کشمیری کلاسیکی موسیقی : ایک تعارف —- یاسر اقبال

0

وادی ٔکشمیر اپنے فطری حسن سے مالا مال ہے۔ سرزمینِ کشمیر کا یہ حسن کشمیری ادبیات و فنون میں جابجا نظر آتا ہے۔ خطہ ٔ کشمیر اپنے قدرتی مناظر، سرسبزوشاداب پہاڑوں، نقرئی جھیلوں، بلندو بالا اشجار اور بلندیوں سے گرتے ہوئے آبشاروں کی وجہ سے فردوس ِ بریں کا منظر پیش کرتا ہے۔ ویسے تو خطہ ٔ کشمیر زمانہ قدیم ہی سے علم و ادب کا سرچشمہ رہا ہے۔ یہاں کی مٹی اتنی ذرخیز ہے کہ کئی ہنر مند، فنکار، علما و شعرا نے اس سرزمین سے جنم لیا۔ وادی ٔ کشمیر عشقِ حقیقی، عشقِ مجازی، دھرتی سے محبت اور امن و اخوت کی پیامبر ہے۔ جس کا ثبوت ہمیں کشمیری لوک ادب میں نظر آتا ہے۔ شعر و ادب کے علاوہ وادیٔ کشمیرکا فن موسیقی بھی جداگانہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہاں کی موسیقی میں اثر آفرینی اس قدر ہے کہ سامع پر ایک جادوئی سحر طاری ہوجاتا ہے۔ پیش نظر مضمون سرزمین ِ کشمیر کی موسیقی سے متعلق ایک ہلکا پھلکا تعارف ہے۔ جس میں موسیقی کے نظریاتی مسائل سے ہٹ کر وادی کشمیری کی کلاسیکی موسیقی کی روایت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ موسیقی، جمالیات سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ کسی بھی خطے کی موسیقی (لوک موسیقی )وہاں کے جغرافیائی اور تہذیبی و تمدنی ماحول کی عکاس ہوتی ہے۔ اگر خطے کا جغرافیہ فطرتی مناظر اور سرسبز و شاداب کوہساروں کی جمالیات سے معمور ہو تو وہاں کے فنونِ لطیفہ پر اس کی جمالیات کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ فنونِ لطیفہ میں موسیقی کو تمام فنون کی روح کہا گیا ہے۔ یہ ایسا تخلیقی آرٹ ہے جو اپنی تشکیل میں فن کی داخلیت سے اپنا رشتہ اُستوار کرتا ہے۔ علمائے جمالیات کے نزدیک فن ِموسیقی تخلیقی آرٹ کی معراج ہے جونہ صرف ذہن ِ انسانی کو وقت کی قید سے آزاد کردیتا ہے بلکہ زمان و مکان سے آزاد ہوکر فطرت کے آہنگ سے اپنا رشتہ قائم کرلیتا ہے۔ جہاں تک خطہ ٔ کشمیر کی موسیقی کی بات ہے توکشمیر کی موسیقی کی اگر تقسیم پر نظر ثانی کی جائے تو یہ فن تین درجوں پر مشتمل ہے۔

Holding the fort of Sufiyana Music | Greater Kashmirاول :کلاسیکی موسیقی
دوم:عوامی موسیقی
سوم:جدید موسیقی

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خطہ کشمیر کی موسیقی اپنی نوعیت، آہنگ وتال کے اعتبار سے ملک کے دیگر خطوں سے کافی مختلف ہے۔ یہاں کی موسیقی ترکستان، ایران اور وسطِ ایشیا کے بعض علاقوں کے اثرات لیے ہوئے ہے۔ اگر ہم کشمیری موسیقی کے تینوں مدارج پر بات کریںگے تو یہ مضمون بےجا طوالت میں چلا جائے گا۔ تاہم ہماری گفتگو کا دائرہ کشمیری موسیقی کی جملہ اقسام کی بجائے صرف کشمیر کی کلاسیکی موسیقی تک محدود رہے گا۔ کشمیری موسیقی کے آغاز و ارتقا کے حوالے سے تاریخ خاموش ہے۔ یہ حال صرف کشمیری موسیقی کا ہی نہیں دنیا کے ہر خطے کی موسیقی کی ابتدا سے متعلق وہاں کی تواریخ خاموش نظر آتی ہیں۔ اگر کچھ باتیں یا حوالے ملتے بھی ہیں تو فقط قیاس آرائیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بہرحال زمانہ قدیم سے ہی کشمیر تہذیب و تمدن کا مرکز رہا ہے اور یہاں کی موسیقی کی ابتدا کے ڈانڈے اساطیری دور میں جاکر کھلتے ہیں۔ جہاں اس فن کو دیوی دیوتوں سے منسلک کیا جاتا ہے۔

Music of Jammu and Kashmir and Ladakh - Wikipediaکشمیرکی کلاسیکی موسیقی کو عرف ِ عام میں صوفیانہ موسیقی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس میں جو بیت گائے جاتے ہیں ان میں بیشتر کا موضوع تصوف ہوتاہے۔ لہٰذا مضمون میں صوفیانہ موسیقی کا ذکر کشمیر کی کلاسیکی موسیقی کی نسبت سے کیا جائے گا۔ کشمیری موسیقی کے معروف ناقد سید قیصر قلندر اپنی کتاب ’’ہماری موسیقی‘‘ میں کشمیری موسیقی کے ابتدا کے بارے میں اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کشمیری کی کلاسیکی موسیقی سلاطین ِ کشمیر کی دین ہے۔ سلاطین سے پہلے بھی اس فن کی روایت یقینا موجود رہی ہوگی بہرحال تاریخ ِ ثقافت اس حوالے سے خاموش نظر آتی ہے۔ کشمیری کلاسیکی موسیقی (صوفیانہ موسیقی) پر موجود تحریری مواد کا جائزہ لیا جائے تو دو بنیادی کتابوں کا ذکر ملتاہے۔ جن میں ایک حافظ احمداللہ پنجابی کی مرتب کی ہوئی کتاب ’’اصلی موسیقی‘‘ کے نام سے ہے۔ یہ کتاب ۲۸ حصوں پر مشتمل ہے۔ جبکہ دوسری اہم کتاب دیارام پنڈت خوشدل کی ’’ترانۂ سرود‘‘ کے نام سے ہے۔ ان دوکتابوں میں کشمیری کلاسیکی موسیقی سے متعلق تفصیل سے معلومات دی ہوئی ہے۔ کشمیری کلاسیکی موسیقی میں رائج غنائی اسالیب، ساز اور سازندوں کے ساتھ ساتھ اس صنف کے کلاسیکی گائکوں کا بھی تذکرہ موجود ہے۔ ان کتابوں کی روشنی میں بتایا جاتا ہے کہ کشمیری صوفیانہ موسیقی کی ابتداء سلطان زین العابدین عرف بڈھ شاہ کے دور میں ہوئی۔ سلطان بڈھ شاہ خود شعر و ادب کا دلدادہ تھا اورساتھ سنگیت کا گہرا رمز شناس بھی تھا۔ سلطان کے ایک درباری گائیک نے تو موسیقی پر ایک کتاب ’’زینہ ترنگ‘‘ کے نام سے بھی تصنیف کی تھی۔ سلطان کو موسیقی کا گہرا ادراک تھا جہاں بھی دوران ِگائیکی غلط سُر لگتا فوراً اس سُر کی نشاندہی کرتا تھا۔ اس کے دور میں فنون لطیفہ نے بہت ترقی کی۔ عہد ِ بڈھ شاہی میں وسط ایشیا سے کئی موسیقار، دستکار، قالین باف، مصور، سنگ تراش، ریشم ساز، پشمینہ باف، کاغذساز اور دیگر فنکار کشمیرمیں آکر آباد ہوتے گئے۔ سلطان کے بعد ان کے جانشینوں نے بھی فن موسیقی کی سرپرستی جاری رکھی۔ جن میں سلطان کے بیٹے حیدر شاہ اور پوتے حسن شاہ فن موسیقی کے بڑے قدرشناس اور سنگیت شناس تھے۔ بڈھ شاہی خاندان میں فن کی سرپرستی کایہ سلسلہ میرزا حیدروغلات کاشغری کے دور تک جاری رہا۔ کہتے ہیں کہ ان سلاطین نے دکن کی کرناٹکی موسیقی کے بڑے بڑے گائیکوں کو بُلا کر اپنے دربار میں شامل کیا۔ ان سلاطین کے بعد یوسف شاہ چک (عہد اکبری کا حکمران) کا ذکر ملتا ہے جو خود بھی موسیقی کا رسیا تھا اور علم موسیقی کا گہرا وقوف رکھتا تھا۔ اس کی ملکہ حبّہ خاتون جو کشمیری کلاسک شعر و ادب کا بڑا نام ہے، شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوش گلو مغنیہ بھی تھیں۔ حبہ خاتون نے کشمیری کلاسیکی موسیقی میں ایک راگ ’’مقامِ راست کشمیری ‘‘بھی ایجاد کیا۔ کشمیری کلاسیکی موسیقی میں اس سے پہلے اس نام کے راگ کا ذکر نہیں ملتا۔ البتہ احمداللہ پنجابی نے اپنی تصنیف میں ’’مقام راستِ فارسی‘‘ کے نام سے ایک راگ کا ذکر کیاتھا۔ کشمیری شعر و سخن اور کشمیری کلاسیکی موسیقی میں حبہ خاتون کا نام اولیت کا حامل ہے۔ ان کے حالات ِ زندگی میں بڑے نشیب و فراز رہے۔ ان کی زندگی کا سفر کھیتوں میں کام کرنے سے شروع ہوتاہے اور بادشاہ کی ملکہ بننے پرجا کر ختم ہوتاہے۔ کہاجاتا ہے کہ یہ ایک گنوار دیہاتی نوجوان کی بیوی تھی اور شعر و سخن کی دلدادہ تھی۔ جبکہ شوہر اور ساس ان کی مشق سخن کے مخالف تھے۔ ایک روز جب اپنے شوہر اور ساس کے مظالم سے تنگ آکر کھیتوں میں کام کرتے ہوئے اپنا کہا ہوا گیت الاپ رہی تھی وہاں سے کشمیر کے بادشاہ یوسف شاہ چک کا گزر ہوا جو ان کے حسن و جمال اور آواز کے سوزو درد سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ ان کے شوہر سے طلاق دلوا کر اپنے نکاح میں لے لیا۔ بعد میں جب یوسف شاہ کوچک کو مغلوں نے شکست دے کر گرفتار کر کے بہار میں قید کرلیا تو حبہ خاتون اپنے محل سے نکل کر تارکِ دنیا ہوگئیں اور اپنے خاوند کے فراق میں گیت الاپتی رہیں۔ ان کے گیتوں میں بھی ایک صوفیانہ فکر کارفرما تھی۔ جب مغلیہ سلطنت نے کشمیر کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو فن موسیقی میں ترقی کی رفتا ر مدھم پڑگئی اور ایک جمود سا نظر آنے لگا۔ اس کے بعد گویا کشمیر کی موسیقی میں ایک تاریک باب کی ابتداء ہوتی گئی۔ انگریزوں کے تسلط کے بعد پوری ریاست جب چند سکوں کے عوض بیچ دی گئی تو حکمران گلاب سنگھ، ڈوگر خاندان میں مہاراجہ پرتاب سنگھ نے موسیقی کی سرپرستی کی روایت کو دوبارہ سے زندہ کیااور بہت سے موسیقاروں کو اپنے دربار سے منسلک کرلیا۔ ۱۹۴۷؁ء  کے بعد جب ریڈیو کشمیر کی بنیاد پڑی تو کشمیری لوک سنگیت کے ساتھ ساتھ کشمیر کی کلاسیکی موسیقی بھی ریڈیو پر نشر ہونے لگی۔ اس طرح کشمیری کلاسیکی موسیقی صاحب ِ ذوق رئیسوں کے درباروں سے نکل کر گھروں تک پہنچ گئی۔

کشمیری کلاسیکی موسیقی ہندوستانی کلاسیکی کے انداز گائیکی سے بہت مختلف ہے۔ اس میں سروں اور نغموں کا حسن رنگا رنگ پھولوں کے گلدستے کی مانند نظر آتا ہے جس میں ایرانی، تورانی اور ہندی موسیقی کا حسین امتزاج ہے۔ کشمیر کی صوفیانہ موسیقی صوت و کلام کا اثر آفریں مجموعہ ہے۔ جب صوت، آہنگ اور ساز میں کلام شامل ہوتاہے تو اس کی اثرآفرینی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ گائیکی میں اس کا انداز مرکب شکل میں ہوتا ہے۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں ایک گائیک کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے اور وہ اکیلا اس فن کو تشکیل دیتا ہے۔ جبکہ کشمیری کلاسیکی موسیقی میں تین سے چار گائیک مل کر نہ صرف گاتے ہیں بلکہ خود ساز بھی بجاتے ہیں۔ ایک نیم قوس کی شکل میں بیٹھ کر اپنے اپنے سازوں پر راگ کی شکل بجا کر ہلکا سا الاپ لیتے ہیں اور پھر بیت گانا شروع کر دیتے ہیں۔ کشمیری کلاسیکی موسیقی میں گانے کا یہ طریقہ نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ آج بھی اس صنف کا انداز ِ گائیکی ایسا ہی ہے۔ اس صنفِ موسیقی کے اندازِ گائیکی میںمندرجہ ذیل اجزا کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔

A Sufiyana Group | Kashmir Life۱۔ مقام: ہندوستانی موسیقی میں اسے راگ کہتے ہیں کشمیری کلاسیکی موسیقی میں اسے مقام کہا جاتاہے۔ مغنی گائیکی کے آغاز ہی سے راگ کے روپ سروپ کو سامنے رکھتا ہے۔

۲۔ شکل: شکل ایک طرح کا الاپ ہوتا ہے۔ جس میں مقام کی شکل و صورت سازوں کے ذریعے بتائی جاتی ہے۔

۳۔ بیت: وہ منظوم کلام یا اشعار جو کشمیری کلاسیکی موسیقی میں موسیقار مل کر گاتے ہیں۔

۴۔ وصول: یہ ایک ضربی ساز ہوتاہے۔ جو کشمیری صوفیانہ موسیقی میں استعمال ہوتاہے۔

۵۔ بازگشت: بازگشت کسی بیت کا ٹکڑا یا پورابیت دہرانے کو کہتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے کلام میں مخصوص مصرعے کی تکرار ہوتی ہے۔ جس سے موسیقار سامعین پر وجدانی کیفیت طاری کرتے ہیں اور ان سے دادِ فن وصول کرتے ہیں۔ کشمیری صوفیانہ موسیقی میں یہ لمحہ بڑا دلکش اور اثر پزیرہوتا ہے۔ جب موسیقار پوری تیاری کے ساتھ صوفیانہ موج میں آکر مصرعے کی تکرار کرتاہے تو وجد وکیف کا منظر پیش ہونے لگتا ہے۔ سامعین داد و تحسین دیتے رہتے ہیں اور جھوم جھوم کر ’’اللہ ھو‘‘ کا ورد کرتے رہتے ہیں۔

۶۔ تال: کشمیری کلاسیکی موسیقی میں بیت کے ساتھ تال خود بخوداپنی شکل و صورت کا تعین کرتی ہے۔ بیت کے بعد موسیقار اپنے اپنے سازوں پر بیت کے مصرع اول کی دھن کو دھراتے رہتے ہیں۔  کشمیرکی صوفیانہ موسیقی کے موسیقار خود ہی اس کے سازندے اور خود ہی گائیک ہوا کرتے ہیں۔ تاہم صوفیانہ موسیقی میں جو معروف ناموں کا ذکر ملتا ہے ان میں رمضان جُو، محمد صدیق، غلام محمد قالین باف، امیرجُو، محمد عبداللہ تبت بقال، محمد سلطان بٹ، محمد سلطان میر، غلام نبی بٹ،  پیر نظام الدین، کمال بٹ، وغیرہ شامل ہیں۔ ان ناموں کے علاوہ حافظ سخی اور حافظ محمد امین گنجو، محمد اکرم خان اور عبدالسلام بھی معروف موسیقار تھے۔ حافظ محمد امین تال کی خوب جانکاری رکھتے تھے اور لے اور تال کی پکڑ بڑی مضبوط تھی۔ محمد اکرم خان کا انداز گائیکی بڑا منفرد تھا۔ وہ دوران گائیکی میں چشم و ابرو، ہونٹوں اور جبین کوآواز کے اتار چڑھائو کے ساتھ ساتھ حرکت دیتے رہتے تھے۔ عبدالسلام کی آواز مدھر تھی۔ آپ نے تان سین کے شاگر داللہ بخش کلاونت سے موسیقی کی تربیت لی تھی۔ اس لیے راگ داری پر گہرا وقوف رکھتے تھے۔
کشمیری صوفیانہ موسیقی کے سازوں میں کشمیری سارنگی، اکتارہ، سنتور، مرلی، دف اور پکھاوج کا ذکر ملتاہے۔ کشمیری کی صوفیانہ موسیقی کی گائیکی عموماً راگ رام کلی، بلاول، ٹوڈی، جھنجوٹی، سارنگ، تلنگ، بہاگ، للت، ملہار، بھیرویں، کھماج، کانڑا، نٹ کلیان اور سورٹھ وغیرہ پر مشتمل ہے۔

