معاصر فکر اسلامی  کو درپیش اہم سوالات: ابراہیم ابو ربیع، کینیڈا

0

ابراہیم محمد ابو ربیع ۔ پروفیسر اسلامک اسٹڈیز یونیورسٹی آف البرٹا کینیڈا کے ایک انگریزی مضمون کے حصے کا ماخوذ ترجمہ از ابوبکر

مجموعی طور پر معاصر مسلم فکر کو جو سوالات اور معاملات درپیش ہیں وہ کچھ یوں ہیں۔

1۔ پہلا مسئلہ کالونیل دور سے نجات اور آزادی سے متعلق ہے۔ اکثر مسلم ممالک نے چند دہائیاں پہلے ہی یورپی تسلط سے آزادی حاصل کی ہے۔ کیا سیاسی آزادی سے  جدیدیت یا معاشی ترقی کا کوئی مفید نمونہ حاصل کیا جا سکا ہے ؟

2۔ کالونیل اقتدار سے آزادی کی جدوجہد میں قومیت پسندوں ، سیکولر نیز مذہبی قوتوں نے حصہ لیا تاکہ یورپی تسلط اور استحصال سے نجات پائی جا سکے۔ کالونیل نظام سے لڑائی کے دوران ان قوتوں کے درمیان ایک توازن موجود تھا۔ آزادی کے بعد اس توازن کا کیا بنا ؟ چند قوتوں نے آزادی کے بعد سیاسی فیصلہ سازی کا عمل کیونکر ہائی جیک کیا ؟

3۔ مسلم دنیا میں آزادی کے بعد آبادی کے شرح  نمو میں عظیم اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے  جدید مسلم  معاشروں کے انفراسڑکچر پر کیا نتائج پڑے ہیں اور آزادی کے بعد پیدا ہونے والی نسلوں کے ساتھ کیا ماجرا پیش آیا ؟

4۔ دیہی علاقوں میں ترقی نہ ہونے کے سبب ان علاقوں کے کم آمدنی والے افراد شہروں کی طرف اور بیرون ملک ہجرت کرتے ہیں جیسا کہ شمالی افریقہ میں دیکھنے میں آیا ہے۔ اس نئے شہری غریب طبقے کا مقدر کیا ہے اور مذہب نیز مذہبی تحریکوں سے اس کے تعلق کی نوعیت کیا ہے؟

5۔ آزادی کے بعد مسلم معاشروں میں نمودار ہونے والی سیاسی اشرافیہ اور سیاست نیز سول سوسائٹی کو شکل دینے میں فوج کے کرادر کا سوال بہت  اہم ہے اور جواب کا تقاضہ کرتا ہے۔  یہ قیاس  یکسر غلط بھی نہیں کہ اکثر مسلم معاشروں میں لبرل جمہوریت جیسی کسی حقیقت کا وجود نہیں ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا ایسا محض اندرونی عناصر کی وجہ سے ہے؟ مزید براں سیاسی اشرافیہ نے مذہب یعنی اسلام کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔ مذہب کو ریاست کی سرپرستی سے آزاد رکھنے کا رجحان مفقود رہا اور اس کے نتیجے میں مذہبی دانشورو ں کی اکثریت نے تنگ دستوں اور غریبوں  کی بجائے ریاست کا ساتھ دیا۔ ریاست کی جانب سے  مذہبی دانشوروں کا پورا فائدہ اٹھایا گیا۔

6۔ معاصر مسلم ممالک میں حکومتی اشرافیہ کے سماجی پس منظر کا سوال نہایت اہم ہے۔ وہ کس طبقے کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں؟ عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے ا ن کا تعلق کیا ہے؟ کیا وہ اپنے معاشروں میں جمہوریت کو ترویج دینا چاہتے ہیں؟

7۔ آزادی کے بعد اسلامی تحریکوں کا انجام کیا ہوا؟ ایسی مرکزی اسلامی جماعتیں کالونیل دور میں بنائی گئی تھیں جنہوں نے قوم پرست اور سیکولر قوتو ں کی طرح کالونیل اقتدار کے خلاف سخت جدوجہد کی تھی۔ جنوب مشرقی ایشیا ، جنوبی ایشیا ، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں ان جماعتوں کا نتیجہ کیا نکلا؟

