راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 22) —- یاسر رضا آصف

0

وین دوبارہ حرکت میں آچکی تھی۔ میں عجیب مخمصے کی حالت میں اپنی سیٹ کی پشت پر سر ٹکائے سوچوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا پھر رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو کوسا کہ پہلے میرے سر پر یادوں کا بھوت سوار تھا اور اب یہ فریبِ نظر کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ مجھے ہی یہ سب کیوں دکھائی دے رہا ہے؟ کیا میں گیان کی کسی منزل کے قریب ہوں یا پاگل ہو رہا ہوں؟ کیا یہ حقیقت سے آنکھیں چرانے کا طریقہ ہے؟ کیا میں کسی روحانیت کے سفر پر ہوں یا یہ سب محض میرا وہم ہے؟ ایسے بہت سے سوال میرے ذہن میں پھلجھڑیوں کی طرح چھوٹ رہے تھے اور میرے دماغ کے خلیوں میں مسلسل آتش بازی ہو رہی تھی۔

میں نے پہلو بدلا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ پہاڑوں کے سائے بڑھنے لگے تھے۔ شام اپنے سیاہ پروں کے ساتھ اُترنے کو بے تاب تھی۔ میں نے سر دوبارہ سیٹ پر رکھا اور آنکھیں موند لیں۔ سوچیں پھر سے حملہ آور ہونے لگیں۔ میں نے فیصلے کی غرض سے نتائج پر غور کرنا شروع کیا۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میں آزاد شخص نہیں ہوں بلکہ میں تو اسیر ہوں۔ یادوں کا قیدی تو تھاہی اور اب سوچوں کے بھی زیرِ تسلط آچکا ہوں کہ اب مجھے چیزیں الگ الگ شکلوں میں دکھائی دینے لگی ہیں۔ کبھی متروک گھونسلوں میں سفید انڈے دکھائی دیتے ہیں اور برفیلا پہاڑ مجھ سے گفتگو کرتا ہے۔ کوڑے کرکٹ کے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ اگر ان سب باتوں کا ذکر میں اپنے دوستوں سے کروں تو یقینًا وہ مجھے فورًا کسی ماہر نفسیات کے پاس جانے کا مشورہ دیں گے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مجھے خود لے جائیں۔ یہ سوچ کر ہی میرے ہونٹوں پر خفیف سی مسکان کی لہر اُبھری اور پل بھر میں ہی زائل ہو گئی۔

ہم لوگ بُری طرح تھک چکے تھے۔ تھکاوٹ ہمارے جسم اور اعضاء سے ٹپک ٹپک جاتی تھی۔ جیسے ہم ابھی تھکاوٹ کے تالاب میں ڈبکی لگا کر آئے ہوں۔ مجھ سمیت سبھی لوگ سیٹوں پر کسی بے جان چیز کی طرح پڑے تھے۔ آنکھیں جھپکنا اور سانس لینا ہی تو زندگی نہیں ہوتی۔ زندہ دل لوگ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت ہوتے ہیں۔ تھکاوٹ دور کرنے کے میری نظر میں دو طریقے ہیں۔ آپ جسم کے ساتھ ذہن کو بھی مکمل آرام دیں، کچھ مت سوچیں، نیند پوری کریں، خوب ڈٹ کر سوئیں، تھکاوٹ جاتی رہے گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہنسی مذاق کریں، قہقہے لگائیں۔ جس طرح پانی کے بخارات بارش کی صورت واپس زمین پر لوٹ آتے ہیں بالکل اسی طرح تھکاوٹ کا گراف بھی گرتا چلا جائے گا۔ شرط یہ ہے کہ اپنی کمزوریوں پر بھی ہنسنے کا ہنر جانتے ہوں۔

چلتی وین میں آرام ممکن نہیں تھا اس لیے دوسرا طریقہ اختیار کرنا ہی بہترین انتخاب تھا۔ سو میںنے فخر کو چھیڑا میں نے اسے سفید چوہا کہا اور بلند قہقہہ لگایا۔ وہ چونکا اور تڑپا۔ باقی لوگوں نے بھی میرا ساتھ دیا۔ اس نے ڈائنو سار کہہ کر بلال کو چھیڑا۔ ہم نے جانوروں کی اشکال کو گڈ مڈ کرکے ایک دوسرے پر جملے کسنے شروع کردیے۔ فہیم نے چٹکلے سُنائے۔ بلال بھی ترنگ میں آگیا اور ہمارا ساتھ دینے لگا۔ سمیر نے بھر پور حصہ لیا۔ تھوڑی دیر بعد ہی وین کے اندر قہقہے گونجنے لگے۔ ہر طرف ہنسی کے رنگ بکھرنے لگے۔ کوفت زدہ تھکاوٹ وین سے چھلانگ مار کے باہر بھاگ گئی اوروہاں جیتی جاگتی زندگی رقص کرنے لگی۔

فہیم نے یہ موقع غنیمت سمجھا اور تاش نکال کر پھینٹنے لگا۔ سبھی لوگ پچھلی سیٹ پر اُس کی جانب متوجہ ہو گئے۔ تاش بانٹ دی گئی۔ میں بھی دلچسپی سے کھیل دیکھنے لگا۔ باہر شام کے سیاہ پنکھ پوری طرح کھُل چکے تھے۔ وین میں دن کا سماں تھا۔ امداد نے نمکو کا پیکٹ کھولا اور سب میں تبرک تقسیم کرنے لگا۔ سبھی دوست اُسے مزید پر اُکسانے لگے۔ وہ دبی دبی ہنسی کے ساتھ ’’بس اتنی ہی ملے گی‘‘ کہتے ہوئے اگلی نشست کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ عابد نے کوکا کولا کھولی اور سبیل کا آغاز کردیا۔ یوں چلتی وین میں مختصر سی پارٹی کا از خود اہتمام ہو گیا۔

میں نے وین سے باہر جھانکا تو پہاڑ چوروں کی طرح اندھیرے کی بُکل مارے کھڑے تھے۔ میں اپنی سیٹ پر تھوڑا سا آگے کو پائوں پھیلا کر لیٹ گیا۔ مجھے نہیں خبر کہ کب مجھے نیند نے آ پکڑا۔ میں جھولے لیتی وین میں بلال کے کندھے پر سر رکھے کافی دیر تک سوتا رہا۔ وین کی بریک لگنے پر میری آنکھ کھلی۔ سبھی لوگ وین سے نیچے اترنے لگے۔

میں گاڑی سے اترا اور چہرے پر پانی کے چھینٹے مارنے لگا۔ جگہ سنسان نہیں تھی۔ اردگرد بہت سی جیپیں کھڑی تھیں۔ اسلام ایک جیپ کے پاس کھڑا مقامی نوجوان سے محو ِگفتگو تھا۔ باقی لوگ ٹولیوں میں فاصلوں پر کھڑے تھے۔ میں چلتا ہوا فخر کے پاس گیا اور استفسار بھری نگاہ سے معاملہ دریافت کیا۔ اس نے بتایا کہ یہاں گاڑی کھڑی کرنی پڑے گی اور جیپوں کے ذریعے نلتر جھیل تک جانا ہو گا۔ رات کا وقت ہے اس لیے سبھی دوست نہیں جانا چاہتے۔ لیکن اصل بات یہ تھی کہ تعلیمی افسروں کو بار بار دفتر سے حاضری کے فون آرہے تھے۔ نلتر جھیل، جو کہ پھولوں کا عکس پانی پر پڑنے کے باعث رنگین دکھائی دیتی ہے۔ یہ سب میں نے سُن رکھا تھا اور جھیل کو دیکھنے کی چاہ بھی تھی۔ اسلام نے فیصلہ سنایا کہ جیسے دوست کہیں گے ویسے کرلیں گے۔ مجھے سبھی کی رائے درکار ہے۔

فخر نے باری باری سبھی دوستوں سے پوچھا تو سب نے رات کے وقت دشوار گزار راستے پر جانے سے انکار کردیا۔ یوں ہم بوجھل دلوں کے ساتھ دوبارہ وین میں بیٹھ گئے۔ اسلام کا چہرہ اُترا ہوا تھا۔ میں بھی افسردگی کے گھیرے میں آچکا تھا۔ وین کی خاموشی کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی۔ سبھی اپنی اپنی نشستوں پر پتھر کے مجسموں کی طرح بے حس و حرکت بیٹھے تھے۔ میں نے دوبارہ آنکھیں بند کیں اور خوشگوار یادوں کی وادی میں اُتر گیا۔

