قاضی جاوید کی یاد میں —– سلمان عابد

0

میں جب ماحول میں تیری کمی محسوس کرتا ہوں
تھکی آنکھوں کے پردے میں نمی محسوس کرتا ہوں

قاضی جاوید مرحوم بھی کیا کمال کا درویش صفت انسان تھا۔ یقین ہی نہیں آتا کہ وہ واقعی دنیا سے چلاگیا ہے۔ اگرچہ یہ زندگی عارضی ہے اور سب نے ہی اس دنیا سے جانا ہے۔ لیکن کچھ لوگ جاتے ہوئے نہ صرف اداس کرجاتے ہیں بلکہ اپنی یادوں کے دریچے سے بہت کچھ یاد کرنے کے حوالے سے چھوڑ جاتے ہیں۔ بہت ہی بڑا انسان لیکن عملی طور پر بہت ہی سادہ انسان جو ہمیشہ مسکرا کر ملتا اور دھیمے انداز میں اپنی گفتگو سے سب کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اپنے مزاج میں کمال کی رواداری وہ رکھتے تھے۔ مشکل اور سخت سے سخت بات کو بھی وہ بہت حوصلہ سے سنتے تھے اور کسی کی بات پر غصہ کھانے کی بجائے تحمل اور بردباری کے ساتھ اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو بھی مسکرا کر سننا ان کی بڑی خوبی تھی۔

قاضی جاوید کی پوری زندگی کا احاطہ کیا جائے تو علمی اور فکری مطالعہ کی عادت یا کتاب دوستی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ عملی طور پر لاہور میں ایک مجلسی آدمی تھے۔ تنہا رہنا ان کو قبول نہیں تھا۔ جب بھی کام سے وقت ملتا تو دوستوں کی مجلسیں ہی ان کی اہم ساتھی ہوا کرتی تھی اور ان مجلسوں میں وہ سنتے بھی کمال کا تھے اور بولتے بھی خوب تھے۔ کسی بھی سطح کی نرگیسیت کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے کبھی بھی اپنے علم و فہم کی بنیاد پر خود کو بڑا آدمی بنا کر پیش کیا۔ عمومی طور پر وہ بس یہ کہہ کہنے ہی میں اکتفا کرتے کہ یہ میرا نکتہ نظرہے اور اگر آپ کو پسند نہیں تو کوئی متبادل نکتہ نظر پیش کردیں۔ جذباتیت کا پہلو کم اور دانش کا پہلو جس میں عقل، فہم اور شواہد کی بنیاد پر گفتگو ہوتی تھی۔ میں نے ان کو بہت کم الجھتے دیکھا۔ بات کرنے کے سلیقہ پر بھی ان کو ملکہ حاصل تھا۔

میرا ان سے دو دہائیوں سے زیادہ کا تعلق تھا۔ وہ میرے والد عبدالکریم عابد مرحوم کے بھی دوست تھے۔ ان کی ابتدائی تحریریں کالم کی صورت میں روزنامہ پاکستان میں پڑھنے کو ملتی تھیں۔ یہ ہی ان سے پہلا تعارف تھا۔ اس کے بعد کئی برسوں تک وہ نیرنگ گیلری میں ڈاکٹر مبارک علی کی ہفتہ وار مجلس کا حصہ رہے۔ اس مجلس میں کئی اہم موضوعات پر علمی اور فکری مباحثہ ہوتے تو قاضی جاوید بھی اس کا حصہ بنتے تھے۔ ڈاکٹر مبارک علی، اسلم گورداسپوری، ڈاکٹر غافر شہزاد، پروفیسر انیس عالم، ڈاکٹر اشتیاق احمد جیسے لوگوں کی مجلسوں میںخوب علمی و فکری جوڑ پڑتا تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ کبھی بھی انہوں نے اپنی بات کو نہ تو کسی پر مسلط کیا اور نہ ہی اس بات پر زور دیا کہ بس ان کا سچ ہی مکمل سچ ہے اور باقی سب جھوٹ ہے۔

