شناخت کا بحران: پاکستانی ثقافت کس پنچھی کا نام ہے؟

0

عوام ہو ،حکومت ہو یا ہمارا دانشور طبقہ ہو اس سوال پر ہم میں سے ہر کوئی آنکھیں جھپکنا شروع ہو جاتا ہے اور چہرے پر تذبذب کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں.

1968 میں حکومت پاکستان نے فیض احمد فیض کی سربراہی میں  قومی ثقافتی موضوع پر آرٹ اینڈ کلچر پر سٹینڈنگ کمیٹی تشکیل دی ،ملک بھر سے چوٹی کے دانشور ،مصنف اور مصور اس کمیٹی میں شامل تھے.اس کمیٹی نے بشمول مشرقی پاکستان کے شہروں ڈھاکہ ،چٹاگانگ ،کھلنا اور راج شاہی سمیت پورے پاکستان کے مخلتف شہروں میں  74 میٹنگز کیں.تین سو سے زائد افراد اور تینتیس اداروں  کے انٹرویوز کئے گئے. فیض رپورٹ اس نتیجہ پر پہنچی کہ پاکستانی ثقافت چند افراد  نے تشکیل نہیں دی بلکہ یہ پورا معاشرہ اسکے ارتقاء کا سبب ہے. بد قسمتی سے فیض رپورٹ کبھی باضابطہ طور پر سامنے نہیں لائی گئی اور نہ ہی کسی سرکاری دفتر میں اسکا کوئی  ریکارڈ موجود ہے. ہر دور کی نظریہءضرورت. اور مقاصد کی بنیاد پر وجود میں آنے والی حکومتوں کے لئے بھی کبھی بھی اس قومی وراثتی معاملے میں کوئ کشش پیدا نہ ہو سکی. اسلامائزیشن کے آمرانہ جنون کے دوران جنرل ضیاء کے پاکستانی ثقافتی پالیسیوں کے بارے صدارتی فرمان بھی وزارتوں میں موجود مفلوج بیورو کریسی کی پہلو تہی کے نظر ہو گئے.

آج پاکستان کے ہر شہر راولپنڈی ،لاہور ،ملتان ،پشاور،کوئٹہ اور کراچی میں آرٹ کونسلز قائم ہیں اور قومی سطح پر ادارہءثقافت پاکستان بھی قائم ہے.

مگر یہ سوال آج بھی الجھا ہوا اور ابہام کا شکار جواب طلب ہے . جس نے ہمیں اس لحاظ سے ایک ذہنی مریض معاشرہ بنا دیا ہے کہ جسکی کوئی واضح تعریف ہے  اور نہ ہی کوئی شناخت رہی ہے.

ہم اپنی شناخت اور ثقافت کی تعریف اور اسکو برقرار رکھنے میں سخت مشکلات سے دوچار ہیں.ہم مضطرب ہیں کہ  کیا ہم 70 سال کے ہیں ،کیا ہم پانچ ہزار سال کے ہیں یا ہماری تاریخ محمد بن قاسم کی سندھ کی فتح سے شروع ہوتی ہے  ؟یا اسکا تعلق پانچ ہزار سال پہلے کی قدیم ترین تہذیبوں کے گہوارے وادئ سندھ کے ساتھ ہے.

ہر قوم کا ایک تشخص ہوتا ہے. پاکستان کے تشخص کے دو ستون ہیں ایک اسکی سماجیات ہے اور دوسرا اسکی نظریاتی اساس جس کے مطابق اسلام ہماری نظریاتی اساس ہے اور ہمارا جغرافیہ ،لوک روایت ،مقامی رسم و رواج ،مقامی زبانیں ،آرکیالوجی اور علم النسل ہمارے ارتقائی سماجی پہلو ہیں. اس طرح یہ دو الگ انداز فکر بھی ہیں.