8۔ آزادی کے بعد مسلم دنیا میں دانشوروں کا کردار کیا ہے؟ یہ ایک وسیع سوال ہے جس کے کئی ممکنہ جوابات ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر مسلم دنیا کے مروجہ سیاسی حالات اور فوجی یا قبائلی آمریتوں کے اقتدار کی وجہ سے دانشور طبقہ سیاسی سڑکچر سے نا امید ہو کر کٹ چکا  ہے۔  اکثر خاموش ہو گئے اور  باقی نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ” برین ڈرین ” یا دانشورو ں کے بہاؤ کا یہ عمل مسلم ممالک میں حکومتی اشرافیہ کی طرف سے دانشوروں  کو دھارے میں سمو سکنے میں ناکامی اور انہیں علمی تحقیق کے معاون ماحول اور فکری آزادی مہیا نہ کر سکنے کا نتیجہ ہے۔

9۔ جدید دنیا کے نظام میں تیل ایک بنیادی کموڈٹی ہے۔ اس کے نتیجے میں خلیج کے علاقے میں ایک عجیب صورت حال پیدا ہو گئی ہے جہاں کم آبادی والی کئی غیر ترقی یافتہ ریاستوں کو سرمایہ دارانہ مفادات کے تحت تحفظ دیا گیا اور انہیں راتوں رات تعمیر و ترقی سے گزارا گیا تا کہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی شرائط پوری کی جا سکیں۔ کیا خلیج کی ریاستیں جدید کہلائی جا سکتی ہیں یعنی کیا وہ جدیدیت کے تاریخی عمل کا حصہ ہیں ؟ کیا ان میں جدیدیت کا فقدان ہے؟

10۔ فلسطین کا مسئلہ کیا ہے اور اس کا حل کس حد تک ممکن ہے؟ مسلم دنیا پر اس کے اثرات کیا ہیں؟ کیا یہ درست ہے کہ امریکہ اور مغرب کی جانب سے اسرائیل کی مدد اور فلسطینیوں کے حقوق سے چشم پوشی نے اسلامی دنیا میں امریکہ مخلاف قوتوں کا مضبوط کیا ہے؟ کیا یہ قوتیں امریکہ سے کالونیل اور نیو کالونیل دور کے مظالم کی وجہ سے خفا ہیں؟

11۔ آزادی کے بعد مسلم ممالک میں باہمی علم اور معلومات کا یکسر فقدان نظر آتا ہے۔ قاہرہ ، استبول، کراچی اور جکارتہ کے پڑھے لکھے لوگ مسلم دنیا کے ممالک کی نسبت مغرب کے بارے میں کہیں زیادہ جانتے ہیں۔ کالونیل ماضی کا یہ پہلو ابھی تک باقی ہے۔ بڑھتی ہوئی اسپیشلائزیشن کے اس دور میں مسلم ممالک کے درمیان باہمی شعور کس طرح پیدا کیا جا سکتا ہے؟ یہ بات یاد رکھنی چائیے کہ غیر عرب مسلم دنیا کے پڑھے لکھے لوگ عرب دنیا کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہیں جب کہ عرب دنیا میں ایسا نہیں ہے۔ یہ جہاں ان معاشروں پر اسلام کے اثر کا نتیجہ ہے وہیں اس سے  مسلم دنیا میں معاشی اور سیاسی رابطہ کاری کا فقدان بھی ظاہر ہوتا ہے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ان کی کمزور حیثیت نمایاں ہوتی ہے۔

12۔ جدید مسلم دنیا میں مذہبی علوم کا مرتبہ کیا ہے؟ اس میں شک نہیں کہ اپنے ظہور سے ہی اسلام کی مذہبی تحریک نے مسلم دنیا کو جدید خطوط اور شہریت عطا کی۔ اسلام ایک مقدس متن یا خواندگی پر قائم ہے۔ ما قبل جدید دور میں مسلم دنیا میں مدارس کا ایک جامع نظام قائم کیا گیا تھا تاکہ دینی تعلیمات کی ترویج کی جا سکے۔ مزید برآں اسلامی تہذیب نے اسلامی شہری و علمی ثقافت اور مذہبی نظام کی اپنی صورت تشکیل دی ۔ تاہم اٹھاوریں اور انیسویں صدی میں نوآبادیاتی دور کی آمد کے ساتھ اس کا شیرازہ بکھر گیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: