عظمت رفتہ، ایک نایاب کتاب کی اشاعت نو — نعیم الرحمٰن

0

’’عظمت رفتہ‘‘ ضیاء الدین برنی کے تحریر کردہ شخصی خاکوں کا مجموعہ ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں ایک نایاب کتاب ہے۔ جسے راشداشرف نے ’’زندہ کتابیں‘‘ میں شائع کیاہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن اگست 1961ء میں شائع ہوا تھا اور چھ دہائیوں سے یہ دلچسپ کتاب نایاب تھی۔ کتاب کاپیش لفظ حضرت مولاناعبدالماجد دریابادی نے تحریر کیا ہے۔ اور کس عمدگی سے کتاب کی خوبیاں بیان کی ہیں۔

’’شبلی، حالی، نذیراحمد، ذکاء اللہ، اقبال، محمدعلی، سیدسلیمان ندوی ان سب کے حالات وکمالات کی جھلک، وہ سرسری ہی سہی، کہیں یکجادیکھنے کو مل جائے، توکون پڑھا لکھا ہے، جس کادل للچانہ اٹھے گا؟ اور پھرجب منظر یہیں تک محدود نہ ہو، بلکہ شوکت علی اورظفرعلی خان، حسرت موہانی اور خواجہ حسن نظامی، حکیم اجمل خان اور خواجہ کمال الدین، راشدالخیری اورفرہنگ ِ آصفیہ والے سیداحمددہلوی، جالب، حکیم نابینا اور جگر مراد آبادی، سرآغاخان اور ولایت علی بمبوق، وقارالملک اور مفتی کفایت اللہ کی جلوہ آرائیاں بھی ساتھ ساتھ ہاتھ آجاتی ہوں! شوق و اشتیاق کی تھاہ ملنا بھی اب شاید آسان نہیں! آپ کے پیش نظرجو مجموعہ اوراق ہے، وہ کچھ اسی قسم کا جادو گھر یا کاغذی سینما ہے جس میں نوے اکیانوے شخصیتیں، کوئی رند اور کوئی پاکباز، لیکن سب کی سب معزز و ممتاز چلتی پھرتی نظرآتی ہیں۔ اوراق کے مرتب کوئی چابک دست نقاش نہیں، جو اپنے آرٹ کے زور سے بے جان کو جاندار بنادیں، اوراپنے مُوِقلم کی رنگ آمیزیوں سے دیوکوپری جمال کردکھائیں۔ وہ ایک سیدھے سادھے اہلِ قلم ہیں، جووہی لکھتے ہیں جوکچھ وہ دیکھتے ہیں، اور جوکچھ محسوس کرتے ہیں، اس کو قلم سے دہرادیتے ہیں۔ وہ ’تخلیق‘ کا کاروبار نہیں کرتے۔ پچاس پچپن سال کے عرصے میں ان کی آنکھوں نے جوکچھ دیکھااوران کے قلب نے جوکچھ محسوس کیا، بس اسی کا نقشہ نقش و نگار کی صنائیوں کے بغیر، انہوں نے کاغذپراتاردیا۔ یہ ایک سادگی ہرپرکاری پربھاری! ہندوستان کے ماضی قریب کی تاریخ لکھنے والوں کواس کتاب سے بڑی مددملے گی، اوراس دورکی متعدد شخصیتوںکے خدوخال اس آئینہ میں نظر آئیں گے۔ اردو میں ایسی کتابیں بس چند ہی ہیں اوریہ کتاب اس مختصرفہرست میں معقول و خوشگوار اضافہ ہے۔ کتاب کا نام ’عظمتِ رفتہ‘ ہے اور اس لیے قدرتاً اس کاخاتمہ ماضی ہی پر ہوجاتاہے۔ کیا اچھا ہوتا، اگرمصنف نے ماضی کے ساتھ حال کو بھی شامل کرلیا ہوتا! موجودہ معاصرین میں دوایک نہیں، بہت سے ان کے قلم کی توجہ کے قابل تھے۔‘‘

