مولاناابوالکلام آزاد کی تحریریں: نقد ونظرکی کسوٹی پر (حصہ 3)

0
  • 4
    Shares

 کسی بھی معاشرے میں شخصیات کے مطالعہ کیلیے انکا تجزیہ انسانی سطح پر کیا جانا اسلیے ضروری ہوتا ہے کہ شخصیت پرستی کے بجاے انکے اعلی اوصاف حقیقی تناظر میں سامنے لاے جاسکیں۔ دانش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر ایک جامع تحقیق و تنقید کا آغاز یہاں سے ہو رہا ہے۔ یہ اس سلسلے کا تیسرا مضمون ہے، ہر دو دن بعد ہم اس سلسلہ کی اگلی قسط شائع کرتے رہیں گے۔  زیر نظر مضمون شایع کرنے کا مقصد محض ایک علمی بحث کا آغاز ہے، اگر کوئی صاحب اسکے جواب میں کچھ لکھنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم موجود ہے۔

 

مولانا آزاد کے والد مولانا خیر الدین

مولانا آزاد اپنے والد مولانا خیر الدین کے متعلق “آزادی ہند” میں بیان کرتے ہیں۔ “میرے دادا کا جب انتقال ہوا تو میرے والد مولانا خیرالدین بہت کم عمر تھے۔اسی لیے میرے والد کی پرورش ان کے نانا مولانا منور الدین نے کی ۔غدر سے دو برس پہلے ہندوستان کے حال سے دل برداشتہ ہو کر مولانا منور الدین نے مکہ معظمہ کو ہجرت کا فیصلہ کیا۔ میرے والد ان کے ساتھ تھے۔ بھوپال میں قیام کے بعد بمبئی پہنچے لیکن مکہ معظمہ نہیں پہنچ سکے کیونکہ بمبئی میں ہی ان کا انتقال ہو گیا۔اس وقت میرے والد کی عمر تقریباً پچیس برس تھی۔ وہ مکہ معظمہ گئے اور وہیں سکونت اختیار کر لی اپنے لیے مکان بنوایااورشیخ محمد ظاہروتری کی بیٹی سے شادی کر لی۔ شیخ محمد ظاہروتری مدینہ کے ایک عظیم عالم تھے۔” جبکہ “آزاد کی کہانی” میں بیان ہوتا ہے۔ ” میرے والد مولانا خیر الدین 1831ء میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔ والدین کا صغیر سنی میں انتقال ہو گیا تھا اس لیے نانا کے ہاں پرورش ہوئی۔ جب ان کے نانا (مولانا منور الدین)نے ہجرت کا ارادہ کیا تو یہ بھی ان کے ساتھ روانہ ہوئے۔ بھوپال میں بھی نانا کے ساتھ تھے۔ وہاں ان کے نانا بیمار ہو گئے۔ دو سال وہیں قیام رہا۔ تیسرے سال نانا کے ساتھ مکہ معظمہ پہنچے۔ نانا نے پانچ سال میں پانچ حج کیے اور وہیں انتقال کیا۔اس وقت علمائے حرمین میں شیخ محمد ظاہر وتری اور شیخ عبداللہ سراج سب سے بڑے عالم تھے۔ والد مرحوم انہی دو اساتذہ کی خدمت میں رہے اور بالآخر شیخ محمد ظاہر اس درجہ شفقت کرنے لگے کہ کچھ عرصہ بعد اپنی بھانجی سے ان کا عقد کر ‘‘دیا۔

یہ دونوں اقتباس آپ کے سامنے ہیں ۔ ان میں دو باتوں کی سمجھ نہیں آتی۔ پہلی یہ کہ آیا مولانا منور الدین بمبئی میں ہی انتقال فرما گئے تھے جیسا کہ “آزادی ہند” میں بتایا گیا ہے یا وہ مکہ معظمہ پہنچ کر پانچ حج کرنے کے بعد وہیں فوت ہوئے جیسا کہ “آزاد کی کہانی” میں بتایا گیا۔آخر ان میں سے کونسا بیان درست مانا جائے۔ دوسری بات یہ کہ آیا مولانا آزاد کی والدہ “آزادی ہند” کے بیان کے مطابق شیخ محمد ظاہروتری کی بیٹی تھیں یا پھر “آزاد کی کہانی” کے فرمان کے مطابق ان کی بھانجی۔ یاد رہے یہ سگی والد ہ کے رشتے کی بات ہو رہی ہے کسی دور کے جاننے والے کی نہیں۔ اتنے بڑے تضادات کو کس طرح حل کیا جا سکتا ہے۔ ہاں مولانا آزاد کے مریدین ان بیانات میں کوئی تطبیق دے سکیں اور اس عقدے کو سلجھا سکیں تو اور بات ہے۔

’”آزادی ہند” میں مولانا فرماتے ہیں۔ “میرے والد کی ایک عربی کتاب دس جلدوں میں مصر سے شائع ہوئی تو وہ بھی پورے عالمِ اسلام میں معروف ہو گئے۔” اسی طرح “آزادکی کہانی” میں ارشادہوتا ہے۔ “اسی زمانے میں علمائے مکہ نے والد مرحوم سے کہا کہ وہابی عقائد کی کتابیں اردو میں ہیں جنہیں وہ سمجھ نہیں سکتے۔اس طرح والدمرحوم نے ایک کتاب نہایت شرح و بسط کے ساتھ لکھی جو ان کی تصانیف میں سب سے بڑی ہے۔ یہ دس جلدوں میں ختم ہوئی ہے اور ہر جلد بہت ضخیم ہے۔ایک جلد صرف مقدمے میں ہے۔انتظام یہ کیا گیا کہ کتاب کی تصنیف و اشاعت ایک ساتھ ہو۔چنانچہ پہلی جلد جوں ہی تیار ہوئی چھپ گئی۔اسی طرح دوسری جلد بھی۔یہ دونوں مکے کے سرکاری پریس مطبع میری پریس میں چھپی ہیں۔ لیکن چونکہ اس درمیان میں سفر درپیش آگیااس لیے بقیہ جلدیں نہ چھپ سکیں۔”‘‘

حیرت ہوتی ہے کہ کبھی یہ بتایا جاتا ہے میرے والد کی عربی کتاب دس جلدوں میں مصر سے شائع ہوئی اور کبھی یہ کہ پہلی دو جلدیں مکہ کے مطبع میری پریس میں چھپی تھیں اور بقیہ چھپ نہ سکی تھیں۔ ہو سکتا ہے کوئی صاحب یہ کہیں کہ پہلی بار تو دو جلدیں مکہ سے شائع ہوئی تھیں پھر بعد میں دس کی دس جلدیں اکٹھی مصر سے شائع ہوئی ہوں۔ تو پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دس جلدوں پر مشتمل عربی کتاب جو مولانا کے بقول ان کے والد کو پورے عالمِ اسلام میں معروف کر دیتی ہے۔ وہ ہے کہاں۔ کسی نے دیکھی یا پڑھی۔ دنیا کی کسی لائبریری کا پتہ جہاں یہ کتاب موجود ہو۔ یا صرف یہ مولانا آزاد کے فکرِنارساکی ایسی تخلیق ہے جس کا حقیقت کی دنیا میں نہ کوئی وجود تھا اور نہ ہے۔

آگے چلئے۔”آزادی ہند” میں مولانا آزاد فرماتے ہیں۔”مکہ معظمہ میں لوگوں کے لیے نہر زبیدہ پانی کا خاص ذریعہ تھی۔ اس کی تعمیر خلیفہ ہارون الرشید کی اہلیہ بیگم زبیدہ نے کروائی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نہرکی حالت خراب ہو چکی تھی۔ میرے والد نے اس نہر کی مرمت کروائی۔ ہندوستان،مصر،شام اور ترکی میں انہوں نے20لاکھ کا چندہ جمع کیا اور نہر کی حالت بہتر کروا دی۔اس وقت سلطان عبد الحمید ترکی کے حکمران تھے۔ میرے والد کی خدمات کے صلے میں سلطان نے انہیں درجہ اول کا تمغہ مجیدی عطا فرمایا۔”‘‘

اسی طرح “آزاد کی کہانی‘‘میں بیان کیا جاتا ہے۔”ان کے (یعنی والد صاحب کے)زمانہ قیامِ حجاز کا ایک یادگار اور تاریخی واقعہ نہرِ زبیدہ کی مرمت بھی ہے۔” اس کے بعد مولانا آزاد نے پوری تفصیل بیان کی ہے کہ کس طرح رقم اکٹھی ہوئی،کیسے نقشے تیار ہوئے اور کس طرح تعمیر مکمل ہوئی۔ ساتھ ہی انہوں نے شریف مکہ کی طرف سے نہر زبیدہ کے لیے جمع شدہ چندہ میں خرد برد کا ذکر بھی فرمایا ہے۔اور آخر میں سلطان کی طرف سے تمغہ مجیدی کے اجراء کا ذکر بھی کیا ہے۔

مگر جب ہم محقیقین کی تحقیق دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں نہر زبیدہ کی تعمیر کا کارنامہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی صاحب “اظہار الحق” نے سر انجام دیاتھا اور انہیں ہی تمغہ مجیدی درجہ اول عطا ہوا تھا۔

مولانا نسیم فریدی نے دسمبر1958ء میں الفرقان لکھنو میں اپنی تحقیق سے پتہ چلایا کہ نہر زبیدہ کی تعمیر میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا کردار تھا۔ پھر مولانا ماہر القادری نے بھی”فادان” 1960ء میں اسی تحقیق کو درست قرار دیا۔ موجودہ دور میں حکیم محمود احمد ظفر اپنی کتاب “مولانا رحمت اللہ کیرانوی اور ان کے معاصرین” میں بھی جدید و قدیم ذرائع سے بتا چکے ہیں نہر زبیدہ کی تعمیر مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی تحریک پر ہوئی تھی۔ان تمام ثبوتوں کے بعد مولانا آزاد کی نہر زبیدہ کی تعمیر کو اپنے والد سے منسوب کرنے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ پھر جب مولانا آزاد “آزاد کی کہانی” میں آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ “شریفِ مکہ نے نہر زبیدہ کے فنڈ میں خرد برد کی تھی۔اس پر میرے والد نے اس کی رپورٹ حکومت کو کرنا چاہی تو شریف مکہ ان کا جانی دشمن ہو گیا۔ والد مرحوم بتایا کرتے تھے کہ جب شریف کی مخالفت انتہائی درجے تک پہنچ گئی اور ایک دن مجھے خبر ملی کہ شریف نے میرے خلاف اپنی سازشیں پوری طرح مکمل کر لی ہیں ۔پچھلی رات کو طواف کرتے ہوئے میں نے خدا سے دعا کی “اے معبود !تو بہتر جانتا ہے کہ کون حق پر ہے اور تو نے حق والوں کی نصرت و حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔ چنانچہ جوں ہی نمازِ فجر ختم ہوئی میں نے یہ اعلان ہوتے سنا کہ شریف کا انتقال ہو گیا۔” دوسری طرف ہمیں یہ معلوم ہے کہ نہر زبیدہ کی تعمیر سے مولانا کے والد کا کوئی تعلق ہی نہیں تھا تو پھر مولانا آزاد کی بیان کردہ اپنے والد کی کرامت کی کیا اصلیت رہ جاتی ہے۔

اسی طرح آگے چل کر “آزاد کی کہانی” میں بیان کیا جاتا ہے کہ “غالباً 1901ء کی بات ہے کہ مولوی احمد رضا خاں بریلوی ان سے ملنے کے لیے کلکتہ آئے جن سے ان کے برابر تعلقات رہے تھے اور بارہا ہم لوگوں سے کہا تھا کہ یہ شخص بلاشبہ صحیح الاعتقاد ہے۔ لیکن بد قسمتی سے وہ اپنے ساتھ بعض اپنی تصنیف لائے اور چونکہ شیخ احمد دحلان والد کے خاص دوست تھے ۔اس لیے انہوں نے خاص طور پر اپنا ایک رسالہ دیا جو ان کے رد میں لکھا تھا اور اس میں عدم ایمان ابوین آنحضرتﷺاور ایمانِ ابو طالب پر زور دیا تھا۔چنانچہ اس پر کچھ دیر تک والد نے ان کا تعقب کیا کہ آخر وہ ہکا بکا رہ گئے اور خاموش چلے گئے۔ جانے کے بعد ہم سے کہا کہ اس شخص کے عقیدے میں بھی فتور ہے۔” ناطقہ سربہ گریباں ہے اسے کیا کہئے ۔

ہمیں تلاشِ بسیار کے باوجود بھی مولانا احمد رضا خاں بریلوی کا کوئی ایسا رسالہ نہیں ملا جس میں انہوں نے عدم ایمانِ ابوین آنحضرتﷺپر زور دیا ہو اور ایمانِ ابو طالب کو ثابت کیا ہو۔ بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ کچھ عرصہ قبل مولانا رضا احمد خاں بریلوی کے فتاویٰ کا مجموعہ 34 سے زائد جلدوں میں چھپا ہے۔ اس میں بہت سی جگہوں پر ایمانِ ابوین آنحضرتﷺ اور عدم ایمانِ ابوطالب پر زور دیا گیا ہے۔ مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے چھپے ہوئے فتوؑوں کے بعد مولانا آزاد کی بیان کی گئی کہانی کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔

اسی طرح “آزاد کی کہانی” میں بیان کیا جاتا ہے۔”اسی زمانے میں یہ ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش آیاکہ شیخ احمد دحلان نے مذہب شافعی کو چھوڑ کر مذہب حنفیہ اختیار کر لیا۔اس کے باعث بھی والد مرحوم ہی تھے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ میں دوسرے مذہبی عہدوں کی طرح حجاز کے مفتی و شیخِ حرم کا عہدہ بھی صرف احناف کے ساتھ مخصوص تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ شیخ احمد دحلان اس عہدے کے متمنی تھے۔ والد نے ہی انہیں آمادہ کیا کہ وہ شافعیت چھوڑ کر حنفی ہو جائیں،چنانچہ وہ ہو گئے۔”‘‘

اس پر کیا کہا جائے۔ شیخ احمد دحلان آج بھی پورے عالمِ اسلام میں جانے جاتے ہیں جبکہ مولانا آزاد کے والد مولانا خیر الدین کو مولانا آزاد کی کتاب “آزاد کی کہانی” سے باہر کوئی جانتا تک نہیں۔ نہ ہی شیخ احمد دحلان کے کسی سوانخ نگار نے ان کے مسلک کی تبدیلی کا بتایا۔ جبکہ مولانارحمت اللہ کے تذکرے میں بھی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ گئے تو ان کی شیخ دحلان سے ملاقات ہوئی۔ شیخ شافعیت میں ہی درس دیا کرتے تھے۔ پھر نہ معلوم مولانا آزاد نے کیوں افسانوی قصے کی بنیادپر شیخ احمد دحلان کی شخصیت کو مجروح کیا۔

اسی طرح مولانا آزاد نے جنگِ آزادی 1857ء کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر جانے والے علمائے اہلحدیث کے ستائس رکنی وفد کی مکہ میں گرفتاری اور رہائی کے حوالے سے بھی یہ کہہ کر ان کی شخصیت کو داغدار کیا کہ بجز تین شخصوں کے سب نے تقیہ کیا۔ پور ی کتاب میں مولانا آزاد نے اپنے اسلاف کی عظمت ثابت کرنے کے لیے کئی اشخاص کے کردار پر حرف زنی کے نشتر چلائے ہیں۔ اور ان کی شخصیت کوداغدار کیا ہے ۔

مولانا آزاد نے تو “تذکرہ” میں لکھا تھا۔ “حقیقت یہ ہے کہ انسان کی فطری ترقی اور قدرتی حقوق کے قیام کے لیے نسب و خاندان کے امتیازِ باطل سے بڑھ کراور کوئی روک نہیں ہو سکتی۔ یہی چیز ہے جو انسان کو اس کے ذاتی قوتوں کے استعمال اور اس کے ثمرات سے محروم رکھنا چاہتی ہے اور اس خلافِ فطرت راہ کی رہنمائی کرتی ہے کہ ایک شخص کو باوجود استحقاقِ ذاتی مستحقِ شرف سمجھا جائے اور دوسرے کو باوجود استحقاقِ ذاتی محروم کر دیا۔ لیکن افسوس غرورِ نسل و وطن کے بت کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے پھر چرا لیے گئے اور نئے نئے بھیسوں میں پھر اس کی پرستش شروع ہو گئی۔ اب کم سر ملیں گے جو اس نشئہِ باطل سے سرگراں نہ ہوں۔”‘‘

’پس الحمداللہ کہ نہ اس کی طلب ہے اور نہ اس پر اعتماد اور نہ نا اہلوں کے اس غریبِ عزت اور سرابِ شرف کی ضرورت”‘‘

مگر افسوس کہ مولانا آزاد نے اپنے اسلاف اور حسب و نسب پرنہ صرف فخرومباہات سے کام لیابلکہ ان کی عظمت میں اضافوں کے لیے افسانوی قصوں سے بھی گریز نہیں کیا۔ اس طرح وہ خود غرورِ نسل کے بت کی پرستش میں پوری طرح ملوث ہیں اور اس نشئہ باطل سے سرگراں بھی۔

ایک طرف تو مولانا آزاد اپنے والد کے انتقال اور ان کے جنازے کے متعلق فرماتے ہیں کہ “کلکتہ میں شاید ہی اتنا مجمع کسی واقعہ پر ہوا ہو جتنا ان کے جنازے پر ہوا۔ ظہر کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مغرب کے بعد جنازہ اٹھایا گیا ۔ جنازہ گھنٹوں تک صرف لوگوں کے ہاتھوں میں بڑھتا رہا۔ کاندھے پر رکھنے کی نوبت ہی نہ آئی۔” پھر مولانا یہ بھی بتاتے ہیں کہ کبھی وہ علمائے ازہر سے مقابلہ کر رہے تھے تو کہیں علمائے وہابیہ سے۔ کبھی شریفِ مکہ کے مشیرِ خاص تو کہیں سلطانِ ترکی کے دربار میں باریاب۔ ایسے صاحبِ خصوصیات بزرگ پورے نہیں تو نصف عالمِ اسلام میں تو مقبول ضرور ہونے چاہئیں تھے۔ مگر ان کا نام نہ تو ترک،نہ ہی مصرکے کسی تذکرے میں ملتا ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستان کے کسی مطبوعہ تذکرے میں بھی ان کا نام نظر نہیں آتا۔

۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔

 

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: