راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 27، آخری قسط) —- یاسر رضا آصف

0

میں نے بھوک کے ہاتھوں شکست کھا کر آخر کار اپنے لب کھول دیے۔ میں نے برملا کھانے کے بارے میں وین میں بات کرنی شروع کردی۔ چوں کہ سبھی بھوکے تھے۔ اس لیے وین میں اس موضوع پر بحث چھڑ گئی۔ اسلام کا مؤقف یہ تھا کہ موٹر وے پر کسی عمدہ ہوٹل سے پُر تکلف کھانا کھایا جائے تو بہتر ہوگا لیکن ہم میں سے کسی نے بھی اسلام کی بات سے اتفاق نہ کیا۔ پورے سفر میں یہ پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ اسلام اپنی بات منوانے میں ناکام رہا تھا۔ بھوک نے ہماری دماغی نسوں کو اپنے قبضے میں کر لیاتھا۔ میں اس معاملے میں رہبر بنا ہوا تھا اور بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا۔ جب اسلام کو معاملہ حد سے گزرتا دکھائی دیا تو اُس نے جعفر سے کسی ہوٹل پر گاڑی روکنے کاکہہ دیا۔ یہ سننا تھا کہ گاڑی میں چیختی چلاتی آوازیں بھنبھناہٹ میں بدل گئیں۔

جعفر نے تھوڑی دیر بعد ہی گاڑی ایک ڈرائیور ہوٹل کے آگے کھڑی کردی۔ ہوٹل کے اردگرد اجاڑ گٹھڑی بنی اُونگھ رہی تھی۔ کچھ فاصلے پر روڑی تھی جہاں شاپروں کا بہت بڑا ڈھیر پڑا تھا۔ جعفر نے بتا یا کہ یہاں صرف یہی ڈھابہ نما ہوٹل اپنا وجود رکھتا ہے۔ ہم لوگ اُترے اور نمانے جی کے ساتھ ہوٹل کی جانب بڑھنے لگے۔ ہوٹل میں بیٹھنے کے لیے سیمنٹ کا بڑا سا چبوترہ بنا ہوا تھا جو کہ مستطیل شکل میں ہوٹل کے ایک طرف سے دوسری طرف تک پھیلا ہوا تھا۔ چبوترے پر سرخ اور سبز رنگ کی شیٹ بچھی ہوئی تھی۔ ہم سب نے جوتے اتارے اور قطار بنا کر دیوار کے ساتھ بیٹھ گئے۔ آرڈر لینے کے لیے آنے والے شخص کی داڑھی اور مونچھیں بُری طرح بڑھی ہوئی تھیں۔ کپڑے بھی واجبی سے تھے۔ ڈھلتی عمر کے ساتھ الجھے ہوئے بال اُسے نشے کا عادی شخص دِکھا رہے تھے۔

میں نے بیرے کے حلیے کو نظر انداز کرتے ہوئے ’’کابلی پلائو‘‘ کا آرڈر دے دیا۔ سبھی نے میری جانب دیکھا اور نظر ثانی کا مشورہ دیا۔ میں اپنی بات پر مُصر رہا اور کابلی پلائو کی خصوصیات گنوانے لگا۔ چوں کہ زندگی میں ایک مرتبہ مجھے کابلی پلائو لاہور سے کھانے کا اتفاق ہوا تھا۔ جس میں بادام، کشمش، گاجر اور کئی طرح کے میوے شامل تھے۔ کچھ لوگ موبائل پر مصروف ہو گئے اور کچھ آپس میں گھر پہنچنے کے بارے میں بات کرنے لگے۔

تھوڑی دیر بعد ہمارے سامنے چاولوں کی پلیٹیں رکھ دی گئیں۔ جن کا رنگ مٹیالا اور اوپر سجی ہوئی گاجریں کچی ہونے کے علاوہ بے ہودہ طریقے سے کٹی ہوئی تھیں۔ پھر ہر پلیٹ میں گوشت کی بوٹی ربڑ کی لگ رہی تھی۔ پہلے چمچ نے ہی گلے میں پھانس کی صورت اختیار کرلی۔ ساتھ بیٹھے اسلام نے ٹہوکا لگایا کہ بوٹی تو نجانے کس جانور کی ہے اور خراد سے تراشی ہوئی لگتی ہے۔ پلائو نہ صرف بد ذائقہ تھا بلکہ صابن ملا لگ رہا تھا۔ ہم نے بمشکل دو دو چمچ کھائے اور اُٹھ کر باہر آگئے۔ مجھے اپنی آخرت خراب ہوتی نظر آرہی تھی۔ سفر کے اختتام پر ایسی بدمزگی صرف میری جلد بازی کے باعث ہوئی تھی۔ اس لیے میں عتاب کا نشانہ بن گیا۔ فخر مجھ سے وین میں انٹرویو کے انداز میں کابلی پلائو کی قسمیں پوچھنے لگا۔ میں مسکراتے ہوئے ہر بات ٹالتا رہا۔ لیکن کب تک بالآخر میں نے برملا اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور جان کی امان پائی۔

انسان ہر کام میں مکمل نہیں ہو سکتا۔ میں نے بھوک کے ہاتھوں مجبور ہر کر سب دوستوں کو بدمزہ کیا تھا۔ کابلی پلائو جو کہ پوری طرح پلائو بھی نہیں تھا میری وجہ سے انھیں چکھنا پڑا۔ میں سیٹ کی پشت پر سر رکھ کر سوچنے لگا کہ میں شروع دن سے ہی فیصلہ کرنے میں جلدی کرتا ہوں اور ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہوں۔ وقت پلک جھپکنے میں گزر جاتا ہے۔ لمحوں گھنٹوں اور گھنٹے دنوں میں جس تیزی سے بدلتے ہیں حیران کن ہے۔ لیکن اُن لمحوں میں کیا گیا ایک غلط فیصلہ کورے کاغذ پر سیاہی کے دھبے کی طرح ہمیشہ نمایاں رہتا ہے۔ انسان کسی کی شخصیت کا خاکہ بناتے وقت ان دھبوں کو لازمی گنتی میں لاتا ہے۔ یوں اصل خاکہ ماند پڑ جاتا ہے۔

چلتی گاڑی سے پیچھے کی جانب جھانکنے والے آدمی کی طرح میں بھی ماضی میں جھانکنے لگا تو دھند میں دور ایک منظر دکھائی دیا۔ پھر وہ منظر دھیرے دھیرے اپنی جزئیات سمیت مجھ پر واضح ہوتا چلا گیا۔ تختیاں ایک دوسرے کے کندھوں پر سر ٹکائے تکونی شکل میں دور تک دھوپ میں خشک ہو رہی تھیں اور ہماری کلاس سلیٹیں ہاتھ میں تھامے انھیں حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ ہمارے کان میں یہ بات پڑی تھی کہ اگلی کلاس میں ہمیں بھی تختیوں پر لکھنے کا موقع ملے گا۔ جس روز یہ موقع ملا میرے پائوں خارش زدہ جانور کی صورت پوری طرح زمین پر نہیں لگ رہے تھے۔ میں خوش تھا اور ہوا میں اُڑتا پھر رہا تھا۔

میں اگلی جماعت میں پہنچ گیا تھا۔ میرے کاندھے پر تھیلا تھا جس میں نئی کتابیں تھیں اور ہاتھ میں نئی نکور تختی تھی۔ جسے میں نے رات بھر پانی میں بھگو کر رکھا تھا اور کئی مرتبہ بستر سے اُٹھ کر دیکھا تھا۔ میں تختی کو لہراتے ہوئے جار رہا تھا۔ دو چار روز بعد میں نے اُسے دیوار پر مارا اور دو ٹکڑے کردیا۔ یہ کلاس میں تختی کی مضبوطی کا جائزہ لینے کا مقابلہ تھا جو میں واضح طور پر ہار گیا تھا۔ واپسی پر والدہ کی ڈانٹ نے مجھے خوش آمدید کہا اور خوب کھچائی ہوئی۔ شام کو والد محترم گھر آئے۔ انھیں ساری بات کا علم ہوا تو ڈانٹ کی بجائے انھوں نے مجھے گود میں بٹھایا، سمجھایا، پچکارا اور پیار کیا۔ پھر وہ مجھے بڑھئی کے پاس لے گئے۔

انھوں نے بڑھئی سے کہا کہ مضبوط سی تختی بنا کر دو۔ میں اگلے روز نئی تختی کے ساتھ سکول میں داخل ہوا۔ میں نے دن بھر سکول میں خوب شیخی بھگاری۔ میں نے اپنی تختی کو لوہے کی مضبوطی سے تعبیر کیا۔ میں دیکھتے ہی دیکھتے سب کی نظروں میں نمایاں ہوگیا۔ رشیدجو کہ کلاس کا مانیٹر بھی تھا۔ اُس نے مجھے چیلنج کیا کہ چھٹی کے بعد تختی پر تختی مارکر مضبوطی اور طاقت کا مقابلہ کریں گے۔ میں نے پیچھے ہٹنے میں اپنی ہتک محسوس کی اور حامی بھر لی۔

چھٹی کے بعد ہم لوگ سکول سے نکل کر کچی سڑک کے کنارے لگے شیشم کے پیڑ کے نیچے اکٹھا ہوگئے۔ کتنے ہی لڑکے تختیوں کی لڑائی دیکھنے کو جمع ہو گئے۔ رشید نکلتے قد، تھوتھلے جسم کا مالک تھا۔ اُسے نے مجھے پہلا وار کرنے کا موقع دیا۔ میں نے اپنی دانست میں اس رعایت کو بے عزتی خیال کیا اور اُس کی پیش کش ٹھکرا دی۔ سبھی طرف سے ہو ہا کی آوازیں اُبھریں۔ میں نے دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تختی کو زمین پر رکھ دیا اور اُسے وار کرنے کا موقع دیا۔ سبھی طرف سے میرے اس فیصلہ پر تالیاں بجنے لگیں۔ مجھے یقین کہ تختی کو کچھ نہیں ہوگا۔ پھر اردگرد موجود تماشائیوں کی تالیوں نے بھی میرا حوصلہ مزید بڑھا دیا تھا۔

میں آنکھوں میں فتح مندی کی چمک لیے دونوں ہاتھ کوہلوں پر رکھ کر کھڑا ہو گیا۔ لڑکے دائرے کی صورت میں ہمیں گھیرے ہوئے تھے اور اونچی آواز میں چیخ رہے تھے۔ میں خود کو فاتح سمجھ رہا تھا۔ مجھے اُن کی چیخیں میری جیت کا اعلان لگ رہی تھیں۔ تختی زمین پر پڑی تھی۔ رشید کے پاس ایک وار کا موقع تھا۔ تختی صحیح سلامت بچ جانے کی صورت میں میری باری تھی۔ رشید آگے بڑھا۔ اُس نے زمین پر پڑی تختی کو بائیں ہاتھ سے ٹیڑھا کیا اور دائیں ہاتھ میں پکڑی اپنی تختی کو کلہاڑی کی طرح اوپر لے گیا۔ گنتی گنی جانے لگی۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ لڑکوں کاہجوم ایک، دو، تین گنتے ہوئے رشید کو بڑھاوا دے رہا تھا۔ میں سانس روکے کھڑا تھا۔ رشید کا ہاتھ اوپر نیچے ہو کر درست نشانہ لینے کی جگہ متعین کررہا تھا۔

رشید نے سب کو خاموش رہنے کے لیے کہا شاید اُ س کے انہماک کی کیفیت پر اثر پڑ رہا تھا۔ ہجوم خاموش ہوگیا تو رشید نے پوری طاقت سے فضا میں تختی کو بلند کیا۔ پھر اُس نے بازو سے قوس بناتے ہوئے اوپر سے وار کیا۔ کڑک کی آواز نے میرے اوسان خطا کردیے۔ لڑکوں نے لمبا سا اوہو کیا اور میری تختی دولخت ہو کرزمین پر ڈھیر ہوگئی۔ سبھی لڑکے خوشی سے اُچھلنے لگے اور میں روہانسی صورت بنائے دونوں ٹکڑوں کو سینے سے لگائے گھر کی جانب چل دیا۔

گاڑی موٹر وے پر تیزی سے دوڑتی جارہی تھی۔ اب نہ تو موڑ تھے اور نہ ہی اونچی نیچی گھاٹیاں تھیں جو رفتار پر اثر انداز ہوتیں۔ موٹر وے پر گاڑی سرسراتی ہوئی چل رہی تھی۔ وین میں چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں۔ مغرب کے بعد پھیلنے والا اندھیرا ماحول کو اپنی گرفت میں لے رہا تھا۔ چہ مگوئیاں لاہور کی بجائے گاڑی کو پاک پتن لے جانے کے متعلق تھیں۔ سو اسلام نے جعفر سے کھل کر بات کی تو اُس نے بغیر کسی بحث کے ہماری رائے کو اہمیت دی اور اُسے تسلیم کرلیا۔

وین میں جعفر زندہ باد کے نعرے گونجنے لگے جس میں اسلام کا نام بھی شامل ہوگیا تو نعرہ مذہبی صورت اختیار کرگیا۔ سبھی دوست نعرے کی ذو معنیت پر مسکرانے لگے۔ نصرت فتح علی خان کے گیت کی گونج سے ہم محظوظ ہوتے ہوئے موٹر وے پر سفر کرنے لگے۔ پھر ’’تمھیں دل لگی بھول جانی پڑے گی‘‘ نے سماں باندھ دیا اور سفر کی تھکاوٹ کافی حد تک دور ہو گئی۔ والیم کے اختتام پر کسی اور گلوکار کی آواز ہمیں لطف دینے میں ناکام رہی تو موسیقی کو بند کردیا گیا۔

وین سے باہر رات نے اپنے ڈیرے جما لیے اور وین کے اندر خاموشی نے اپنے پائوں پھیلا دیے۔ میں کھڑکی سے گزرتی کاروں اور پیچھے ہٹتے مکانوں کو دیکھنے لگا۔ میری سوچ مکمل سکون کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ میں نے سفر سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ سیکھنے کا عمل تمام عمر جاری رہنے والا عمل ہے۔ یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کا دوسرا کنارہ نہیں۔ میں نے آنکھیں موند لیں اور خود کو نیند کے سپرد کردیا۔ سمیر نے مجھے شانے سے ہلایا تو ساہیوال روڈ پر گاڑی رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی جارہی تھی۔ یہ روڈ روز کی بنیاد پر سفر کرنے کے باعث مجھے پوری طرح ازبر ہو چکا ہے۔ اس لیے باہر دیکھنے پر اندازہ ہو گیا کہ ہم گھر پہنچنے والے ہیں۔ فاصلہ فقط پانچ سات کلومیٹر رہ گیا تھا یعنی جلد ہی ہم لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہوں گے۔ میں آنکھیں ملتے ہوئے پوری طرح بیدار ہوگیا۔

جمال چوک سے پاک پتن کا آغاز ہوا تو خاموشی نے ہمیں بانہیں پھیلا کر خوش آمدید کہا۔ پُل پر سے گزرتے سمے نہر کے پانی پر نگاہ پڑی۔ چاند کی روشنی میں نہر کا پانی چمکیلی چادر جیسا لگ رہا تھا۔ جو نہر کے اندر تاحد نظرتک کسی شیٹ کی طرح بچھی ہوئی تھی۔ نہر کنارے پر لگے سرسبز درخت چمکیلی چادر پر اپنا عکس دیکھنے میں مصروف تھے۔ اس لیے مبہوت کھڑے تھے۔ وہ کسی جنبش کے لیے ہوا کے جادوئی ہاتھ کے منتظر تھے۔ وین چلتی جارہی تھی اور مجھے بار بار دھوکا سا ہوتا کہ ابھی کوئی چشمہ، کوئی جھیل یا کوئی برفیلا پہاڑ ہمارا راستہ روک لے گا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وین نے ریلوے پھاٹک کراس کیا تو اپنے شہر کی مخصوص خوشبو اور ہوا میں شامل مٹی کی باس نے مجھے بانہیں کھول کر جپھی ڈال لی۔

سفر سے لوٹ کر واپس اپنے استھان پر پہنچ جانے پر جو مسرت حاصل ہوتی ہے وہ سب کے چہروں پر اطمینان کی صورت لکھی تھی۔ کوئی چہرہ بھی غم زدہ نہیں تھا۔ سبھی کی گردنیں تنی ہوئی تھیں اور آنکھیں خمار آلود تھیں۔ جیسے کوئی کھلاڑی جیت جانے کے بعد اپنی ساری تھکاوٹ بھول جاتا ہے۔ اُس کی آنکھوں میں چمک ہوتی ہے اور چہرے سے مسکان پھوٹتی ہے بالکل مجھ سمیت قریب قریب سبھی کا یہی حال تھا۔ سوائے فیاض کے؛ فیاض بحث کررہا تھا اور اُس کی خواہش تھی کہ وین اسے گائوں تک چھوڑ کر آئے۔ رات کے پچھلے پہر ایک سنسان علاقے میں ویران سڑک پر جانے کا جوکھم کیونکر اُٹھایا جا سکتا تھا۔ فہیم اور عابد ڈٹ گئے۔ لمبی چوڑی بحث کے بعد بالآخر معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ جب وین پاک پتن شہر میں داخل ہوئی تو جسم میں ٹھنڈک سی بھر گئی۔ طمانیت کا احساس جسم کو جیسے مٹھیاں بھرنے لگا۔ میں نے آنکھوں کے شٹر گرادیے اور شکرانے کے طور پر ایک گہرا سانس لیا۔

تھوڑی دیر بعد میں نگینہ چوک میں چائے کی دکان پر بے ترتیب بینچوں میں سے ایک پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا اور سبھی دوستوں کو دیکھ رہا تھا۔ اسلام چھوٹی سی ڈائری پر سر نیوڑائے حساب کتاب میں مصروف تھا اور ہم اسلام کے فیصلے کے منتظر تھے۔ میں نے فہیم اور عابد کو کہتے سُنا کہ اگر مزید رقم ہمارے حصے میں آتی ہے تو ہمیں فی الفور ادا کردینی چاہیے۔ میں نے بھی پرس کھول کر نوٹوں کو ٹٹولا اور ذہن بنالیا۔ لیکن اسلام نے کچھ اور ہی فیصلہ سنا دیا جس نے نہ صرف ہمارے اندیشوں کو رفع کردیا بلکہ ہم لوگ خوشی سے قہقہے لگانے لگے۔ ہمیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اسلام کہہ رہا تھا کہ سبھی دوستوں کی رقم میرے پاس محفوظ ہے۔ میں اے۔ ٹی۔ ایم مشین سے نکلوا کر ابھی دیتا ہوں۔ ایسے خوب صورت سفر کے بعد یہ لمحہ تو جیسے ہمیں تسخیر کر گیا۔ اسلام فیصلہ سنا کر اے۔ ٹی۔ ایم کی جانب چل دیا اور مجھے عجیب تحیر کے زیر اثر چھوڑ گیا۔ میں فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کہ رقم باقی بچ جانے میں اسلام کی کفایت شعاری کا ہاتھ ہے یا یہ سب بہترین منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ میرا ذہن سکون آور گولی نگلنے کے کچھ دیر بعد کی کیفیت میں چلا گیا۔

نگینہ چوک میں موجود اس ہوٹل سے چائے پینا محض بہانہ رہا ہے۔ اس ہوٹل کے باہر لگے بینچ چلتے پھرتے لوگوں کا نظارہ کرواتے ہیں اور رواں دواں ٹریفک دوبارہ زندگی کی جانب کھینچ لاتی ہے لیکن اُس رات بینچ ویران پڑے تھے۔ ہم نے آکر انھیں آباد کیا تھا۔ رات اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ چائے پینے کے بعد اسلام نے حساب صاف کیا اور گلے ملتے ہوئے سب سے اجازت چاہی۔ ایک دوسرے کو الوداع کہتے ہوئے احباب دھیرے دھیرے بکھر گئے۔ سبھی دوست جہاںسے آئے تھے وہیں پلٹ گئے۔ میں اور سمیر بھی گھر کی طرف چل دیے۔

میں سمیر کے ساتھ خاموشی سے سنسان گلی میں چل رہا تھا۔ بیگ میری کمر پر تھا اور مجھے بیگ بوجھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ چھوٹا بیگ میں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔ میرے قدم خود بخود اُٹھ رہے تھے۔ انجانی ڈور مجھے کھینچ رہی تھی۔ یقینی طور پر یہ گھر پہنچنے کی مسرت تھی جس نے میرے جسم میں توانائی بھر دی تھی۔ میں نے چلتے چلتے سمیر کی طرف دیکھا، ہماری آنکھیں ملیں اور ہم بلاوجہ ہی مسکرانے لگے۔ مجھے اردگرد ابھی بھی اونچے پہاڑ محسوس ہو رہے تھے میں سفر سے آتے ہوئے جیسے انھیں اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ میں نے آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ کہیں یہ احساس مجھ سے روٹھ نہ جائے۔

ہم دونوں خاموشی سے چلتے ہوئے چوک میں پہنچ گئے۔ یہ چوک میرے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ سمیر مجھ سے یوں بغل گیر ہوا جیسے صحرا میں تنہا چھوڑ کر جانے لگا ہو۔ میں نے بھی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ پچھلے ایک ہفتے سے ہمارا کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا ایک ساتھ تھا۔ لیکن اب ہمیں فی الوقت بچھڑنا تھا شاید ہماری روحیں اس بات پر اُداس تھیں لیکن ہم خوش اور مطمئن بھی تھے۔

سمیر مجھے خدا حافظ کہہ کہ اپنے گھر کو چل دیااور میں چوک میں تنہا رہ گیا۔ وہ گلی مڑا تو تنہائی نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ سوال بہت آسان تھا کہ سفر سے لوٹ آنے پر میں کیا لے کر آیا ہوں۔ میرے پاس حسین یادیں تھیں۔ اونچائی سے دور تک دیکھنے والی نگاہ تھی اور ماضی سے دستبراری کا فیصلہ تھا۔ ان سب سے بڑھ کر مجھے لمحہ موجود کی اہمیت کا ادراک ہو گیا تھا۔ میں نے اطمینان بخش سانس لیا کہ میں سفر سے خالی ہاتھ نہیں آیا۔ میں نے نئے دوست بنائے تھے۔ میں نے نئی دنیا دیکھی تھی اور خود سے ملاقات بھی توکی تھی۔ میں آگے دیکھ کر چلنے کا طریقہ سیکھ کر آیا تھا۔ میںنے زندگی کا اہم سبق ’’ہر حال میں خوش رہو‘‘ بھی سیکھا تھا۔

میں نے اپنے پہلو میں کھڑے ہمزاد سے پوچھا ’’کیا یہ سب کافی نہیں ہے؟‘‘ اُس نے تائید میں سر کو جنبش دی اور مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوا ’’کافی ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ ہے‘‘ میرے چہرے پر جوابی مسکان اُبھری اور آنکھیں تشکر سے پرنم ہوگئیں۔ میں نے گردن کو اونچا کیا اور خود کلامی کی ’’اب میں تنہا نہیں ہوں‘‘ میں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا ہوا اپنے گھر کے دروازے کے سامنے آگیا۔

’’میں نے اندر کا دروازہ کھول لیا ہے اب میں ہر لمحہ آگے ہی آگے بڑھوں گا اور زینے اُترتا ہوا تہہ تک جائوں گا۔ وہاں پہنچ کر ساری کھڑکیاں کھول دوں گا۔ اپنی ذات کے تاریک گوشے روشن کروں گا اور تازہ ہوا کو خوش آمدید کہوں گا۔‘‘ میں یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ ہوا کا جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا ’’شاید کوئی کھڑکی کھُل گئی ہے۔‘‘ میں نے خود کلامی کی۔ دروازے پر دستک دیتے سمے میرے چہرے کی مسکراہٹ اطمینان میں ڈھل چکی تھی اور آنکھوں کی نمی چمک میں تبدیل ہو گئی تھی۔ یہ سب زندہ رہنے کے لیے کافی تھا۔ میں یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ دروازہ کھل گیا۔

ختم شد

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20