛ ہم نے ایک ادارہ بنایا۔ اس کے کچھ اصول بنائے اور کہا کہ جو بھی آئے وہ ان ہی اصولوں پر چلے گا۔ اگر وہ ہمارے موافق چلے تو ٹھیک، مخالفت کرے گا تو ہم کچھ وقت تک تو شاید اس سے بحث کریں گے، لیکن ایک وقت آئے گا کہ ہمارے اور ا س کے راستے جدا ہوجائیں گے۔ وہ ہمارے بنائے ہوئے اصولوں کی لوگوں سے دس برائیاں کرے گا، لیکن لوگ یہی کہیں گے کہ جو بھی اصول ہیں صحیح یا غلط، آپ نے اگر کام کرنا ہے تو انھی کے اصولوں پر کرنا ہوگا۔ یہاں کافی حد تک بات سمجھ آگئی ہوگی۔

چلیں ایک اور مثال سے سمجھیے؛ ہمارے دین میں جو عبادات ہیں ان میں خاص کر نماز کے طریقۂ ادائیگی میں مختلف رجحانات (مسلک کا لفظ جان بوجھ کر استعمال نہیں کیا) ہیں۔ ایک مسجد میں جس طریقے پر نماز کی ادائیگی کی جارہی ہے وہاں کی انتظامیہ لازمی یہ بات چاہے گی کہ دوسرے رجحان کا امام یہاں نماز نہ پڑھائے۔ کیوں کہ اگر پڑھائے گا تو انارکی پھیلے گی، امام لاکھ دلائل دے دے مگر، انتظامیہ اُس بے چارے کو نکال کر ہی دم لےگی۔ ہم یہ کہیں گے کہ یہ غلط نہیں، کیوں کہ انتظامیہ کا رجحان امام صاحب سے الگ ہے۔ہم سب مل کر مسجد کی انتظامیہ کا ساتھ دیں گے۔ ان دومثالوں کو سامتے رکھتے ہوئے سمجھیے کہ یہی معاملہ تمام سوشل میڈیا کا ہے۔ یہ نیٹ ورکس ہمارے نہیں ہیں اور ہمارا یہ اختیار بھی نہیں (فینٹیسی میں رہتے ہوئے یہ ضرور سوچا جاسکتاہے کہ ایک وقت آئے گا، مسلمان پوری دنیا میں حکومت کرلیں گے اور تمام چیزوں پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہوجائے گی) کہ اسے اپنے قابو میں رکھیں۔ اب ٹویٹر ہو یا انسٹا گرام یا فیس بک، ان سب پر ہماری اجارہ داری نہیں تو ہم سوشل میڈیا کو کیوں برا بھلا کہتے پھر تے ہیں؟

اس کے دو ہی حل ہیں؛ یا تو ہم اپنا خالص (جس میں ہر چیز کی ایجاد مسلمانوں کے نام ہو) سافٹ وئیر بنائیں، وہاں ہم جیسے چاہیں جس طرح چاہیں اپنے خیالات کا استعمال کریں۔ یا پھر ہم ان تمام نیٹ ورکس کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو برا بھلا کہنے کے بہ جائے اپنی اصلاح کرتے ہوئے اپنا پیغام بہ طورِ مصلح لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔ ہمیں تو ان نیٹ ورکس بنانے والوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ یہ ہمارے پیغام کو (سوائے چند معاملات کے) لوگوں تک پہنچا رہے ہیں وگرنہ، ذرا سوچیے! کیا ہماری بنائی چیز پر کوئی غیر مسلم ہماری طرح ایجارا داری کر سکتاہے ؟ کیا ہمارے بنائے ہوئے نیٹ ورک پر کوئی غیر مسلم اپنا مذہبی پیغام لوگوں تک پہنچا سکتاہے؟ جس طرح سوشل میڈیا کو ہم نے بہ ذریعہ روز گار بنایا ہے ،کیا غیر مسلموں کو اس بات کی اجازت دیتے ؟ یہی نہیں اس سے آگے بڑھ کر ذرا اور سوچیےکہ جس طرح ہم لندن کی سڑکوں پر قرآن مجید کی تعلیم لوگوں کو دیتے ہوئے پھرتے ہیں (الحمد للہ! یہ کام بہت اچھا ہے اور ہمیشہ ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ قرآن ِمجید اصل حقیقت کیا ہے)۔ کیا ہم اپنے ملک میں بھی کسی غیر مسلم (اگر ہم نے دلائل کو معاشرے میں پروان چڑھایا ہوتا) کو اس بات کی اجازت دیں گے؟ فیصلہ آپ کیجیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20