اشفاق سلیم مرزا بھی چلے گئے —– سلمان عابد

0

اشفاق سلیم مرزا کے انتقال کی خبر ملی تو یقین ہی نہیں آیا کہ وہ واقعی چلے گئے ہیں۔ کیونکہ کوئی بڑی بیماری نہیں تھی اور ہمیشہ ہشاش بشاش رہنا ان کی عادت تھی۔ حقیقی معنوں میں ایک حقیقی دانشور اگر دیکھنا، سمجھنا اور پرکھنا ہو تو اشفاق سلیم مرزا کو دیکھا جاسکتا ہے۔ وسیع المطالعہ اشفاق سلیم مرزا کمال کے آدمی تھے، ہمیشہ مسکرانا اور خوش گپیوں میں دوستوں کے ساتھ مجالس کو سجانا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ ان سے ہمیشہ ملنے کے لیے بہت لوگ آتے اور وہ ہمیشہ لوگوں کو بہت وقت دیتے بلکہ عملی معنوں میں دوستوں اور مداحوں سے مل کر ان کو خو د بڑی خوشی ہوتی تھی۔ ایسا ملنسار آدمی جو کسی کے بارے میں کوئی بغض نہیں رکھتا تھا اور اپنے مخالف نکتہ نظر کے افراد کے بارے میں بھی شائشتگی سے بات کرنا ان کی بڑی خوبیوں کا حصہ تھا۔

اشفاق سلیم مرزا سے اگرچہ پہلی بار ملاقاتوں کا سلسلہ ساوتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) لاہور اور اسلام آباد میں شروع ہوا جہاں وہ مختلف مجالس کا حصہ ہوتے تھے۔ لیکن اصل گفتگو اور دوستی ان سے ڈاکٹر مبار ک علی کے زریعے ہوئی۔ وہ جب بھی لاہور آتے تو ان کی ہمیشہ ملاقات ڈاکٹر مبارک سے نیرنگ گیلری میں ہفتہ وار مجلس میں ہوا کرتی تھی۔ میں خود بھی اس مجلس کا رکن تھا تو خوب ملاقات ہوتی اور خوب گفتگو بھی ہوتی تھی۔ ہمیشہ جب بھی انہوں نے کوئی نئی کتاب لکھی تو لاہور آتے تو دوستوں کے لیے کتابیں لاتے اور ہمیں بھی دوستوں کی فہرست میں شمار کرکے اپنے دستخطوں سے کتاب تحفہ کے طور پر دیتے تھے۔ اہم بات یہ ہی نیرنگ گیلری میں ان کی کتابوں کے کچھ باب پر مطالعہ کیاجاتا اور پھر اس پر بحث ہوتی۔ بعض بحثوں میں اشفاق سلیم مرزا بھی شریک ہوتے تھے۔

اسی طرح ڈاکٹر مبارک علی کی سربراہی میں سالانہ بنیادوں پر تاریخ کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا تھا۔ وہ بیشتر کانفرنس کا حصہ ہوتے اور ہر کانفرنس میں وہ اپنا خصوصی مقالہ پڑھتے تھے۔ بنیادی طور پر مکالمہ کے آدمی تھے اور اپنی بات کو سمجھانے کے لیے مکالمہ کو ہی بطور ہتھیار استعمال کیا کرتے تھے۔ ان کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ لیفٹ کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے آئین کو لکھنے کی ذمہ داری بھی ان کو ہی ملتی تھی اور کئی جماعتوں کے آئین لکھنے والوں میں ان کا شمار کیا جاتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر اس معاشرے کو علمی و فکری معاشرہ جس کی بنیاد سیکولرازم پر دیکھنا چاہتے تھے اور اسی تناظر میں ان کی علمی و فکری جدوجہد کو دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ ان کی ذات، سوچ اور فکر میں کوئی الجھاو نہیں تھا جو وہ سوچتے تھے اس کا برملا اظہا رکرنے کا سلیقہ بھی ان کو آتا تھا۔

دوست بنانا اور دوستیوں کو قائم رکھنے کا وہ شوق بھی رکھتے تھے اور اس کا ہنر بھی ان کو آتا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے دوستوں اور مداحوں کا وسیع حلقہ تھا۔ خاص طو رپر نوجوان طالب علموں کو ان کے تحقیقی مقالوں میں وہ بہت آگے بڑھ کر مد دکیا کرتے تھے۔ میرے کئی مضامین پر وہ مجھ کو باقاعدگی سے فون کرتے اور اس پر اپنی رائے کھل کر دیتے تھے۔ اگرچہ میرے اور ان کے خیالات میں بہت فرق تھا لیکن محبت کا جو ان سے تعلق تھا اس پر مجھے ہمیشہ فخر رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ لاہو رمیں ان کی آمد ہوتی اور پتہ چلتا تو اس مجلس میں حصہ لینا میری خواہش ہوتی اور کئی کئی گھنٹوں کی محفلیں خوب سجا کرتی تھیں۔ جو لوگ بھی کچھ سیکھنے کا شوق رکھتے تھے ان کے لیے اشفاق سلیم مرزا ایک نرسری کی حیثیت ہی رکھتے تھے۔ کیونکہ وہ بنیادی طور پر نہ صرف ایک استاد تھے بلکہ ان کی حیثیت ایک درس گاہ کی تھی جو اپنے اردگر د بیٹھے لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کا ماحول فراہم کیا کرتے تھے۔ خوش لباس اشفاق سلیم مرزا جب بھی نظر آتے تو بہت اچھے لگتے اور بن ٹھن کر رہنا ان کا بڑا مشغلہ تھا جو بہت سے لوگوں کے لیے متاثر کن تھا۔

