عالمی حالات ناظرہ —- محمد خان قلندر

0

موجودہ سیٹ اپ نے بڑی مہارت سے ملکی میڈیا کو بے دست و پا کردیا۔ جتنے صحافی قومی مسائل، معیشت اور سیاسی مدوجذر کو سمجھتے تھے اور جن کے مشورے حالات کی سنگینی آشکار کرتے اور اپنے تجربے کی بنیاد پر ان کے حل بھی تجویز کر سکتے تھے، سب پر لفافہ رسید کی مہر لگا کے انہیں نُکرے لگا دیا۔ میڈیا پر سُنار کا چینل اور صحافت میں کئی نووارد سرخیل بن گئے۔ باقی شور شرابہ کرنے کو ہلکی سطح کےافراد پبلک فگر بنائے گئے، تو ظاہر ہے یہ نابغے وہی ڈھول پیٹ رہے ہیں، عالمی جنگ ہنسائ کا باعث بننے والے نت نئے بیان روز داغے جاتے ہیں۔

اس میں سرفہرست ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران نیازی میں مماثلت کا چرچا ہے۔ کہاں امریکہ کا صدر اور کہاں ہمارا کرایہ دار وزیراعظم، کہاں امریکی ریاست کے فعال اور وفادار ادارے اور کہاں ہماری کاسہ لیس اشرافیہ، یہ تسلیم کہ موجودہ بندوبست ہمارے کاروباری، سرمایہ کاروں اور سرمایہ داروں میں بہت مقبول ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ خود ایک پکا بیوپاری، کاروباری، سرمایہ دار اور سرمایہ کار ہے، نومبر میں ہی یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ جی او پی یا ریپبلکن پارٹی ٹرمپ کے زیر قیادت الیکشن ہارنے جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے اپنی کاروباری زندگی میں بزنس ڈیل اکثر عدالت اور قانون کے بل بوتے پر اپنے حق میں جیتی ہوئ تھیں، ممکنہ شکست کا ادراک بھی تھا، لیکن اس نے حسب روایت وائٹ ہاؤس چھوڑنے کی بجائے الیکشن بارے قانونی لڑائی شروع کی، ساتھ کرونا کو ایشو بنایا، مطلب ہارنے کی وجہ موجود صدر کی خامی نہی قدرتی وبا بڑا فیکٹر بن گئی۔

اسی دوران اپنے خاندان کے مفادات اور کسی ممکنہ تادیبی کاروائ سے استثنی کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ پارٹی ڈونیشن فنڈز اور پارٹی پر اپنا اثر و کنٹرول قائم رکھنے کو پارٹی پلیٹ فارم سے اب سینٹ میں اکثریت برقرا رکھنے کی جدوجہد ہے، ۔ پنجابی مثل رُڑدی بیڑی دیاں ہریڑاں ای سہی۔ ۔ کے مصداق ٹرمپ صاحب اپنے ٹارگٹ پر ہیں، اگر مماثلت ہے تو ٹرمپ اور نواز شریف میں کافی زیادہ ہے۔ جو پروگرام اور پلان ٹرمپ فالو کر رہے ہیں یہی سب کچھ نواز شریف بھی کچھ کر چکے ہیں کچھ کر رہے ہیں۔

عدالت سے نااہلی ہوئی تو اسمبلی سے ترمیم پاس کرا کے پارٹی صدارت ہتھیا لی، اپنا بندہ وزیراعظم بنوا لیا، حد تو یہ ہے کہ “مجھے کیوں نکالا” کے جلسے جلوس بلکل ٹرمپ کے بیانہ “میں قصر صدارت سے کیوں نکلوں” کے مماثل ہے، ایک کیس میں سزا ہوئی لیکن عدالتی کاروائی میں ہر پیشی تشہیر بنی، جیل گئے، حکومت انکی فنکاری سے اتنی پریشان ہوئی کہ خود اس نے لندن جانے کی سہولت پیدا کر کے دی۔ جو ماحول نواز نے آج اپوزیشن کے ساتھ یہاں بنا دیا ہے۔
عین ممکن ہے کل جو بائیڈن سرکار کو امریکہ میں ٹرمپ کی قیادت میں برپا سیاسی مشکلات بھگتنی پڑیں۔ لگتا ہے عشروں پر محیط پاک یو ایس اے فرینڈشپ سے دونوں ممالک نے سیاست میں بھی ایک دوسرے کو بہت کچھ سکھایا ہے اور سیکھا ہے۔

عجیب سا تماثل دونوں کی بڑی عدالتوں میں بھی موجود ہے، وہاں لیڈی جج کی تقرری باعث نزاع ہےتو یہاں بھی ایک جج صاحب ادارے سے نبرد آزما ہیں۔

دونوں ممالک میں کرونا بھی قدر مشترک ہے، جو بائیڈن کی دعائیں کہ کرونا جلدی نمٹ جائے، ٹرمپ کی کوشش اب بھی کہ کچھ اور لمبا کھچ جائے۔ یہاں مقابل اُلٹ ہے، اپوزیشن کی دعائیں کہ کرونا رخصت ہو، سرکار کی سرتوڑ کوشش کہ یہ وبا اور چلے !

سب ملا کے بس ایک بات واضح ہوتی ہے کہ امریکہ ہو یا پاکستان، اقتدار کے کھیل میں انسانوں کی حیثیت اب تماشائ کی بھی نہی رہی، بس اب تو میتیں گنی جانی ہیں، اور کس کو کفن نصیب ہو، جنازہ ہو یہ بھی اب شائد ممکن نہ رہے۔

امریکہ سُپر پاور، سب سے بڑی جمہوریت۔ زندہ باد جی جندہ باد، ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان، پائندہ باد بھئ زندہ باد۔
انسانیت شرمندہ باد، نہ تابندہ باد۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20