راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 26) —- یاسر رضا آصف

0

میری آنکھ کھلی تو ابھی جھٹپٹے کا عالم تھا۔ باہر کچھ کچھ اندھیرا اور کچھ کچھ سویرا تھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا اور کمرے میں میرے سوا اور کوئی نہ تھا۔ میں نے کسالت کو اُتار پھینکا۔ واش روم گیا۔ مُنھ ہاتھ دھویا، برش کیا اور کپڑے بدل کر اِسلام کے کمرے کی جانب چل پڑا۔ وہ بھی بند ملا۔ میں اپنے کمرے میں واپس پلٹا۔ چارجنگ سے موبائل کو اُتارا اور لگا سب کو فون کرنے؛ سمیر نے فون اُٹھایا اور کہا ’’سرکار اُٹھ گئے ہیں! ہم نیچے ہال کمرے میں بیٹھے ہیں‘‘ میں سیڑھیاں اُترتا ہوا ہال کمرے میں داخل ہو گیا۔

ہال کمرہ دیدہ زیب تھا۔ ہم نے ڈٹ کر ناشتہ کیا۔ جس میں چنے، پوریاں، حلوہ، پراٹھے، انڈے اور چائے وغیرہ شامل تھی۔ پھر اپنے کمروں سے سامان سمیٹنے لگے۔ خریداری کا سامان کافی زیادہ تھا۔ رات میں نے ایک قدرے چھوٹا بیگ خرید لیا تھا تا کہ سامان محفوظ رہ سکے لیکن بیگ دبا دبا کے بھرنے کے باوجود کچھ سامان بچ گیا۔ میرا بیگ کُپّا ہو چکا تھا، چیزیں اور نہیں سما سکتی تھیں۔ میں نے سمیر سے اُس کے بیگ میں کچھ چیزیں رکھنے کو کہا۔ اُس نے میرے بیگ سے ساری چیزیں نکالیں اور ترتیب سے رکھنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہی بیگ عمرو عیار کی زنبیل بن گیا۔ ترتیب نے معاملہ آسان بنا دیا۔

ہم لوگ اپنا اپنا سامان اُٹھائے کلّیوں کی طرح وین کی طرف بڑھنے لگے۔ ہر بندے نے کوئی اضافی شاپر یا بیگ ضرور پکڑا ہوا تھا۔ سابقہ روایت کے مطابق بیگ چھت پر باندھے گئے۔ اوپر مومی لفافہ بھر چڑھادیا گیا۔ کام ہونے کے بعد ہم لوگ اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہو گئے کہ اِسلام کی آواز گونجی سلنڈر کدھر ہے؟ ہم لوگوں نے ایک دوسرے کے چہروں کو ایسے دیکھا جیسے سلنڈر ہمارے سامنے فضا میں بلند ہوتے ہوئے غائب ہو گیا ہو۔ ہم نے اِسے ایک مذاق سمجھا لیکن یہ بات سچ تھی۔ سو سبھی وین سے اُتر کر گمشدہ سلنڈر کوڈھونڈنے لگے۔ کمروں کی چابیاں پکڑے لڑکا ہمارے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

ہوٹل والا لڑکا ہمارے کہنے پر کمروں کے تالوں میں چابی گھماتا اور کھُل جا سم سم کہے بغیر ہی دروازہ کھل جاتا۔ ہم پاگلوں کی طرح کمرے کا کونہ کونہ دیکھتے واش روم تک دیکھتے مگر سلنڈر ہمیں نہیں ملنا تھا سو نہ ملا۔ ہم نے دوسری منزل کے سبھی کمرے دیکھ لیے اور احتیاطی طور پر ہال میں بھی دیکھ آئے۔ سلنڈر پر شاید کوئی جادوگر اپنی طلسمی ٹوپی رکھ کر بھول گیا تھا۔ رات تو ہم نے چائے بنائی تھی اور اُسی سلنڈر کے اردگرد بیٹھ کر پی بھی تھی۔ لیکن پھر یہ کیسے ہو گیا؟