اب تک یہی نظریاتی وابستگی کی حامل سوچ ہمارے معاشرے پر حاوی رہی ہے اور یہ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں پر بہت زیادہ زور دیتی ہے.جس سے ہماری اسلامی بنیادوں ،قرآن ،فقہ ،سنت اور حدیث کی بنیادوں پر ریاستی نظام اور ہماری روحانیت کو نما یاں حیثیت ملتی ہے.اور بطور قوم ہمیں ایک سیاسی تشخص political nationalism اور سیاسی فلسفے کی وضاحت مہیا کر تی ہے.

دوسری جانب ہمارا سیکولر مغربی بصیرت کا حامل آزاد خیال طبقہ معاشرتی ارتقاء پر زور دیتا ہے.اول الذکر کے بر عکس پاکستان کے کثیر النسلی ولسانی ورثے اور علاقائی ثقافت پر زور دیتا ہے.یہ انداز فکر ہماری نسلی اور جفرافیائی تشخص cultural nationalism پر زور دیتا ہے.

المیہ ہے مزید بد قسمتی یہ ہی ہے کہ ہم ان دو متضاد افکار اور رویوں میں تاحال کوئی اتفاق رائے نہیں پیدا کر سکے. جو ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے میں ہماری کوئی مدد کر سکے..

کیا ہم مختلف طبقات کا ایک ہجوم ہیں ؟

کیا پاکستان ایک جغرافیائی قومی ملک ہے ؟یا یہ ایک اسلامی وحدت ہے ؟

“شناخت کے اس انتہائی بنیادی مسئلے پر اختلاف رائے اور اسکے منفی اور تخریبی نتائج پاکستان کی طرز حکومت اور معاشرے کی امتیازی خصوصیات بنتی جارہی ہے.”جس کا ملک دشمن عناصر بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں.

اسلام ہماری نظریاتی اساس اور عقیدہ ہے اور وادی ءسندھ سماجی اور ثقافتی ورثہ ہے.”زمینی حقیقت” کے پیش نظر جب ان دونوں عناصر میں سے کسی ایک سے بھی دستبردار ہونا ممکن  نہیں تو پھر پاکستانی سماجیات یعنی sociology بمقابلہ نظریہ پاکستان یعنی ideology ایک خام قضیہ ہے.یہ ایک ناقص اور بے بنیاد flawed controversy  ہے.

اگر پاکستانی قبول عام سماجیات اور نظریہ پاکستان کوئی باہمی متصادم عناصر نہیں ہیں تو ہمیں دونوں کو قبول کرنا چاہیئے. اس سے قومی تشخص کاسوال سماجیات اور نظریہ پاکستان میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کا معاملہ تو ہو سکتا ہے مگر باہمی تردید کا ہر گز نہیں.اور ایک متحد سوچ کیلیئے پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے.

ہماری اشرافیہ اور حلقہءاقتدار کا ایک مسئلہ یہ رہا ہے کہ ایک انداز فکر سے نظریہء ضرورت و مقاصد کے تحت دوسرے انداز فکر کی توثیق اور بسا اوقات دباؤ کے تحت تبدیلی کی مشق دہراتے آئے ہیں.جبکہ اسکے برعکس پاکستان کی خاموش عوام بہت سادگی اور خلوص سے دونوں پر عمل کر کے زندگی گزرارہے ہیں. ایک دیہاتی پنجابی ، سندھی  اور قبائلی بلوچ کو تشخص کا کوئی معاملہ درپیش نہیں ھے وہ کٹر مسلمان بھی ہے اور روایتی بلوچ بھی. ہر پاکستانی اگر علاقائی ثقافتوں اور قبائلی رسموں پر عمل کرتا ہے تو وہ نماز ،روزہ ،زکوة ،حج ،عاشورہ کا روزہ و احترام اور عیدین بھی اسی جوش و جذبہ سے ادا کرتاہے. وہ کسی الجھاؤ کا شکار نہیں ہے. اسے علم ہے کہ ترجیح کیا ہے اور اس پر عمل کیسے کرنا ہے.شناختی اور ثقافتی مسئلے کا سبب یہ پاکستانی  نہیں ہے اس بے چارے کے پاس. اسلام اور پاکستان کے سوا اور یے ہی کیا. 

