بصیرت بھی ضروری ہے: تیمور حسن تیمور کا خاکہ —- مظفر حسن بلوچ کے قلم سے

0

مشاعرہ لوٹنا تیمور حسن تیمور کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، دائیں ہاتھ کے جملہ حقوق سگریٹ اور چاۓ کے لیے محفوظ ہو چکے ہیں۔ ہمارے شاعر حضرات ناقدریء سخن اور دست برد_زمانہ کا مسلسل شکوہ تو کرتے رہتے ہیں لیکن ان سامعین کی حالت_زار پر بالکل رحم نہیں فرماتے جو مشاعرے کو کنجِ عافیت سمجھ کر چلے آتے ہیں اور اپنی سادگی اور بھولپن کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ تیمور حسن صاحب جب مشاعرے میں اپنا کلام سنا رہے ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کلاشنکوف چلا رہے ہوں۔ اس کلاشنکوف کی کوئ خاص سمت یا حد متعین نہیں ہوتی اس لیے ہم بلا خوف و خطر اس کو اندھا دھند فائرنگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ”بلا خوف و خطر” کی ترکیب سامعین اور حاضرین کے لیے نہیں بلکہ جناب_شاعر کے لیے استعمال کی گئی ہے۔

میں تیمور سے اکثر کہا کرتا ہوں کہ مشاعرے میں جب تمہارا نام پکارا جاتا ہے اور تم گرتے پڑتے، اٹھتے سنبھلتے، ڈائس تک پہنچتے ہو تو آدھی داد تمہیں وہیں مل جاتی ہے اور آدھی داد تمہیں شعر پڑھنے کے انداز پر مل جاتی ہے، رہی شاعری تو وہ کوئی سنتا ہی نہیں ہے۔

تیمور حسن صاحب میرے والد محترم پروفیسر جعفر بلوچ مرحوم کے شاگرد_رشید ہیں۔ شعر و سخن کے حوالے سے تیمور نے آستانہء جعفریہ پر جبہ سائی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے فعولن فعولن فعولن فعو کے تمام مراحل طے کر لیے۔ تیمور کی رہائش ہمارے گھر سے تقریباً ایک کلو میٹر کے فاصلے پر تھی۔ وہ اکثر رکشہ پر یا کسی محلہ دار کے ساتھ موٹر سائیکل پر ہمارے ہاں آ پہنچتا۔ اگر مذکورہ سہولیات میسر نہ ہوتیں تو پیادہ پا اور تنہا ہی وارد ہو جاتا۔ والد صاحب کو اپنا تازہ کلام سناتا اور داد سمیٹتا۔ واپسی پر والد صاحب مجھے کہتے کہ یار! دیکھو تیمور آیا ہے، بہت مشکل سے آیا ہے، اب اسے گھر پہنچا آؤ۔
اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں۔
میں بھی نہایت فرماں برداری کا مظاہرہ کرتا اور کہتا کہ آپ پریشان مت ہوں تیمور کو گھر پہنچا کر ابھی آیا۔

بصارت سے محروم تیمور حسن کا مشاہدہ اور حافظہ غیر معمولی ہے۔ راستے میں جیسے ہی موڑ آیا، تیمور نے کہا اب دائیں مڑ جاؤ، سپیڈ آہستہ کرو، آگے اسپیڈ بریکر ہے، اب ذرا سنبھل کر بائیک چلانا آگےسڑک خراب اور شکستہ ہے۔ بس اب چوک سے بائیں مڑ جاؤ اور عین اپنے در_دولت کے سامنے پہنچ کر ارشاد ہوتا کہ رک جاؤ، گھر آ گیا ہے۔ میں حیران رہ جاتا کہ نابینا تو یہ ہے اور آنکھیں میں مل رہا ہوں۔ گھر پہنچ کر تیمور کہتا کہ آ جاؤ، چاۓ پی کر چلے جانا اور میں کہتا کہ نہیں، دیر ہو جائے گی، پھر سہی۔۔۔۔

خیر ان دنوں مجھے بھی شعر و سخن کا چسکا لگا ہوا تھا اب تیمور سے ملاقاتیں شروع ہوئیں تو یہ نشہ دو آتشہ ہو گیا۔ اب تیمور کو گھر پہنچانے جاتا تو اس کی چائے کی دعوت کو رد نہ کرتا۔ اب تیمور حسن صاحب مجھے اپنا کلام سناتے اور میں بھی در جواب آن غزل اپنا کلام پیش کرتا۔ شعر و سخن کے معاملے میں میری ابتدائی تربیت اور عروضی اصلاح کا فریضہ بھی تیمور حسن صاحب نے سر انجام دیا
(مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی)

اب یہ عجیب و غریب صورت حال تھی کہ تیمور میرے والد صاحب سے براہ راست اصلاح لے رہا ہے اور میں تیمور سے بالواسطہ فیض یاب ہو رہا ہوں۔ قبلہ والد صاحب سے براہ راست اصلاح لینا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ وہ عام عشقیہ شاعری کو بے کار اور فضول کام سمجھتے تھے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ شاعری اقبال اور ظفر علی خاں جیسی ہو تو بات ہے ورنہ بے کار مشغلہ ہے۔ پہلے تیمور سے ہفتہ وار ملاقات ہوتی تھی، اب روز ہونےلگی۔ اور پھر نوبت با این جا رسید کہ دن میں تین چار بار ملاقات ہو جاتی۔ تیمور کے گھر کے قریب ہی ڈوگر ہوٹل پر چاۓ کے لگا تار اور مسلسل دور چلتے رہتے، شعر و شاعری کی باتیں ہوتیں، کلام سنا اور سنایا جاتا اور ایک دوسرے کو داد و تحسین سے نوازا جاتا۔

قد و قامت کی مناسبت سے تیمور کی آواز بھی بہت بلند، اونچی اور گونج دار ہے۔ وہ جب بات کرتا تو آس پاس اور دور دراز کے لوگ بھی متوجہ ہو جاتے اور جب تیمور شعر سناتا تو وہ ہکا بکا رہ جاتے کہ ایک نابینا شخص باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ شعر و شاعری بھی کر رہا ہے۔

ہمارے معاشرے میں نابینا حضرات کو عموما” حافظ صاحب کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اس انداز_تخاطب پر تیمور کو بہت برا لگتا اور وہ اپنی ناگواری کا فوری اظہار کرتے ہوئے مخاطب کو ٹوک دیتا کہ میں حافظ نہیں ہوں، میرا نام تیمور ہے۔ عام طور پر نابینا حضرات سیاہ چشمہ لگائے رکھتے ہیں اور ہاتھ میں ایک چھڑی(سٹک) بھی ہوتی ہے لیکن تیمور ان تکلفات سے بری ہے۔ اوائل عمری میں تو تیمور نے ان چیزوں کا سہارا لیا لیکن بہت جلد ان سے جان چھڑا لی۔ تیمور کو سہاروں سے سخت نفرت اور الرجی ہے۔ اس کی خوددار طبیعت ان سہاروں سے ہمیشہ نفور رہی ہے۔

بصارت سے محروم تیمور حسن کالی عینک اور سفید چھڑی کے بغیر اپنی منزلوں کی طرف خود اعتمادی کے ساتھ رواں دواں رہتا ہے۔ اس خود اعتمادی کا یہ عالم ہے کہ راہ چلتوں کو بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ شخص نابینا ہے۔ عام نابینا افراد کے بر عکس اس کی آنکھیں کھلی اور بڑی ہیں اور ان آنکھوں کی پتلیاں بھی مسلسل محو_رقص رہتی ہیں
ان آنکھوں کی مستی کے افسانے ہزاروں ہیں ۔

پہلا، فوری اور عام تاثر یہی ہوتا ہے کہ یہ شخص نارمل ہے۔ ایک دفعہ ایک خاتون سامنے سے آ رہی تھیں اور تیمور صاحب بھی اپنی ترنگ میں نظم_آزاد کی صورت رواں دواں تھے کہ دونوں ٹکرا گئے۔ وہ محترمہ طیش میں آ گئیں اور تیمور کو بھرے بازار میں برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ تیمور نے کہا کہ باجی! معاف کر دیں، میں نابینا ہوں۔

محترمہ نے پنجابی زبان میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

”شرم تے نئیں آندی، بے حیا لوکی پہلے عورتاں نوں ٹکراں ماردے نیں تے فیر بعد اچ انے بن جاندے نیں”

خیر اس طرح کے بے شمار حادثات و واقعات ہیں، کہیں تیمور صاحب کھمبے سے ٹکرا رہے ہیں اور کہیں کھمبا تیمور صاحب سے ٹکر لے رہا ہے۔ ہر دو صورت میں قصور وار کھمبا ہی نکلتا تھا۔ اکثر تیمور کے چہرے پر کوئی تازہ زخم اپنی بہار دکھا رہا ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ہم دونوں مون مارکیٹ علامہ اقبال ٹاؤن میں ایک پان سگریٹ کے کھوکھے پر کھڑے ہوئے تھے۔ ان دنوں ڈبل سواری پر پابندی تھی اور تیمور صاحب موٹر سائیکل پر بیٹھے سگریٹ کے کش لگا رہے تھے۔ میں ساتھ ہی کھڑا ہوا تھا۔ اچانک ایک پولیس کی وین گشت کرتے ہوئے ہمارے بالکل پاس رک گئی۔ تیمور نے سگریٹ کا آخری کش لگایا اور کہا اب چلیں۔ میں نے جیسے ہی موڑ سائیکل کو کک ماری، پولیس کے چار مسلح جوان ہمارے سامنے آگئے اور کہنے لگے کہ ڈبل سواری پر پابندی ہے، اب تھانے چلو!

تیمور صاحب نے متانت اور معصومیت سے فرمایا:
جناب میں بلائینڈ(نابینا) ہوں۔ پولیس کے اہلکار نے کہا:” بلائینڈ کی ہوندا اے”
اب تیمور نے بھی پنجابی زبان میں کہا : ”میں انا واں”
اس اہلکار نے شکار ہاتھ سے نکلتے ہوئے دیکھا تو بے بسی کے عالم میں کہنے لگا:
” انا سگریٹ تے منڈن ڈیا سی ”
(اندھا سگریٹ تو پی رہا تھا)
اب تیمور صاحب یوں گویا ہوئے:
” جناب سگریٹ منہ نال پئیدی اے، اکھاں دے نال نئیں۔ ۔ ”
(سگریٹ منہ سے پیتے ہیں، آنکھوں سے نہیں)
وہ بے چارہ لاجواب ہو گیا۔ میں نے موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور ہم دونوں اندھی آنکھوں، بہرے کانوں یہ جا، وہ جا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہم دونوں نے بے شمار شعراء کا کلام اور شعری مجموعے اکھٹے پڑھے۔
ہم کسی پارک میں ایسی جگہ بیٹھ جاتے جہاں چائے میسر ہوتی۔ میں کتاب پڑھ کر سناتا اور تیمور صاحب اپنے مخصوص انداز میں با آواز بلند داد دیتے۔ اگر کوئی شعر چونکا دینے والا آتا تو تیمور صاحب بھی مکمل طور پر چونک جاتے اور اس دفعہ کی داد بھی فلک شگاف ہوتی اور قرب و جوار میں تاش کھیلنے والے بھی پریشان ہو جاتے کہ انہیں کیا ہو گیا ہے ؟
شکیب جلالی، احمد ندیم قاسمی، ثروت حسین، احمد فراز، اسلم انصاری، محسن بھوپالی، خالد احمد، عباس تابش اور سعود عثمانی وغیرہ کے مجموعہ ہاۓ کلام کا مل کر مطالعہ کیا۔
تیمور کا حافظہ بلا کا ہے۔ اسے بلا مبالغہ ہزاروں اشعار ازبر ہیں۔

عباس تابش صاحب کے دفتر بھی اکثر جا نکلتے۔ تابش صاحب بہت محبت سے ملتے، چاۓ پلاتے، کلام سنتے اور داد سے بھی نوازتے۔ پھر ہماری فرمائش پر اپنے کلام سے بھی مستفیض فرماتے۔

تیمور کے ایم- اے (اردو) اور بی_ایڈ کے امتحانات ہوئے تو رائیٹر(لکھاری) میں ہی تھا۔ نابینا امیدواروں کو مقررہ وقت سے پون گھنٹا زائد ملتا ہے۔ تین گھنٹے کا پرچہ ہے تو پونے چار گھنٹے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ نابینا افراد کو علیحدہ کمرہ بھی دیا جاتا ہے کہ جب نابینا امیدوار با آواز بلند لکھوا رہا ہو تو دوسرے لوگ فیض یاب نہ ہو سکیں۔

ایم اے اردو کا پہلا پرچہ تھا کہ سپرنٹنڈنٹ صاحب سے تو تکار ہو گئ۔ وہ بضد تھے کہ ایکسٹرا ٹائم نہیں ملے گا اور علیحدہ کمرے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اتنا وافر عملہ نہیں ہے کہ آپ لوگوں کی علیحدہ سے نگرانی کی جاۓ وغیرہ وغیرہ
میں نے اپنے طور پر سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوۓ۔ آخر تیمور کہنے لگا کہ بحث و مباحثہ کا کوئ فائدہ نہیں ہے، سپرنٹنڈنٹ صاحب کو سمجھ نہیں آنی، وقت بھی ضائع ہو رہا ہے، پیپر شروع کرو۔ میں نے سوال نامہ پڑھ کر سنایا اور تیمور نے با آواز بلند لکھوانا شروع کر دیا۔ اس مرتبہ آواز خاصی بلند اور اونچی تھی۔ ارد گرد کے امیدواروں کے چہرے کھل اٹھے، نا امید اور پژمردہ چہروں پر زندگی کی لہر دوڑنے لگی اور جامد و ساکت ہاتھ گردش میں آگئے۔

اب اس نئی افتاد سے سپرنٹنڈنٹ صاحب کو پریشانی لاحق ہو گئی۔ ادھر ان کو پریشانی لاحق ہوئی اور ادھر ہماری پریشانی دور ہو گئی یعنی ہمیں علیحدہ کمرہ دے دیا گیا۔ اب پون گھنٹا زائد والا معاملہ رہ گیا تھا۔ تین گھنٹے گزر گئے، جملہ امیدواران پیپر دے کر رخصت ہوئے اور سپرنٹنڈنٹ صاحب تشریف لائے۔ کہنے لگے کہ آرام و سکون سے پیپر کریں، ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔

ایم_اے اردو کے امتحان میں تیمور حسن نے ایف سی کالج میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور گولڈ میڈل کے حق دار قرار پائے۔

2002 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں سرخرو ہو کر تیمور حسن صاحب لیکچرار ہو گۓ۔ پہلی پوسٹنگ گوجرانوالہ ہوئی اور تیمور صاحب روزانہ تن تنہا ویگنوں، رکشوں اور بسوں کے ذریعہ لاہور سے گوجرانوالہ آنے جانے لگے۔ ایک زمانے میں تیمور صاحب کو کالم نویسی کا شوق بھی چرایا اور موصوف نے کسی اخبار کے لیے باقاعدہ کالم نویسی شروع کر دی۔ ان دنوں میرا پہلا شعری مجموعہ” تعلق” شائع ہوا تھا۔ پروفیسر اورنگ زیب نیازی صاحب نے بہت محبت سے اس کا دیباچہ لکھا تھا۔ نیازی صاحب ہمارے مشترکہ دوست ہیں۔

پارک میں گپ شپ کے ساتھ ساتھ چائے کا دور بھی چل رہا تھا۔ تیمور صاحب کہنے لگے کہ نیازی! میں نے کالم نگاری شروع کر دی ہے اور بلوچ کی کتاب پر بھی کالم لکھا ہے۔ نیازی صاحب نے کہا کہ اچھا تو پھر سناؤ! کیا لکھا ہے؟

اتفاق سے کالم کا تراشہ میری جیب میں موجود تھا۔ میں نے کالم پڑھنا شروع کر دیا۔ کالم میں روایتی انداز سے تنقید کی گئی تھی کہ زیر نظر شعری مجموعے میں ساٹھ غزلیات ہیں، دس قطعات ہیں، کل صفحات ایک سو بیس ہیں، قیمت انتہائی مناسب ہے، ٹائیٹل بہت دیدہ زیب ہے وغیرہ وغیرہ۔

نیازی صاحب خاموشی سے سنتے رہے اور پھر کہنے لگے:
یہ کالم لکھا ہے ؟ یا ایف_آئ_آر کاٹی ہے؟
لو جی! تیمور صاحب مشتعل ہو گۓ۔
ع:
اور پھر اس کو منانے میں بہت دیر لگی۔

تیمور حسن تیمور کا پہلا شعری مجموعہ ”غلط فہمی میں مت رہنا” کے نام سے شائع ہوا اور بہت مقبول و معروف ہوا۔ اس مجموعے کا انتساب اس نے اپنے استاد_محترم جعفر بلوچ کے نام کیا۔ تیمور اپنے اساتذہ کا دل و جان سے احترام کرتا ہے اور اساتذہ کے سامنے سگریٹ نوشی کو بھی بے ادبی سمجھتا ہے۔ ایک ادبی نشست میں تیمور سگریٹ نوشی کر رہا تھا کہ کہیں سے آواز آئی
۔ تیمور ! جعفر بلوچ صاحب آ رہے ہیں۔ تیمور نے گھبرا کر پریشانی کے عالم میں جلتا ہوا سگریٹ اپنی قمیص کی جیب میں ڈال لیا اور اب صورت حال میر کے اس شعر کی سی ہو گئی:
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے؟
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟
جعفر بلوچ صاحب آئے اور اپنے مخصوص محبت آمیز اور شگفتہ لہجے میں کہنے لگے:
واہ جی واہ!
تیمور چاۓ پی رہا ہے، تیمور سگریٹ بھی پی رہا ہے۔
اب تیمور نے بھی قہقہہ لگایا اور کہا:
”کوئ حال نئیں سر جی!
جیب وی سڑ گئ اے تے توانوں پتا وی چل گیا اے”

تیمور حسن تیمور کی غزلوں میں ردیفیں بولتی ہیں اور سر چڑھ کر بولتی ہیں۔
غلط فہمی میں مت رہنا، ترا کیا بنا، اور اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں۔
اس کے بہت سے اشعار زبان زد_خاص و عام ہو چکے ہیں۔ اب تو لوگوں کو اس کا کلام ازبر ہو چکا ہے اور ردیفوں کے بولنے سے قبل سامعین بول پڑتے ہیں اور فرمائشی پروگرام کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔

شہرت اور ناموری کے آسمان کو چھونے والا تیمور اب کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ تیمور حسن کی توانا، بلند، گونجتی اور گرجتی ہوئی آواز ملکی سرحدیں بھی عبور کر چکی۔ اللہ تعالی نے بصارت سے محروم تیمور حسن کو جو عزت، شہرت اور ناموری عطا فرمائ ہے وہ قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے۔
تیمور کی رفاقت کا بار اٹھانا اور پھر مسلسل اٹھاۓ رکھنا، سہل نہیں ہے۔
ع:
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
عین مشاعرے کے عروج میں تیمور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے دوست سے کہے گا کہ اٹھ! چل! سگریٹ پینا ہے اور چائے کی بھی بہت طلب ہو رہی ہے۔ اور وہ بے چارہ، قسمت کا مارا اس کا ہاتھ تھام کر چل پڑے گا( انکار کی کوئ صورت ہی موجود نہیں ہوتی)
اس کے علاوہ بھی کچھ گفتنی اور نا گفتنی قسم کے معاملات ہیں جن کی وجہ سے یار لوگ تیمور سے کنی کتراتے ہیں۔
سلیم گرمانی صاحب نے تیمور کے حوالے سے کہا:
مجھ کو تیمور کی یاری میں جو نقصان ہوا
اس خسارے کے لیے، لفظ_خسارہ، کم ہے

خاکسار نے بھی موصوف کو خراج_عقیدہ پیش کر رکھا ہے:
ملا تیمور سے جو بھی، ہوا احساس شدت سے
بصارت بھی ضروری ہے، بصیرت بھی ضروری ہے
تیمور حسن نے ”شکیب جلالی_فن اور شخصیت” کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پنجاب یونی ورسٹی سے پی ایچ_ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ جس دن پبلک ڈیفنس ہوا، ڈاکٹر سلیم اختر مرحوم بھی موجود تھے۔ پبلک ڈیفنس اختتام پذیر ہوا تو چائے کے موقع پر ڈاکٹر سلیم اختر مرحوم نے از رہ ہمدردی کہا:
تیمور! شاباش، بہت اچھا کام کیا ہے، تھوڑی بہت ترامیم کے بعد اس مقالے کو کتابی صورت میں آنا چاہیے”
تیمور صاحب نے اس طرف کوئ خاص التفات نہیں فرمایا اور اب اللہ بخشے ڈاکٹر سلیم اختر بھی کوچ فرما گئے۔

کیا ہی اچھا ہوتا اگر تیمور ڈاکٹر سلیم اختر صاحب کی نصیحت پر عمل پیرا ہو جاتا۔ اگر ڈاکٹر سلیم اختر کی خواہش ان کی زندگی میں پوری ہو جاتی تو تیمور حسن تیمور کا نام اردو ادب کی تاریخ میں نہ سہی، ”اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ” میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20