تاریخ، فلسفہ، ادب، شاعری اور سیاست سمیت سماجیات ان کے اہم موضوع تھے۔ اپنی بات کو منطق سے پیش کرنا اور دلیل کے ساتھ اپنی بات کا اظہار کرنا ان کی بڑی خوبی کا اہم حصہ تھا۔ عملی سیاست بھی کی لیکن لیفٹ کی سیاست کے طور طریقوں سے بہت زیادہ خوش نہیں تھے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ان سے جو بھی گفتگو کرتا وہ نئی سیاسی جماعت بنانے کا مشورہ دیتے۔ یعنی کچھ نہ کچھ کرنے کی لگن، شوق اور جستجو ان کی طبعیت کا حصہ تھا۔ ملک کے کئی اہم تھنک ٹینک کا وہ حصہ ہوتے اور جہاں بھی لوگ ان کو دعوت دیتے وہ وہاں سب سے پہلے موجود ہوتے تھے۔ ان کے بقول ہمیں جہاں بھی کوئی کام سمجھ آئے تو اس میں پہل کرکے اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہیے۔ وہ علم دوست تھے اور علمی و فکری لوگوں سے ملنا اور ان سے دوستیاں قائم کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔

وہ ایک بڑے مصنف تھے اور کما ل کا لکھتے تھے۔ ان کی تصانیف میں میکاولی سے گرامچی تک، مقالات تاریخ فلسفہ، ممنوعہ نظمیں، المیے کا سفر، فلسفہ تاریخ نوآبادیات، فلسفہ کیا ہے، آو مل کر ہنسیں، جیسی شہرہ آفاق کتابیں شامل ہیں۔ وہ مزدور کسان پارٹی پنجاب کے صدر بھی رہے اور کئی برسوں تک ڈان میں کتابوں پر تبصرے بھی لکھتے رہے ہیں۔ بنیادی طور پر انسانی حقوق، کمزور طبقات کی جنگ، طبقاتی تقسیم سے جڑے مسائل، غربت، پس ماندگی، سماجی و سیاسی ناہمواریوں، اور عدم انصاف جیسے معاملات پر وہ کھل کر بات کرتے اور کسی لگی لپٹی کی بجائے وہ ہی کہتے جو کہنا چاہتے تھے۔ پاک بھارت تعلقات کی بہتری اور دوطرفہ میل جول کے بڑے حامی تھے۔ اسی بنیاد پر وہ پیپلز انڈیا فورم اور ساوتھ ایشیا فری میڈیا ایوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے بھی جدوجہد کرتے رہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ اب ایسے پڑھے لکھے اور سماج کو سنوارنے اور نکھارنے جیسے درویش لوگ کم ہوتے جارہے ہیں۔ نئی نسل میں کہاں ہمیں ایسے پائے کے لوگ مل سکیں گے جن کا مطالعہ بھی وسیع ہو اور وہ سماج کو بدلنے کی امنگ بھی رکھتے ہوں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں ایسے پڑھے لکھے اور علمی لوگوں کی ہمارا جیسا معاشرہ حقیقی معنوں میں کوئی قدر نہیں کرسکا۔ یہ معاشرہ سیاسی بونوں کا معاشرہ ہے جہاں علم و فکر سے جڑے لوگ سیاسی تنہائی کا شکار ہوتے ہیں اور ریاستی و حکومتی سطح پر کسی بڑی پزیرائی بھی ان کو نہیں ملتی۔

لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ اشفاق سلیم مرزا نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔ کئی دوست اور مداح ان کی رخصتی سے اداس ہوئے ہیں۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اشفاق سلیم مرزا جاتے جاتے اپنی یادوں سمیت اپنے علم و فکر کا ایک بڑا خزانہ بھی چھوڑ کر جارہے ہیں جو ہم سب کا بڑا اثاثہ ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کا کسی نہ کسی حوالے سے تعلق اشفاق سلیم مرزا جیسے علمی و فکری اور بڑ ے انسان سے تھا، جس پر مجھ سمیت بہت سے لوگ فخر کرسکتے ہیں۔

بقول اشفاق سلیم مرزا کے جو انہوں نے اپنے بارے میں لکھا:
زندگی کے سفر میں
سارے کام ادھورے رہے
نہ تو محبتوں میں پناہ ملی
اور نہ ہی نفرتوں کو مٹاسکا
ایک قلم اور قاری کا رشتہ
جو کسی طور نباہ سکا
یہ کام بھی، ابھی ادھورا ہے
زندگی ہے کہ
ہاتھ سے نکلی جارہی ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20