میں لبرل اور جمہوریت پسند کیوں نہیں ہوں؟ ۔۔۔۔ سید عاطف حسین

0

اس وقت دنیا میں جمہوریت کو مثالی نظام حکومت تصور کیا جاتا ہے اور یہی نظام غالب بھی ہے۔ اگرچہ آج کی جمہوریت کا ماضی سے زیادہ تعلق نہیں لیکن پھر بھی تاریخ کے میں جمہوریت کا وجود کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا۔ مثلاً ڈھائی ہزار قبل، یونان کی کچھ شہری ریاستوں جیسے ایتھنز وغیرہ نے جمہوریت کو اپنایا لیکن اسکے باوجود سپارٹا کے ہاتھوں شکست کھائی۔ تاریخ میں اسکے علاوہ بھی جمہوری تجربات کا سراغ ملتا ہے لیکن عموماً سب تجربات بعد ازاں مطلق العنان حکومتوں پر ہی منتج ہوئے۔ جب تک تہذیب مغرب نے ایک فرد ایک ووٹ کا نظام متعارف نہیں کرایا تھا اس وقت تک جمہوریت کی اصطلاح محض ہجوم کی سیاست کیلئے ہی استعمال ہوتی تھی۔ امریکی قوم کے خالق، جمہوریت کو اپنانے کی غرض سے، جب ریاست امریکہ کا آئین مرتب کررہے تھے تو انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ جمہوری نظام میں عوامی خلفشار، اقتدار کی رسہ کشی، ہنگامے، احتجاج اور کئی دیگر سماجی بگاڑ پائے جاتے ہیں۔

جمہوریت کو اشرافیہ کی آمریت کے بجائے اکثریت کی آمریت بھی کہا جاتا ہے۔ نظری اور عملی دونوں اعتبار سے جمہوریت میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارلیمان، ریاست کے دیگر مستقل اداروں سے نسبتاً کمزور ہوتی ہے۔ ریاست کے غیر منتخب ادارے مثلاً عدلیہ، بیوروکریسی، فوج، اور سول انتظامیہ کی گرفت پورے ریاستی ڈھانچے پر زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ ان اداروں کو تفویض شدہ طاقت کا منبع عوام نہیں ہوتی بلکہ خود ریاست ہوتی ہے لہذا یہ براہ راست عوام کو جوابدہ نہیں ہوتے۔ نظریہ اور عمل دونوں میں ریاست سپریم بھی ہوتی اور مطلق العنان بھی۔ ہر قسم کے تشدد کا استعمال ریاست کیلئے جائز ہوتا ہے لیکن دیگر افراد یا گروہوں کیلئے ناجائز۔ مغرب کی جدید ریاست جس قدر مطلق العنان اختیارات رکھتی ہے اس قدر اختیارات تو مغرب کے عقائد میں کبھی خدا کیلئے بھی نہیں تھے۔ مغرب کی روائیتی ریاستوں میں خدا کے آگے سر نہ جھکانے پر کوئی سزا نہیں تھی لیکن آج جدید ریاست کو خدا نہ ماننے پر زندہ رہنے کا حق نہیں دیا جاتا۔ مغرب کے لبرل فلاسفہ ریاست کو فرد کی آزادی، انفرادیت اور مساوات قائم کرنے کے نام پر بے پناہ اختیارات تفویض کرتے ہیں۔ ہیگل جیسے فلسفیوں کے نزدیک جدید ریاست زمین پر خدا کے ذریعہ اٹھایا جانے والا ایک قدم ہے یعنی ریاست ہی خدا ہے۔

روسو Rousseau کہتا ہے کہ معاشرہ کی بنیاد ایک ایسے معاشرتی معاہدہ (سوشل کنٹریکٹ) پر رکھی جاتی ہے، جس میں ہر شخص اپنی انفرادی آزادی کے تحفظ کی خاطر کچھ ریاستی حدود کو تسلیم کرتا ہے۔ کسی معاشرہ کے تمام افراد اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے جن حدود کو قبول کرتے ہیں انکی بنیاد پر ایک لبرل ریاست یعنی دستوری جمہوریہ (Constitutional republic) قائم ہوتی ہے. معاشرتی سطح پر Social Contract کی بنیاد پرجو ادارتی صف بندی عمل میں آتی ہے اس کو مارکیٹ (Market) کہتے ہیں۔ مارکیٹ جن معاشی اداروں پر قائم ہوتی ہیں وہ درحقیقت چوروں کے گروہ Den of Thieves کی مانند ہیں۔ ان میں سود پر مبنی معاشی ماڈل، کاغذی کرنسی، بینکنگ سسٹم، اسٹاک ایکسچینج اور دیگر معاشی ادارے شامل ہیں۔

جمہوری نظام کے تحت، آئین ایک بنیادی حیثیت اختیار کرجاتا ہے لہذا خُدا کا حکم، کتاب اور وحی کی تعلیمات غیر متعلق اور اکثریت کی مرضی کے تابع ہوجاتی ہیں۔ اگر کسی ملک میں دینی و مذہبی احکامات کو آئین میں شامل کر بھی لیا جائے تو انکی حیثیت مستقل اقدار کی نہیں رہتی اور پارلیمانی اکثریت جب چاہے ان میں تبدیلی کر سکتی ہے۔ نیز ان پر کھلے عام بحث مباحثہ ہونے، ان میں کمی اور اضافہ کرنا کا اختیار ہونے کی وجہ سے انکا تقدس ختم ہو جاتا ہے اور خدائی احکامات کی حیثیت انسانی قوانین جیسی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح عام طور پر جمہوریت کو غیر جانبدار تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ ایک ایسے پیکیج کے ساتھ آتی ہے جو غیرجانبدار نہیں ہوتا۔ یہ جس مذہب دشمن فلسفے اور نظریات کی پیداوار ہے، اسکے کسی بھی جزو کو اپنانے کے بعد معاشرے میں ہر طرف انہی کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ اسکا سیاسی نظام کوئی ایسی چیز نہیں جسے اسکے فلسفے اور تصورات سے الگ کرکے اپنایا جا سکے۔

جمہوری سیاسی نظام کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ اس میں اکثریتی رائے کو قبولیت ملتی ہے اور ہر شخص کو آزدی سے رائے دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ لیکن عملی طور پر سیاسی پارٹیوں کے مفادات کے تحت گٹھ جوڑ، منتخب اراکین پارلیمنٹ کا پیسے کی خاطر وفاداریاں تبدیل کرنے کا عمل اسکی نفی کرتا ہے۔ مختلف پروپیگنڈہ مہم اور میڈیا پر بے پناہ پیسہ خرچ کرکے رائے عامہ کو بھی متاثر کیا جاتا ہے۔ انتخابی عمل کی تشہیری مہمات اور ہتھکنڈے عوام پر اثر انداز ہو کر آزادی رائے کے حق کی نفی کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مصنوعی طور پر رائے عامہ تشکیل دی جاتی ہے۔ یہ تصور بھی محض تصور ہی ہے کہ جمہوریت کی وجہ سے دنیا میں بڑے پیمانے پر سیاسی شعور بیدار ہوتا ہے عملی طور پر جمہوری معاشروں میں شعور کے بجائے سطحیت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ عوامی نمائندگی اور شرکت محض ایک ڈھونگ ہے عملی طور پر ہر جمہوری ملک میں ایک اشرافیہ ہی عوام پر حکومت کرتی ہے۔

جمہوریت کا ایک اور پہلو حقوق کی سیاست ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت میں مختلف ایشوز پر رائے عامہ کو ہموار کرنے، عوامی شعور بیدار کرنے، احتجاج اور جلسے کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور ہر گروہ انسانی اپنے حقوق کیلئے جمہوری جدوجہد کرنے کا حق رکھتا ہے۔ چنانچہ جمہوری ممالک میں عورتوں کے حقوق، ہم جنس پرستوں کے حقوق، مزدوروں کے حقوق، وکیلوں کے حقوق، ڈاکٹروں کے حقوق وغیرہ کے نام پر سیاست ہوتی ہے۔ حقوق کی سیاست ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے کیونکہ جب ایک گرو ہ کو حقوق ملتے ہیں تو اسکی وجہ سے کوئی نہ کوئی دوسرا گروہ ضرور متاثر ہوتا ہے۔چنانچہ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا ہے اور حقوق کی جدوجہد اور کشمکش معاشرے کی روحانی و اخلاقی اقدار کو تار تار کرتی رہتی ہے۔

جمہوری ریاستوں کامالیاتی نظام بینکوں، قرضوں اور سود پر چلتا ہے اور بدعنوانی اسکا ایک لازمی جزو ہے۔دوسروں الفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جمہوری سیاست سرمایہ دارانہ نظام کی کرپشن کیلئے راستہ ہموار کرتی ہے اور اپنے مختلف ہتھکنڈوں سے اسکا جواز فراہم کرتی ہے۔ اس نظام میں جو جتنا دولت مند ہوتا ہے وہ اتنا ہی بااثر اور سیاسی طور پر طاقتور ہوتا ہے۔ قانون ساز اداروں کی وضع کردہ پالیسیوں سے بڑے بڑے سرمایہ داروں اور کمپنیوں کو اربوں روپے مالیت کے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اس کے بدلے میں وہ سیاسی پارٹیوں کی الیکشن کمپین وغیرہ کیلئے فنڈز مہیا کرتے ہیں۔ جمہوری ریاست کے دیگر ادارے بھی اسی بہتی ہوئی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں۔ وہ ایجنسیاں جو مالیاتی اداروں کی درجہ بندی اور انکی مصنوعات کی ریٹنگ وغیرہ کرتی ہیں وہ ان اداروں سے بھاری رقوم لیکر انکی جعلی مصنوعات کو اول درجے کا بتا کر عام کو ٹیکا لگاتی ہیں۔ یہ سب بدعنوانی اور رشوت ستانی ہے لیکن امریکی قانونی نظام میں اسکو صرف ‘اخلاقی خدشات و خطرات Moral hazards’ جیسا ملائم نام دیا جاتا ہے۔

وہ اسلامی ممالک جو کافی عرصے تک انگریز یا فرانسیسی استعمار کے غلام رہے اور آزادی کے وقت جنہوں نے یورپی قوانین اور طرز سیاست کو نوآبادیاتی نظام کے ورثے کے طور پر اپنایا وہاں جمہوریت کی اسلام کاری کی جارہی ہے۔ دینی عقائد اور انکی بنیاد پر تشکیل پانی والی تہذیبی اقدار کی قبولیت ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ ان عقائد اور اقدار کو کسی مقتدرہ کی طرف سے نہ نافذ کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی جمہوری آئین کے ذریعے تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ آئین صرف جمہوری اقدار کا ہی تحفظ کر سکتا ہے جو وقت اور زمانے کے تقاضوں کے ساتھ بدلتی چلی جاتی ہیں۔ انسان کا قائم بالذات ہونے کا تصور، اسکی انفرادیت، خود مختاری، آزادی، مساوات، سرمایہ ترقی اور انسانی حقوق وغیرہ جمہوری اور لبرل اقدار ہیں اور جمہوری آئین صرف انہی کا تحفظ کرتا ہے اور جب محسوس ہوتی ہے ان میں تبدیلی کر لی جاتی ہے۔ وقت اور زمانے کے تقاضوں کے تحت ان اقدار میں اگر کوئی تبدیلی کردی جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن دینی عقائد اور اقدار کی نوعیت مستقل ہوتی ہے، وہ کسی انسانی سوچ اور شعور کا نتیجہ نہیں ہوتیں۔ یہ اللہ کی طرف سے اسکے ابنیاء کے ذریعے انسانیت کی ہدایت کیلئے عطا کی گئی ہیں اور یہ ہر زمانے میں ایک جیسی ہی رہتی ہیں اور انسانی خواہشات اور ارادے میں تبدیلی سے ان میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔

ہمارے ہاں مغرب سے متاثر اور مرعوب اذہان جو مذہب کو بھی جزوی طور پر اپنی زندگی کا حصہ رکھنا چاہتے ہیں وہ مغربی تصورات کی اسلام کاری کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ اسلامی سوشلزم، اسلامی بیکنگ، اسلامی اکنامکس، اسلامی سائنس اور اسلامی جمہوریت کے نعرے لگاتے ہیں۔ ان حضرات کواس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ مغربی تصورات کی اسلام کاری کا عمل دراصل اسلام کی سیکولرائزیشن کا عمل ہے۔ ہر تہذیب کے تصورات اور علمیت، اسکے بنیادی عقائد (تصور جہاں، تصور انسان، تصور کائنات اور تصور خدا) سے تشکیل پاتے ہیں۔ مثال کے طور پہ لبرل اکنامکس کی ساری اصطلاحات اسکے اندر سے برآمد ہوئیں ہیں نہ کہ مارکسی معیشت یا اسلامی معیشت کے تناظر میں تشکیل پائیں۔ جدید ریاست اور طرز حکومت کے تصورات بھی سول سپرمیسی، انسان کی خود مختاری اور لبرل ازم و سیکولرازم وغیرہ سے ہی برآمد ہوئے ہیں اور یہ ہماری تہذیب میں اس لئے فٹ نہیں ہو سکتے کہ ہمارے ہاں انسان کا تصور بالکل مختلف ہے۔ ہمارے ہاں انسان کے پاس چوائس تو ہے لیکن وہ خودمختار اور مطلق آزاد نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے۔ ہمارے ماڈرن حضرات تہذیب مغرب کےتصورات کو سمجھے بغیر جب اسکے کچھ خوبصورت اجزاء کی چکا چوند سے متاثر ہو کر انہیں اسلام میں داخل کرنے اور اپنانے کی کوشش کرتے ہیں تو ذہنی اور فکری مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

ان حضرات کے خیال میں مغربی تصورات کی اسلام کاری سے نئی نسل کو متاثر کرکے اسلام کے قریب لایا جاسکتا ہے۔ سائنس اور جدیدیت سے مرعوب اذہان روایتی علمیت کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے لیکن جدید مغربی علوم کی روشنی میں انہیں مذہبی تصورات آسانی سے سمجھائے جاسکتے ہیں۔ یہ ان حضرات کی بہت بڑی بھول اور مغالطہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جوں جوں آپ تہذیب مغرب کی اسلامی کاری کرتے ہیں، اسلام سیکولرائز ہوتا جاتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب نئی نسل یہ کہنے لگتی ہے کہ اگر اسلام کو مغربی علوم کے ذریعے ہی ثابت کرنا ہے تو پھر خالص مغربی علوم اور تہذیب کو اپنانے میں کیا حرج ہے؟ یہ وہ مقام اور مخمصہ ہے جس سے باہر آنے کا کوئی حل ان حضرات کے پاس نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں مغربی طرز کے اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بھی نہ لبرل اور سیکولر ہوں اور نہ جمہوری۔ میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور میری طرح سوچنے والے تمام ماڈرن لوگوں کو اپنی روایتی علمیت، عقائد اور ایمان پر قائم رکھے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20