قاضی جاوید کی خوبی یہ تھی کہ وہ وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔ ہر فکر اور سوچ کا مطالعہ ان کی عادت تھی۔ محض اپنے خیالات تک ان کو رسائی حاصل نہیں تھی بلکہ مخالف کے نکتہ نظر کو پڑھنا اور سمجھ کر بات کرنا بھی ان کی بڑی خوبیوں کا حصہ تھا۔ برصغیر میں مسلم فکر کا ارتقا، افکار شاہ ولی اللہ اور سرسید سے اقبال تک، وجودیت ان کی کمال کی کتابیں تھیں۔ رسل کی آپ بیتی اور رسل کے افکار کی کتابوں کی بھی خوب آسان انداز میں ترجمہ کیا جو پڑھنے کے لائق ہے۔ پندرہ سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے۔ ڈاکٹر مبارک علی کی سربراہی میں ہونے والی تاریخ کانفرنسوں میں وہ اپنا مقالہ بھی خوب پیش کرتے تھے جو ’’ تاریخ کے شماروں ‘‘ میں موجود ہیں۔ جب بھی ان سے بات ہوتی تو مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی اور سیاسی وسماجی رویوں سمیت میڈیا سے جڑے معاملات پر ان کی سوچ و فکر میں بہت گہرائی تھی۔ سیاست سے کافی مایوس تھے اور ان کے بقول یہ جو کچھ ہورہا ہے ماسوائے سیاست اور جمہوریت کی بدنامی کے کچھ نہیں۔

میں ان کو ہمیشہ لکھنے پر اکساتا اور کہتا کہ آپ کے پاس بہت علم ہے اور لوگوں کی راہنمائی کریں تو وہ مسکرادیتے تھے۔ ان کے بقول اول تو یہاں سنجیدہ اور حساس موضوعات پر کھل کر بات کرنے کی آزادی نہیں اور دوسرا اخبارات لکھنے والوں سے مفت کی بیگاری لینا چاہتے ہیں جو ان کو قبول نہیں تھا۔ اس لیے وہ کئی برسوں سے کچھ نہیں لکھ رہے تھے۔ ادارہ ثقافت اسلامیہ کے سربراہ تھے اور جو وقت ملتا وہاں کچھ کرنے کی ضرور کوشش کرتے۔ بدقسمتی سے اس معاشرہ میںلکھنے اور پڑھنے والوں کی سماج میں وہ پزیرائی نہیںمل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔ فکر معاش نے ایسے لوگوں کو بس الجھا کر ہی رکھ دیا تھا۔ ریاستی نکتہ نظر سے مخالف نکتہ نظر رکھنے والوں کی میڈیا میں بھی وہ پزیرائی نہیں ہوسکی جو حقیقی طو رپر ان جیسے لوگوں کو ملنی چاہیے تھی۔

قاضی جاوید کے آخری دس برس کی محبت ماڈل ٹاون پارک تھے۔ وہ عملی طو رپر ایک رومانوی شخصیت کے مالک تھے۔ سبزہ، پھول اور باغات ان کی کمزوری تھے۔ کئی برسوں تک انہوں نے اتوار والے دن ماڈل ٹاون پارک میں سیر کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے ہفتہ وار علمی و فکری مجالس سجائیں۔ مختلف لوگوں کو وہ دعوت دیتے اور مکالمہ کے کلچر کو عام کرتے۔ صبح و شام ان کا ڈیڑہ ماڈل ٹاون پارک تھا اور وہاں واک بھی کرتے اور دوستوں کی محفلوں کو سجانے کا ہنر بھی رکھتے تھے۔ اکثر ان سے ماڈل ٹاون پارک میں ملاقات ہوتی تو خوب گرمجوشی سے ملتے اور مختلف معاملات پر بات چیت کرتے۔ کرونا کی وبا کی وجہ سے ڈاکٹر مبارک کی نیرنگ گیلری کی محفلیں آن لائن ہوگئی تھیں جس پر وہ کافی رنجید ہ ہوتے اور کہتے کہ بھائی بس اب فارمل انداز میں ملاقاتوں کا اہمتام کرو، بہت ہوگئی کرونا کرونا۔

جب بھی شام کو میں واک سے فارغ ہوتا تو قاضی جاوید مجلس سجائے ہوئے ہوتے تھے۔ ان سے زور دار انداز میں سلا م دعا ہوتی لیکن اب جب وا ک پر جاتا ہوں تو قاضی صاحب کے بیٹھنے کی جگہ پر ان کو نہ دیکھ کر آنکھوں میں آنسوآجاتے ہیں اور واقعی ان کو بہت یاد کرتا ہوں اور ان کی خوب یاد بھی آتی ہے۔ ان سے میرا تعلق کافی تھا اور شفیق استاد کی طرح انہوںنے ہمیشہ میری راہنمائی کی او رمجھے ان سے سیکھنے کو بھی بہت کچھ ملا۔ کئی معاملات پر ان سے نوک جھوک بھی ہوتی لیکن یہ ہی ان سے مکالمہ کی خوبی تھی جو ان کی زندگی کے آخری سانس تک قائم ہی رہی۔ قاضی جاوید کے پڑھنے والوں کی اکثریت آپ کو سندھ اور بلوچستان میں ملتی ہے جہاں مطالعہ کا شوق کافی ہے۔ اکثر لاہو رمیں ان کو میں علمی و فکری مجالس میں دیکھتا تھا جہاں وہ خوب حصہ لیتے تھے۔ درس وتدریس کا آغاز انہوں نے فلسفہ کے شعبہ میں پنجاب یونیورسٹی سے کیا لیکن سیاست کے باعث ان کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا اور اس کا ان کو دکھ بھی بہت تھا۔

بطور فلسفہ کے استاد کے قاضی جاوید نے نہ صرف تمام فلسفہ سے جڑے تصورات کا مطالعہ کیا بلکہ خود سے بھی کئی تصورات کو متعارف کروایا کہ نئے خیالات کو کیسے جنم دیا جاسکتا ہے۔ قاضی جاوید جیسے لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں جو ابتدا سے آخر تک بے لوگ اپنے نظریات، سوچ اور فکر پر قائم رہے اور کبھی ان خیالات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ حقیقی طور پر قاضی جاوید کی موت لاہو رکے علمی وفکری حلقوں کے لیے ایک بڑے سانحہ سے کم نہیں۔ لاہو رکی علمی و فکری مجالس ان کو ہمیشہ یاد رکھیں گی اور وہ اپنی سوچ، فکر، طرزعمل اور میانہ روی یا روادری جیسے امور کی وجہ سے ہمیشہ لوگوں کے دلوں پر راج کریں گے۔

قاضی جاوید کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ بہت ہی سادہ انسان تھے اور کسی بڑی نمودنمائش ان کی ذندگی میں نظر نہیں آتی تھی۔ لباس، خوارک اور زندگی کے مختلف معاملات میں وہ سادگی کے پیکر تھے اور بہت کچھ جمع کرنے کی خواہش بھی ان میں نہ تھی۔ قاضی جاوید جیسے لکھ عمومی طور پر ہماری علمی و فکری زندگی کی روشنی کے وہ مینار ہیں جو بہت کچھ کرنا بھی چاہتے تھے، لیکن محدود وسائل، کم مواقع اور بہت زیادہ ریاستی سطح پر پزیرائی نہ ملنے کے باعث وہ کچھ نہ کرسکے جو وہ کرسکتے تھے۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے آمین، ہم واقعی ایک بڑے آدمی سے محروم ہوئے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20