مولانا عبدالماجد دریابادی نے بجاطور پرماضی کی شخصیات کے ساتھ حال کے افراد پرقلم اٹھانے کولکھاہے۔ لیکن آج کے قارئین کے لیے برصغیر کی ان زندہ جاویدشخصیات کاایساتذکرہ جوعلم وادب، فکروفن اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتی ہیں، شایدکسی اورکتاب میں یکجا نہ مل سکے۔ ایسی شخصیات جن کے کمالات ہم صرف سنتے ہیں یاان کے فکروفن سے واقف ہیں۔ پہلی بار’’عظمت ِرفتہ‘‘ میں انہیں جیتے جاگتے، چلتے پھرتے دیکھ سکتے ہیں۔ حقیقی زندگی میں وہ کیسے تھے۔ ان کی شخصیت کی مختلف پرتیں ہم پرعیاں ہوتی ہیں۔

مرتب راشداشرف ’چندباتیں‘ میں لکھتے ہیں۔

’’ سیدانیس شاہ جیلانی کے خاکوں کی کتاب ’’آدمی غنیمت ہے‘‘ ہم نے ’’زندہ کتابیں‘‘ میں شائع کی تھی۔ کتاب مذکورہ میں برنی صاحب کازندہ جاویدخاکہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انیس صاحب نے یہ خاکہ لکھ کر اردو ادب کے قارئین پراحسان کیاہے۔ یہ نہایت معلوماتی تحریرہے اوربرنی مرحوم کی زندگی کے مخفی پہلوؤں کوعیاں کرتی ہے۔ شاہ صاحب کے ذخیرے سے راقم کو ان کے فرزند ابوالحسن جیلانی نے سیکڑوں انتہائی نادرتصاویر بھی فراہم کیں جن میں سے کئی ایک برنی صاحب کی بھی ہیںان میں سے ایک عمدہ تصویر زیرنظرکتاب کے عقبی کورپرشامل کی گئی ہے۔ ضیاء الدین برنی کی ابتدائی تحریریں جریدہ ’زمانہ‘ کانپور میں 1930ء میں شائع ہوئیں۔ یہ مولوی ذکاء اللہ پرسی ایف اینڈریوزکی انگریزی میں لکھی کتاب کاترجمہ تھا جو اقساط میں شائع ہوا۔ عظمتِ رفتہ کے ابتدائی خاکے 1950ء کے اوائل میں جریدہ’ریاض‘ میں شائع ہوئے جس کے مدیررئیس احمدجعفری تھے۔ برنی صاحب کی ابتدائی تعلیم دلی سے ہوئی۔ سینٹ اسٹیفنز کالج سے انہوں نے بی اے کی ڈگری حاصل کی اوراس کے بعد سال بھر مولانا محمدعلی کے اخبار’ہمدرد‘ میں کام کیا۔ اورینٹل ٹرانسلیٹر آفس بمبئی کی سرکاری ملازمت سے وابستہ ہوئے اور ستائیس سال وہیں گزاردیے۔ تقسیم کے بعد کراچی چلے آئے جہاں انہوں نے ’تعلیمی مرکز‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ مذکورہ ادارے سے ان کی کئی کتابیں شائع ہوئیں۔ کراچی ہی سے ایک پرچہ’کتابی دنیا‘ کے نام سے شروع کیا جس کا پہلاشمارہ دسمبر1955ء میں منظرعام پرآیا۔ بارہ برس تک یہ رسالہ شائع ہوتارہا۔ اس کاآخری شمارہ 1968ء جنوری تامارچ کا مشترکہ شمارہ تھا۔ برنی صاحب کاانتقال 4مئی 1969ء کوکراچی میں ہوا۔ ان کے انتقال پران کے دوست ملاواحدی نے ایک مضمون میں ان کوخراجِ تحسین پیش کیا۔ انیس شاہ جیلانی کے خاکے کے مطابق ضیاء الدین برنی کے نام میں لفظ ’برنی‘ خواجہ حسن نظامی کا عطاکردہ تھا۔‘‘

’’عظمتِ رفتہ‘‘ کے پس ورق پرپیرعلی محمدراشدی کی ضیاء الدین برنی کی وفات پر تحریر کا اقتباس درج ہے۔

