شاہ ہمدان رح اور مذہبی رواداری: متعصب مورخین کے جبر و تشدد کے الزام کی حقیقت — میر امتیاز آفریںؔ

0

محسنِ کشمیر حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ اور مذہبی رواداری:
ٹینڈل بسکو اور کچھ متعصب مورخین کے جبر و تشدد کے الزام کی حقیقت

ایک انسان کے لئے دنیا کی سب سے عظیم ترین نعمت ایمان کی نعمت ہے اور ہماری قوم یعنی ساکنانِ خطہٓ کشمیر کو یہ نعمت حضرت شاہ ہمدان امیر کبیر میر سید علی ہمدانی علیہ رحمہ کے وسیلے سے نصیب ہوئی۔ لہذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے اس محسن کو بھول جائیں جس نے یہاں کے مکینوں کو اپنی مخلصانہ دعوت کے ذریعے اسلام کی دولت سے نوازا۔ آپ کی عنایات اس درجہ روشن ہیں کہ ہم تو کیا ہماری آنے والی نسلیں بھی ان کے احسانات کبھی فراموش نہیں کر سکتیں۔ آپ اور آپ کے صالح رفقاء نے یہاں کی تہذیبی اور معاشرتی زندگی کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا۔ دین مبین کے ساتھ ساتھ آپ نے نئے نئے علوم و فنون اور ثقافتی اقدار سے اس قوم کو روشناس کرایا۔ شائد ہی ہماری اجتماعی زندگی کا کوئی گوشہ ہو جس پر آپ نے اپنے اثرات نہ چھوڑے ہوں، علامہ اقبال نے بجا طور پر آپ کو “معمار تقدیر امم” کے گراں قدر نام سے یاد کیا ہے۔ ہمارے ایک بزرگ بجا فرمایا کرتے تھے کہ اگر شاہ ہمدان کے احسانات کے صلے میں تمام مسلمانانِ کشمیر کی کھال اتاری جائے اور پھر اس چمڑے سے ایک جوتا بنایا جائے اور حضرت کی خدمت میں پہننے کے لئے پیش کیا جائے، تب بھی ہم آپ کے احسانات نہیں چکا سکتے کہ ان کے بار تلے ہماری گردنیں ہمیشہ کے لئے جھکی ہوئی ہیں۔ ہم اسی لئےبطور مسلمان انتہائی تعظیم و توقیر سے حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اس سارے خطے کو کفر و شرک کی ضلالتوں سے نکال کر ایمان و ایقان کی روشنی سے منور کیا۔ مگر جس طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے متبعین پر جبر و اکراہ سے غیر مسلموں پر مذہب اسلام مسلط کرنے کے الزامات لگائے گئے اسی طرح جنوبی ایشیا کے تناظر میں جبری تبدیلیٓ مذہب کے اس افسانے کو شدومد سے پھیلایا گیا۔ ان الزامات کو 19 ویں اور 20 ویں صدی کے اوائل میں ہندوستان میں برطانوی مستشرقین “ایڈمنسٹریٹر-مورخین” (جیسے ہنری ایلیٹ) نے مشہور کرنے میں کافی زور لگایا، اور انہیں آر سی مجومدار اور کویناراد ایلسٹ جیسے ہندتوا ہمدرد مورخین نے مستعار لے کر انکے فروغ میں کافی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔

حضرت شاہ ہمدان علیہ رحمہ پر بھی یہ الزام ذور و شور سے لگایا گیا۔ دراصل کچھ مخصوص ذہنیت کے لوگوں کو کشمیر کے مسلم تشخص سے بغض و عناد ہے اور یہ بات ان کو کیسے ہضم ہو سکتی ہے کہ اس مرد مومن کی وجہ سے ہزاروں ہندوؤں نے اپنا آبائی مذہب ترک کرکے دامن توحید میں پناہ لی۔ ان بے بنیاد الزامات کو ادھر ادھر سے اٹھا کر شدومد سے پھیلانے کی کاوشیں جاری و ساری ہیں۔ اسی لئے کشمیر کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ سے شاہ ہمدان علیہ رحمہ کے نام کو یا تو ایک دو جملوں میں سمیٹنے کی کاوشیں کی جاتی ہیں یا ان کی شخصیت کو ہی مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چونکہ غیر مسلموں کی ایک بڑی آبادی کا اپنا آبائی مذہب ترک کر کے دامنِ اسلام میں پناہ لینا ان کے لئے بڑی تکلیف کا سبب ہے، اس لئے کئی غیر مقامی مورخین نے اس تصور کو فروغ دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ نے جبر و تشدد سے غیر مسلموں کا مذہب تبدیل کروایا۔ نہ صرف کچھ ہندو مورخین نے بلکہ کئی مغربی مصنفین نے بھی تعصب سے کام لے کر بلا تحقیق آپ کی شخصیت کو منفی انداز میں پیش کرنے کی جسارت کی ہے۔ شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے ساتھ اس تعصب کی تاریخ بہت قدیم ہےکہ اکثر ہندو سنسکرت مورخین آپ کے نام کا تذکرہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے اور عصبیت کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر مشہور برطانوی مصنف ٹینڈل بسکو نے بھی حضرت شاہ ہمدان علیہ رحمہ کی شخصیت کو داغدار کرنے کی مذموم کوشش کی ہے اور اس تحریر میں ہم زیادہ تر ان کے الزامات کا ایک جائزہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کو اپنی کتاب میں کچھ اس طرح متعارف کرتے ہیں:

“…Mir Syed Ali of Hamdan, who in the fourteenth century had great influence, and to him is ascribed the honour of being one of the chief oppressors of the Hindus.”  (Kashmir in Sunshine and Shade: Tynadale Biscoe, page 113)

ترجمہ: “شاہ ہمدان چودھویں صدی عیسوی میں بےمثال اثر و رسوخ کا مالک تھا اور اس کے ساتھ یہ بات بھی وابستہ ہے کہ اسے ہندوؤں پر ظلم و ستم ڈھانے کا اعزاز حاصل تھا”

الزامات کو مزید تیز کرتے ہوئے وہ آگے لکھتے ہیں:

“It was through his [Shahi Hamadan’s] and his son’s instigation that the Hindus of Kashmir were ruthlessly persecuted by Qutub-ul-Din and his successor, Sikandar the Idol Breaker.” (Kashmir in Sunshine and Shade: Tynadale Biscoe, Page 71)

ترجمہ:” یہ اس کے (یعنی حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کے) اور اس کے بیٹے کے اکسانے کا ہی نتیجہ تھا کہ سلطان قطب الدین نے بے رحمی سے کشمیری ہندوؤں کو مصائب میں مبتلا کردیا جس میں بعد میں اس کا جانشین سکندر بت شکن بھی شامل ہوا۔ ”

یہاں پر نہ صرف انہوں نے شاہ ہمدان علیہ رحمہ کی شخصیت کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش کی ہے بلکہ سلطان سکندر کے مبینہ متشددانہ طرز عمل کو بھی شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

حضرت شاہ ہمدان سے منسوب خانقاہ کے بارے میں بے بنیاد الزام لگاتے ہوئے کچھ اس طرح زہر اگلتے ہیں:

“The mosque stands on the site of a Hindu temple which was demolished by the Muhammadans to make way for their mosque.” (Page: 113)

ترجمہ: “یہ خانقاہ ایک ہندو مندر کی جگہ پر واقع ہے جسے مسلمانوں نے یہ زیارت گاہ تعمیر کرنے کے لئے منہدم کردیا۔”

حضرت شاہ ہمدان علیہ رحمہ پر لگائے گئے ان الزامات کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ مذکورہ مصنف نے ان باتوں کو تاریخی حوالوں کے بغیر ہی نقل کیا ہے اور سنی سنائی باتوں کو الفاظ کا جامہ پہنایا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے حقائق کو تاریخی حوالہ جات کے ساتھ نقل کرنے کا التزام نہیں کیا ہے اور اپنی کتاب کے Author’s Note میں انہوں نے تاریخ کے کسی مستند ماخذ کا حوالہ دینے کے بجائے اپنے اسکول کے ہیڈ ماسٹر شنکر پنڈت کے بیان پر آنکھے بند کرتے ہوئے غلو کی حد تک اعتماد ظاہر کیا ہے۔ چناچہ وہ لکھتے ہیں:

“I must express my thanks to my headmaster, Mr Shanker Pandit, B.A., who allowed me to draw upon his knowledge of the ancient history of Kashmir, and of the various rites and ceremonies, both of Hindus and Muhammadans, with respect to birth, death, marriage etc. What my friend Shanker does not know concerning his country is not worth knowing.”  (Kashmir in Sunshine and Shade: Tynadale Biscoe, page 5)

ترجمہ: “میں اپنے ہیڈ ماسٹر جناب شنکر پنڈت(بی اے) کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ قدیم تاریخِ کشمیر کے متعلق میں نے ان کے علم پر اعتماد کیا ہے جو انہیں ہندوؤں اور مسلمانوں کے رسوم اور رواجوں کے بارے میں جانکاری حاصل ہے جیسے پیدائش، موت، شادی وغیرہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بارے میں میرے دوست شنکر جو کچھ نہیں جانتے وہ جاننے کے لائق ہی نہیں ہے۔”

اس بیان سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ تاریخ کشمیر کے بارے میں مصنف نے کتنی بے احتیاطی برتی ہے اور اس وجہ سے ان کی کتاب میں درجنوں غلطیاں پائی جاتی ہیں مثلاً اپنی کتاب میں وہ منگول کو مذہب شمار کرتے ہیں حالانکہ مذہب و تاریخ کا ایک معمولی طالب علم بھی جانتا ہے کہ منگول ایک نسل ہے مذہب نہیں۔ اسی طرح لفظ ‘سرینگر’ کے معنی’ دولت کا شہر’ لکھتے ہیں حالانکہ اس کا مطلب ہے ‘سوریہ یعنی سورج کا شہر’
(کشمیر دھوپ اور چھاؤں میں:ترجمہ: غلام نبی خیال: ص:76)

حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ جیسی قدآور مذہبی شخصیت کے بارے میں اس قسم کی بلا تحقیق ہرزہ سرائیاں ناقابلِ برداشت ہیں کیونکہ اس عظیم شخصیت کے ساتھ لوگوں کی عقیدتیں جڑی ہوئی ہیں اور ان کے متعلق نامناسب الفاظ سے دل آزاری کے ساتھ ساتھ فتنہ وفساد بھی برپا ہو سکتے ہیں۔ آج جبکہ مذہب کے نام پر جنون اور تشدد و تعصب اپنے عروج پر ہے اور روز ملک کے مختلف علاقوں سے مذہبی تشدد کے واقعات سننے کو ملتے ہیں ایسے میں اس قسم کے بے سند واقعات فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرسکتے ہیں اور سماج کو نفرت کی آگ میں جھونک سکتے ہیں۔ حالانہ تاریخ کا ہر طالب علم اس بات سے باخبر ہے کہ کشمیر صدیوں سے مختلف مذاہب کا گہوارہ رہا ہے اور لوگ دوسرے علاقوں کے مقابلے میں نسبتاً امن و شانتی سے رہتے آئے ہیں۔

مزید یہ کہ شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کے دور کے بارے میں جو تاریخی شواھد ہم تک پہنچے ہیں ان میں کسی ایک بھی باوثوق ذریعے سے ملنے والی جانکاری کے مطابق ان الزامات کو معترضین ثابت نہیں کر پائے ہیں اور محض تعصب و عناد کی بنیاد پر یہ من گھڑت قصے بلا تحقیق عوام میں پھیلائے گئے ہیں تاکہ مبلغین اسلام کے بارے میں ایک منفی پروپیگنڈا پھیلایا جائے۔

ٹنڈیل بسکو کے ان معتصبانہ اعتراضات کے ضمن میں معروف صحافی، مورخ اور مترجم غلام نبی خیال مذکورہ کتاب کے ترجمے کے فٹ نوٹ میں لکھتے ہیں:

“مغربی ممالک سے کشمیر آنے والے چند عیسائی سیاحوں، مورخوں، تحقیق کاروں اور سفرنامے قلم بند کرنے والوں نے کشمیری مسلمانوں کے بارے میں وقتاً فوقتاً اپنے تعصب کا برملا طور پر اظہار کیا ہے۔۔۔ ورنہ میر سید علی ہمدانی جیسے تاریخ ساز مفکر زمان، مبلغ دین، نابغہ زمانہ، عالم و فاضل اور علمی فضلیت والے بے نظیر سید کے حوالے سے ایسے واقعات منسوب کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ نے کشمیر میں اس وقت اسلام پھیلایا جب یہاں ہندو دور میں ہندو کئی ذاتوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ان میں خاص کر شودر یعنی اچھوت طبقہ اونچے طبقہ یعنی برہمنوں کے ہاتھوں قسم قسم کی تکالیف اور مصیبتوں میں مبتلا تھا۔ اس پس منظر میں شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ نے بغیر کسی ذور زبردستی کے دبے ہوئے اور ستائے ہوئے کشمیری ہندوؤں کو اسلام کی طرف راغب کرلیا اور اس انسان نواز مذہب کو انہوں نے خوشی خوشی قبول کیا لہذا بسکو کا یہ کہنا کہ شاہ ہمدان ہندوؤں کے لئے ظالم تھا، ہرزہ سرائی کے سوا اور کچھ نہیں۔۔۔ کشمیری ہندوؤں پر نام نہاد ظلم و ستم کے اس افسانوں بیان پر مورخوں نے مختلف آراء پیش کی ہیں اور جس طرح سے مسلمان حاکموں کے ہاتھوں ان پر ناقابلِ بیان مظالم کو درج کیا گیا ہے اس کے ساتھ چند ہندو تاریخ دان مثلاً پریم ناتھ بزاز، پرتھوی ناتھ کول بامزئی وغیرہ بھی اختلاف رکھتے ہیں۔۔۔ جب حضرت شاہ ہمدان کشمیر آئے تو مقامی ہندووں نے اپنی مرضی سے اس بنا پر مسلمان ہونا قبول کیا کہ وہ اور خاص کر ان کی نچلی ذاتوں کے لوگ برہمن پنڈتوں کے ہاتھوں ناقابل بیان جوروجبر اور ظلم و ستم کے مستقل شکار تھے۔
(کشمیر دھوپ اور چھاؤں میں:ترجمہ: غلام نبی خیال: ص:56، 14,92)

ڈاکٹر شمس الدین احمد اپنی کتاب “شاہ ہمدان: حیات اور کارنامے” میں لکھتے ہیں:

” شاہ ہمدان نے کشمیر کے لوگوں کی ذہنی اور فکری سطح کو تبدیل کرنا تھا۔ وہ مجاہدین اسلام کی جو فوج لے کر آئے تھےان کےہاتھوں میں، جیسے کہ خود مقامی برہمن مورخوں کو بھی اعتراف ہے، نہ کوئی تلوار تھی نہ توپ، نہ تیر تھا نہ کمان، وہ محض ایمان اور توحید الہی کے دیرپا اور کارگر اسلحہ سے مسلح تھے۔ اسی نعرہ توحید سے ان کو اوہام و مزخرفات اور بے اساس رسوم و بدعات کی بنیادیں منہدم کرنی تھیں جو ہزارہا سال سے ایک ظلمت کا پردہ لے کر یہاں کے لوگوں کے دل و دماغ پر چھا چکی تھیں اور انہوں نے کشمیر میں یہ فکری اور زہنی انقلاب سادہ تعلیمات اسلام اور بلند اخلاقی معیار اور عام اظہار شفقت سے وجود میں لایا، اور یہی مشعل لے کر آپ نےاپنے ساتھی، رفقاء، مجاہدین راہ خدا کو کشمیر کے ہرقصبےاور ہر گاؤں میں بھیج دیا۔ ۔ ۔ یہ ایک حیرت انگیز انسانی، اخلاقی، فکری اور نظریاتی انقلاب تھا جو حضرت شاہ ہمدان کی ذاتی نگرانی میں کشمیر میں برپا ہوا۔۔۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر اس کی تشہیر و اشاعت میں کسی طرح کا کوئی دباو ہوتا تو کشمیر خانہ جنگی کا خطرناک منظر بن جاتا۔ ۔ ۔ حضرت شاہ ہمدان کی مجاہدانہ تبلیغ اور جدوجہد اس قدر محبت آمیز اور سایہ دار تھی کہ خود مسلمان ہونے کے بعد یا بعضوں کے اپنی ہی قدیم روایات یا مذہب پر قائم رہنے کے بعد کسی بھی ایک ادیب یا مؤرخ نے حضرت شاہ ہمدان اور ان کے رفقائے کار پر جبر و ظلم یا دباؤ اور سختی کی تہمت یا الزام نہیں لگایا، بلکہ وہ مقامی مسلمانوں ہی کی طرح آج بھی خانقاہ شاہ ہمدان کی چوکھٹ پر حاضری دے کر انکساری کے ساتھ اپنی جبین نیاز کو جھکاتے ہیں۔” (1/262، 402)

اسی کتاب میں آگے لکھتے ہیں:

” یہ دین فطرت(یعنی اسلام ) یہاں کے نو مسلموں کو اس قدر بھایا اور رگ و پے، اور جسم و جان میں ابدیت تک یوں سرایت کر گیا کہ ایسی کوئی شہادت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو جاتا ہو کہ شاہ ہمدان کے وطن لوٹنے کے بعد نو مسلم اپنے مذہب میں لوٹ گئے ہوں۔ بلکہ بعد میں اسی قوم سے ایسے دینی رہنما اٹھے جنہوں نے کشمیر میں دین اسلام کی حفاظت کے لئے قربانیاں دیں اور آج بھی کسی غلط تاویل کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اسلام کے خلاف فتنے کا سر کچلنے کے لئے مردانِ راہ الٰہی سربکف ہیں۔” (1/270)

حضرت شاہ ہمدان پر جس مندر کو ڈھانے کا الزام بسکو نے لگایا ہے اس کے بارے میں کشمیر کے مشہور مورخ حسن کھویہامی لکھتے ہیں:

“اس مندر کا پروہیت جب حضرت شاہ ہمدان کی روحانی عظمت و کمال کا قائل ہو کر مسلمان ہوگیا تو تائب ہو کر اس نے مندر کو ڈھادیا اور اپنے ساتھی پجاریوں سمیت اسلام کو فروغ دینے کے نیک عمل میں سرگرم رہا۔ ” (تاریخ حسن 1/323)

اس تاریخی حوالے سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ حضرت شاہ ہمدان پر مندر ڈھانے کا الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ حضرت شاہ ہمدان کے فرزند حضرت میر محمد ہمدانی نے جب سلطان سکندر کے دور میں خانقاہ معلیٰ کو تعمیر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس سے متصل زمین ایک لعل بدخشان کے عوض اس کے مالکوں سے خریدی گئی جیسا کہ وقف نامے کی نقل میں درج ہے جسے فارسی متن کے ساتھ ڈاکٹر شمس الدین احمد نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔ (شاہ ہمدان: حیات اور کارنامے: ڈاکٹر شمس الدین احمد: 2/919)

بسکو کے برعکس دوسرے مشہور مغربی مصنف والٹر لارینس شاہ ہمدان کے بارے میں نسبتاً اچھا تاثر دیتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ان کے الفاظ سے بسکو کے الزامات کی حقیقت بھی کھل جاتی ہے، وہ لکھتے ہیں:

“The saint who has exercised the most direct influence on the religion of Kashmir was Mir Saiyad Ali of Hamadan, who visited the valley in the time of Kutb-ud-Din. and practically established Islam in the valley. He is known as Amir-i-Kabir, Shah-i-Hamadan, and Ali Sani, and the Hindus say that he received his inspiration from a Hindu lady, Lalishri, who was an incarnation of a goddess. The Musalmans deny this, but they hold her name in great respect, and speak of her as Lai Dedi…His mosque, the Shah-i-Hamadan in Srinagar, is one of the most sacred places in Kashmir, and is a worthy memorial of a man who in his time exerted an enormous influence over the country…

The Shah-i-Hamadan mosque was commenced in the reign of Sultan Kutb-ud-Din, and was built on the foundations of a Hindu temple, the priest of which had been convinced of his religious errors by the eloquence of Mir Saiyad Ali.   (The Valley of Kashmir: Walter Lawrence, P292,293)

ترجمہ: کشمیریوں کے مذہب پر جس شخصیت نے براہ راست اثر ڈالا وہ میر سید علی ہمدانی تھے جو کہ کشمیر میں قطب الدین کے عہد میں آئے اور عملی طور پر وادی میں اسلام کی داغ بیل ڈالی۔ وہ امیر کبیر شاہ ہمدان سے علی ثانی کے نام سے مشہور ہیں۔ ہندووں کا بیان ہے کہ انہوں نے ایک ہندو خاتون لل ایشوری سے فیض حاصل کیا جو دیوی کی پیامبر ہے۔ مسلمان اس بات سے منحرف ہیں مگر وہ اس خاتون کو بھاری عقیدت کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور اسے لل دید کہتے ہیں۔ ۔ ۔ اس کی مسجد شاہ ہمدان سرینگر میں واقع ہے اور کشمیر میں مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے اور یہ اس شخصیت کی شایانِ شان درگاہ ہے جس نے اس ملک بھر میں بھاری اثر ڈالا ہے۔

۔ ۔ مسجد شاہ ہمدان کی تعمیر کا کام سلطان قطب الدین کے عہد میں شروع ہوا۔ یہ مسجد ایک ہندو مندر کی بنیاد پر تعمیر کی گئی۔ یہاں کا مجاور میر سید علی ہمدانی کی فصاحت بیانی اور اپنی مذہبی غلطیوں کا قائل ہو چکا تھا۔” (ترجمہ: غلام نبی خیال )

اگرچہ تاریخی لحاظ سے لارینس صاحب کی باتیں بھی محلِ نظر ہیں مگر ان سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حضرت شاہ ہمدان کو صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو بھی احترام وعقیدت کی نظر سے دیکھتے تھے اور آپ کے سلسلہ فیض کو لل دید کے ساتھ جوڑتے تھے۔ اگر شاہ ہمدان نے واقعی طور پر ہندوؤں پر ظلم و ستم کا آغاز کیا تو پھر ایسا کیونکر ممکن ہے کہ وہ ادب و احترام سے آپ کا نام لیں۔ دوسری بات یہ بھی ابھر کر سامنے آتی ہے کہ ہندو مندر کی جگہ خانقاہ کی تعمیر شاہ ہمدان نے جبراً نہیں کروائی بلکہ پجاری خود آپ کی دعوت و تبلیغ سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ انہوں نے خود ہی اس جگہ پر مسجد تعمیر کرنا مناسب سمجھا۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ نظر رہے کہ کچھ مورخین نے مندر کو مسجد میں تبدیل کرنے کے واقعے کو سرے سے ہی ایک فرضی داستان قرار دیا ہے۔

تاریخ کی مشہور کتاب اسرار الاخیار (تاریخ حسن) میں درج ہے:

“[حضرت شاہ ہمدان] بے شمار لوگوں کے دل گرویدہ بنا کر دائرہ اسلام میں لائے۔ مندروں کو گراکر ان کی جگہ مسجدیں اور خانقاہیں ان ہی لوگوں سے بنوائیں جو بت پرستی کے زمانے میں ان مندروں میں مورتی پوجا کرتے تھے۔” (جلد3 ص16)

تاریخی حوالوں سے پتا چلتا ہے کہ جب کسی علاقے کی اکثریت نے حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کی روحانی شخصیت اور تعلیمات سے متاثر ہوکر اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تو انہوں نے خود ہی اپنے مذہبی مقامات کو مساجد اور خانقاہوں میں تبدیل کرنا مناسب سمجھا اور اس میں نہ کسی قسم کا دباؤ ڈالا گیا اور نہ ہی تشدد استعمال کیا گیا۔

ڈاکٹر شمس الدین احمد لکھتے ہیں:

” نو مسلموں کے جذبات کے احترام میں اور ان میں اطمینان پیدا کرنے کی خاطر حضرت شاہ ہمدان نے عبادت گاہوں، مسجدوں، اور خانقاہوں کی طرز تعمیر میں کوئی مداخلت نہیں فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم خانقاہوں کی طرز تعمیر یہاں بدھ وہاروں کے مشابہ ہے۔۔۔ اس کے نمایاں گواہ آج بھی موجود خانقاہیں ہیں جن کی چھت بشمول جامع مسجد کسی بھی بدھ وہار کی چھت کے مشابہ ہے۔۔۔ مؤثر اور پائیدار اور اطمینان بخش طریقہ تبلیغ تھا بھی یہی کہ لوگوں نے چونکہ اسلام کو ایک درست و صحیح دستور زندگی اور نظام حیات کے طور پر ایک نئے معاشرے اور روشن حال و مستقبل کی امید پر قبول کیا، اس لئے حضرت شاہ ہمدان نے ان کے بعض غیر اہم امور سے بے اعتنائی فرمائی لیکن شرعی امور میں کوئی رعایت اور اعراض نہیں برتا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی حکومت کے چھ سو سالہ دور حکومت میں کشمیری پنڈت لباس میں، دھرم میں، گھریلو بات چیت میں، اپنے مخصوص رسم و رواج میں اور کھانے پینے کی عادات تک میں بھی اپنی انفرادیت قائم رکھ سکے ہیں۔”
(شاہ ہمدان: حیات اور کارنامے:313,268/1)

رہا سوال بادشاہوں کو ہندوؤں پر ظلم پر اکسانے کا تو تاریخ کا ہر طالب علم اس بات سے واقف ہے کہ حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ ایک صوفی داعی کی حیثیت سے کشمیر تشریف لائے اور صوفیاء کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی پر ظلم ڈھائیں اور تشدد سے کام لیں۔ آپ کی تصانیف کو دیکھ کر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی فکر پر سب سے زیادہ اثرات امام غزالی علیہ رحمہ، شیخ محی الدین ابن العربی علیہ رحمہ اور شیخ نجم الدین کبریٰ علیہ رحمہ کے پائے جاتے ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ یہ تینوں بزرگ مذہبی رواداری اور انسان دوستی میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کے مکتوبات اور ذخیرۃ الملوک کا بغور مطالعہ کرنے کے دوران یہ بات منکشف ہوجاتی ہے کہ آپ کا انداز اور لہجہ ایک ڈکٹیٹر کا نہیں بلکہ ایک روحانی مربی کا ہے اور آپ بادشاہوں کو اخلاقی و دینی ضابطوں کی پاسداری کی نصیحت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر شمس الدین احمد لکھتے ہیں:

“جن غیر مسلموں نے اپنی قدیم روایات اور اپنے ہی مسلک پر قائم رہنے کو پسند کیا ان سے کوئی تعرض نہیں ہوا اور ان کے ساتھ اختلاط و روابط کے باوجود ان کو ہر طرح کی آزادی، مسلکی اور عقیدتی آزادی حاصل رہی۔ مسلمان بادشاہوں کے آخری دور حکومت کے آخری دن تک قرآنی احکام و فرامین کے مطابق کشمیری برہمنوں نے آزادی کی زندگی گزاری ان پر کوئی جبر نہیں تھا اور ان کو اپنے مسلک کے مطابق بھی قانونی تسہیلات میسر تھیں اور مسلمانوں کی حکومت کی رعایا ہونے کی حیثیت میں بھی ان کو وہی مراعات حاصل رہیں جو مسلمانوں کو تھیں۔ ہندو ہونے کی وجہ سے ان کو قتل نہیں کیا جاتا تھا اور نہ ہی ان کے مذہب، مسلک، عقائد یا ان کے اپنے تہذیبی و تمدنی روایات کو ختم کرنے کی کبھی کوئی سازش ہوئی۔” (شاہ ہمدان: حیات اور کارنامے(2/674)

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جس روحانی و اخلاقی ماحول اور منہج میں آپ کی تربیت ہوئی، اس کو دیکھ کر تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کے ذریعے ظلم و ستم کا صدور ہو۔ آپ کی مجموعی زندگی کو باریکی سے دیکھا جائے تو ہمیں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا جس سے یہ پتا چلتا ہو کہ آپ نے غیر مسلموں کے ساتھ نفرت اور تعصب کا سلوک کیا ہو۔

آر کے پارمو اپنی کتابA History of Muslim Rule in Kashmir میں لکھتے ہیں:

“یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ اسلام کشمیر میں ایک نجات دہندہ کے طور پر داخل ہوا۔ اس نے رفتہ رفتہ لوگوں کی سماجی اور اخلاقی قوت بحال کردی۔ انہیں ایک ایسے نئے سماجی نظم اور ایک ایسے مذہب کے ذریعے حیات نو بخشی گئی جو سادہ، قابل فہم اور عملی ہے۔ اسلام نے بیرونی انتشاری اور تفرقہ ڈالنے والی طاقتوں کو پاش پاش کیا۔ اس نے سماجی قوتوں کو مستحکم، متحد اور یکجا کردیا۔ فلسفہ اسلام نے پہلے چند لوگوں کے اذہان کو بیدار کیا جو بعد میں تو وہی اسلام کے مشعل بردار بن گئے۔”

ڈاکٹر اسحاق خان اپنی کتاب ‘کشمیر میں اشاعت اسلام’ میں لکھتے ہیں:

“سلطان کشمیر قطب الدین کے نام سید علی ہمدانی کے مکاتیب بہت سی باتوں کو آشکار کرتے ہیں۔ یہ خطوط کشمیر کے غیر مسلموں کے تئیں ان کے بے تعصب رویہ کے عکس ہیں، اگر انہوں نے غیر مسلموں کے ساتھ بادشاہ کر ‘دوستانہ’ رویہ کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا نہ ہوتا تو انہوں نے اپنی ناراضگی، مایوسی اور بیزاری کا اظہار ان خطوط میں ضرور کیا ہوتا جو انہوں نے کشمیر سے روانگی کے بعد پکھلی سے سلطان کشمیر کو ارسال کئے۔ اس کے برعکس محسوس یہ ہوتا ہے کہ سید علی کشمیر میں اپنے تاریخی مشن کی پیچیدگیوں سے آگاہ تھے اور اسی سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ انہوں نے کیوں سلطان کشمیر کو ممکن حدود کے اندر ہی شریعت اسلامی کو مقبول بنانے کی کوشش کرنے کی تلقین کی۔ ان کی شریعت نوازی کے باوجود ان کے ‘مکتوبات’ اور نہ ہی ‘ ذخیرۃ الملوک’ ہی خفیف سا اشارہ بھی اس بات کی طرف کرتی ہے کہ وہ بھاری اکثریت کی غیر مسلم رعایا کے ساتھ بادشاہ کے غیر دوستانہ برتاؤ کے متمنی تھے۔ ان کے نزدیک بادشاہ کی ساری رعایا خدا کی مخلوق ہے لہذا یہ بادشاہ کا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ طاقتور کے مقابلے میں کمزور کے حقوق کا تحفظ کرے۔” (ص8، 9)

چونکہ ذخیرۃ الملوک میں حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ مسلم حکمرانوں کو غیر مسلمین کے ساتھ عدل و انصاف کرنے کی تلقین کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“حاکم کا عدل و انصاف تمام رعایا کے لئے ہونا چاہئے اور اس معاملے میں احسان کے لئے اہل یا نااہل کے درمیان کوئی فرق روا نہ رکھے کیونکہ بادشاہ سایہ حق ہے اور رحمت حق ہر کافر و مومن کو شامل ہے، بالکل اسی طرح حاکم کے احسان کو ہر نیک و بد سے متعلق ہونا چاہئے۔ ” (زخیرۃ الملوک: اردو ترجمہ: محمد ریاض قادری: ص 195)

اقبالیات کے مشہور اسکالر ڈاکٹر طاہر حمید تنولی بیان کرتے ہیں کہ سلطان شہاب الدین آپ کا تربیت یافتہ تھا۔ ملک میں مالی بحران آیا تو اس کے ایک وزیر اودھے چاری نے تجویز پیش کی کہ سرینگر میں بدھ کا سونے کا ایک قیمتی مجسمہ ہے اگر اس کو سِکوں میں ڈھالا جائے تو بحران ختم ہو جائے گا مگر بادشاہ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا کیونکہ اس پر شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کا خاصا اثر تھا اور وہ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔

حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ دعوت کے عمل میں جبر و تشدد کے قطعاً قائل نہیں تھے اور قرآن مجید اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسلوبِ دعوت کو پیش نظر رکھتے تھے جس میں جبر و تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔ چونکہ دعوت کے سلسلے میں قرآن مجید کا واضع ارشاد ہے:

اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ۔ (النحل:125)

ترجمہ: “اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو، اور ( اگر بحث کی نوبت آئے تو ) ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔ یقینا تمہارا پروردگار ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گئے ہیں، اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو راہ راست پر قائم ہیں۔”

حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مخلص داعی کی طرح، کسی قسم کے جبر و تشدد کے بغیر لا اکراہ فی الدین کے قرآنی فارمولا کے مطابق دعوت دین کے عمل کا آغاز کیا۔

لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَیِّ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ۔ (البقرہ:256)

ترجمہ: “دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے۔ تو جس نے طاغوت کا انکار کیا، اور اللہ پر ایمان لایا، اس نے مضبوط رسی پکڑی، جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ ”

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے معروف مفسر علامہ ابن کثیر (متوفی 1373) لکھتے ہیں کہ اس عبارت کا مطلب ہے، “کسی کو بھی مسلمان ہونے پر مجبور نہ کیا جائے، کیونکہ اسلام اپنے دلائل کے لحاظ سے بالکل واضع ہے، اور اس کے دلائل اور شواہد بالکل صاف ہیں لہذا، کسی کو بھی اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔” (تفسیر ابن کثیر جلد اول)

مستند کتب تاریخ کو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ جب حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ وارد کشمیر ہوئے، نہ ان کے پاس کوئی سیاسی و عسکری اقتدار تھا اور نہ ہی تلواریں بلکہ تربیتِ نفس کے نتیجے میں وہ روحانیت اور ربانیت کے اعلیٰ درجے پر متمکن تھے اور اسی روحانی سازو سامان سے انہوں نے لوگوں کو اس درجہ متاثر کیا کہ وہ آپ کے گرویدہ ہو گئے اور آپ نے اپنے روحانی کمالات اور منصوبہ بند دعوت سے ہزاروں انسانوں کو دین اسلام میں داخل کیا۔ غربت اور ذات پات کے پاٹوں میں پسے ہوئے لوگوں نے اس دعوت کا زبردست خیر مقدم کیا کیونکہ آپ نہ صرف ان کی روحانی تسکین کا سامان ساتھ لے کر آئے بلکہ آپ نے ساتھ ہی ایک معاشی پیکیج (Economic Package) بھی فراہم کیا جس سے مادی و روحانی دونوں قسم کے مسائل کا مداوا ہوا۔ حضرت شاہ ہمدان اصولی طور پر ایک صوفی تھے لہذا دعوت دین میں انہوں نے صوفیاء کرام کے پرامن منہج کو ہی اختیار کیا جس میں خدمت خلق اور خیر خواہی کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے حکمت و دانائی سے اسلامی تعلیمات کو اہلیان کشمیرپر پیش کیا اور اپنے کردار کی وجہ سے انہیں عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی اور وہ فوج در فوج دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ حضرت شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ اقلیمِ روحانیت کے سلطان تھے۔ آپ سیاسی اقتدار کے بت کو پہلے ہی پاش پاش کر چکے تھے اور آپ صرف رضائے الٰہی کے طالب تھے۔ آپ نفسانی خواہشات کا قلع قمع کرنے کو جہاد اکبر سمجھتے تھے۔ جب ہم سنجیدگی سے آپ کی سوانح حیات کو اوراقِ تاریخ میں تلاش کرتے ہیں تو کہیں بھی ہمیں مذہبی، مسلکی، وطنی، سیاسی اور نسلی عصبیت ان کی شخصیت میں نظر نہیں آتی کیونکہ عظیم شخصیات کسی خاص گروہ یا مذہب کا نہیں بلکہ تمام عالم انسانیت کا سرمایہ ہوتی ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20