Here's How Kashmiri Teenage Girls Are Helping Preserve Traditional Sufi Musicکشمیری کلاسیکی موسیقی سے متعلق جن قلمی نسخوں اور کتابوں کا ذکر ملتا ہے ان میں چند کے نام ذیل میں دیئے جاتے ہیں۔

۱۔ نغماتِ اہل ہند از بخشی دیا رام
۲۔ کرامت مجرا از صمد ملک کشمیری
۳۔ رسالہ موسیقی ٔ (کلیاں ساگر) از کلیان رائے
۴۔ موسیقی کشمیر و فارسی از محمد شفیع بچھ
۵۔ کتاب موسیقی از بدرالدین
۶۔ ہماری موسیقی از سید قیصر قلندر

چونکہ کشمیر کی صوفیانہ موسیقی پر قدیم ایرانی موسیقی کے گہرے اثرات ہیں اس لیے ڈاکٹر روح اللہ خالقی نے کشمیر کو ایرانِ صغیر قرار دیااور ریڈیو کشمیر کو اپنا انٹرویو دیتے ہوئے کشمیری کلاسیکی موسیقی کے حوالے سے کہا کہ قدیم موسیقی ایران کے ہاتھوں سے نکل گئی تھی جس کی اصل صورت کشمیر میں موجود ہے۔ کشمیرکی کلاسیکی موسیقی میں ابھی بھی موسیقی کے اصول و ضوابط کی پابندی نظر آتی ہے جب ایران کا موسیقار مغربی موسیقی کے اثرات کی وجہ سے سیکولر ہوگیا ہے۔ جب کہ ایک وقت تھا جب ان کے گائک بھی دستوری موسیقی کے پابند تھے۔ کشمیری صوفیانہ موسیقی مختلف شاعروں کے کلام کا گلدستہ ہے۔ جس میں فارسی و کشمیری کے علاوہ اردو، ہندی اور پنجابی زبانوں کے صوفیانہ اشعار مختلف راگوں اور تالوں میں بڑے شوق و ذوق سے گائے جاتے ہیں۔ کتاب ’’اصلی موسیقی ‘‘ کے مصنف احمد اللہ پنجابی نے ۱۶۳ فارسی و کشمیری اشعارمقام بہاگ میں درج کیے ہیںجن میں رسول میر، حافظ شیرازی، محمود گامی، فیضی اور خسرو جیسے شعرا کی غزلیں بھی شامل ہیں۔ کچھ اشعار کا نمونے کے طور پر ذیل میں ذکر کیا جاتاہے۔

مقام ِبھیرویں میں یہ بیت ملاحظہ کریں:

لیلیٰ لیلیٰ کرتا پھرے مجنوں، آپ ہی لیلیٰ ہورہا مجنوں آپ ہی شیشہ، آپ ہی پیالہ، آپ ہی ساقی ہورہا مجنوں
مقامِ دیوگندھار میں بطور نمونہ بیت ملاحظہ کریں: آج دلبر کو خواب میں دیکھا، نورِ حق کا حجاب میں دیکھا آپ کو سوخت غیر کو لذت، یہ تماشا کباب میں دیکھا

مقامِ ٹوڈی میں بیت ملاحظہ کریں: مہرباں ہوجائیں گے درد ِ جگر ہونے تو دو خود چلے آئیں گے نالوں میں اثر ہونے تو دو
مقامِ تلنگ میں بیت ملاحظہ کریں: داتا لنگاں دے سانوں پار، ملنا یار، یار نوں ندی ندی ڈھونڈاں ناجی، تھلہ ویرانہ آئوں میاں
ان بیتوں کی گائیکی میں کشمیری لب لہجہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ یعنی اصل لفظ کا تلفظ بگڑا ہوا نظر آتا ہے۔ کشمیری کی یہ کلاسیکی موسیقی جسے صوفیانہ موسیقی کے نام سے پکارا جاتاہے۔ اپنے اندر بے پناہ معنویت اور طہارت و تقدس رکھتی ہے۔ اسے سننے کے بعد واقعی موسیقی روح کی غذا معلوم ہوتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20