ہوٹل کی انتظامیہ برابر کوشش میںلگی تھی۔ ہم لوگ بوجھل قدموں کے ساتھ وین میں آکر بیٹھ گئے۔ سورج کی شعاعیں پہاڑوں کی اوٹ سے جھانکنے لگیں تھیں۔ کرنیں صبح کے وقت ہوتی ہوں گی اب کافی دن چڑھ آیا تھا۔ جعفر نے چابی گھمائی۔ اسلام نے دُعا کروائی اور گاڑی اپنی مٹی چھوڑنے کے قریب ہی تھی کہ ایک لڑکا روکو روکو چلّاتا ہوا ہماری طرف آنے لگا۔ ہم نے سمجھا شاید ٹائر کے نیچے کوئی بلّی وغیرہ آنے کا خطرہ ہے۔ اُس نے پھولے ہوئے سانس کے ساتھ کہا ’’سلنڈر مل گیا ہے‘‘۔ ریسیپشن والا لڑکا ہاتھ میں سلنڈر کو اُٹھائے چلا آرہا تھا۔ اُس نے بتایا کہ تیسری منزل پر کچھ شیشہ پینے والے حضرات ٹھہرے ہوئے تھے۔ اُنھوں نے کوئلوں کو سلگانے کے لیے سلنڈر اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ رات سلنڈر کمرے کے باہر ہی پڑا رہ گیا۔ وہ سمجھے کہ ہوٹل کی ملکیت ہے۔ دوسری طرف اگر نہ ملتا تو ہوٹل انتظامیہ پر سوالیہ نشان تھا۔

سلنڈر گاڑی کے کونے میں سجا دیا گیا۔ ہم اُسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے جیتنے والی ٹیم ٹرافی کو دیکھا کرتی ہے۔ گاڑی اپنی بھرپور رفتار سے سڑک پر دوڑنے لگی۔ جعفر ہنزہ اور قراقرم کے دشوار گزار راستوں پر بڑی مہارت سے گاڑی چلاتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا۔ سو یہ قدرے آسان تھا۔ مجھے صبح خیزی کی عادت نہیں ہے۔ عام دنوں میں بھی نو یا دس بجے ہی اُٹھتا ہوں۔ چوں کہ میری نوکری کا وقت بھی ایک بجے شروع ہوتا ہے اس لیے بھی نیند پوری ہو جاتی ہے۔ مجھے اُونگھ آگئی پھر وہی اُونگھ دھیرے دھیرے گہری نیند میں بدل گئی۔

دن گیارہ بجے کا وقت ہوگا کہ کسی نے میرا شانہ ہلایا۔ اگر وہ شانہ نہ ہلاتا تو شاید میں دو گھنٹے مزید سویا رہتا۔ میں اُٹھا اور آنکھیں ملتے ہوئے وین سے باہر آگیا۔ انگڑائی لینے اور جسم کو تھوڑی بہت حرکت دینے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ہم لوگ بالا کوٹ پہنچ گئے ہیں۔ جعفر گاڑی کو دھلوانے لے گیا۔ اسلام پرچی ہاتھ میں تھامے بچ جانے والی چیزیں اُٹھائے بازار کی طرف چل دیا اور میں پُل پر سگریٹ سلگائے دریا کے شور اور طغیانی پر غور کرنے لگا۔ بالا کوٹ کے پہاڑ اب بہت چھوٹے لگ رہے تھے۔ ان کی جاذبیت بھی ماند پڑ گئی تھی اور ہوا بھی گرم تھی۔ میں نے سگریٹ کا آخری کش لیا اور ہوٹل کی طرف چل دیا۔ جہاں گرم گرم چائے اور رس کیک میرا انتظار کررہے تھے۔ میں نے سکون کے ساتھ چائے میں ڈبو کر بسکٹ اور کیک کھائے۔

اسلام اور جعفر بھی آگئے۔ سبھی دوست ہنزہ کے پہاڑوں اور بالا کوٹ کی پہاڑیوں کا موازنہ کرنے لگے۔ لمبی چوڑی دلیلیں دی جانے لگیں۔ بالا کوٹ میں ایک رات ٹھہرنے کی تجویز پر سبھی سمیر کو عقل سے پیدل خیال کرنے لگے۔ لیکن سمیر کے شرارتی چہرے پر ہنسی کو دیکھ کر جب اصل بات کا اندازہ ہوا تو سبھی بے اختیار ہنس دیے۔ چائے کیک سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم لوگ دوبارہ اپنی نشستوں پر آگئے۔

وین چلتی جارہی تھی۔ بالا کوٹ سے واپسی پر اچانک فخر کو یاد آیا کہ میری جیکٹ ہوٹل کی کرسی پر ہی رکھی رہ گئی۔ سبھی نے فخر کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تو وہ روہانسی صورت بنا کر بولا ’’خالص چمڑے کی جیکٹ ہے اور اُس میں میرا وائلٹ بھی ہے‘‘ فخر کی یہ بات سننا تھی کہ وین روک دی گئی۔ ہم آدھے گھنٹے کا سفر کر چکے تھے۔ واپس پلٹنا مجھے عجیب سا لگا میں وین سے اتر آیا۔ میری دیکھا دیکھی عابد، سمیر، بلال اور شبیر بھی اُتر آئے۔ ہم نے واپس جانے سے زیادہ انتظار کرنے کو ترجیح دی۔

وین واپس پلٹ گئی۔ سرسبز علاقہ تھا۔ کئی درخت تھے۔ ہم سڑک کے کنارے چلنے لگے۔ ایک مکان پتھروں کی سلوں سے بنا ہوا تھا۔ جس پر ٹین کی چھت خیمے کی صورت تنی ہوئی تھی۔ لکڑی کا ایک بڑا سا گیٹ لگا تھا۔ گیٹ کے سامنے سبز گھاس بچھی تھی۔ گھاس پر پتھروں کی سلیں ادھر ادھر بکھری پڑی تھیں۔ وین ہمیں چھوڑ کر کب کی جا چکی تھی۔ ہم لوگ درختوں کے سائے میں گھاس پر بیٹھ گئے۔ طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔ وقت تھا کہ کٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ منتظر لمحوں کا روگ اُس وقت مجھ پر پوری طرح آشکار ہوا۔

انتظار کی کیفیت جان لیوا ہوتی ہے۔ ہر پل پہاڑ بن جاتا ہے۔ ہم تو ویسے بھی پہاڑوں کے درمیان تھے۔ سمیر نے ایک کھیل کھیلنے کا مشورہ دیا۔ سمیر کھیل کی تفصیل بتاتے ہوئے بولا ’’یاسر بھائی آپ دائیں جانب سے آنے والی گاڑیوں کی گنتی کریں اور میں بائیں جانب سے آنے والی گاڑیوں کو گنتا ہوں۔ دس منٹ میں جس کی گاڑیاں زیادہ ہوں گی وہ جیت جائے گا‘‘۔ گنتی شروع ہو گئی۔ عابد سگریٹ کے کش لیتے ہوئے ہماری بچگانہ حرکت پر مُسکرا رہا تھا۔ بلال تنکے سے زمین کھود رہا تھا۔ شبیر فون پر گیم کھیلنے میں مگن تھا۔ امداد اور امجد فوٹو گرافی میں مصروف تھے۔ میں اور سمیر گاڑیاں گننے میں لگے تھے۔ کبھی کبھی فضول سے حرکت بھی دِل لگی کا سامان مہیا کردیتی ہے۔ گاڑیاں گنتے گنتے جب میں تھک گیا اور میرے اعصاب جواب دینے لگے تو میں نے اُٹھ کر ٹہلنا شروع کردیا۔

کئی صدیوں بعد وین واپس ہم تک پہنچی۔ میں وین میں تیزی سے داخل ہوا۔ مجھے لگتا تھا کہ اگر میں نے تھوڑی سی بھی سستی دکھائی تو مجھے یہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ میں اپنی سیٹ پر پائوں پسارے بیٹھ گیا۔ پھر وین کے چلتے ہوئے قریب قریب آدھا لیٹ گیا۔ وین چلتی رہی اور مختلف موڑ مڑتی رہی۔ میں کبھی موبائل پر کوئی گیت یا غزل سننے لگتا۔ کبھی کھڑکی کے شیشے سے باہر جھانکنے لگتا۔ کبھی تاش والی ٹولی کی بحث پر توجہ دے دیتا۔ کسی بھی سفر سے واپسی کا وقت جلدی کٹ جاتا ہے۔ اُس مقام تک پہنچنے کی چاہ یا شاید نامعلوم تک پہنچنے کی خواہش جسم میں سنسنی پھیلائے رکھتی ہے۔ دماغ تجسس کے زیرِ اثر ہر ایک بات کو باریک بینی سے سوچتا چلا جاتا ہے لیکن واپسی میں تجسس کے دم توڑ دینے سے ہر شئے دیکھی دیکھی لگنے لگتی ہے۔

میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہو رہی تھی۔ جس مقصد کے لیے میں نے سفر اختیار کیا تھا۔ میں وہ مقصد حاصل کر چکا تھا۔ اس لیے ذہن شانت تھا۔ طبیعت پُرسکون تھی اور اُلجھی ہوئی کیفیت ختم ہو چکی تھی۔ میں مکمل اطمینان کے ساتھ واپسی کا سفر کر رہا تھا۔ دو بجے کے قریب پنڈی سے تھوڑا پہلے گاڑی روک دی گئی۔

ہماری وین پٹرول پمپ پر کھڑی تھی۔ مجھے اپنی ٹانگیں سیدھی کرنی تھیں۔ بیٹھ بیٹھ کر لگتا تھا جیسے بے جان سی ہو گئی ہیں۔ میں نے سمیر کو ساتھ لیا اور ہم لوگ سڑک کے کنارے چلنا شروع ہوگئے۔ پٹرول پمپ تنہا نہیں تھا اردگرد آبادی موجود تھی۔ ہالی ووڈ کی فلموں میں پٹرول پمپ آبادی سے دور دکھائی دیتے ہیں اور سُننے میں بھی یہی آیا ہے کہ خطرے کے پیشِ نظر ایسا ہی کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں بھی شاید اِس کا کوئی قانون موجود ہو مگر اس دیس میں قانون کی پاسداری کسی دیوانے کے خواب سے کم نہیں۔

ہم ٹہلتے ہوئے پٹرول پمپ سے کافی آگے نکل آئے۔ میں نے بچوں کا جمگھٹا دیکھا تو آگے بڑھ کر اُن کا کھیل دیکھنے لگا وہ شیشے کی گولیوں سے کھیل رہے تھے۔ سمیر ابھی تک کسی موضوع پر بنا رُکے بات کیے جارہا تھا اور میں رنگین کنچوں میں کھویا ہوا تھا۔ کچی زمین پر دیوار کے ساتھ چھوٹا سا سوراخ بنا ہوا تھا۔ جس کے اندر کم عمر لڑکا زیادہ سے زیادہ کینچے پھینکنے کی کوشش کررہا تھا اُس کے ہاتھ میں کافی سارے کینچے تھے۔ دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر اُس نے سوراخ جسے ہم ’’گھتّی‘‘ کہا کرتے تھے، کے اردگرد کنچے پھینک دیے۔ دو ایک گھتّی کے اندر ٹھہر گئے باقی کچی زمین پر ادھر ادھر بکھر گئے۔ اب وہ مخالف کھلاڑی کے کہنے پر مطلوبہ کنچے کا نشانہ لینے لگا۔ جو ٹارگٹ اُسے ملا تھا اگر وہ اُس کا نشانہ لے لے تو سبھی کنچے اُس کی ملکیت ہو جائیں گے۔ وہ ابھی نشانہ لے رہا تھا اور میں اپنی کنچوں کی رنگین دنیا میں پہنچ گیا۔

میرا روز کا معمول تھا کہ سکول سے گھر آتے ہی کھیلنے کے لیے نکل جاتا اور مغرب سے پہلے لوٹ آتا۔ دراصل یہ وہ دور تھا جب طالب علموں کی ٹیوشن کو نالائقی سمجھا جاتا تھا۔ جو بچہ سکول سے آکر کہیں اور بھی پڑھنے جاتا اُسے کُند ذہن خیال کیا جاتا مگر آج کل تو یہ بچوں کی تعلیمی سرگرمی کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔ میں صرف گھر میں کھانا کھانے کی غرض سے رُکتا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد میرے پائوں میں تو جیسے پہیے لگ جاتے اور میں تیزی سے گلی میں پہنچ جاتا۔ ہم سبھی دوست مل کر کبھی اُچّا ٹِبّا کھیلتے، کبھی گلی ڈنڈا، کبھی وانجھو؛ جب اِن جسمانی کھیلوں سے تھک جاتے تو کنچوں سے جی بہلانے لگتے۔

دُکان سے چونّی کے کنچے خریدتے اور کھیلنے والی ٹولی میں شامل ہو کر اپنی قسمت آزمانے لگتے۔ پہلے پہل تو مجھے روز ہی چونّی خرچ کرنی پڑتی۔ میں سیکھنے کے مرحلے میں تھا لہٰذا چھ کنچے کب تک میرا ساتھ دے سکتے تھے۔ پھر مجھے جیسے اس کھیل کی سمجھ آنے لگی۔ اپنے گھر میں ہی دیوار کے ساتھ میں صبح صبح اس کھیل کی باقاعدہ مشق بھی کرنے لگا۔ میں چند کنچوں کو ہاتھ میں پکڑتا اور اُنھیں دیوار کے ساتھ ہی کھتّی کی جانب لڑھکا دیتا۔ ترکیب یہ ہوتی کہ دیوار سے ٹکڑانے کے بعد وہ بکھر جائیں تاکہ مطلوبہ کنچے کا نشانہ لینے میں آسانی ہو۔ اگر کھیل کے دوران نشانہ چُوک جاتا تو مخالف کھلاڑی کی باری آجاتی اور مجھے محنت کرنا پڑی۔ پھر تو محلے میں بطور کنچوں والا لڑکا مشہور ہو گیا۔

دراصل میں نے ہاتھ کو ترچھا کرکے نشانہ لگانے کا جو طریقہ سیکھا تھا وہ کام دکھانے لگا تھا۔ کچھ دنوں میں ہی میرے پاس سینکڑوں کی تعداد میں کنچے جمع ہوگئے۔ یہ کنچوںکا خزانہ میں نے لکڑی کے پرانے سے ڈبے میں سنبھال کے رکھ لیا۔ پھر وہ ہوا جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

میں نے خواب میں والد صاحب کو دیکھا۔ وہ سائیکل پر سوار تھے۔ وہ سائیکل سے اُترے اور مسکراہٹ کے ساتھ میری جانب بڑھے۔ میں ہاتھ میں کنچے پکڑے حیرانی سے اُنھیں دیکھ رہا تھا۔ میں نے کہا ’’مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ وفات پا گئے ہیں‘‘۔ اُنھوںنے مجھے اُٹھایا، اپنے سینے سے لگایا۔ میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولے ’’میں کہیں بھی نہیں گیا میرے بیٹے۔ میں تو ادھر ہوں۔ ہر وقت تمھارے پاس‘‘ میں اُن کے کندھے پر سر رکھے سرشار ہوا جارہا تھا۔ اُنھوں نے مجھے زمین پر اُتارا اور بولے ’’یہ تم کیا کھیل رہے ہو۔ تمھیں تو پڑھنا چاہیے۔ اپنی پڑھائی پر توجہ دو‘‘۔ وہ سائیکل کی جانب بڑھے۔ سائیکل کے ساتھ لٹکتے تھیلے سے کتاب نکالی اور مجھے تھما دی۔ میں نے کنچوںکو زمین پر پھینک دیا اور کتاب تھام لی۔ وہ بچوں کی کہانیوں والی تصویری کتاب تھی جس پر مختلف نوع کی رنگ بہ رنگی شکلیں بنی ہوئی تھیں۔ میں کتاب کھول کر دیکھنے لگا۔ اُس میں کہانیوںکے ساتھ تصویریں بھی بنی ہوئی تھیں۔ میں پوری طرح کتاب کی دنیا میں کھو گیا۔ مجھے خبر بھی نہیں ہوئی کہ والد صاحب سائیکل پر بیٹھ کر چلے گئے تھے۔ میں نے دور اُنھیں جاتے ہوئے دیکھا۔ وہ سفید دھند میں غائب ہو گئے۔ میں کتاب کو سینے سے لگائے اُچھلتا کودتا گھر کی جانب آگیا۔ میری آنکھ کھلی تو اذان کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔

میں بستر سے نیچے اُترا۔ میرا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔ میں نے کنچوں والا ڈبہ اپنی چارپائی کے نیچے سے باہر کھینچا، اُسے اُٹھایااور گلی میں جا کر زمین پر اُوندھا کردیا۔ چھوٹے بڑے شیشے کے رنگ دار گول مٹول کنچے اینٹوں کے فرش پر دور تک لڑھکنے لگے۔ اُسی روز سکول سے واپسی پر میں نے کہانیوں کی کتاب خریدی اور چھت پر نیم کے سائے تلے اُسے پڑھنے لگا۔ گلی میں شور تھا۔ بچے میرے کینچوں سے کھیل رہے تھے اور میں کتاب کی دنیا میں پہنچ چکا تھا۔

