راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 20) —- یاسر رضا آصف

0

میں ایگل نیسٹ کے مقام پر کھڑا تھا۔ بارش کے بعد وادی دُھل چکی تھی۔ سبزے کی چمک جیسے بڑھ گئی تھی۔ حسین منظر مزید دلکش لگ رہا تھا لیکن میری شکستگی اور وادی کا حُسن دونوں آپس میں گتھم گتھا ہو رہے تھے۔ میری سوچ مجھے دلدلی علاقے میں لیے پھرتی تھی۔ میں مسلسل شکستگی اور ٹوٹ پھوٹ کی دلدل میں دھنستا جارہا تھا۔ رائیگانی کا احساس میرے رگ و پے میں چنگاریوں کی طرح سرایت کر گیا تھا۔ میں خود کو بے بس سمجھ رہا تھا۔ ایسا انسان جسے سفر سے سوائے لاحاصل کے اور کچھ حاصل نہیں ہُوا۔

میں نے منظر سے اپنی نگاہ ہٹائی اور پشت پر موجود دوستوں کی باتوں پر کان دھر دیے۔ وہ سبھی سطحی گفتگو کررہے تھے۔ موسم، سبزہ زار اور پہاڑ ان کی گفتگو کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ مجھے سوچوں نے پھر جکڑ لیا۔ منظر دھندلا پڑ گیا اور میں ایک بار پھر پہاڑوں سے سرکتا ہوا ماضی کے نشیب میں جا پہنچا۔ میں نے سر کو جھٹکا اور لمحۂ موجود میں آگیا۔ میں نے دوبارہ منظر پر نگاہ جمادی اور سرسبز وادی کو دیکھنے لگا۔ میں نے اپنی قوت سے ماضی سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ تلاش کرلیا تھا۔ ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ ایک پل کے لیے ہی سہی نمودار ضرور ہوئی مگر پھر وہی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی۔

نگاہ تھوڑی دیر کے لیے سامنے کے منظر پر مرکوز ہوتی پھر دھند لانے لگتی۔ ذہن انجانی کشش کے تحت پھر کسی سمت دوڑنے لگتا۔ میں نے اضطرابی کیفیت سے نجات کے لیے پیکٹ کھولا اور بدستور منظر پر نظر جمائے ہوئے غائب دماغی کی حالت میں سگریٹ کو ہونٹوں میں پھنسا لیا۔ میری نگاہ ابھی تک سامنے وادی کے اتار چڑھائو میں کھوئی ہوئی تھی۔ میں ذہن کو شانت کرنے کے چکر میں تھا۔ کامیابی چند لمحوں کے لیے دور پار جلنے والی آگ کی طرح اپنی چھب دکھاتی اور پھر ہوا کے جھونکوں کے باعث بجھ جاتی۔

میں نے جیب سے لائٹر نکالا اور سگریٹ سلگانے کے لیے اس کے بٹن پر انگوٹھے کا دبائو ڈالنے لگا۔ اس سے پہلے کہ میں سگریٹ کو شعلہ دکھاتا سمیر نے لپک کر سگریٹ میرے ہونٹوں سے کھینچ لی۔ میں اس اچانک حملے سے چونک گیااور شعلہ بار نظروں سے سمیر کی طرف دیکھا جو میرے بائیں جانب کھڑا تھا۔ میں نے اس کے چہرے پر شرارت کے آثار تلاش کرنے کی کوشش کی مگر وہاں سنجیدگی تھی۔ سمیر نے اپنی انگلیوں میں پکڑی سگریٹ میرے سامنے کردی۔ میری ایک دم سے ہنسی نکل گئی۔ اگر میرے مُنھ میں پانی بھرا ہوتا تو سمیر کا چہرہ لازمی بھیگ جاتا۔ میں نے سگریٹ اس کے ہاتھ سے لی اور سیدھے طریقے سے ہونٹوں میں دبالی۔ پہلا کش لینے کے بعد سمیر مجھے کنکھیوں سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے اپنی حماقت پر سے توجہ ہٹانے کے لیے وادی کی خوبصورتی اور دلکشی کا موضوع چھیڑ دیا۔ یوں غائب دماغی کی میری یہ حرکت آئی گئی ہو گئی۔

میں برف پوش پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ ہزاروں سالوں سے اسی طرح ایستادہ ہیں۔ میں نے انھیں ـ’’قلعے کے محافظ‘‘ کا خطاب دیا۔ برف پوش پہاڑوں کے نوکیلے حصے درانتیوں سے بھی تیز لگ رہے تھے۔ میں نے جس مقام کو پسند کیا وہاں سگریٹ سلگانا اپنا عین فرض خیال کیا۔ کوچ کا نقارہ بجا اور سبھی دوست سامان سمیٹنے میں جُت گئے۔ بلوائیوں کی طرح جس کے ہاتھ جو لگا وہ اٹھا کر اترائی پر بھاگنے لگا۔ میں نے اپنی ازلی سستی کے باعث اور آرام دہ طبیعت کی وجہ سے چھوٹا سابرتن بغل میں دبا لیا تاکہ اعتراض سے محفوظ رہ سکوں۔

زندگی میں کئی کام انسان فقط اس لیے کرتا ہے کہ دوستوں کی نظروں اور باتوں سے محفوظ رہ سکے۔ وہ کام کو بطور ڈھال استعمال کرتا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے کرنے والے کاموں سے چور سوچ پروان چڑھنے لگتی ہے۔ میں بغل میں ایک عدد دیگچی دبائے اور ہاتھ میں پوّا لہراتا ہوا فہیم اور فیاض کے پاس سے گزرا۔ فہیم نے مجھے روکا نہیں اور نہ ہی کوئی اعتراض کیا۔ اس نے فیاض کو تیز آواز میں پکارا۔ آواز کافی بلند تھی اور لہجہ تیکھا تھاحالاں کہ وہ قریب ہی کھڑا تھا۔ فیاض کو شاید یہ حکمیہ اندا ز لگا، یا وہ اس سب کا عادی نہیں تھا۔ وہ ایک د م سے ایسے بھڑک اٹھا جیسے کسی نے تیزاب کے قطرے اس کی آنکھوں میں ٹپکا دیے ہوں۔ وہ اونچی آواز میں چلاتے ہوئے مزاحمت کرنے لگا۔ فہیم شاید اس طرح کے ردِعمل کی توقع نہیں رکھتا تھا۔ وہ غصے سے فیاض کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اسلام نے بڑی بوڑھیوں کا کردار ادا کرتے ہوئے معاملے کو رفع دفع کردیا۔ میں پوّے سے تلوار بازی کرتا ہوا نیچے اترنے لگا۔ فیاض کی بڑبڑاہٹ میرے کانوں میں مسلسل چھید کررہی تھی۔ میں ڈھلوان پر رک گیا۔ فیاض آتش فشاں پہاڑ سے پھسلنے والے آتشی تودے کی صورت میں میرے قریب سے گزر گیا۔ میں نے اترائی کے پانچ سات قدم ہی طے کیے تھے۔ میں دوبارہ چڑھنے لگا۔ میں اترنے سے پہلے ایگل نیسٹ کے پتھریلے سوراخوں کو جی بھر کر دیکھنا چاہتا تھا۔ میں کنارے پر آگیا۔ اسلام اور فہیم مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ میں ایک طرف ہوا اور ان کے کے لیے رستہ چھوڑ دیا۔ اسلام نے الوداعی نگاہ ڈالی اور مجھے جلدی آنے کا کہہ کر نیچے اتر گیا۔

اب میں تھا اور عقابوں کے متروک شدہ گھونسلے تھے۔ ہمارے درمیان کوئی نہیں تھا۔ میں نے پتھریلے گھونسلوں میں گردن ٹیڑھی کرکے جھانکنا شروع کردیا اور اپنی تصور کی آنکھ سے انھیں دیکھنے لگا۔ پتھریلے سوراخوں کے مٹیالے اور مدھم رنگوں کے درمیان چمکتے ہوئے سفید انڈے دکھائی دینے لگے۔ میں انگلی کے اشارے سے بائیں ہاتھ کو لہراتے ہوئے انھیں گننے لگا۔ وہ سپیوں میں پڑے موتیوں جیسی چمک لیے تھے۔ میں مسکرایا اور انڈوں کی قطاریں وہیں چھوڑ کر نیچے اتر آیا۔

گاڑی سرسبز لان میں موجود تھی۔ پر حیرت کی بات یہ تھی کہ سبھی لوگ باہر کھڑے بحثا بحثی میں مصروف تھے۔ اسلام کا خیال یہ تھا کہ ایگل نیسٹ سے پیدل نیچے جایا جائے۔ راستے کے دونوں جانب آڑو اور خوبانی کے پیڑتھے۔ سڑک کسی پارک میں بنے کچے ٹریک جیسی تھی جس پر واک کرنے والے اپنی بڑی بڑی توندوں کو تھرکاتے ہوئے چلتے ہیں۔ بلال لڑکھڑاتا ہوا اور ایک ٹانگ کو گھسیٹتا ہوا وین کے دروازے میں بیٹھ گیا۔میں نے بحث کرنے والے ٹولے کو نظر انداز کیا اور بلال کے قریب ہو گیا۔ بلال نے بتایا کہ نیچے اترتے وقت پائوں ایک گول پتھر سے پھسل کر مڑ گیا ہے۔ اس کے چہرے پر درد کے آثار نمایاں تھے۔

اسلام فورًا ہمارے پاس آیا اور بلال کی طبیعت پوچھنے لگا۔ میں نے اسلام کو میڈیکل کٹ لانے کا کہا۔ میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہوں اور نہ ہی کبھی بن سکتا ہوں۔ چوں کہ خون سے لتھڑے زخم کو دیکھنا اور چھونا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ اسلام اور میں نے بلال کو سہارا دے کر گھاس کے نرم قالین پر بٹھا دیا۔ بوٹ اتارا گیا۔ جراب کو احتیاط کے ساتھ پائوں سے الگ کرنے کے بعد اسلام نے پائوں اور ٹانگ کے جوڑ کا معائنہ کیا۔ وہاں سوجن واضح تھی۔ ونٹو جینو ٹیوب لگائی گئی۔ بلال نے لجاجت کے باعث اسلام کا ہاتھ پرے کردیا اور خود اپنی ہتھیلی سے دھیرے دھیرے جوڑ پر مالش کرنے لگا۔ گرم پٹی قرینے سے لپیٹ کر بکسوا لگا دیا گیا۔ پانی کے ساتھ درد کی دو گولیاں نگلنے کے بعد بلال نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا کہ بھائی میں وین میں جائوں گا۔ مجھ سے چلا نہیں جائے گا۔ سب نے تائید میں سر ہلا دیا۔

میں نے موقع غنیمت جانا اور بلال کے ساتھ جانے کا اعلان کردیا۔ دراصل میں تھک گیا تھا اور آرام کرنا چاہتا تھا۔ میں نے بلال کا سہارا بننے کا ناٹک رچایا۔ میں ایک زخمی شخص کے پیچھے چھپ کر خود کو کچھ پل کے لیے سکون دینا چاہتا تھا۔ سبھی نے میری اس قربانی کو سراہا۔ ان سب کی آنکھوں میں میرے لیے دعائیں اور شکر گزاری تھی۔ میں نے بھی نیک سیرت انسان کی خوب اداکاری کی اور بلال کو سیٹ پر بیٹھنے میں مدد دی۔ میں بلال کو ٹانگ سیدھی رکھنے کا مشورہ دے کر خود بغل والی سیٹ پرڈھیر ہوگیا۔ میری آنکھیں بند ہوئی جاتی تھیں۔

وین موڑ مڑتے ہوئے اور مسلسل ڈولتے ہوئے نیچے ہی نیچے لڑھکتی جارہی تھی اور آرام میں خلل ڈال رہی تھی۔ جب موڑ زیادہ اچانک اور ڈھلوان زیادہ سیدھی ہوتی تو میں آنکھیں کھول کر ایک نظر ادھر ادھر دیکھ لیتا۔ ہم لوگ دروازے کے ساتھ ڈرائیور کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ آگے ٹانگیں پھیلائے سیٹ کی پشت پر سر رکھے تقریبًا نیم دراز سے پڑے تھے۔ یہ سلسلہ کافی وقت تک جاری رہا۔ جعفر احتیاط سے گاڑی کو سنبھالتے ہوئے دوڑاتا چلا گیا۔ بالآخر وین رک گئی۔ میں نے لیور کھینچا اور سیٹ کو لٹا دیا۔ آنکھیں بند کرکے خود کو نیند کے سپرد کردیا۔ گہری نیند کا تعلق وقت، جگہ اور بستر سے کبھی نہیں ہوتا۔ یہ ایک گردباد کی صورت آپ کو اپنی آغوش میں کہیں بھی جکڑ سکتی ہے۔ موسم خوشگوار تھا۔ کھڑکیوں کے شیشے کھول دیے گئے تھے اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے مجھے لگاتار تھپکیاں دے رہے تھے۔ میں کتنی دیر تک سوتا رہا اس کی مجھے کچھ خبر نہ تھی۔

اچانک سے میری آنکھ کھلی اور میں نے خود کو سیٹ پر دائیں جانب لڑھکا ہوا پایا۔ میرا بازو سیٹ سے نیچے تھا اور ہاتھ لیز کے خالی ریپر سے کھیل رہا تھا۔ سامنے ونڈ سکرین پر جعفر چھوٹے سے وائپر سے صفائی کرتے ہوئے دائرے بنا رہا تھا۔ میں نے موبائل پر وقت دیکھا۔ مجھے سوتے ہوئے گھنٹے سے اوپر ہوگیا تھا اور یہ محض میرا اندازہ تھا۔ چوںکہ میں نے سوتے سمے وقت نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی الارم لگا کر سویا تھا۔ اس لیے یہ صرف اندازہ تھا۔ اندازے ہمیشہ درست نہیں ہوتے۔ میں نے جعفر سے پوچھا کہ ہمیں یہاں ٹھہرے کتنا وقت ہو چکا ہے۔ اس نے مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ تقریبًا دو سے ڈھائی گھنٹے ہو گئے ہیں۔ میں اپنے غلط اندازے پر مسکرانے لگا۔ میں نے نگاہ دوڑائی۔ وین کا گیٹ کھلا ہوا تھا اور بائیں جانب بلال پتھر کی سل پر بیٹھا اپنے پیر کو سہلا رہا تھا۔ جعفر بدستور گاڑی کی صفائی میں مصروف تھا۔

وین ڈسپوزل گلاسوں، فروٹ کے چھلکوں، پھٹے شاپر وں اور طرح طرح کے خالی پیکٹوں سے اٹی پڑی تھی۔ میں نے پانی کی بوتل اٹھائی اور وین سے اترآیا۔ وین کے پاس ہی رکوع کی حالت میں چہرے پر پانی کے چھینٹے مارنے لگا۔ بلال ونٹو جینو کو پائوں کی جلد میں جذب کرنے میں لگا ہوا تھا۔ میں نے غرارے کیے اور دو چار گھونٹ حلق میں بھی انڈیل لیے۔ میں چھوٹے چھوٹے قدم رکھتا ہوا بلال کے پاس سِل پر جا کر بیٹھ گیا۔ بلال نے میری جانب دیکھا اور دوبارہ اپنے ہاتھ کو پائوں پر رگڑنے لگا۔ پھر وہ پائوں کو گول گول گھمانے لگا تا کہ جوڑ کی ورزش ہو سکے۔ میں نے غور کیا کہ سوجن کافی حد تک کم ہو گئی تھی اور بلال کے چہرے پر تنائو کا شائبہ تک نہ تھا۔ پھر بھی مجھے ہمدردی کے طور پر چوٹ کی حالت کے بارے پوچھنا تھا۔ میں نے بلال سے طرح طرح کے سوال شروع کردیے۔ بلال ان لوگوں میں سے ہے جو سال گرہ کا تحفہ دیتے وقت بھی تحفے کا برانڈ، ماڈل اور قیمت بتانا نہیں بھولتے۔ میرے سوالوں کے جوابات کے سلسلے میں ایک طویل کہانی میری منتظر تھی۔ اس نے تفصیل سے ایک ایک بات بتانا شروع کردی۔ بظاہر میں اس کی باتیں سن رہا تھا لیکن میری آنکھ جعفر کو میٹ جھاڑتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔

میں بیٹھا بلال کی درد بھری کتھا سنتا رہا اور ہوں ہاں کرتا رہا۔ جب مجھے لگا کہ میں اب مزید غیر دلچسپ باتیں نہیں سن سکتا تو میں نے بلال کو چہل قدمی کا مشورہ دیا۔ قائل کرنے کے لیے میں نے اپنے پاس سے ڈاکٹر کا حوالہ بھی جوڑ دیا۔ ایم فل کی ریسرچ میں ہمیں حوالے کی اہمیت کے متعلق تفصیلی لیکچر دیا گیا تھا۔ لہٰذا وہ لیکچر کام آیا اور بلال قائل ہو گیا۔ مجھے بھوک بھی لگی تھی اور بوریت بھی محسوس ہو رہی تھی۔ میں اکیلے چہل قدمی کرنا پسند نہیں کرتا۔ کسی کا ساتھ ہونا اشد ضروری خیال کرتا ہوں۔ تھوڑا سا اکیلا ہوا نہیں اور سوچوں کی فوجیں مجھ پر حملہ آور ہونے لگتی ہیں۔ کبھی سوچنا اچھا لگتا ہے لیکن کبھی بلاوجہ کی سوچ ذہن میں اُبال پیدا کردیتی ہے۔ لہجے کو درشت بنا دیتی ہے۔ بلال اوپر سے جتنا چتر اور چالاک ہے اندر سے اتنا ہی بھولا اور معصوم ہے۔ انسان اپنے اوپر ملمع چڑھائے رکھتاہے۔ شاید وہ خود کو دوسروں پر ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتا یا اپنا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے۔ بلال کو جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں وہ سمجھداری کی اداکاری کرتا ہے۔ معلومات کا ذخیرہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ میں نے ہاتھ تھام کر اسے اٹھانا چاہا مگر اس نے خود اٹھنے کا فیصلہ لیا اور مسکرا کر مجھے کہا ’’میں اب کافی بہتر ہوں‘‘۔ ہم دونوں دھیمی رفتار سے چلنا شروع ہو گئے۔

میں نے تب غور کیا کہ ہم اصل میں کہاں ہیں اور ہمیں کس طرف جانا ہے۔ ہماری وین پہاڑ کے پہلو میں خالی جگہ پر کھڑی تھی۔ یہ جگہ میدانی قطعے جیسی تھی۔ پہاڑی پر جڑی بوٹیاں اور جھاڑیوں کی شاخیں بے ترتیبی سے اُگی ہوئی تھیں۔ خود رو پودے اور سبز گھاس نے پہاڑی ڈھلوان کو تقریبًا ڈھکا ہوا تھا۔ وین کے بائیں جانب یعنی بالکل ہماری پشت پر چشمہ تھا۔ جس پر پلاسٹک کا پائپ لگا کر اسے ٹیوب ویل جیسی شکل دی گئی تھی۔ پائپ سے پانی رس رہا تھا۔ پائپ کے آگے چوکور کھاڈا نہیں تھابلکہ چھوٹے بڑے پتھروں کو جوڑ کر نیم گولائی کی شکل میں رکھا گیا تھا۔ وہی پانی کھال میں سے ہوتا ہوا نشیب کی طرف جارہا تھا۔ اس کے بہنے میں سرکاری نل کی طرح صبح شام والا معاملہ نہیں تھا بلکہ چشمے کا پانی مسلسل جاری تھا۔

میں نے نشیب کی طرف سفر کرتے پانی کے پیچھے جانے کا فیصلہ کیا۔ وین کی سیدھ میں پکی سڑک نیچے ڈھلوان کی طرف اتر رہی تھی۔ ہم نے قدم بڑھائے اور پکی سڑک کے سہارے نشیب میں اتر گئے۔ جیسے ہی ہم تھوڑا آگے بڑھے آبادی دکھائی دینے لگی۔ ہم چلتے رہے۔ مکانات کا سلسلہ شروع ہوا تو لوگوں کی چہل پہل بھی دکھائی دینے لگی۔ بیشتر مکان پتھروں کی بڑی بڑی سلوں سے بنے تھے۔ چھتیں خیمہ نما تھیں اور زیادہ تر رنگین تھیں۔

دیوار کے ساتھ سپورٹس سائیکلیں اور موٹر سائیکلیں قطاروں میں منظم طریقے سے کھڑی تھیں۔ گیٹ کھُلا ہوا تھا۔ فٹ بال کا میچ زور و شور سے جاری تھا۔ سیاہ اور سفید ٹی شرٹس پہنے لڑکے اُچھل اُچھل کراور دوڑ دوڑ کر کھیل رہے تھے۔ تماشائیوں کی ہو ہا اور جوش و جذبہ اُنھیں مزید بڑھاوا دے رہا تھا۔ کسی بھی قوم کی تندرستی کا راز کھیلوں کے میدانوں پر منحصر ہو تا ہے۔ جس علاقے کے کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں بیماری بھٹکنے کا نام بھی نہیں لیتی۔ ہم گیٹ کے پاس رُک گئے اور میچ دیکھنے لگے۔ سفید ٹی شرٹ اور نیکر میں ملبوس توانا لڑکا فٹ بال کو لے کر گول پوسٹ کی طرف بھاگ رہا تھا۔ وہ برابر فٹ بال کو پیروں کی ٹھوکر سے اپنے قبضے میں کیے ہوئے تھا۔ مخالف ٹیم کے لڑکے نے بال چھیننے کی کوشش کی تو دونوں کی ٹانگیں آپس میں ٹکرائیں، دھول اُڑی اور وہ لڑھکتے ہوئے دور جا گرے۔

طالب علمی کا زمانہ تھا اور کرکٹ کا جنون ہمارے سر پر ہر وقت سوار رہتا تھا۔ سردیوں کی دھند میں ہم لوگ صبح سویرے اُٹھتے اور اربن ایریا سکول کا رُخ کرلیتے۔ سکول کا وقت نو بجے ہوتا تو ہم آٹھ بجے تک گھر واپس آجاتے۔ اتوار کے روز کھیل دس گیارہ بجے تک جاری رہتا۔ ایاز ہماری ٹیم کا وکٹ کیپر تھا۔ اس کی پھُرتی اور چھلانگ مار کر گیند پکڑنے کی صلاحیت نے اسے یہ مقام دلوایا تھا۔ خرم بائولنگ کررہا تھا۔ میں سنگل پر کھڑا ٹیم کا حوصلہ بڑھا رہا تھا۔ میچ اپنے عروج پر تھا۔ خرم نے گیند پھینکی اور وہ بلے سے لگ کر ہوا میں اُچھلی۔گیند کافی اوپر چلی گئی۔ طارق کیچ کرنے کے لیے بھاگا۔ دوسری طرف سے ہمارا وکٹ کیپر ایاز بھی کیچ کے لیے لپکا۔

ایاز کا قد چھوٹا تھا مگر جسم پھُرتیلا تھا۔ وہ بھی مسلسل گیند پر نظر رکھے بھاگ رہا تھا۔ طارق اور ایاز ایک دم سے آپس میں ٹکرا گئے۔طارق کی کہنی ایاز کے ہونٹوں پر لگی اور خون کی دھاریں نکلنا شروع ہو گئیں۔ ہم نے اُسے ساتھ لیا اور مقامی ڈاکٹر کے کلینک پر پہنچ گئے۔ ایاز کے دانت اونچے تھے اور شروع دن سے ہم اُسے اُونچے دانتوں والا کہہ کر پکارتے تھے۔ ٹکر لگنے کی وجہ سے ایاز کے سامنے کے اوپر والے دانت جھول رہے تھے۔ خیر ڈاکٹر نے دانتوں کو برابر کرکے تار ڈال دی۔ اچانک لگنے والی چوٹ نے برسوں کی کجی کو خوبصورتی میں بدل دیا۔

میں نے بلال کو کہا کہ دیکھو یار یہ لوگ صحت مند سرگرمیاں اپناتے ہیں اور ہمارے ہاں بلیئرڈ اور کیرم بورڈ کو عمدہ کھیل تصور کیا جاتا ہے۔ بلال مسکرانے لگا اور بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا کہ پاکستان میں کم ہی لوگوں کو کھیلتے کودتے دیکھا ہے۔ پھر اُس کی برطانوی کتھا شروع ہو گئی اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ میں نے بات ہی کیوں کی تھی۔ ہم آگے بڑھنے لگے۔ میں نے اردگرد دیکھا تو ماحول بڑا ہی پر سکون محسوس ہوا۔ میں کسی ایک جگہ مسلسل جم کر نہیں بیٹھ سکتا۔ میری نظر میں حرکت زندگی ہے۔ اس لیے جیسے ہی ہم لوگ چہل قدمی کرنے لگے میری طبیعت کا بوجھل پن فضا میں تحلیل ہو گیا۔ میری آنکھوں میں چمک آگئی اور میں جملے سر کرنے لگا۔ وہی بلال جو پہلے مجھے بے جان جسم لگ رہا تھا اب گوشت پوست کا جیتا جاگتا انسان لگنے لگا تھا۔ اردگرد موجود پہاڑوں کا سبزہ اور نیلگوں آسمان دونوں ہی اپنے شوخ رنگ کے ساتھ ایک دم ظاہر ہو گئے تھے۔ میں مایوسی کے تابوت سے باہر نکل آیاتھا۔

میں نے بلال کو لنگڑا کر چلنے پر کیدو کے خطاب سے نوازا۔ چوں کہ اُس وقت میں خود کو کسی حاکم سے کم نہیں سمجھ رہا تھا۔ بلال نے جھٹ سے مجھے جاپانی آلو کا طعنہ مارا۔ ہم دونوں قہقہے لگا کر ہنسنے لگے۔ ہماری آنکھوں کا کیمرہ لوگوں کے چہروں کو دیکھتا اور زبان کوئی نہ کوئی مزاحیہ نام پکارتی۔ پھر ہنسنے کا وقفہ آتا۔ یہ کام میں اور بلال باری باری کرتے اور عجیب سا لطف محسوس کرتے۔ کسی کے چہرے کو کردار سے تشبیہ دیتے تو کسی کی ہیئت کو کسی بے تکی واردات سے جوڑ دیتے کبھی تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتے تو کبھی کسی مشہور شخصیت کو بگاڑ کر پیش کرتے۔ ہنس ہنس کر خالی پیٹ دُکھنے لگے۔

ہم سرسبز وادی کی سڑکوں پر مسلسل چل رہے تھے۔ ہنستے ہوئے، قہقہے لگاتے ہوئے اور ایک دوسرے پر جملے کستے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ دائیں جانب باغ کے کنارے گتے کے بڑے بڑے ڈبے دکھائی دیے۔ ٹب میں آلو بخاروں کو دھویا جارہا تھا۔ بلال نے پوچھا نہیں بلکہ مجھے بتایا کہ میں خریدنے لگا ہوں۔ ہم نے اپنی بھوک کو مدّ نظر رکھتے ہوئے دو سو روپے کے لے لیے مگر وہ اس قدر زیادہ تھے کہ ہم دم بخود رہ گئے۔ آلو بخارے اٹھائے ہوئے جب ہم واپس پلٹے توہمیں آٹے دال کا بھائو معلوم ہوا۔ اب ہمیں چڑھائی چڑھنا تھی۔ کٹی ہوئی بوری کے کنارے پکڑے چڑھائی پر ہم ہانپنے لگے۔ میں نے بلال کو مشور دیا کہ انھیں یہیں بانٹ دیتے ہیں۔ وہ ہنسنے لگا۔ ہنسی نے زو ر کو مزید کم کردیا۔

ہم لوگ تھک کر سڑک کے کنارے بیٹھ گئے۔ پھر ہمت مجتمع کی اور ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے ہوئے دوبارہ چڑھائی چڑھنے لگے۔ ہم چشمے پر نڈھال حالت میں پہنچے۔ آلو بخاروں کو دھویا اور مزے لے لے کر کھانے لگے۔ وہ پنجاب میں ملنے والی کچے سیبوں کے برابر تھے لیکن کوئی بھی آلو بخارہ کچا نہیں تھا۔ ہم نے اس دعوت میں جعفر کو بھی شریک کر لیا لیکن آلو بخارے پھر بھی بچ گئے۔ چشمے پر مقامی لڑکا ہاتھ مُنھ دھونے آیا تو اُسے بھی دعوت دے دی۔ اُس نے مسکرا کر نفی میں گردن ہلائی اور چلا گیا۔ بلال اور میں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ جعفر بولا کہ یہاں کے مقامی لوگوں کے لیے اس کی اہمیت ہمارے بیروں سے زیادہ نہیں ہے۔ سبھی اس بات پر مسکرا دیئے۔ بچ جانے والے آلو بخارے ہم نے چشمے کے پاس رکھ دیے اور ہاتھ مُنھ دھو کر گاڑی کے پاس واپس آگئے۔

گاڑی صفائی ستھرائی کے بعدخاصی چمک رہی تھی۔ ہم نے یک زبان ہو کر جعفر کی تعریف کی۔ اچھے کام پر داد دینا اور حوصلہ بڑھانا آج کل کے گھٹن زدہ ماحول میں اشد ضروری ہے۔ جعفر نے مسکرا کر شکریہ کے الفاظ ادا کیے۔ میں نے موبائل پر وقت دیکھا اور کچھ پریشان سا ہوگیا۔ چار گھنٹے گزرنے کے باوجود باقی دوستوں کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔ میرے ذہن میں وہم نے سر اٹھایا۔’’خدا نہ کرے کچھ ہو نہ گیا ہو‘‘۔ نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے رابطہ بھی ممکن نہیں تھا۔ ایسے میں انتظار کرنے کے علاوہ اورکوئی چارہ بھی نہیں تھا۔

میں گاڑی کا گیٹ کھول کر سیٹ پر بیٹھ گیا اور کھُلے ہوئے دروازے سے سڑک کو تکنے لگا۔ میں برابر تکے چلا جا رہا تھا۔ انتظار کے لمحات بڑے کٹھن ہوتے ہیں۔ ایسے میں سوچ کو آزاد پنچھی کی طرح پرواز کے لیے چھوڑ دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ آپ کا جسم تو وہیں موجود ہوتا ہے مگر آپ انجان دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ میں ہر شام کھانے کے بعد چہل قدمی کے لیے نکل جاتا ہوں۔ پاک پتن کی سڑکیں ماپتا ہوں۔ چند قدموں تک تو میں ہوش میں ہوتا ہوں۔ پھر سوچ میری راہنمائی کرتی ہے۔ میں خود کو آوارہ سوچ کے سپرد کر دیتا ہوں۔ قدم خود بہ خود اُٹھنے لگتے ہیں۔ میکانکی انداز میں جیسے وہ جانتے ہوں کہ اُنھیں بس حرکت میں رہنا ہے۔ میں شہر کا چکر کاٹ کر واپس اپنے استھان پر آجاتا ہوں۔ یہ سلسلہ بڑا ہی پُر لطف ہوتا ہے۔ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے میں نے وہی عمل دُہرایا لیکن اس بار پائوں ساکت رہے صرف ذہن سفر کرتا رہا اور کئی چھپے ہوئے واقعات پے درپے میری آنکھوں کی سکرین کے سامنے لاتا گیا۔

میں پتہ نہیں اورکتنی دیر تک یونہی سوچوں کی بھول بھلیوں میں کھویا رہتا۔ بلال نے آواز کے ذریعے مجھے واپس کھینچ لیا۔ بظاہر میری نظریں سڑک کو دیکھ رہی تھیں لیکن سڑک تو میرے دماغ سے کب کی محو ہو چکی تھی۔ میری آنکھیں اُس جانب کھُلی ہوئی ضرور تھیں مگر میں کچھ اور ہی دیکھ رہا تھا۔ اس لیے مجھے سامنے سے آتے ہوئے میرے احباب دکھائی تک نہیں دیے۔ اُن کے چہرے پژمردہ اور تھکے ہوئے تھے۔ سانس کی رفتار معمول سے زیادہ تھی۔ چہرے پر پسینہ تھا۔ سمیر آتے ہی ایک سیٹ پر ڈھیر ہو گیا۔ وہ مجھے بدقسمت کہہ رہا تھا۔ اُس کی باتوں میں الف لیلوی داستان کا رنگ تھا۔ جیسے میں نے باغِ عدن میں جانے سے انکار کردیا ہو۔ باقی تمام دوست بھی آکرگاڑی میں دھیرے دھیرے بیٹھنے لگے۔ وین پھر حرکت میں آچکی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20