عرب اسرائیل تعلقات : صدی کا سب سے بڑا دھوکہ —– وحید مراد

0

اسرئیل کے ساتھ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کا باضابطہ سفارتی تعلق اب پوری دنیا اور بالخصوص مسلم ممالک میں زیر بحث ہے۔ حکومتی ایوانوں سے دانشوروں اور عوامی حلقوں تک اسکے محرکات و نتائج پر گفتگو ہو رہی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے، بیشتر عرب ممالک کا موقف تھا کہ اسرائیل کو صرف اس صورت میں تسلیم کریں گے جب فلسطین سے متعلق تنازع حل ہو جائے گا۔ مختلف مواقع پر عرب حکمران اس موقف کا اعادہ بھی کرتے رہے لیکن اسرائیل نے آج تک عرب حکمرانوں کی کسی شرط کو نہ تسلیم کیا اور نہ فلسطینیوں کو کوئی رعایت دی۔ چنانچہ خلیجی ریاستوں کی طرف سے اسرائیل کو غیر مشروط طور پر تسلیم کر لینے کی خبر، دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے سخت تشویش اور مایوسی کا باعث بنی۔ فلسطینی رہنمائوں نے حیرانی اور سخت مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے اس سفارتی اقدام کو فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے تشبیہ دی۔

مسلم ممالک میں پائے جانے والے کچھ لبرل حلقے ان تعقلات پر خوشیاں منا رہے ہیں اور انکا استدلال ہے کہ خلیجی ممالک نے جب اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر لئے ہیں تو پھر سب مسلم و عرب ممالک کو چاہیے کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ یہ بیانیہ بنیادی طور پر درست نہیں کیونکہ جن خلیجی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے ہیں وہاں نہ تو ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے رائے لی گئی اور نہ ہی ان ممالک کی پارلیمان نے اس موضوع پر کوئی قرارداد منظور کی یا کوئی بحث نمٹاتے ہوئے باقاعدہ طور پر منطوری دی۔ یہ فیصلہ تو ان سلاطین کا ہے جو ان ریاستوں میں سامراج کے مسلط کردہ مطلق العنان حکمران ہیں۔ یہ حکمران نہ مسلم عوام کے نمائندہ ہیں اور نہ انہوں نے عوام کو اعتماد میں لیکر یہ قدم اٹھایا ہے۔ یہ تو انکی طرف سے اقتدار کو طول اور تحفظ دینے کا ایک حربہ اور حیلہ ہے۔

معمولی عقل رکھنے والےدیہاتی لوگ بھی اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ دودھ کا محافظ کوئی ‘بلا’ نہیں ہو سکتا لیکن خلیجی ریاستوں کے حکمران، امریکا اور اسرائیل جیسے ‘دو بلوں’ کو اپنے اقتدار کا محافظ سمجھتے ہیں۔ اقتدار چھن جانے کے خوف نے انکی ذہنی صلاحیتوں کو ا س قدر مضمحل کر دیا ہے کہ وہ دوست اور دشمن میں بھی تمیز نہیں کر سکتے۔ سعودی عرب سمیت اکثر عرب حکمران امریکا اور اسرائیل کو دانشمند دوست اور ترکی و ایران کو اصل دشمن قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے جب متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش سے سوال کیا گیا کہ آخر عربوں کی وہ کونسی مجبوری ہے جس کی وجہ سے وہ اسرائیل کو تسلیم کر رہے ہیں تو انہوں نے اسکے جواب میں کہا کہ “عرب دنیا کے اندرونی معاملات میں ترکی مداخلت کر رہا ہے اور یہ عرب دنیا کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ ترکی عرب ملکوں میں براہ راست مداخلت کے علاوہ ملیشیائوں اور پراکسیز کے ذریعے، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحیرہ روم میں سمندری ٹریفک کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے”۔

خلیجی ممالک کے کچھ تجزیہ کاروں کا بھی کہنا ہے کہ شام، یمن اور لیبیا سمیت کئی علاقائی امور کے حوالے سے ترکی اور عرب امارات کے تعلقات تنائو کا شکار ہیں۔ لیبیا میں ترکی فائز السراج کی حکومت کی مدد کر رہا ہے اور عرب امارات ان کے حریف خلیفہ حفتر کا مددگار ہے۔ کئی ہوائی اڈوں پر عرب امارات کے جنگی طیارے مامور ہیں جو فائز السرراج کی فوجوں پر بمباری کر رہے ہیں۔ عرب ممالک ترکی کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کو خلافت عثمانیہ کےاحیاء کے طو پر دیکھتے ہوئے اپنی بادشاہت کے خلاف خطرہ سمجھتے ہیں۔ ترکی کی طرف سے اخوان المسلمون کی حمایت بھی مصر اسرائیل، عرب امارات اور سعودی عرب کو اشتعال دلا رہی ہیں۔

صرف خلیجی ممالک کے حکمران ہی نہیں بلکہ اسرائیل اور بحیرہ روم کے ارد گرد کے کچھ یورپی ممالک بھی ترکی سے خائف ہیں اور یہی مشترکہ خوف انکو ایک دوسرے کے قریب لا رہا ہے۔ حال ہی میں فرانس میں ہونے والی سات ملکوں کی ایک کانفرنس میں بھی ترکی سے خوف کا موضوع زیر بحث آچکا ہے۔ یورپی ممالک اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت نہ ملنے کے بعد ترک صدر اردگان کواب یورپی یونین کی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں۔ ترکی کے پاس ایک بہت اہم حربہ ہے جسے وہ کسی بھی وقت استعمال کرکے پڑوسی یورپی ممالک کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ اور وہ حربہ یہ ہےکہ شام اور عرب ممالک کے لاکھوں تارکین وطن کو ترکی جب چاہے یورپ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اس صورتحال سے خائف یورپی ممالک عربوں کی طرف دیکھ رہے ہیں جو پہلے سے ترکی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان حالات میں عربوں کا یورپ اور امریکا کی ایماء پراسرائیل سے تعلقات قائم کرنا گویا ایران اور ترکی کا مقابلہ کرنے کی مشترکہ تیاری ہے۔

اسرائیل نے اپنی قومی سالمیت کے لئے خطرہ قرار دیے گئے ممالک کی فہرست میں ترکی کو بھی شامل کر رکھا ہے اور وہ عربوں کو بھی یہ باور کرا رہا ہے کہ ایران تو کمزور پڑ چکا ہے لیکن آپ کیلئے اصل خطرہ ترکی ہے۔ جنوری 2019 میں اسرائیل، سعودی عرب، مصر اور عرب امارات کے حکام نے ایک خفیہ ملاقات کی جس میں چار امور پر پر اتفاق کیا گیا۔ ان میں پہلا نکتہ یہ تھا کہ امریکہ کو افغانستان سے انخلا میں مدد دی جائے چنانچہ اسی تعاون کے نتیجے میں امریکا طالبان معاہدہ ممکن ہوا۔ دوسرا نکتہ یہ تھا کہ عراق میں سنی کارڈ کو کنٹرول کیا جائے تاکہ عراق میں ترک اثر و رسوخ کم ہو سکے۔ تیسرا نکتہ شام کے ساتھ سعودی عرب، مصر اور عرب امارات کے سفارتی تعلقات کی بحالی اور بشار الاسد کو عرب لیگ میں واپس لانے کی کوشش تھی تاکہ شام کو ایران سے دور کرکے ایران اور ترکی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ چوتھا نکتہ ترکی کے خلاف شام کے کردوں کی حمایت تھا۔

اسرائیل کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کے رویوں میں آنے والی حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اسکی چند بڑی وجوہات میں تیل کی قیمتوں میں کمی، خلیجی ممالک میں حکومتوں کے خلاف بغاوت کے خطرات، امریکی حمایت کے خاتمے کاخدشہ اور ترکی و ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت کا خوف ہے۔ صدام حسین کے اقتدار کےخاتمے کے بعد عرب دنیا میں اسٹریٹجک توازن ایران کے حق میں چلا گیا۔ ایران نے شام میں صدر بشار الاسد اور لبنان میں حزب اللہ کا ساتھ دیکر کچھ ایسی کامیابیاں حاصل کر لیں جس سے ایران کو بحیرہ روم تک راہداری حاصل ہونے کے امکان پیدا ہوئے اور اسے عرب ممالک نے ایران کی دخل اندازی تصور کیا۔ اسکے علاوہ ایران اور عربوں میں ماضی کی مذہبی اور سیاسی عداوتیں بھی موجود ہیں۔ ایسی صورتحال میں اسرائیل اور عربوں کے درمیان تعلقات کا ایک جواز یہ بھی ہے کہ دونوں کی خواہش ہے کہ ایران کو جوہری طاقت کے حصول کی اجازت نہ مل سکے۔ اسرائیل اور خلیجی حکمران، لبنان میں حز ب اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ایران کی جوہری سرگرمیوں کو خطے میں عدم استحکام کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مسئلہ صرف ایران اور ترکی کے ابھرنے کا نہیں بلکہ اصل مسئلہ امریکا اور اسرائیل کے مفادات کا ہے۔ پہلے امریکہ براہ راست اس خطے کوکنٹرول کرکے اپنے مفادات حاصل کرتا تھا اور اب اسرائیل جیسے اہم اتحادی کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے امریکہ ہر وقت عرب حکمرانوں پر خوف اور دبائو کی فضا قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اس خطے میں بدامنی برقرار رکھنے اور اسلحہ بیچنے کی غرض سے امریکا کئی مسائل کے خلاف بیان بازی سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات نہیں چاہتا مثلاً شام میں داعش اور کردوں کے مسائل، لبنان میں حزب اللہ، ایران کی جوہری سرگرمیوں اور مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ وغیرہ۔ امریکہ خلیجی ممالک کے ساتھ جدید اسلحے کی فروخت کے نئے معاہدے بھی کررہا ہے۔

عرب اسرائیل امن معاہدون اورسفارتی تعلقات کی بحالی کا اصل سرپرست امریکہ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے 24 اگست 2020 کواپنے دورہ اسرائیل کے دوران یروشلم میں مطالبہ کیا تھاکہ متحدہ عرب امارات کے بعد اب دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کریں۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید، بحرین کے وزیر خارجہ عبدا لطیف الزینی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو نے 15 ستمبر کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں معمول کے تعلقات قائم کرنے کے معاہدوں پر دستخط کیے جن کو ’ابراہیم معاہدے‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدوں کی تقریب میں خطاب کے دوران اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ بہت جلد، کم از کم پانچ یا چھ عرب ملک اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کریں گے۔ بعدازاں انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب بھی مناسب وقت پر اسرائیل سے سمجھوتہ کرنے کا اعلان کرے گا۔

15 ستمبر 2020 کو وائٹ ہائوس میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں تعلقات معمول پر لانے کے معاہدوں کے دوران ایک اور مسلم اکثریتی ملک کوسوو کے رہنما بھی موجود تھے۔ سربیا اور کوسوو کے رہنمائیوں نے صدر ٹرمپ کی میزبانی میں ملاقات کی اور باہمی جھگڑے نمٹانے کی بجائے اسرائیل کو تسلیم کرکے چل دیے۔ کوسوو کے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کو فون کیا اور مباکباد د دیتے ہوئے بتایا کہ ایک مسلم اکثریتی ملک مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کو تیار ہے۔ اسکے بعدصدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیلئے قطار بنائے کھڑے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے 13 اگست 2020 کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا سرکاری اعلان کیا تھا لیکن دونوں ممالک کے قریب آنے کے اشارے بہت عرصے سے مل رہے تھے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ اس وقت طےپایا جب اسرائیل نے مغربی کنارے کو اپنا حصہ بنانے کے متنازع منصوبے کو عارضی طور پر معطل کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ ان معاہدوں کو خطے میں اپنا قد اونچا کرنے کیلئے بھی استعمال کیا۔ متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کی وجہ سے اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں میں مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے ارادے کو ترک کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم اسکے بعد کئی بار کہہ چکے ہیں کہ مزید فلسطینی علاقے ضم کرنے کا پروگرام ملتوی ہوا ہے منسوخ نہیں ہوا۔

اسرائیل، متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات کو صرف اپنے مفادات کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اسکی نظر اس بات پر ہے کہ متحدہ عرب امارات ایک عرصے سے خطے میں بڑی سرگرم خارجہ پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے اور کئی علاقائی تنازعوں میں بڑھ چڑھ کر اور خفیہ طور پر بھی کردار ادا کر رہا ہے۔ شدت پسندوں میں ایران کے اثر و رسوخ کو بڑھنے سے روکنے کیلئے، یہ لیبیا اور یمن میں بھی سرگرم عمل ہے۔ اسرائیل کو بھی ایران کے خلاف مضبوط اتحادیوں کی تلاش ہے اس لئے وہ عربوں کے قریب آرہا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے امریکا نے عرب امارات کو ایف 35 طیاروں کا لالچ دیا تھا لیکن اس اعلان کےبعد اسرائیلی حکام بار بار کہہ رہے ہیں کہ خطے میں انکی فوجی بالادستی کو خطرے مین ڈالنے کا کوئی قدم قابل قبول نہیں ہوگا۔ چنانچہ اسرائیل کی طرف سسے عرب امارات کو ایف 35 سمیت جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کی مخالفت جاری ہے۔ امریکہ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ عرب اسرائیل تعلقات قائم کروانے کے بعد یورپی ممالک کو بھی اس بات پر مجبور کیا جا سکے کہ وہ اپنے سفارتخانے بیت المقدس منتقل کریں۔

بحرین نے 18 اکتوبر 2020 کو اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرکے باضابطہ سفارتی تعلقات کا آغاز کیا۔ اس سے قبل متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم تھے۔ بحرین نے یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کیا اور متحدہ عرب امارات نے اس سلسلے میں بحرین کو مالی امداد بھی دی۔ بحرین کے دارلحکومت منامہ میں اسرائیلی اور امریکی عہدیداروں کے وفد کے دورے کے بعد اس معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے میں بحرین اور اسرائیل کے درمیان رسمی اور سفارتی تعلقات پر زیادہ توجہ دی گئی ہے لیکن معاہدے کی دستاویزات میں اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے سے متعلق کوئی حوالہ شامل نہیں کیا گیا۔ بحرین میں اکثریتی آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے اور حکمران سنی مسلک سے اس لئے ایک عرصے سے ملک میں بدامنی پائی جاتی ہے۔ بحرین کی حزب اختلاف پر ایران کا اثر و رسوخ حکمرانوں کیلئے واضح اور حقیقی خطرہ تھا۔ ملک کی شیعہ آبادی اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی بھی شدید مخالف ہے اور اس سلسلے میں بحرین میں احتجاج اور مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے۔

فلسطینی رہنمائوں کی جانب سے بحرین اسرائیل معاہدے کی سخت مخالفت اور مذمت کی گئی۔ انہیں فلسطینیوں کی قربانیوں سے غداری اور دھوکا قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے تشبیہ دی گئی۔ حماس کے سربراہ اسماعیل حانیہ نے کہا کہ ہم اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ مسئلہ فلسطین کو پل بنا کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کئے جائیں اور بیت المقدس ومقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوںکی واپسی کے حق کو نظر انداز کر دیا جائے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ‘امن معاہدے‘ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ’اس سے فلسطین کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔ یہ معاہدہ دراصل اسرائیلی قبضے اور جرائم کا صلہ ہے’۔ ان معاہدوں کے خلاف غزہ کی پٹی میں مظاہرے کئے گئے، غزہ سے اسرائیل پر دو راکٹ فائر کئے گئے اور اسکے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر فضائی بمباری بھی کی۔

جب بحرین کی جانب سے اس معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا تو فلسطین کی وزارت خارجہ نے وہاں سے اپنے سفیر کو واپس بلاتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ ان اقدامات سے فلسطینی عوام کے قومی حقوق اور عرب ممالک کو خطرہ لاحق رہے گا۔ فلسطینی اتھارٹی نے اس بات کو رد کیا کہ ان معاہدوں سے امن قائم کرنے میں کسی قسم کی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اسرائیل اور امریکہ الگ فلسطینی ریاست اور فلسطینی مہاجرین کی واپسی کے حق کو تسلیم نہیں کرلیتے اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا۔

ایران کے روحانی پیشوا علی خامنہ ای نے ان معاہدوں پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سمیت بعض عرب ممالک نے اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے فلسطین سے خیانت کی ہے تاہم اس میں شاطر امریکہ کا بھی بڑا ہاتھ ہے کیونکہ امریکہ اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر، ان ممالک کو ایک آلہ کار کے طور پر دیکھتا ہے۔ اپنے ایک اور بیان میں انہوں نےعرب ممالک کو امریکہ کیلئے’ دودھ دینے والی گائے’ قرار دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ”اسرائیل سے معاہدے کرنے والے عرب حکمران، آج کے بعد صیہونی ریاست کے جرائم میں برابر کے حصہ دار ہوں گے ‘‘

ایران کے روحانی پیشوا کے بین الاقوامی امور کے مشیر ڈاکٹرولایتی نے تہران میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کو غاصب اسرائیل سے تعلقات کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ان ممالک کا صیہونی غاصب حکومت کی ساتھ سمجھوتہ پانی پر گھر بنانے کے مترادف ہے جس کا کوئی پایہ اساس نہیں۔ عرب اسرائیل جنگ کے بعد امریکی سرپرستی میں عربوں اور صیہونی حکومت کے مابین دسیوں مرتبہ مذاکرات کروائے گئے اور ان مذاکرات سے فلسطین کے مظلوم عوام کیلئے کچھ حاصل نہیں ہوا بلکہ الٹاا سکے نقصانات سامنے آئے۔ انہی مذاکرات کی نتیجے میں صیہونی حکومت نے فلسطینی سرزمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بڑھایا، مراعات حاصل کیں اور آخر کار فلسطین سے آگے نکل کر اب ایک وسیع اسرائیل کا خواب دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ اسرائیل تسلط پسندانہ منصوبوں میں عراق اور افغانستان پر براہ راست امریکی حملے، بے دفاع لبنان، غزہ کے شہریوں پر بمباری اور خطے میں لاکھوں بےگناہ افراد کا قتل عام شامل ہے۔ ماضی کے مذاکرات کی طرح حالیہ معاہدات سے بھی امریکا، اسرائیل اور انکے اتحادیوں کے دہشت گردانہ اقدامات پر پردہ ڈالنےکی کوشش کی جا رہی ہے۔ عرب ممالک اور صیہونی حکومت کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کا اصل مقصد فلسطین کے مسئلے کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا ہے۔

لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ اور شام کی بعث پارٹی نے بھی ان معاہدوں کی پرزور مذمت کی اور ان معاہدووں کو پوری عرب قوم کے حال اور مستقبل پر ایک حملہ قرار دیا۔ حوثی باغیوں کے رہنما عبد اللہ مالک الحوثی نے کہا کہ بحرین کو اس فیصلے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

ترکی نے عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے اسے غداری قرار دیا، ترک وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات نے فلسطین کاز کو دھوکہ دیتے ہوئے اپنے محدود مفادات پورے کئے۔ تاریخ اس منافقت کو نہ کبھی بھولے گی اور نہ معاف کرے گی۔ ترکی نے بحرین کےاسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے فیصلے کی بھی مذمت کی۔ ترک دفتر خارجہ کی جانب سےکہا گیا کہ یہ اقدام مسئلہ فلسطین کے دفاعی امور پر ایک کاری ضرب کے مترادف ہے۔ یہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے اور غیر قانونی کاروائیوں کے حوصلے مزید بلند کرے گا۔

پاکستان سمیت بنگلہ دیش، افغانستان، انڈونیشیا وغیرہ جیسے اکثر غیر عرب مسلم ممالک کی حکومتوں نے عرب اسرائیل معاہدات پر خاموشی اختیار کئے رکھی اور کسی قسم کا ردعمل نہیں دیا لیکن تمام مسلم ممالک کی عوام نے ان معاہدات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مسلمان ممالک میں ایک بھی ملک ایسا نہیں جس کے عوام امریکہ اور اسرائیل کو اپنا دوست یا مخلص سمجھتے ہوں۔ پاکستانی عوام کا خیال ہے کہ حکومت پاکستان کو کھل کر اس معاہدے کی مخالفت کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ معاہدہ فلسطین پراسرائیلی قبضے کو جائز بنا دےگا، فلسطینیوں کو کوئی رعائیت نہیں ملے گی اوراسکی وجہ سے کشمیرکاز کی مہم بھی پیچھے ہوجائے گی۔ اسرائیل سے معاہدے کرنے والی خلیجی ریاستوں سمیت دیگر عرب ممالک کےعوام بھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں لیکن ان حکمرانوں کو عوامی احساسات اور جذبات کی کوئی پرواہ نہیں۔

عرب، اسرائیل دوستی کے ظاہری مقاصد میں ترکی و ایران دشمنی کا عنصرغالب نظر آتا ہے لیکن پس پردہ مقاصد میں بادشاہتوں کو قائم و دائم رکھنا ہے۔ اس مقصد کا اظہار پچھلے سال بحرین میں ہونے والی ‘ منامہ کانفرنس ‘میں امریکہ کی زبان سے ہو چکا ہے۔ اس کانفرنس میں پیش ہونے والی ‘سنچری ڈیل’ میں امریکہ نے پیش کش کی تھی کہ فلسطین کے سودے پر راضی ہونے والے خلیجی ممالک کے بادشاہوں کو آئندہ پچاس سال تک بادشاہت پر براجمان رہنے کی ضمانت دی جائے گی۔ حالیہ امن معاہدات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ عرب ریاستوں کے حکمران، امریکہ اور اسرائیل پر تکیہ کرکے امن معاہدات اور ‘صدی کی ڈیل’ کی شکل میں صدی کا سب سے بڑا دھوکہ کھا رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل جیسے غاصب اور جارح ممالک پر تکیہ کرکے عرب دنیا کے حکمران، اپنی بقا کو کیسے یقینی رکھ پائیں گے؟ نیزپوری دنیا میں ہر محاذ پر ناکامی کا شکار ہونے والا امریکہ، اپنی تیزی سے ڈوبتی ہوئی معیشت کے ساتھ عربوں کی کیا مدد کرے گا؟ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ عرب حکمران امریکہ اور اسرائیل کا سہارا لینے کے بجائے آپس میں اتحاد اور یکجہتی کےنام سے کوئی کارنامہ سر انجام دیتے لیکن افسوس کہ امریکی و صہیونی چالوں میں پھنسے یہ حکمران صدی کا سب سے بڑا دھوکہ اپنے مقدر میں لکھنے پر فخر محسوس کر رہےہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20