’’جناب ضیاء الدین برنی بھی رہگرائے عالمِ جاودانی ہوگئے۔ کیا کچھ انہوں نے نہیں دیکھا اور کیا کچھ انہوں نے نہیں لکھا؟ جس دور سے ان کا تعلق رہا وہ برصغیر کی تاریخ کا اہم ترین دور تھا۔ جیسی شخصیتیں انہوں نے دیکھیں، ایسی شخصیتیں نئی نسل کے لوگ شاید ہی دیکھ سکیں۔ یہ لوگ انسانی پاؤں پرچلتی پھرتاریخ تھے۔ ان بزرگوں کا اٹھ جانا ایک عظیم قومی المیہ ہے۔ میراعقیدہ ہے کہ جب تک ماضی معلوم نہ ہو مستقبل کے متعلق صحیح راہیں نظرنہیں آسکتیں۔ ہمارا ماضی بتانے والا اب کون رہ گیا۔ ٹیڈیوں اور ٹوڈیوں کی طرف بلانے والے تو بہت نظر آئیں گے۔ مگر جناح، جو ہر، حسرت، شوکت، ظفر علی کا راستہ بتانے والے کہاں ملیں گے۔‘‘

ضیاء الدین برنی نے ’’تمہید‘‘ کے عنوان سے ’’عظمتِ رفتہ‘‘ کے دیباچہ میں لکھاہے۔ ’’جوکتاب اب پیش کی جارہی ہے وہ ’’یاران کہن‘‘، ’’گنج ہائے گراں مایہ‘‘، ’’یادِرفتگاں‘‘، ’’کیاخوب آدمی تھا‘‘، ’’چند ہم عصر‘‘ وغیرہ جیسی کتابوں کی نہج پر لکھی گئی ہے۔ جن اشخاص کے متعلق یہ یادیں پیش کی گئی ہیں وہ میری نظرمیں صاحبِ عظمت تھے۔ ان میں صرف دو شخصیتیں ایسی ہیں جن میری ایک دفعہ بھی بات چیت نہیں ہوئی، بعض ایسی ہیں جن سے ایک ایک دفع ملاقات ہوئی، بعض ایسی ہیں جن سے صرف چند ملاقاتیں ہو کر رہ گئیں، لیکن غالب اکثریت ایسے اصحاب کی ہے جن سے میرے برسوں تک تعلقات رہے اور جنہیں میں نے انگریزی محاورے کے مطابق بہت قریب سے دیکھا اور عظیم المرتبت پایا۔ ان سب کی یادیں میری زندگی کی متاعِ عزیز ہیں۔ مولوی محمد اسحٰق کا مضمون کوئی پچیس برس قبل لکھا گیا تھا۔ اس وقت وہم وگما ن بھی نہ تھاکہ مجھے کبھی ’’عظمتِ رفتہ‘‘ کے نام سے کوئی کتاب لکھنی ہوگی اور یہ مضمون اس کا سنگِ بنیاد بنے گا۔ میں اس کتاب کو اپنی ارضی زندگی کا نچوڑ سمجھتا ہوں اور ساتھ ہی اپنے تئیں خوش قسمت خیال کرتاہوں کہ اتنے صاحبِ عظمت بزرگوں سے میرے تعلقات رہے۔ ان شخصیتوں کے بارے میں میں نے کسی ترتیب کو ملحوظ نہیں رکھا۔ زیادہ تر اپنے ’موڈ‘ پر اعتماد کیاہے۔ مجھے اس بے ترتیبی میں بھی ترتیب کی شان نظر آتی ہے۔ میں نے محترمی مولوی احتشام الحق تھانوی سے اپنی کتاب کا ذکر کیا تو انہوں نے ایک شعر سنایا اور خواہش ظاہر کی کہ اسے بھی درجِ کتاب کردیا جائے۔

یہ منزلت بھی غنیمت ہے اہلِ دنیا کی
ملا کے خاک میں ذکرِ کمال کرتے ہیں

یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ شعرکن صاحب کا ہے۔ بہرحال شکریہ کے ساتھ ان کے حکم کی تعمیل کرتاہوں۔‘‘

