پاکستانی سماج اورعورت  4 ۔۔۔ لڑکیو! تمھیں کیا ہو گیا ہے؟ — نجیبہ عارف  

0

ایک ایسے سماج میں، جہاں طبقاتی امتیازات روز بروز بڑھتے جا رہے ہوں، معاشی ناہمواری زندگی کو دشوار سے دشوار تر کر رہی ہو، بنیادی انسانی حقوق پامال ہو رہے ہوں، عزت نفس اور ترقی و خوش حالی تو ایک طرف، جان کے لالے پڑے ہوں، خودکشیاں عام ہوں، جیتے جی مرجانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہو، اے میری پیاری لڑکیو! پڑھی لکھی، بنی سنوری، ہنستی مسکراتی لڑکیو! کیا تمھیں زیب دیتا ہے کہ شادی جیسے سیدھے سادے اور لازمی امر کو ایک ناٹک میں تبدیل کر دو۔ ایک ایسا ناٹک، جس کی قسط وار پیش کش کے لیے مہینوں ریہرسل ہو اور جس کی مہندیوں، مایوںاور ڈھولکیوں کے لیے تمام دوست اور سہیلیاں مخصوص رنگوں اور تھیم کے جوڑے سلوائیں اور احباب اپنی محبت کا امتحان یوں دیں کہ کئی شادیوں پر اٹھنے والے اخراجات ایک شام کی رنگینی پر قربان کر دیں۔ شادی بیاہ کی رسمیں پہلے ہی کیا کم تھیں جو اب برائیڈل شاور جیسی نئی رسموں کا بھی اجرا کر دیا ہے،جس کا مقصدسوائے ایک اور قیمتی جوڑا زیب تن کر کے تصویریں کھنچوانے کے کچھ اور نظرنہیں آتا۔

لڑکیو! ہم کہتےتھے، ہمارے نوجوان پڑھ لکھ کر باشعور ہو جاتے ہیں۔ انھیں زندگی کے فیصلے کرنے کا اختیار ملنا چاہیے، ان کے فہم و شعور پر اعتماد کرلینا چاہیے مگر جب تم لوگ ایسی ناسمجھی کی باتیں کرتے ہو تو ہم سب سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔ ہمیں امید تھی کہ ہمارے نوجوان، معاشرے میں عام ہونے والی تمام فضولیات کے خلاف احتجاج کریں گے، جہیز، بری اور دوسری بے کار رسموں کو رد کر دیں گے اور خود اپنی شخصیت اور ذات پر اعتماد کرتے ہوئے سادگی اور وقار سے شادی کے بندھن میں بندھنے پر اصرار کریں گے مگر یہاں تو معاملہ ہی اور ہوتا نظر آرہا ہے۔ مقابلے بازی کی فضا، دکھاوے اور نمائش کا خبط، روپے پیسے کا افسوس ناک زیاں۔ خدارا کچھ تو عقل سے کام لو!

یہی نہیں کہ رسمیں کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہیں، یہ بھی کہ وڈیو اور تصویریں بنوانے کے لیے شادیوں کی ڈرامائی تشکیل کا شوق ہر حد پار گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شادی کی ہر رسم محض اس کی تصویریں اور وڈیو بنوانے کے لیے ادا کی جا رہی ہو۔ نہ دلہن دلہن لگتی ہے، نہ دلہا دلہا۔ نہ اس کے رشتے داررشتے دار۔ سب کسی ڈرامے کے کردار لگتے ہیں جو فوٹو گرافر کے احکام کے تحت کبھی دائیں دیکھتے ہیں کبھی بائیں، کبھی اٹھتے ہیں، کبھی بیٹھتے ہیں، کبھی کم مسکراتے ہیں، کبھی زیادہ۔ اب تو بعض شادیوں میں ایک کرائے کا چوب دار بھی منگوایا جاتا ہے جو شاہانہ شان و شوکت کے اظہار کی ناکام کوشش میں مضحکہ خیزحرکتیں کرتا ہے۔

خدارا! ہوش کے ناخن لو! یہ اصراف اور تعیش پسندی ایک ایسے سماج میں زیب نہیں دیتی جہاں لوگ بنیادی سہولیات تو کجا ضروریات سے بھی محروم ہوں۔ اگر سماج میں انقلاب لانا چاہتی ہو تو یہیں سے شروع کرو، خود سے وعدہ کر لو کہ کسی ایسے رشتے کو قبول نہیں کرو گی جو جہیز کے مطالبات کی فہرست کسی نہ کسی بہانے تمھارے والدین کو پکڑا جائے اور شادی کی رسموں کو خود شادی سے بھی زیادہ اہم سمجھے۔ سہیلیوں کے ساتھ مل کر ناچو، گاؤ، مسکراؤ، مگر خوشی منانے کے لیے بڑے بڑے پنڈال سجا کر تماشائیوں کو جمع کرنا ضروری نہیں ہوتااور نہ یہ سب تماشائی تمھاری خوشی میں خوش ہونے والے ہوتے ہیں۔ خوشی کے لمحوں کو اپنے اندر محسوس کرنا سیکھو، اپنے باہر کی ہنگامہ آرائی میں نہیں۔

 

اس سلسلہ کی پہلی تحریر یہاں اوردوسری کے لیے یہاں اور تیسری کے لئے یہاں کلک کریں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: