“نولکھی کوٹھی” سے “کماری والا” تک —- ڈاکٹر نعیمہ بی بی

0

اردو ناول سے میری رغبت نہ تو کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی کسی نئے اردو ناول کو چھپتے ہی پڑھ لینا کوئی بڑا واقعہ البتہ نئے لکھے جانے والے ناول کا مجھے اپنی طرف متوجہ کر لینا ضرور انوکھی بات تھی اور یہ کہنا بجا ہے کہ ناول حسن کی صورت حال خالی— جگہیں— پر—کرو کے بعد “کماری والا” پہلا ناول ہے جسے میں نے ایک دن میں پڑھ کر ختم کر دیا مگر شاید اس نال کے طلسم سے نکلنے میں ایک سال لگ جائے۔ کماری والا علی اکبر ناطق کا دوسرا ناول ہے جو ابھی دسمبر 2020 میں بک کارنر جہلم نے شائع کیا ہے۔ یہ ناول 638 صفحات پر مشتمل ہے اور اپنے اندر موضوعات کا ایک جہان رکھتا ہے۔

علی اکبر ناطق سے میرا تعارف “نولکھی کوٹھی ‘کی بدولت ہو ہی چکا تھا مگر “کماری والا “میں جس طرح انھوں نےناول پر گرفت رکھی اور جس فنی چابکدستی سے ایک کردار ضامن کے اردگرد تمام کہانی کی بنیاد رکھی وہ قابل تعریف ہے۔ یہ ناول حقیقت کے اتنا قریب تر ہے کہ بعض اوقات پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ ناول نہیں بلکہ کسی زندہ جیتے جاگتے ضامن کی کہانی خود اسی کی زبانی سنی جارہی ہے۔ فی الحقیقت عصر حاضر میں وہی فکشن اپنی جگہ بنا سکتا ہے جو حقسانہ کی عمدہ مثال ہو اور اگر کوئی حقسانہ کی تکنیک کو لے کر دیکھے تو موجودہ عہد کا یہ ناول اس کی سب بڑی مثال ہے۔ اس ناول کاطرز اسلوب اور موضوع اس ناول کو رہتی دنیا تک امر کرے گا۔

ناول کا بنیادی کردار ضامن ہے۔ جو ناول کا راوی بھی ہے۔ ناطق نے اسی کردار کے اردگرد تمام کہانی تشکیل دی ہے۔ یہی اس ناول کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ کہانی میں بہت کم کردار رکھے گئے ہیں اور کہیں بھی ناول کے مرکزی کردار ضامن کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا گیا۔ اتنا مضبوط پلاٹ اور کہانی پر اتنی کم گرفت بہت کم ناول نگاروں کےہاں نظر آتی ہے۔

یہ ناول 82 ابواب پر مشتمل ہے۔ صرف پہلا باب شاید ناول کی فنی ضرورت یا قاری کو سحر میں جکڑنے کے لیے کسی کی تلاش سے کیا گیا ہے۔ ابتدا ضامن کے کماری والا کے علاقے میں ایک خاتون کی تلاش سے ہوتی ہے۔ کہانی کا راوی ضامن اس عورت کی تلاش میں اسلام آباد سے بہت مشکلوں سے کہیں گاڑیوں پر اور کہیں پاپیادہ کماری والا کسی عورت کی تلاش میں جاتا ہے۔ جب آغاز میں وہ دیہاتوں سے گزرتا ہے تو یہاں کہانی سے زیادہ منظر کشی اور جزئیات نگاری پر توجہ دی گئی ہے۔ چونکہ ضامن کسی گاڑی کا انتظار کیے بغیر پیدل ہی سفر کا شروع کرتا ہے کیونکہ اسے شاد بیگم نامی عورت سے ملنے کی شدید تمنا ہے اور وہ اس تمنا میں کسی گاڑی کے انتظار میں وقت ضائع نہیں کر سکتا۔ بہت مشکلات و مصائب کے بعد جب وہ اپنی منزل پر پہنچتا ہے اور شاد بیگم سے ملتا ہے تو اس کی موجودہ ہئیت اور حلیہ دیکھ کر حیران اور سراسیمہ رہ جاتا ہے۔

پہلے باب کے بعد 78 ابواب تک ضامن کی کہانی منٹگمری سے لے کر اسلام آباد تک چلتی رہتی ہے۔ اس دوران کیا کچھ نہیں ہوتا۔ ضامن کے بچپن سے لے کر کماری والا کی سب ہی کہانی ان ابواب، میں ایک تسلسل سے چلتی ہے۔ جہاں ضامن کا بچپن ایک ڈسپنسر ی کے پاس گزرتا ہے۔ ڈسپنسری کہانی کے وجود کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ کہانی کے زیادہ تر کردار ڈسپنسری کے لوگ ہیں جن کی بدولت کہانی آگے بڑھتی ہے۔ جہاں نرس عدیلہ کی کہانی، اس کے بیٹے کا اغوا، اس کی واپسی، اس کی بیٹی کا بھاگ جانا، اور ان کا روپوش ہو کر اس علاقے میں چلے آنا سب شامل ہے۔ یہیں سے دس سالہ ضامن کی محبت کی کہانی تئیس برس کی خوبرو دوشیزہ زینت سے پختہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ دوسری جانب کہانی کی دوسری مرکزی کردار ڈاکٹر فرح بھی اسی ڈسپنسری کے توسط ضامن سے ملتی ہے۔ اس کے پیچھے بھی باپ دادا کی خاندانی جائیداد کے تنازعات کی لمبی کہانی ہے جس کی بدولت روپوش ہو کر وہ اس علاقے میں آتی ہے۔ جس کے بیٹے جنید کے ساتھ بعد میں زینت بھاگ جاتی ہے۔

زینت کی ماں عدیلہ ایک مظلوم کردار جب کہ اس کا باپ ایک کٹھ پتلی کردار ہے جس میں ارتقا نظر نہیں آتا۔

بعد میں اس کردار ضامن زینت کی تلاش کرتا ہے اور ہر طرف سے مایوس ہو کر اسلام آباد آجاتا ہے اور مختلف ملازمتیں کرتا ہے۔ ہر طبقے کے لوگوں سے ملتا ہے۔ یہیں شیزا نامی لڑکی سے اس کی ملاقات ہوتی ہے اور اسی کردار کے ذریعے ناول کو انجام کی طرف لایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ شیزا دراصل زینت کی بیٹی تھی۔ اس زینت کی جو کماری والا میں شاد بیگم کے نام سے رہتی تھی اور ضامن اس کی تلاش میں ناول کے پہلے باب سے سرگرداں تھا۔ اور اس کو لے کر شیزا کے پاس ہسپتال آتا ہے۔ جہاں شیزا زندگی و موت کی کشمکش تھی اور چند دن بعد وہ مر جاتی ہے اور اس کی لاش کو زینت کماری والا لا کر دفن کر دیتی ہے اور یوں ناول اپنے انجام تک پہنچ جاتا ہے۔

بہت سے وسیلوں سے کہانی جس منطقی انجام کی جانب بڑھتی ہے اس کے لیے ناطق نے نہ صرف کمیونسٹ نظریات کی دھجیاں اڑائی ہیں بلکہ مذہبی لحاظ سے فرقہ واریت کی وجوہات پر روشنی بھی ڈالی ہے۔ ناطق نے پاکستان کے کچھ خطوں کی عمدہ عکاسی بھی ہے۔ کراچی میں غیر محسوس طریقے سے لوگوں کی آباد کاری سے لے کر اس شہر میں باردو کی کہانی تک سب عمدگی سے بیان کیا گیا ہے اور کہانی کو کراچی سے گھما کر واپس اسلام آباد تک لے آئے ہیں۔ جہاں ضامن کی کلرکی کے دوران بیوروکریٹ اور ان کی اندرونی سیاست اور ملکی فائلوں کی تفصیلات اور ان کا طرز زندگی نہایت بے باکی سے بیان کیا ہے۔

اسلام آباد کی طرز معاشرت، اعلیٰ طبقے کی زندگی، امرا اور اشراف کی بیگمات اور بیٹیوں کی زندگیاں کچی بستیوں میں ہونے والے جنسی واقعات، شراب کی بھٹیاں اور اسلام آباد کی صحافتی زندگی میں صحافیوں کے سیاسی کالمز کی بھرمار، معاصر ادیبوں کے رویے، جنسی معاملات پر لکھنے والے ادیب، خفیہ پبلشرز، شوبز انڈسٹری اور اس کے پیچھے سیکس انڈسٹری کا کاروبار اور ایسے کئی دوسرے معاملات کو اس ناول میں عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔

ناطق نے اس ناول میں زندگی کو خارج اور داخل دونوں زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کی ہے زندگی کی گہرائی و گیرائی کو جس طرح انھوں نے پیش کیا ہے اور اپنے ناول کو اپنی ذات کے حصار سے نکال کر ماحول اور گرد وپیش سے اس کا رشتہ جیسے استوار کیا ہے بہت کم ناول نگاروں کے ہاں یہ بات ملتی ہے۔ ان کا ناول عصر حاضر کی تیز رفتار بدلتی ہوئی زندگی، سنگین حالات اور نت نئے مسائل کی ترجمانی کرکے گہرے سیاسی، سماجی شعور کا احساس دلاتا ہے۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20