میں، سمیر اور عابد نہر کنارے بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ گرمی کے موسم میں پیڑ کی ٹھنڈی چھائوں جسم کو راحت پہنچا رہی تھی۔ پرندے ٹولیوں میں اڑتے ہوئے ادھر سے ادھر جارہے تھے۔ انسان ایک ہی طرح کی زندگی سے اُکتا جانے پر بدلائو کا تقاضا کرتا ہے۔ ہم تینوں بھی حبس زدہ شہر کی پختہ گلیوں سے نکل کر بدلائو کی غرض سے کھیتوں کی جانب آنکلے تھے۔ جب شام کے آثار آسمان کی سرخی کے باعث مغربی چادر پر ظاہر ہوئے تو سمیر نے موٹر سائیکل سٹارٹ کی۔ موسم کی گرمی خاصی کم ہو چکی تھی۔ موٹر سائیکل کچی سڑک پر دھیمی رفتار سے چل رہی تھی۔ ہم خوش کن ہوا کا مزہ لوٹ رہے تھے۔ آپس میں گفتگو کررہے تھے۔ درختوں، کھیتوں اور کھلیانوں پر تبصرے کر رہے تھے۔

اچانک چھوٹی سے پُلی آئی۔ موٹر سائیکل اُچھلی اور ہم تینوں نے نعرہ بلند کیا۔ ہمیں عجیب سا لطف محسوس ہوا۔ ہوا میں وہ چند ثانیے کے لیے اُچھلنا کیف آور تھا۔ سمیر نے موٹر سائیکل کی رفتار بڑھا دی اور اگلی پُلی پر دانستہ اس عمل کو دہرایا۔ اس مرتبہ اچھال پہلے سے زیادہ تھا۔ بلندی بڑھی تو جوش و خروش بھی بڑھ گیا۔ ہماری آوازیں چیخوں میں تبدیل ہوئیں یہ چیخیں خوف کے باعث نہیں بلکہ کیف اور سرور کی وجہ سے ہمارے حلق سے برآمد ہوئی تھیں۔

میں سب سے آخر میں بیٹھا تھا۔ میں نے خود کو ہوا میں اُچھلتا محسوس کیا تو کچھ وقت کے لیے قدو قامت میں خود کو بلند ہوتا جانا۔ سمیر باقاعدہ ترنگ میں آگیا۔ ہم دونوں کے شور اور واویلے نے اُس کے جسم میں خون کی رفتار بڑھا دی۔ جیسے ہی فشارِ خون بڑھا اس نے رفتار میں مزید اضافہ کردیا۔ سڑک کچی تھی۔ آگے تیسری پلی دکھائی دے رہی تھی۔ اب کی بار اچھال بڑھنے پر اور ہوا میں مزید بلند ہونے پر ہم پُرجوش تھے۔ یہ پلی موڑ پر تھی۔ آگے سڑک پر ٹرالیوں کے گزرنے کی وجہ سے گڑھے تھے۔ ہمیں صرف پلی دکھائی دے رہی تھی۔ رفتار اپنی انتہا پر جا پہنچی۔

موٹر سائیکل پلی پر سے اُچھلی۔ سمیر شاید اُس لمحے خود کو سلطان گولڈن سمجھ بیٹھا تھا۔ ٹائر نے ہموار سڑک کی بجائے گڑھے میں لینڈنگ کی۔ گڑھے میں دو دن پہلے برسنے والی بارش کے سبب کیچڑ موجود تھا۔ کیچڑ بھرے گڑھے سے ٹائر پھسل گیا۔ کچی سڑک کی دھول اور مٹی اُڑی۔ جب ہمیں ہوش آیا تو ہم تینوں اوندھے مُنھ گرے ہوئے تھے۔ میرا بایاں بازو کہنی کے پاس سے سخت ہو رہا تھا۔ ٹیس اُٹھ رہی تھی اور یہ ٹیس میری جان کھائے جاتی تھی۔ سمیر کا ماتھا بُری طرح چِھل چکا تھا۔ عابد میرے نیچے دور تک رگڑ کھاتا گیا تھا۔ موٹر سائیکل کھال میں پڑا تھا اور ہم تینوں سڑک پر گرد آلود حالت میں منتشر پڑے تھے۔

تھوڑی دیر بعد ہوش آنے پر، ہم اپنی ہی حماقت پر مسکرا رہے تھے۔ سڑک کچی تھی اس لیے رگڑوں سے گزارا ہو گیا اگر پکی ہوتی تو منظر کچھ اور ہو تا۔ میں ایک ماہ تک بازو گلے میں لٹکائے پھرتا رہا۔ سمیر اور عابد اپنے زخموں پر مرہم لگاتے رہے۔ چند ساعتوں کی اُڑان کے لطف نے ہمیں زمین پر ایسا پٹخا کہ پھر کبھی اُڑان کی ہمت نہیں ہوئی۔ میں اس حماقت زدہ واقعے کو یاد کرکے مسکرا رہا تھا اور خطرناک رستے پر، رات کے وقت جیپ کے ذریعے نہ جانے پر شکر منا رہا تھا۔

وین دو منزلہ عمارت کے سامنے جا کر رُک گئی۔ یہ دنیور ہوٹل تھا۔ جس کی بناوٹ انگریزی کے حرف ’’یو‘‘ سے مشابہ تھی۔ اوپر نیچے کمرے ہی کمرے تھے۔ فخر اور اسلام وین سے نکل کر ریسپشن تک گئے۔ میں وین سے باہر نکل کر ہوٹل کی عمارت کو دیکھنے لگا۔ ہم عمارت کے درمیان میں کھڑے تھے جو پارکنگ تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ دونوں چابیوں کے ساتھ لوٹ آئے۔ ہم نے رات بھر کے لیے تین کمرے کرائے پر لیے۔ یہ تینوں کمرے دوسری منزل پر تھے۔ سامان اور تھکاوٹ کو اُٹھائے ایک ساتھ سیڑھیاں چڑھنا پہاڑ پر چڑھنے سے زیادہ مشکل لگ رہا تھا۔ بلال نے تالے میں چابی گھمائی اور بتیوں کو روشن کرنے کے بعد ہمیںکمرے میں آنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

کمرہ کافی کشادہ تھا۔ دو ڈبل بیڈ کے ساتھ جس پر آرام دہ بستر بچھے تھے۔ بستروں کے سامنے چالیس انچ کی ایل ای ڈی لگی تھی۔ چھت پر پلاسٹر کا کام تھا۔ فرش پر ٹائلیں تھیں۔ میں نے بیگ رکھا اور واش روم میں جھانکا۔ سیارہ رنگ کا پتھر اور سیارہ رنگ کے ڈیزائن والی ٹائل اپنی چمک دمک دکھا رہی تھی۔ شبیر نے بیڈ پر لیٹتے ساتھ ہی ریموٹ سے ایل ای ڈی چلا دی۔ وہ خبروں کا چینل لگائے اپنے سیاسی ماحول میں مست ہو گیا۔ جہاں نئے منتخب وزیر اعظم کو مبارک باد کے پیغامات دیے جارہے تھے۔ میں نے اپنا موبائل چارجنگ پر لگایا اور واش روم میں نہانے کے لیے گھُس گیا۔

واش روم نہ صرف دلکش تھا بلکہ گرم پانی کا اہتمام لیے بھی تھا۔ میں نہانے کے بعد ڈھیلے ڈھالے کپڑوں میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا۔ میں واش روم کے گرم ماحول سے باہر آیا تو کمرے میں گرما گرم بحث جاری تھی۔ بلال کسی طور بھی نئے وزیر اعظم کو خوش آمدید کہنے پر رضامند نہیں ہو رہا تھا۔ شبیر اور سمیر مسلسل دلائل دے رہے تھے اور تبدیلی کا نعرہ بلند کررہے تھے۔ مجھے شروع دن سے ہی سیاست سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی۔ لہٰذا میں انھیں آپس میں چونچیں لڑاتے اور بے تُکی دلیلیں دیتے دیکھ کر مسکراتا رہا۔ بلال نے مستقبل کی ہولناک تباہی کا عندیہ دیا اور واش روم میں چلا گیا۔ شبیر اور سمیر، بلال کی اس فاتر العقل بات پر ہنسنے لگے۔ میں کمرے سے باہر آگیا۔

موسم خوش گوار تھا اور ہوا کے جھونکے میرے چہرے سے مس ہو کر گزر رہے تھے۔ میرے بائیں جانب سڑک کے پار سوات شہر اپنی جگمگ کرتی روشنیوں سے منظر کو حسین بنا رہا تھا۔ مجھے بھوک محسوس ہونے لگی۔ بھوک بھی زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ میں دائیں طرف چلتے ہوئے ہال کمرے میں پہنچ گیا۔ میں نے شیشوں سے مزین ہال میں نظر دوڑائی۔ وہاں ایک میز کے اردگرد کئی احباب بیٹھے کھانے کا انتظار کر رہے تھے۔ میں نے ایک کُرسی کھینچی اور منتظرین میں شامل ہوگیا۔ میری شدید خواہش تھی کہ بریانی کھائی جائے۔ چوں کہ ہم لوگ پچھلے کئی دنوں سے لگاتار سبزیاں اور دالیں کھارہے تھے۔ چوں کہ آرڈر دیا جا چکا تھا لہٰذا جو سامنے آگیا، کھالیا۔ میں نے اپنی خواہش کا اظہار کرنا مناسب نہ سمجھا۔ کبھی کبھار انسان کو اپنی خواہشات کو دبانا بھی پڑتا ہے۔ ایسا کرنا خاصہ مشکل عمل ہے لیکن گروہ کی شکل میں سبھی کے ساتھ چلنا پڑتا ہے اور دوسرے کی رائے کا احترام بھی کرنا پڑتا ہے۔

کھانا لذیذ تھا۔ لہٰذا سیر ہو کر کھایا۔ کھانے کے بعد چہل قدمی نہ ہو تو کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ میں، سمیر، اسلام اور فخر سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگے۔ سمیر شوخ اور چنچل طبیعت کا مالک ہے۔ وہ بات سے بات نکالنے کا ہُنر خوب جانتا ہے۔ ماحول کو گھٹن زدہ ہونے سے پہلے ہی کوئی نہ کوئی ایسی خوشبو بھری بات کر جاتا ہے کہ ساری تھکن ہنسی کی نظر ہو جاتی ہے۔ سمیر نے سفر کی طوالت کا قصہ چھیڑ دیا کہ ہم لوگ وین کو دوسرا گھر بنائے گھوم رہے ہیں۔ اسلام نے بات کو آگے بڑھایا اور کہا کہ چلتا پھرتا گھر؛ میں نے اسلام کی طرف اشارہ کیا کہ جس میں ہماری ماں جی بھی ہیں۔ فخر کہاں بازآنے والا تھا فوراً بولا کہ ماں کے پائوں تلے جنت ہوتی ہے لیکن ہماری ماں کے پائوں تلے پکّی سڑک ہے۔

یوں ہم لوگ ہنسی مذاق کرتے اور ایک دوسرے کو چھیڑتے ہوئے کافی دور نکل گئے۔ سمیر نے کہا کہ واپسی کا رستہ بھی یاد رکھنا۔ بعد میں یہ نہ ہو کہ رات سڑک پر ہی گزارنی پڑے۔ ہم لوگ اس بات پر مسکراتے ہوئے واپس مڑے اور ہوٹل میں آگئے۔ کمرے میں بلال بیٹھا موبائل سے کھیل رہا تھا۔ شبیر چادر تانے سو رہا تھا۔ میں نے بھی سو جانا ہی مناسب سمجھا۔ میں نے آنکھیں بند کیں تو اردگرد پہاڑوں کا سبز حصار سا بن گیا۔ میں اس پُر لطف خیال پر مسکرا دیا اور مسکراتے ہوئے نیند کی آغوش میں چلا گیا۔

جاری ہے—-

پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20