’’عظمتِ رفتہ‘‘ میں اکیانوے شخصیات کے خاکے ہیں۔ جن میں مولوی محمداسحٰق رامپوری، علامہ راشدالخیری، خواجہ حسن نظامی، میر باقر علی داستان گو، میربشارت علی جالب، مولانامحمدعلی جوہر، راجہ غلام حسین، مولاناشوکت علی، نواب سراج الدین احمدخان سائل، لالہ بلاقی داس، سشل کمارردرا، مولانااحمدسعید، محمدالدین خلیقی، مولوی ذکاء اللہ، خواجہ الطاف حسین حالی، ڈاکٹرمختاراحمدانصاری، مولوی نذیراحمد، مولانا عبیداللہ سندھی، منشی سید احمد دہلوی، مسٹر آصف علی، عارف ہسوی، ڈاکٹرسیدسجاددہلوی، خلیل خالدبک، وحیدالدین بیخود دہلوی، حکیم اجمل خا ن، سی ایف اینڈریوز، نواب وقارالملک، عبدالرحمٰن صدیقی، خواجہ کمال الدین، مسزاینی بیسنٹ، سیدفضل الحسن حسرت موہانی، بیگم حسرت، منشی پریم چند، سیماب اکبرآبادی، لالہ دیانرائن نگم، مسزسروجنی نائیڈو، مجید لاہوری، سیدفضل شاہ، جگر مرادآبادی، جمشیدجی نسروانجی مہتا، مولا ناظفرعلی خان، عبدالمجیدسالک، محمدرفیع کاشمیری، رستمِ زمان گاما پہلوان، حکیم عبدالوہاب انصاری، علامہ شبلی نعمانی، ڈاکٹراقبال، ولایت علی بمبوق، پروفیسر شیخ عبدالقادر، سید عبداللہ بریلوی، لارڈ برے بورن، مولوی نذیراحمدخجندی، شیخ حسن علی، عبدالرحیم ڈمٹمکر، لارڈ لائڈ، پروفیسر عبدالصمد مولوی، عمرسوبانی، غلام حسین خیراز، مولوی عبداللہ چکڑالوی، علی محمد مولوی، سرجے ای بی ہاٹسن، شیخ فیض اللہ بھائی، سید سلیمان ندوی، مولوی وحیداحمدمدنی، جگن ناتھ کھنہ، بی جی کھیر، سرغلام حسین ہدایت اللہ، دادابھائی واچ میکر، مولانا محمدعرفان، قاضی کبیرالدین، سر آغاخاں، ایم این رائے، مرزاعلی محمدخان، محمد مارماڈیوک پکتھال، محی الدین آزاد، ڈاکٹر اے ایل نایر، شوکت علی خاں فانی، پروفیسرمعین الدین احمد، شریف دیوجی کانجی، کیقبادفرامجی نریمان، ڈاکٹرمحمد ناظم، سرابراہیم، رحمت اللہ، آغاشاعرقزلباش، کرشن لال جھویری، بی جی ہار نیمین، ڈاکٹرسیدحسین، ڈاکٹرعمرمحمد داؤد پوتا، سرابراہیم ہارون جعفر، منشی محمدالدین، مفتی محمدکفایت اللہ، مولانا ابوالکلام آزاد، موہن داس کرم چند گاندھی اور محمدعلی جناح کے خاکے شامل ہیں۔ ضمیمہ جات میں مولوی محمد حسین آزاد کے بارے میں مولاناظفرعلی خان کاشذرہ، مولانا حسرت موہانی کاوہ مضمون جس پرانہیں پہلی مرتبہ سزائے قید ہوئی تھی اور 16اگست 1961ء کی صبح ڈاکٹرمولوی عبدالحق کی وفات پران کے بارے میں یادیں شامل کی گئی ہیں۔

کتاب میں شامل تمام اشخاص کے نام جن کے خاکے’’عظمتِ رفتہ‘‘ میں شامل ہیں، پیش کرنے کامقصدیہ ہے کہ قارئین پرکتاب کی اہمیت اوراس میں شامل نابغہ روزگارشخصیات کی تفصیل واضح ہوجائے۔

انڈونیشین کریم عمدہ کاغذ پرانتہائی دیدہ زیب سرورق سے آراستہ مجلدچارسوچھپن صفحات اورآفسٹ پیپرپرچونتیس بلیک اینڈوائٹ تصاویر سے مزین کتاب کی قیمت سات سوروپے بہت مناسب ہے۔ ان میں کئی شخصیات کی تصاویرنایاب ہیں۔ کئی مشاہیرکے پورے ناموں کا علم ان خاکوں سے ہوتاہے۔

پہلا خاکہ مولوی محمداسحاق رامپو ری کاہے۔

’’ ایک دہلی کیاساراہندوستان مولوی صاحب کے شاگردوں سے پٹاپڑاہے، مگر سب کے سب ادھورے۔ مشکل سے چند خوش قسمت ایسے ہوں گے جنہوں نے ان سے درس کی تکمیل کی ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ذراذراسی بات پرنارا ض ہوجاتے تھے اورپھرسزاکے طور پرپڑھانابندکردیتے تھے۔ ان کی طبیعت اس قدر نازک واقع ہوئی تھی کہ غلط محاورہ کا استعمال دردِ سرپیدا کردیتاتھا۔ وہ فرمایاکرتے تھے کہ ’غلط تلفظ کااثرمیرے دل پر برچھی سے کم نہیں ہوتا۔‘ اورپھرکیامجال کہ وہ شخص ان کے یہاں دوبارہ پھٹک جائے۔ مولوی صاحب بے حدسادگی پسند تھے۔ قناعت ان کے مزاج میں اس درجہ بسی ہوئی تھی کہ دیکھ کرحیرت ہوتی تھی۔ انہوں نے اپنے شاگردوںسے کبھی کوئی فیس نہیں لی اورنہ کسی صورت میں کوئی ہدیہ یانذرانہ ہی قبول کیا۔ ان کی ضروریاتِ زندگی نہایت مختصرتھیں اور میں نے کبھی انہیںاس بنا پر پریشان ہوتے نہیں دیکھا۔ فارسی شاعرابنِ یمین کاقول ’اگرآدمی کواطمینان کے ساتھ کھانے کو دو روٹیاں اورپہننے کو کپڑے کے دوتین جوڑے مل جائیں تووہ اس بادشاہت سے بہترہے جوطرح طرح کے جنجالوں سے پُر ہو۔ ‘ ان پرثابت ہوتاتھا۔‘‘

علامہ راشدالخیری کے خاکے میں لکھتے ہیں۔

’’ان کامشن تھاکہ وہ ملک کے طبقہ نسواں کی حالت سدھاریں۔ جہاں تک مسلم عورتوں کاتعلق ہے وہ عمر بھر کوشاں رہے کہ اسلام نے جوحقوق انہیں دیے ہیں اورجنہیںمردوں نے زبردستی غصب کر رکھاہے، وہ انہیں پھردلوائیں۔ ان کاحقِ خلع اورترکہ پدری بھی شامل ہے۔ بچیوںکوصحیح قسم کی تعلیم دینے کی غرض سے انہوں نے ایک مدرسہ بھی جاری کیاتھاجس میں ان کی اہلیہ بھی ان کاہاتھ بٹاتی تھیں۔ اس مدرسہ میں چھوٹی عمرکی بچیاں داخل کی جاتی تھیں۔ انہی اغراض کے لیے پیش نظرانہوں نے کتابیں لکھنا شروع کیں تاکہ ان کاپیغام دور دور پھیلے۔ انہوں نے خراب رسموںکی طرف بھی قوم کی توجہ مبذول کرائی جو جہالت کی وجہ سے مسلمانوں میں رائج ہوگئی تھیں اورجوآج بھی کم وبیش پائی جاتی ہیں۔‘‘

داستان گوئی کانام بھی دورحاضرکے نوجوانوں نے نہیں سنا ہوگا۔ ہمارے دورمیں بھی یہ قصہ پارینہ تھا، تاہم میرباقرعلی داستان گوکانام ضرور سناتھا۔ ان کے خاکے کااقتباس دیکھیں۔

’’ دہلی کے پڑھے لکھے لوگوں میں بہت کم ایسے ہوں گے جنہوں نے باقرعلی کانام نہ سناہویاجنہیں ان کی زبان فیض ترجمان سے داستان سننے کا اتفاق نہ ہواہو۔ میں نے کوئی پچاس سال قبل آصف علی کے مکان پرپہلی مرتبہ ان کی داستان سنی تھی۔ داستان میں پرانے زمانے کی کسی جنگ کاحال بیان کیا گیا تھا۔ انہوں نے قدیم آلاتِ جنگ نام بنام اس طرح گنوائے تھے کہ میں حیران رہ گیا۔ ان کی داستانیں زیادہ تر رزمیہ ہوتی تھیں، مگران میں خوبی یہ تھی کہ جیسامجمع دیکھتے اس کے مذاق کے مطابق داستان سنا تے۔ جن لوگوں نے ان کی داستانیں سنی ہیںوہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے فن کو ترقی دے کرکہاں سے کہاں پہنچادیاتھا۔ وہ اس فن میںاپنے ماموں میرکاظم علی کے شاگرد تھے۔ ان کے دور میں اوربھی داستان گوتھے، مگرکوئی بھی ان کے لگے کانہ تھا۔‘‘

موہن داس کرم چندگاندھی کے خاکے میں ضیاء الدین برنی لکھتے ہیں۔

’’ ہندوستان چھوڑدو تحریک کے سلسلے میں گاندھی جی کوسرآغاخان کے محل واقع پونا میں نظر بند رکھا گیا تھا۔ اس زمانے میں ان کاقاعدہ تھاکہ وہ روزانہ ساٹھ ستر خطوط اپنے ہاتھ سے لکھ کر دوستوں کو بھیجاکرتے تھے۔ یہ خط مختلف زبانوں میں ہوتے تھے، کچھ اردومیں، کچھ گجراتی میں، کچھ تامل میں اور کچھ انگریزی اورہندی میں۔ یہ محض چندسطری اور خالصتاًذاتی امور پرمشتمل ہوتے تھے۔ اس کے باوجود حکومت انہیںہمارے دفترمیں سنسرکرنے کے لیے بھیج دیتی تھی۔ اردوخط میرے حصے میںآتے تھے، جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے۔ اردوکاپہلاخط بڑودہ کے لیڈرعباس طیب جی کے نام بھیجاگیاتھا۔ تین چاردن کے بعد گاندھی جی کومعلوم ہوگیاکہ ان کے خطوط سینسرکیے جاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کے نام عتاب نامہ بھیجاجس میں پوچھاگیاتھاکہ جب حکومت کواچھی طرح معلوم ہے کہ جیل میں رہ کر جملہ ضوابط کی پابندی کرتاہوں تو پھر میرے خطوط کیوں سینسرکیے جاتے ہیں؟ حکومت اسی وقت اپنے احکام واپس لے لیے۔‘‘

قائداعظم محمدعلی جناح کے خاکے میں لکھاہے۔

’’بمبئی میں میراقیام بہ سلسلہ ملازمت فروری 1918ء سے نومبر1947ء تک رہا۔ اس اثنا میں مجھے محمدعلی جناح کوقریب سے دیکھنے کے متعددمواقع ملے۔ میں نے ان کے دونوں دوردیکھے ہیں، ایک جبکہ وہ محض محمدعلی جناح تھے اور دوسراوہ جبکہ وہ مسلمانوں کے کے قائداعظم بن چکے تھے۔ ایک زمانے میںمحمدعلی جناح کانگریسی اخبار’کرانیکل‘ سے وابستہ تھے وہ ڈائریکٹر وں کے بورڈ میں شامل تھے۔ انہی دنوںبعض ’قابل اعتراض‘مضامین کی وجہ سے ’کرانیکل‘ پرحکومتِ بمبئی کی جانب سے ’پری سنسرشپ‘قائم کردی گئی، یعنی چھپنے سے پہلے ادارتی مضامین اورمراسلات حکومت کودکھائے جائیں۔ جب یہ حکم پہنچاتوڈائریکٹروںکی رائے ہوئی کہ اخبا رکوکچھ عرصے کے لیے بندکردیاجائے اور کسی نوع حکومت کے سامنے سرِتسلیم خم نہ کیاجائے۔ مگرجناح کی رائے تھی کہ اخباربندنہ کیاجائے بلکہ حکومت کاڈٹ کرمقابلہ کیاجائے، اس طرح سے کہ ایٹوریل کے کالموں کوخالی چھوڑاجائے اورباقی تمام اخبارکوخبروں اورکلاسیکل انگریز ی کتب کے اقتباسات سے بھردیاجائے۔ چندہفتے تک اخباراسی ہیئت سے نکلتارہا۔ یہ خاموش احتجاج اس قدرموثرثابت ہواکہ حکومت نے بغیرکسی تحریک کے اپنے احکام واپس لے لیے۔ قائداعظم کی زندگی کے آخری چندسال پاکستان کی جنگ سرکرنے میں صرف ہوئے اور اس میں جوزبردست کامیابی انہیں نصیب ہوئی وہ محض ان کی دانشمندانہ رہنمائی کانتیجہ تھی۔ اس طویل کشمکش میں انہوں نے قیادت کی جن اعلیٰ صفات کامظاہرہ کیا وہ محیرالعقول ہیں۔ وہ ایک کامیابی کے بعددوسری کامیابی سے ہمکنارہوتے گئے یہاں تک کہ انہوں نے اپنا مقصدِ حیات پالیا۔‘‘

ضمیے میں مولوی عبدالحق کی وفات پرشذرہ میں ضیاء الدین برنی لکھتے ہیں۔

’’مولوی صاحب کواردوسے انتہائی عشق تھا۔ انہوں نے ’مومن‘ کی پہچان یہ مقررکررکھی تھی کہ اسے اردو سے محبت ہو۔ بقول پروفیسرسجاد مرزا ’اردو زبان کا اگر کوئی مذہب ہے توبس وہی مولوی صاحب کا مذہب ہے۔ اردوکے لیے جہاں حالات سازگاردیکھتے ہیں وہیں جادھمکتے ہیں۔ چنانچہ دہلی چھوڑی پڑی تو کراچی میں ڈیراڈال دیا۔ ‘ان کی دوستی اوردشمنی محض اردوکی بناپرتھی اگرکوئی شخص اردو کا دشمن ہے تووہ انکادشمن ہے اوراگرکوئی شخص اردوکادوست ہے تووہ ان کادوست ہے۔ وہ بہترین مرقع نگار تھے۔ ان کے مرقعے دیکھنے ہوں تو’چندہم عصر‘ پڑھیے۔ ‘مولوی عبدالحق کی موت کوئی معمولی سانحہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی موت ہے جس پرتہذیب وادب کاایک پورادورختم ہوگیا، وہ دور جو ہندوپاکستان کی تاریخ کاسب سے زیادہ شاندار اور مہتمم بالشان دورتھا۔ اپنی بانوے سالہ زندگی میں جن بڑے بڑے اشخاص سے وہ ملے یاجن کی صحبتوں میں وہ رہے، وہ سب دیو پیکرتھے اورافسوس ہے کہ اتنازمانہ گزرنے پربھی ہم ان کی عظمت کاکماحقہ اندازہ نہیں کرسکے حانکہ وہ تاریخ پراپناان مٹ نشان چھوڑگئے ہیں۔‘‘

’’عظمتِ رفتہ‘‘ برصغیرکی اہم ادبی، مذہبی، سیاسی اورثقافتی شخصیات سے دلچسپی رکھنے والے ہرشخص کو ضرور پڑھنی چاہیے۔ اس نایاب کتاب کی اشاعت پرراشداشرف کوبھرپورمبارک پیش ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20