بلال کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ وہ شاپر ہاتھ میں تھامے ہماری جانب بڑھ رہا تھا اور ہمیں آوازیں دے رہا تھا۔ اُس نے شاپر لہراتے ہوئے کہا ’’یار چائے تیار ہے اور تم لوگ یہاں کھڑے ہو۔ بسکٹ اور نمکو تمھارا مزید انتظار نہیں کریں گے۔ ‘‘میں اور سمیر، بلال کی معیت میں پٹرول پمپ کے ساتھ چائے کے ڈھابے پر پہنچ گئے۔ چائے اتنی عمدہ تو نہیں تھی لیکن تھکاوٹ دور کرنے کے لیے اکسیر کا کام کر گئی۔ نمکو اور بسکٹ سے کسی حد تک بھوک کم ہو گئی مگر یہ صرف وقتی طور پر تھا۔

اب گاڑی راول پنڈی کی جانب رواں دواں تھی۔ واپسی پر سڑکیں، راہگیر اور اردگرد کا ماحول انجان سا لگ رہا تھا۔ جیسے ہم کسی ایسی دنیا میں آ نکلے ہوں جہاں کے ہم نہیں تھے۔ بھوک آہستہ آہستہ جاگنے لگی۔ باقی حقیقتوں کے ساتھ بھوک بھی ایک حقیقت ہے۔ جس سے انکار ممکن نہیں۔ مجھے کنوٹ ہامسن کا مشہور زمانہ ناول ’’بھوک‘‘ یاد آنے لگا۔ گاڑی کو سڑک پر دوڑتے ہوئے دو گھنٹے سے اوپر ہو چکے تھے۔ بھوک عروج پر تھی۔ بسکٹ اور نمکو جو کہ وقتی سہارا بنے تھے معدے میں کب کے گھُل چکے تھے اب کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ گاڑی میں پانی تھا۔ صرف اور صرف پینے کے لیے پانی تھا۔ ہم گرم مربوط علاقے میں پہنچ چکے تھے۔ اگرچہ گاڑی کا اے۔ سی چل رہا تھا مگر قدرتی ٹھنڈک کے مقابلے میں کچھ اہمیت نہیں رکھتا تھا۔

میں بار بار بوتل سے پانی کے گھونٹ اپنے حلق میں انڈیل رہا تھا ایسا کرتے ہوئے مجھے پانی سے جُڑی بات یاد آ رہی تھی۔ ظفر، خرم اور میں بیٹھک میں بیٹھے تھے۔ دو چارپائیاں پڑی تھیں۔ چارپائیوں کے درمیان لکڑی کی میز تھی اس پر سٹیل کا جگ اور دو گلاس رکھے تھے۔ یہ ظفر کا آبائی گھر تھا۔ بیٹھک کی دیواریں تازہ تازہ پلستر کی گئی تھیں اور سیمنٹ کی ہمک چھوڑ رہی تھیں۔ فرش بھی نہیں بنا تھا۔ کچی زمین پر بے ترتیبی سے جڑی ہوئی اینٹیں فرش کی کمی کو پورا کر رہی تھیں۔ ہم تینوں ایک چارپائی پر بیٹھے تھے۔ میز کے دوسری طرف والی چارپائی پر اچانک سے آجانے والے لڑکے بیٹھے تھے۔ معاملہ یہ تھا کہ وہ بن بلائے مہمان مہینے میں تیسری مرتبہ وارد ہوئے تھے۔ یعنی دو مرتبہ پہلے بھی اِسی طرح اچانک سے آچکے تھے۔ اُن سے ہماری کوئی خاص دوستی بھی نہیں تھی بلکہ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو ہم ٹھیک طرح سے اُنھیں جانتے بھی نہ تھے۔

ان سے ہماری ملاقات لاہور کے شادی ہال میں ہوئی تھی۔ شادی ہال کا نیا نیا رواج چلا تھا اور ہم تینوں ایک دوست کے بڑے بھائی کی بارات کے ساتھ وہاں پہنچے تھے۔ شادی ہال کیا تھا قمقموں اور روشنیوں کا بھنڈار تھا۔ ہال کا کوئی کونہ ایسا نہ تھا جہاں کسی شئے کا سایہ پڑ رہا ہو۔ میں نے اتنی زیادہ روشنی کو دیکھتے ہوئے خرم اور ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’لگتا ہے یہاں چیونٹیوں کے سپیئر پارٹس سمبل کیے جاتے ہیں۔ ‘‘ ظفر سٹیل کی چائے دانی کی جانب اشارے کرتے ہوئے بولا ’’ویلڈنگ پلانٹ بھی موجود ہے‘‘ خرم نے ٹرک والا کی رنگ دیکھتے ہوئے گِرہ لگائی ’’تیارہ شدہ مال مارکیٹ میں پہنچانے کا بندوبست بھی ہے‘‘ قہقہے بیک گرائونڈ میوزک کا کام کررہے تھے اور ہم تینوں بے تکی باتوں کا راگ آلاپ رہے تھے۔ ہم تینوں کافی دیر تک اسی طرح چیزوں، رنگوں اور چہروں پر تبصرے کرتے رہے۔

دو لڑکے فیصل آباد سے تعلق رکھتے تھے۔ خوبرو تھے اور شوخے بھی تھے۔ چوں کہ فیصل آباد میں جگت عام ہے مگر وہ دونوں خاص و عام کا فرق سمجھتے تھے۔ اس لیے جلد ہی ہم سے آن ملے۔ بس پھر کیا تھا شادی میں ہم پانچوں نے مل کر وہ دھما چوکڑی مچائی کہ خُدا کی پناہ؛ شادی کے اختتام پر بچھڑتے سمے اُن دونوں نے ہمیں اپنا پتہ اور فون نمبرز بھی دیے، آنے کا وعدہ بھی لیا۔ ہم نے بھی مروتاً پتہ اور نمبرلکھو ادیے۔ ہم تو کبھی فیصل آباد نہیں گئے مگر وہ دونوں اگلے دو ہفتوں میں تیسری مرتبہ ہمارے سامنے بیٹھے تھے۔ پہلی مرتبہ ہم نے خوب خدمت کی۔ دوسرے ہفتے بھی جیسے تیسے ہو سکا اُنھیں کھانا کھلایا، سیر کروائی مگر اب تیسرے ہفتے ہماری جیبیں خالی تھیں اور ہمیں وہ دونوں زہر لگ رہے تھے۔

ہمیں جب خبر ہوئی کہ وہ دونوں پھر آ دھمکے ہیں تو ہم نے ان دونوں کا چیزا کرنے کا ارادہ بنایا۔ چیزا کرنا سے مراد بلف کرنا نہیں بلکہ اگلے بندے کا کسی ایک بات کو مسلسل دہراتے ہوئے مذاق اُڑانا ہوتا ہے۔ سو میں نے آتے ہی پوچھا ’’ظفر بھائی، انھیں پانی وانی پلانا تھا‘‘ سو ہم نے باتوں باتوں میں انھیں ایک ایک گلاس پانی پلادیا۔ پھر خرم بولا ’’بھائی جان پانی پیو۔ تازہ اور ٹھنڈا پانی ہے۔ ‘‘ ایک ایک گلاس مزید پلادیا۔ اب ظفر کی باری تھی وہ بھی انھیں پانی کے فوائد بتانے لگا اور گلاس بھر کے اُن کے آگے کردیا۔ یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔ یوں بار بار پانی پینے کے اصرار پر وہ چڑ سے گئے۔ یہ ان سے ہماری آخری ملاقات تھی۔ اب سوچتا ہوں تو عجیب سا لگتا ہے کہ ہم لوگ کسی احساس کے بنا کس طرح اگلے بندے کی تذلیل کرنے سے حِظ اُٹھایا کرتے تھے۔

گاڑی میں مسلسل پانی پیتے ہوئے اور بھوک محسوس کرتے ہوئے مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وقت دائرے کی صورت میں ہے۔ بات جہاں سے شروع ہوتی ہے گھوم پھر کروہیں اختتام پذیر بھی ہوتی ہے۔ یہ سب کہیں پڑھا تھا مگر پڑھتے وقت یہ بات پوری طرح سمجھ نہیں آئی تھی۔ اب لگاتار پیاس بجھاتے ہوئے اور بھوک سے لڑتے ہوئے یہ بات مجھے سمجھ آگئی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply