نجم الدین احمدکے ناول ’’سہیم‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ‎ —– نعیم الرحمٰن

0

نجم الدین احمد کا شمار اردو کے بہترین ناول و افسانہ نگار اور مترجمین میں کیا جاتا ہے۔ ان کی تحریریں اپنے موضوع، اسلوب اور تازہ کاری سے قاری کے دل میں اترجاتی ہیں۔ ’’سہیم‘‘ نجم الدین احمد کا تیسرا ناول ہے۔ جو اپنے پہلے جملے سے قاری کو اپنی گرفت میں جکڑ لیتا ہے، جس کے بعد ناول ختم کیے بغیر اسے رکھنا کسی بھی پڑھنے والے کے لیے انتہائی دشوار ہوگا۔ لاطینی امریکا کے نوبل انعام یافتہ ادیب گبریل گارسیا مارکیز کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناول کا ابتدائیہ یا پہلا جملہ لکھنا انتہائی دشوار ہوتا ہے، اس میں مصنف کا بہت سوچ بچار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن جب پہلا جملہ لکھا جائے تو پھر ناول کی تکمیل اتنی دشوار نہیں رہتی۔ مارکیز کو ایک مرتبہ دوران سفر اپنے آئندہ ناول کا ابتدائیہ ذہن میں آیا، ان کی بیوی جو ساتھ ہی تھی نے بھی کہا تم واپس چل کر اسے لکھو یہی بہتر ہوگا۔ نجم الدین احمد کے ناول ’’سہیم‘‘ کا ابتدائیہ بھی گبریل گارسیا مارکیز کی اس تعریف کے مطابق دلچسپ اور حیران کن ہے۔ جو قاری کو جکڑ لیتا ہے۔ ملاحظہ کریں۔

’’کیایہ ممکن ہے کہ ایک عورت کے بہ یک وقت چار شوہر ہوں؟ وہ چاروں کی اولاد جنے؟ وہ ہرایک کی ایک ایک چوتھائی بیوی ہو؟ اُن کے چاربیٹے ہوں جوان چاروں کے ایک ایک چوتھائی بیٹے ہوں اور وہ ان کے ایک ایک چوتھائی باپ؟ یہ سوچ ہی کتنی سوہانِ روح ہے کہ میں اپنی بیوی کے محض ایک چوتھائی حصے کا شوہر ہوں۔ محض ایک چوتھائی کا! ہاہ، صرف ایک چوتھائی کا! باقی تین حصوں کے تین اور حصے دار ہیں، میرے تین اورشریک۔ وہ مکمل تو کیا کبھی آدھی بھی میری نہیں رہی۔ جس کے لیے میں نے زندگی بھر قربانیاں دیں، گھربار، ماں باپ، بھائی، عزیز و اقارب، دولت جائیداد، اقتدار و اختیارات ہی نہیں اپنا شہربل کہ وطن تک چھوڑا، اپنی آوارہ فطرت کو قابو کیا اور سرشت کے منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالی، جس کی زندگی بچانے کے لیے اپنا سب کچھ تج دیا اور جس سے میں نے ہمیشہ وفاداری کا دم بھرا اور بے نام و مقام زندگی کو ہمیشہ کے لیے اپنا مقدر بنایا، وہ کبھی میری پوری شریکِ حیات نہیں رہی؟ محض ایک چوتھائی!

میری ازدواجی زندگی میں پہلے روز ہی سے چار مرد رہے ہیں۔ میں تم اکیلے کی بیوی کبھی نہیں رہی۔ کبھی نہیں۔ چاروں بیٹوں کی تخلیق میں تمہارے ساتھ ساتھ وہ تینوں بھی شریک رہے ہیں۔ اس کے چہرے پر پھیلی آسودہ مسکراہٹ سے میں سمجھا شاید وہ مجھ سے مذاق کر رہی ہے۔ ایک سنجیدہ مذاق۔ اس کی آنکھیں متواتر میرے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اس نے میرے سامنے ہمیشہ نگاہیں جھکا کر زندگی بسر کی تھی لیکن اب وہ پہلی مرتبہ پلکیں جھپکائے بغیر میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ اس کی نگاہوں میں ایک عجیب سا سکون اور ٹھیراؤ تھا۔ گویہ کبھی اس کی عادت نہیں رہی تھی لیکن ایک بار پھر مجھے ایسا لگا جیسے وہ سب کچھ مذاق میں کہہ رہی ہو۔ اچانک اسکے دیکھنے کے انداز اور آنکھوں میں پتھریلا پن نظر آیا۔ میں نے اٹھ کر دھیرے سے اس کے گال کو تھپتھپایا۔ میرے ہاتھ نے زندگی کی حدت محسوس کی۔ اسی لمحے اس نے پلکیں جھپکائے بغیر اپنے دیدے میری سمت گھمائے۔ میں پلٹ کر واپس اپنی کرسی پرڈھے گیا۔ مجھے لگا میرے بدن سے جان نکل گئی ہو۔ جس روز میں نے نکاح نامے پر دستخط کیے تھے، مجھے نکاح نامے کی ہر پرت پر۔ چاروں پرتوں پر۔ الگ الگ نام دکھائی دیے تھے۔ ہاں چار الگ الگ نام۔ میں نے تمام پرتوں کو بار بار الٹ پلٹ کر۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا کہ یہ میرا واہمہ تو نہیں۔ لیکن ہر بار۔ مجھے ہر پرت پر ایک علیحدہ ہی نام نظر آیا۔ پہلی پرت پر تمہارا نام اور باقی تین پران تینوں کے نام تھے۔‘‘

انتہائی حیران کن اس ابتدائیے کو پڑھنے کے بعد کون سا قاری خود کو ناول مکمل کرنے سے روک سکتاہے۔ یہ نجم الدین احمد کا کمال ہی کہ وہ پہلی ہی سطرسے پڑھنے والے کی مکمل توجہ حاصل کرلیتا ہے۔ ایک مسلمان ملک اور مسلم معاشرے میں کسی ایسی بات کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ ہندو مائیتھالوجی میں چار پانڈو بھائیوں کی ایک بیوی کا ذکر نہیں ہے۔ نہ یہ تبت کا کسی اور معاشرے کابیان ہے۔ جہاں بیوی کو ایک سے زاید شوہر رکھنے کا ادھیکار حاصل ہو۔ ’’سہیم‘‘ کی دلچسپی پہلی ہی سطر سے ایسے قائم ہوتی ہے کہ پڑھنے والا اسے ختم کرنے پرخود کو مجبور پاتا ہے۔

’’سہیم‘‘ کے لغوی معنی شریک، حصہ دار، مثل، نظیر اور مانندہیں۔ اس طرح ناول کا راوی سلمان اور تین اورحصے دار ایک بیوی کے شریک ہیں۔ لیکن یہی کچھ نہیں۔ ناول میں جاگیردار معاشرے کی اخلاقیات، غلط کاریوں کی والدین کی جانب سے بھرپور حوصلہ افزائی، سیاست میں بڑے خاندانوں کی اجارہ داری اور دیگر بہت سے موضوعات اس ناول میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور کہانی کو دلچسپ سے دلچسپ تر بناتے چلے جاتے ہیں۔

نجم الدین احمد بہت زودنویس مصنف ہیں۔ وہ تین ناول ’’مدفن‘‘، ’’کھوج‘‘ اور اب ’’سہیم‘‘ تحریر کرچکے ہیں۔ ان کا چوتھا ناول ’’میناجیت‘‘ زیرطبع ہے۔ سلیم شہزادکے بے مثال سرائیکی ناول کاترجمہ ’’پلوتا‘‘ بھی کرچکے ہیں۔ افسانوں کے دو مجموعے ’’آؤ بھائی کھیلیں‘‘ اور ’’فرار اور دوسرے کہانیاں‘‘ بھی شائع ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ تراجم میں’’بہترین امریکی کہانیاں‘‘، ’’نوبل انعام یافتہ ادیبوں کی کہانیاں‘‘، ’’عالمی افسانہ1‘‘، ’’فسانہ عالم‘‘ جاپانی ادیب ہاروکی موراکامی کے ناول ’’کافکا برلبِ ساحل‘‘ اور دو ہزار اٹھارہ کی نوبل انعام یافتہ پولش مصنفہ ’’اولگا توکارچک کی کہانیوں کا انتخاب‘‘ بھی ان کے تراجم میں شامل ہیں۔

دانشور، ادیب اور شاعر محمد سلیم الرحمٰن کی بیک پیج پرفلیپ سے ’’سہیم‘‘ کی گتھی کچھ سلجھتی ضرور ہے، لیکن اس کے لیے پورے ناول کو پڑھنا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔

’’نجم الدین احمدکے فکشن کاماسکہ اکثر ایسے مردوں پر مرتکز رہتا ہے جو کسی کیفیت یاخوف کو جنون کی طرح اپنے پر طاری کرلیتے ہیں۔ وہ اس کیفیت کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتے اور اس نااہلی کے سبب اپنی الجھنوں سے سمجھوتا نہیں کر سکتے۔ اپنے نئے ناول میں وہ ایک ایسے مرد کو رفتہ رفتہ، واہموں میں الجھ کر، دیوانگی کی طرف بڑھتے دکھاتے ہیں۔ وہ اس لڑکی سے شادی کرنے پر مجبور ہوا جسے کمی سمجھ کر اپنے گرگوں سے اٹھوا لیا تھا اور جس کی زبردستی عصمت دری کی تھی۔ جب کوئی شخص اپنی اوردوسروں کی شناخت کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہوجائے تو پھراس بات کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ کیاحقیقی ہے اور کیا غیرحقیقی۔ ایک اور سطح پر ناول کو جاگیردارانہ طبقے پر فردِ جرم کے طور پر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ یہ طبقہ اکثر اپنی رعیت سے آمرانہ سلوک روا رکھتاہے اور غیرانسانی حد تک بے رحم ہے البتہ اپنے سے طاقتور لوگوں کے سامنے بھیگی بلی بن جاتاہے۔ ناول میں جس جاگیردار خاندان کی تصویر کشی کی گئی ہے وہ خاص طور پردوں فطرت ہے۔ لیکن اسی قماش کے لوگ سیاست میں حصہ بھی لے کر اقتدار کے مزے بھی لوٹتے ہیں۔ اس لحاظ سے ناول کو موجودہ پاکستانی سماج پر کٹیلا طنز سمجھ کربھی پڑھا جاسکتا ہے۔‘‘

سلمان کی بیوی ماروی نے یہ انوکھا بیان بسترمرگ پر دیا تھا۔ وہ شوہر سے کہتی ہے۔

’’میں نے دیانت داری سے پوری کوشش کی کہ جیسے بھی ہو انہیں اپنی زندگی سے نکال پھینکوں لیکن مجھے اعتراف ہے کہ میں ناکام رہی۔ وہ تینوں ہمارے ملن کی پہلی ساعت ہی میں تمہارے ساتھ، تمہارے پیچھے پیچھے حجلہ عروسی میں ایسے داخل ہوئے کہ دوبارہ نکلے ہی نہیں۔ ہمیشہ ساتھ رہے لیکن انہوں نے کبھی تمہیں اپنے وجودکا احساس نہیں دلایا اور نہ میں نے کبھی تمہیں ان کی موجودگی محسوس ہونے دی۔‘‘

’’اس وقت ماروی زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا تھی۔ ڈاکٹر جواب دے چکے تھے۔ وہ نجات سے بس کچھ ہی فاصلے پرتھی۔ کتنی دیر؟ چند گھنٹوں یا چند دنوں کی دیر؟ بسترِ مرگ پرپڑاشخص جھوٹ نہیں بولتا۔ لیکن وہ مجھے ایک اندھی اور تاریک گلی میں قیدکرکے اپنے سفرپرروانہ ہو رہی تھی۔ راوی ایک مستقل ذہنی عذاب میں مبتلا ہوچکا تھا۔ اس حالت میں وہ ماروی پرکسی قسم کی سختی بھی نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن وہ ان تینوں کے نام جاننا چاہتا تھا۔ لیکن ماروی نے کہا۔ ’’ان تینوں کے نام جنہیں تم۔ ۔ وہ خاصے توقف کے بعد دوبارہ گویاہوئی۔ جنہیں تم نے خود میرا وجود اپنے ہاتھوں سے سونپا تھا جیسے کھانے کے بعد ہاتھ صاف کرنے والا تولیہ ایک ہاتھ سے دوسرے، تیسرے اور چوتھے ہاتھ میں سونپا جاتا ہے۔ نقاہت کے باوجود اس کے لہجے میں نشتر بھرے ہوتے ہیں۔ میرا دماغ بھک سے اڑگیا اور مجھ پرسکتہ طاری ہوگیا۔ اس کے الفاظ مجھ پر جیسے بم بن کرگرے تھے میرے ذہن کے پرخچے اڑگئے تھے۔ میری آنکھیں پھٹ گئی تھیں۔ مجھے یقینا اس یا اس جیسے کسی بہتان کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔ دوسرے الفاظ میں وہ مجھے اپنا دلال کہہ رہی تھی۔‘‘

اس انوکھی صورتحال میں راوی کی آنکھوں میں ترمرے پھوٹنے لگے۔ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب اس کادماغ ماؤف ہوگیا اور ذہن پرسناٹا چھا گیا۔ بے سماعتی اوربے حسی کی اس کیفیت میں وہ ہوش وحواس سے بے گانہ ہوکر کرسی سے نیچے فرش پرڈھے گیا۔ وہ اپنے ہوش وخرد کھو بیٹھا تھا۔ اسے ماروی کے عالم سکرات میں جانے اور جہانِ ہست وبود سے جہانِ عدم کو کوچ کرنے کاپتہ بھی نہیں چل سکا۔ اس کی آنکھیں کھلی رہنے لگیں۔ وہ پلکیں جھپکنابھول گیا اور نیند سے عاری ہوکر کور چشم ہوگیا۔ سماعت کھو گئی، بصارت جاتی رہی اور حواس ساتھ چھوڑ گئے۔ جب سب ہوش بھری زندگی میں اس کی واپسی کی امید کھو بیٹھے اور مکمل مایوس ہوکر یقین کی اس کیفیت کوپہنچ گئے کہ اب اس کی موت کوما میں ہی ہوگی تو ایک شب اچانک اس کے کورے کاغذ جیسے خالی ذہن کے سناٹے میں سیٹی گونجنے لگی۔ سیٹی کی آواز اس قدر تیز، نوکیلی اور تیکھی تھی کہ اس کے کانوں کے پردے پھاڑتے ہوئے دماغ میں نشترکی طرح چبھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں ہوگئے اور اسے اردگرد ہلچل محسوس ہونے لگی۔ سناٹا ٹوٹنے لگا۔ شاید کئی مہینوں یا کئی دنوں یا پھر کئی گھنٹوں بعد وہ ہوش کی دنیامیں واپس آنے لگا۔ حواس کی اس دنیا میں اسے ایک نہایت مدہم آواز سنائی دی۔ جوکہہ رہی تھی ’میں تم اکیلے کی بیوی کبھی نہیں رہی‘ اس کے ساتھ ہی اس کی پلکیں بے اختیارمند گئیں اوراس نے اپنی دونوں آنکھوں کے کونوں سے گرم گرم آنسو نکل کر گالوں پرنیچے کی جانب رینگتے ہوئے محسوس کیے جو اس کے ہوش و خردکی پرعذاب زندگی میں لوٹنے والے زینے کا پہلا قدمچہ ثابت ہوئے۔

ناول کا مرکزی کردار اور راوی سلمان ایک عجیب اذیت میں مبتلاہے۔ اس کے لیے نہ جینا آسان اور نہ مرنا ممکن ہے۔ وہ ہروقت یہی سوچ کر حوصلہ ہارتا جارہا ہے کہ جس بیوی کے ساتھ اس نے اپنے والدین اورملک سے دور ماریشس میں الگ زندگی گزاری اور اس کاہمیشہ خیال رکھا۔ بچپن سے اپنے جاگیردارانہ گمراہ کن کردارکے باوجود ہمیشہ اس سے وفاداررہا۔ وہ مرتے مرتے اسے کس کرب میں اور کیوں مبتلا کرگئی۔ وہ اپنے ماضی کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ جس سے بہت سے کڑیاں ملتی جاتی ہیں۔ جاگیردار معاشرے کے بہت سے تلخ حقائق بھی اسی دوران سامنے آتے ہیں۔ سلمان نوعمری میں ہی زناکاری کا عادی ہوجاتا ہے۔ اس کی ہوس کا پہلا نشانہ عمر رسیدہ نوکرانی نذیراں بنتی ہے۔ جس کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ اس ماحول اور معاشرے کے ہولناک حقائق افشاں کرتاہے۔ وہ کہتاہے کہ میں نے جب کھل کھیلے توکسی نے مجھے روکا کیوں نہیں، بلکہ جس کی طرف اشارہ کیا وہ میرے بسترپرآگئی۔ والدین کے لیے بچے کا جوان ہونا قابل فخر تھا۔

’’نکا جگیردار جوان ہوگیا اے۔ نذیراں نے ماں کوبتایا۔ نی چھنالے، اخیر منہ کالا کرکے ہی ہتی میرے شیر پتر کے ساتھ! نہ جگیردارنی، نہ توبہ، توبہ، میں نے کچھ نہیں کیا۔ سب کچھ نکے جگیردار نے آپ۔ میں توچپ چاپ۔ حکم کی تعمیل کرتی رہی، جی۔ چُپ کرکنجریے، تیرے پلے ذرا شرم نئیں۔ تووڈے جگیردار۔ دونویں پیو پتراں۔ ماں نے میری موجودگی کا لحاظ کیے بغیر اسے بے نقط سنائیں۔ اپنی عمر دیکھ تے اپنے کرتوت دیکھ۔ یہ کل کا لڑکا توہَنڈی کھیڈی! کل توتُوں نئی جائیں گی۔ نجاں صفائی کرنے جائے گی۔ ماں نے اس کی جواں سال بیٹی کانام لیا نذیراں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ جگیردارنی، نجاں وڈے جگیردار کی۔۔ ماں اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی تڑک کر بولی۔ بک بک نہ کرحرام زادیے۔ جومیں نے کہہ دیا وہی ہوگا۔ ہان نوہان لبھنا چاہیدا۔ تُوں بڈھی گھوڑی، میرے شیر ورگے جوان پترنوںگنے دی پوری وانگوں چوس جائیں گی۔ پھرچکی پرپسائی کے لیے چھاج پرگندم چھٹکتی قریب بیٹھی نجاں کو اونچی آواز میں پکار کر کہا۔ سن لیا نوتُوں، میں نے کیا کہا ہے؟ جی، جگیردارنی جی۔ نجاں نے ماں کو جواب دے کر میری طرف عجیب نظروں سے دیکھا۔‘‘

اس اقتباس میں جاگیرداری سماج میں عیاشی کے انداز اور جواز کو پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سلمان خود کو اس ماحول کا حصہ ہونے کی وجہ سے بے قصوربھی سمجھتا ہے۔ سب میرے بستر کی زینت بننے لگیں۔ سکنیہ سکو، نگینہ نگو، فاطمہ پھتو، نبیلہ بلی، نعیمہ نیمی، رقیہ سکی، شبانہ شبو، معافیہ موٹو، کوثری اور نجانے کتنی ہی، جس کا چاہتا ہاتھ پکڑتا اور مردانے میں اپنے کمرے میںلے گھستایا پھراپنے ڈیرے میں طلب کرلیتاجو میں نے خاص طور پر اپنی عیاشی کے لیے بنوایاتھا۔ کوئی ذراسی چوں چراکی جرات نہ کرتی۔ کبھی کسی نے کیوں میرے سامنے انکارکی جرات نہیں کی؟ کوئی تو میرا ہاتھ روکتی؟ کیوں کسی نے حوصلہ کرکے میری دست درازیوں کو نہیں روکا؟ میری متجاوز منہ زوریوں کو لگام دینے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ یہ جاگیر کیسے قائم ہوئی۔ اس کی تفصیلات ہمارے اسمبلی ممبران اور ان کے خاندانی پس منظر کو سمجھنے کے لیے بہت عمدہ ہے۔

’’تقسیم کے وقت اپنی زمینیں اورجائیدادیں لٹا پٹا کر آنے والے مہاجرین کے لیے کلکٹر الاٹمنٹ کے دفتر کی بغل میں قادو نامی ایک حجام کی چھوٹی سی دکان تھی۔ اس کے دو بیٹے رحیما اور کریما۔ بھی وہاں اس کاہاتھ بٹانے لگے تھے۔ کیونکہ آنے والے مہاجرین کی وجہ سے کام کافی بڑھ گیا تھا۔ دکان پر کلٹر آفس کا ایک ادھیڑ عمر تحصیل داربھی گاہے گاہے حجامت اور روزانہ شیو بنوانے آتا تھا۔ ایک دن ایک گاہک نے قادو کو تجویز دی کہ ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی بہت سی دکانیں خالی پڑی ہیں، وہ اس تحصیل دار سے کوئی دکان الاٹ کرالے۔ ہمت کرکے قادو نے بھی اپنے اس خاص گاہک کے کان میں گٹ مٹ کی۔ دوچار روز ہی گزرے تھے کہ اس نے انہیں رہنے کے لیے ایک خالی کوٹھی دے دی جلد ہی دکان کا بھی وعدہ کرلیا۔ گاہکوں کی باتوں سے اسے علم ہواکہ جب تک کوٹھی الاٹمنٹ کے کاغذات ہاتھ نہیں آتے اسے کسی بھی وقت بے دخل کیاجاسکتاہے۔ تحصیل دارسے ذکر کیا تو وہ یہ کہہ کر ٹال جاتا کہ وہ مقامی ہے اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے الاٹمنٹ ممکن نہیں، وہ کوشش میں لگا ہے کہ انہیں مہاجر ثابت کرکے ان کا کام کرواسکے۔ پھراس سے کہا۔ ’قادو، دنیا لو اور دو کا مقام ہے۔ ‘ اچھایہ بتاؤ میں نے تمہیں اتنی بڑی کوٹھی دی۔ تمہاری جواں سال بیٹی بھی ہے۔ یارجب بھی میں آتاہوں تم باپ بیٹاہی کھانا وانا لاتے ہو۔ قادو تیز طرار آدمی تھا۔ فوراً سمجھ گیا۔ لوجی، یہ کیابات کہی آپ نے؟ بس آج۔ کل آپ کا الگ کمرہ تیار کردیں گے۔ نور جہاں ہیں کھانا پہنچادے گی۔ اس نے اپنی بیٹی کانام لیا اور پھر حجاموں والی مخصوص سرگوشی میں کہا ’اسے سمجھانا بھی توہے جی۔ رحیمے اور کریمے کو بھی اعتماد میں لینا ہے۔ تیسرے دن تحصیل دار دفتر جانے کے لیے کمرے سے نکلا تو قادو، جو شاید اس کے انتظار ہی میں کھڑا تھا، لپک پر پاس آیا اور گردن جھکا کر نیچی آواز میں بولا۔ آج سے ہم مہاجر ہوگئے ناجی؟‘‘

محض چند دنوں میں قادو اور اس کے دونوں بیٹوں کو ایک ایسے گاؤں میں چارمربع زمین الاٹ ہوگئی جسے کوئی بھی مہاجر پانی کی عدم دستیابی کے باعث لینے کو تیار نہیں تھا۔ بعد میں اس رقبے کاپانی بھی تحصیل دارنے منظور کروا کر اسے کوڑیوں کے مول سے بیش قیمت بنا دیا۔ شہرمیں چھ دکانوں کی ایک لاٹ بھی ان کانصیب ٹھہری۔ وہ کوٹھی نورجہاں کوبن بیاہ کے ہی منہ دکھائی میں آگئی۔ تحصیل دارکے مرنے تک وہ اس کے پاس رہی اور اس کے اپنے مرنے کے بعد وہ کوٹھی اس کے بھائیوں کی اولاد کومل گئی۔ پھر انہوں نے ترقی کرکے علاقے کی قومی اسمبلی کی دونوں اور صوبائی اسمبلی کی چارمیں سے تین نشستیں ان کی وراثت بن گئی۔

یہ اور اس جیسے کئی دلچسپ انکشافات اور جاگیردار اور معاشرے اور ارکان پارلیمنٹ کی زندگیوں سے جڑے بہت سے حقائق ناول ’’سہیم‘‘ میں پیش کیے گئے ہیں۔ جوچشم کشاناول کی دلچسپی میں اضافہ کرتے ہیں۔ نجم الدین احمد کے گذشتہ ناولوں ’’مدفن‘‘ اور ’’کھوج ‘‘ کی طرح سہیم بھی ایک منفرد اور دلچسپ موضوع کا احاطہ کرتا ہے اور ریڈایبل بھی ہے۔ ان کتب کو پڑھ کر نجم الدین احمدکی مزید کتابوں کی جستجو ہوتی ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20