مسئلہ اس دستار اور ایلیٹ کلاس کا ہے جو اسکی پہلے سے قائم شدہ اور جھٹلائی نہ جانے والی شناخت چھیننے کے درپے ہیں. جو اسکی احیاء کے بجائے اسے مسخ کرنا چاہتے ہیں. یہ ہے اصل بد دیانتی پر مبنی دانستہ  پیدا کردہ شناختی بحران.

مذہب کے سوداگر اور ضمیر فروش سیاستدان نے ہمیشہ ایسے معاشرتی نفسیاتی معاملات کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے. اکثر انکا اسلام کا پر جوش اور جوشیلا نفاذ ایک فریب سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا. اسلام اور مرکزیت و قومیت کے جھوٹے دعوے اور اس کی حساسیت اور اسکو لاحق خطرات کے پرچار کی ضرورت حکمرانوں اور حکمران طبقات کی اپنی خیانت  ،نالائقی ،اپنے ہاتھوں سے قومی اداروں کی تباہی اور محکموں سے بے خبری کی وجہ سے پڑتی ہے. اکثر اوقات ایسے اقدامات مذہب اور قوم پرستی کے نام پر طاقت کو مرتکز کرنے کے سیاسی حربے ہوتے ہیں. یہ بات پاکستانیوں کو اب سمجھ آ جانی چاہئے.

آج کا مغربی تعلیم یافتہ اور ترقی پسند نوجوان ضرور ان باتوں پر معترض ہو گا اور سوچ رہا ہو گا جس نے معاشرے میں آج شاید بدقسمتی سے جھوٹ، ریاکاری ،کرپشن. ،بے راہ روی  ،ملاوٹ. ،ظلم و تشدد،لاقانونیت. ،فرقہ واریت  ،انتہاپسندی اور نا انصافی کی ہی ثقافت دیکھی ہو گی اور یہ ہی اپنی پہچان سمجھتا ہو گا.جو درحقیقت ثقافت نہیں کوڑھ کی کاشت سے ابھرنے والی کثافت ہے.
اور اسکا یہ کہنا قطعآ غلط نہ ہو گا کہ آج مغربی تہذیب کا زمانہ ہے ،انٹرنیٹ اور سکائی ٹی وی  کا دور ہے ،گلوبلائیزیشن کی یلغار ہے جوکسی سمندری طوفان کی طرح چھوٹے ملکوں کے معاشروں اور تیسری دنیا کی ثقافتوں کو مٹاتا چلا جا رہا ہے .
اس ثقافتی یلغار کے سامنے کون کھڑا ہو سکتا ہے ؟

کہنا چاہوں گا کہ حضور تو پھر کیا ہمیں تنکے کی مانند اس طوفان میں بہہ جانا چاہیئے ؟

عرض یہ ہے کہ جناب آپ بھلے نک ٹائ لگائیں ،تھری پیس پہنیں،انگریزی نہیں فرنچ بولیں .کوئ اعتراض نہیں.یہ تو خوبیاں ہیں اور انکی داد بھی بنتی ہے. صحت مند تبادلے تو ثقافتی روابط ہیں. جسکی ہر ترقی پسند معاشرے کو ضرورت ہے.لیکن اعتراض ثقافتی تسلط پر ہے cultural colonialism پر نہ کہ cultural exchage پر.

تو صاحب چونکہ تاج برطانیہ سے ہم نے اپنی شناخت کا مقدمہ لڑ لیا ہے اور اسکو رد کر چکے ہیں تو ہمیں سانولا انگریز بنانے کی سعی لا حاصل نہ کیجئے اور  نہ ہی  آپ  ہمیں زبردستی عربی جبہ پہنائیے.

کہ اسلام تو موہنجوداڑو کو روشن کرنے اور اس کے تحفظ کیلیئے آیا تھا اور آپ نے اسے سیاسی بیساکھی بنا لیا ہے. پاکستان یقینآ اسلامی ہے لیکن اسلام پاکستان نہیں.
ہمیں لازمآ مذکورہ بالا دو نوں انداز فکر کی حدود کو سمجھنا ہو گا اور انکے فرق کا تعین کرنا ہو گا.
اسلام ایک عالمگیریت کا نام ھے. اپنے ظہور کے بعد عرب خطے سے نکل کر اسلام نے روما اور فارس جیسی بڑی تہذیبوں کو اپنے آغوش میں لیا.اسلام ایک ضابطہ ھے ایک نظام حیات ہے.ایک ثقافت نہیں ورنہ عربوں میں دف پر مرثیہ کا گایا جانا،تلوار کے ساتھ رقص، اونٹوں کی دوڑ اور جنادریہ کے سالانہ میلے وغیرہ کہیں سے مشروع تو نہیں.ثقافت folklores کا نام ھے .اس لوک ورثہ کی بقا ہی ہماری شناخت ہے.
ہم کاغان کو نہ جانے کیوں سوئیٹزلینڈ کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں.کیسے ہم نے سمجھ لیا ہے کہ ہماری لوک داستانیں ،لوک کھیل کبڈی ،نیزہ بازی ،بیلوں کی دوڑیں ،مقامی باوقار اور دیدہ زیب لباس ،دستکاریاں،لوک ہنر،لوک رسم ورواج،موسمی تہوار بیساکھی،سبی  میلہ بسنت اور نوروز ،بلوچی اور سندھی کشیدہ کاری ،سندھ کی کشیدہ اور کندہ کشتیاں،سوات کے لکڑی کے کندہ دروازے،سندھی اجرک،کروڑ پکے کی بلاک چھپائ،ہاتھوں سے بنی چادریں،ڈیرہ غازی خان کے چرواہوں کے گیت ،لوک اکھان، چکوال کے بیلوں کے کراہ، پشاور کے چپل کباب اور رباب پر چھیڑی گئ  داستانیں ہماری مادی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں یا ہمیں اسلام سے دور کر سکتی ہیں.آج ہم بحثیت قوم جس شکست و ریخت سے گزر رہے ہیں اس میں معاشرے کے یہ لطیف پہلو اور لوک روایات اور ثقافتی سرگرمیاں ہمیں ایک اجتماعی زندگی کے شعور اور اتحاد میں ضرور مدد دے سکتی ہیں. انکی خصوصیات یہ کہ یہ عمومی ہیں اور نسل درنسل منتقل ہونے والی روایات ہیں جو عوام کے رجحانات کی آئینہ دار ہیں. ہماری شناخت ہیں.یہ ہی ہمارا من چاہا چار موسموں کا رنگین پاکستان ہے.
دانشور طبقے اور حکومتی ثقافتی اداروں کیلیئے شائد یہ ان پڑھ پاکستانی ٹرک ڈرائیور ایک بہتر مثال ہو گی جو  زیادہ ثفافت پسند یوں .ثابت ہوا ہےکہ اس نے مغرب کے بنے ٹرک کو پہلے پاکستانی کیا پھر اپنا یا.
گزارش ہے
ترچھا ہیٹ پہنیں یا لمبی قبا پہنیں
عربی بولیں یا انگریزی 
دل تو پاکستانی رکھیں
دھڑکن تو وطن کے لئے ہو
سوچ فرنگی نہ ہو
نکتہ نگاہ تو بیگانہ نہ ہو.

پاکستانی ثقافت کس پنچھی کا نام ہے؟

کے مکمل جواب کے لئے عکسی مفتی صاحب کی کتاب “پاکستانی ثقافت “سے بہتر جواب کوئی نہیں محسوس ہوا.

اللہ ہمیں 23 مارچ والا حقیقی پاکستان نصیب کر ے. 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: