افتخار عارف : زندگی، فن اور افکار —– ایک بھرپور انٹرویو (1)

0
  • 202
    Shares

سوال: زندگی کی تشکیل و ترتیب بائی چانس ہوتی ہے یا بائی چوائس۔ جب تک کسی فرد کے سامنے کوئی ہدف نہ ہو، وہ کہیں بھی پہنچ سکتا ہے، کوئی بڑی شخصیت نہیں بن سکتا۔ آپ اپنی موجودہ شناخت اور مقام پر بائی چانس پہنچے یا بائی چوائس؟

جواب: آپ نے جو سوال کیا ہے میری ذات سے متعلق، وہ میری ذات سے متعلق نہیں ہے۔ وہ عالم انسانیت کے ان سوالوں میں سے ہے، جن کو اولیت کی منزل پر تہذیبوں میں رکھا سمجھا جاتا تھا۔ جب فلاسفہ کا دور شروع ہوا اور دانش کے سفر کا آغاز ہوا، اس وقت سے یہ سوالات زیر بحث آتے رہے ہیں کہ انسان مجبور محض ہے یا مختار کل اور اختیار اور جبر کے درمیان جو فصل ہے، یہ تمام تہذیبوں کے، چاہے وہ یونان کی تہذیب ہو یا عیسائی تہذیب ہو۔ ہندوستان کی تہذیب ہو یا ہماری تہذیب، کسی نہ کسی اعتبار سے یہ سوال ضرور اٹھایا جاتا ہے اور بڑی تہذیبوں نے ان کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے۔

جہاں تک میں سمجھتا ہوں، جو بنیادی مسئلہ ہے جبر و اختیار کا، وہ میں ایک مسلمان اور ایک ایسے آدمی کی حیثیت سے کہ جو گنہگار ہونے کے باوجود قرآن اور رسول اللہ علیہ صلوٰۃ وتسلیم کی حدیث پر پورا یقین رکھتا ہے اور جن موضوعات پر ان کے فیصلے آچکے ہیں، ان کے بارے میں اپنے سخن کو بالا نہیں سمجھتا، ان کا پابند سمجھتا ہے۔ قرآن میں اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جب یہ کہا گیا تھا کہ کوئی بھی آواز اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم سے اونچی نہیں ہو گی لاترفع اصواتکم فوقاً صوتاً نبی تو اس کا صرف یہی مطلب نہیں تھا کہ ان کی موجودگی میں کوئی زور سے نہیں بولے گا محفل میں اور کوئی ان کی آوازسے آواز بلند نہیں کرے گا، یہ اس کا ایک مفہوم ہے۔ لیکن اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جب اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کسی مضمون پر فیصلہ صادر فرما دیں، تو کوئی اور فیصلہ میرے لئے، جو اسلام کے دائرے میں ہے، قابل قبول نہیں ہوگا۔ قرآن قولِ فیصل ہے اور جو چیزیں اس سے متصادم ہیں، وہ میرے لئے ہی نہیں، سب مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہونی چاہییں۔

سورہ الحمد میں ہی وہ بتاتا ہے کہ وہ مالک یوم الدین ہے۔ فیصلہ ہو گا ایک روز اور طے ہو گا، تو فیصلہ کاہے کا ہوگا؟ یعنی کچھ چیزیں ایسی ہوں گی، جن کا فیصلہ ہو گا۔ ہم جوابدہ ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جوابدہی تو اس کی ہوتی ہے، جو خودمختار ہوتا ہے۔ تو یہ با ت سمجھی جانی چاہیے کہ سب نے اس کا جواب دیا ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں، جس میں انسان خودمختار ہے اور کچھ چیزوں میں مجبور ہے۔ ہم کہاں پیدا ہوئے ہیں؟ کون سے مذہب پر پیدا ہوئے ہیں؟ کون سی زبان میں پیدا ہوئے ہیں؟ کون سی زمین پر پیدا ہوئے ہیں؟ کس زمانے میں پیدا ہوئے ہیں، سب ہم سے پوچھ کر فیصلے تو نہیں کئے گئے۔ ہماری شکل وشباہت کیا ہوگی؟ ہمارے نقش و نگار کیا ہوں گے؟ بہت حد تک بعض امراض ہمارے پہلے سے طے ہیں۔ ہم روز سنتے ہیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ وغیرہ ہوتے ہیں، تو جینیات کی انجنیئرنگ اس حد تک ترقی کر گئی ہے کہ بال دیکھ کر بتایا جا سکتا ہے کہ آدمی کون ہے۔ مگر کچھ چیزیں ہیں، جن پر ہمیں اختیار ہے۔

صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے پا بہ گل بھی ہے

اس مسئلے کا ایک نہایت عمدہ شاعرانہ جواب، صرف شاعرانہ جواب نہیں ہے، لیکن اقبال نے اس کو لینے کی کوشش کی ہے۔ شیطان کی زبانی انہوں نے اس مسئلے کو ڈسکس کیا ہے

اے خدائے کن فکاں مجھ کو نہ تھا آدم سے بیر
ہائے وہ زندانی نزدیک و دور و دیر و زود

زمان و مکاں کے تسلسل میں اسیر ہے انسان، اس کو وہ کہہ رہے ہیں

اے خدائے کن فکاں مجھ کو نہ تھا آدم سے بیر
ہائے وہ زندانی نزدیک و دور و دیر و زود
حرف استکبار تیرے سامنے ممکن نہ تھا
ہاں مگر تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجود

پروردگار عالم نے کہا

کب کھلا تجھ پر یہ راز ؟انکار سے پہلے کہ بعد ؟

ابلیس کا جواب تھا

بعد! اے تیری تجلّی سے کمالات وجود
اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں فرشتوں سے
پستیٔ فطرت نے سکھلائی ہے یہ حجت اسے
کہہ رہا ہے تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجود
دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام
ظالم اپنے شعلۂ سوزاں کو خود کہتا ہے دُود

تو بہت سی چیزیں میری پابندی کی تھیں اور بہت سی چیزیں میرے اختیار کی تھیں۔ مگر جس کو آپ کامیابی فرماتے اور سمجھتے ہیں، میں بھی اس کو کامیابی سمجھتا ہوں اور میرا یہ خیال ہے کہ زندگی میں یہ بائی چانس نہیں ہے۔ یہ ایک مسلسل محنت، ریاضت اور انتھک محنت ہے، جو میں نے ساری زندگی کی ہے۔ میں کسی بڑے نام کا بیٹا نہیں تھا۔ میں کسی بڑے گھرانے کا داماد نہیں تھا۔ میرے کوئی بھائی نہیں تھے، چچا نہیں تھے۔ میرے کوئی خالو یا ماموں یا پھوپھا نہیں تھے، جو مجھے آگے لے کر جاتے۔

Iftikhar Arif & Hamid Yazdani

جب میں پاکستان میں آیا، تو اس وقت میری عمر 22 برس کی تھی اور میں ماسٹرز کر کے لکھنو یونیورسٹی سے آیا تھا۔ گھر چھوڑ کر آیا تھا۔ والدہ اور والدین اور نانا اورخانوادہ وہ سب لکھنو میں رہ گیا تھا۔ میرے پیچھے پیچھے میری والدہ آئیں، جو پہلے سے میری شادی طے کر چکی تھیں اپنے ایک عزیز کی بیٹی کے ساتھ۔ چنانچہ وہ آئیں اور انہوں نے میری شادی کر دی۔

میں اس وقت ریڈیو پاکستان پر خبریں پڑھتا تھا۔ ایک بلیٹن دس روپے کا ہوتا تھا۔ اگر میں ترجمہ بھی کردوں، تو اس کے 10 روپے علیحدہ سے ملتے تھے۔ ریڈیو پاکستان سے میں نے محنت کی اور خبروں کے مترجم کی حیثیت سے۔ آواز اللہ کی عطا تھی۔ زبان، تلفظ اور لفظوں کی نشست و برخاست، اس کا مجھ کو سلیقہ تھا۔ ترجمہ مجھ کو آگیا تھا، جو محنت سے میں نے سیکھا تھا۔

ہمیشہ یہ بات یاد رکھئے گا کہ جب آپ محنت کرتے ہیں، تو جو آپ کے اچھے افسر ہوتے ہیں، وہ آپ سے خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ کوئی آدمی ایسا ہو، جو ان کے شعبے کے کا م کونمایاں کر سکے، خوش سلیقگی سے انجام دے سکے۔ سلیم جیلانی صاحب جن کا تعلق پنجاب سے تھا، میرے پہلے محسن اور پہلے سرپرست تھے۔ میں کہتا ہوں، زندگی کے ان ادوار میں جن کو آپ Formative year کہتے ہیں۔ شروع کا زمانہ، اگر اس کی بنیاد گزاری مناسب طریقے سے ہو جائے، تو اللہ کریم اس میں آسانیاں پیدا کر دیتے ہیں۔

دیکھئے میں اکیلا تھا۔ لکھنو ایک انحطاط پذیر دور سے دوچار تھا۔ عیش کوشی سرشت میں شامل ہو گئی تھی۔ مگر اپنے تمام پس منظر کے باوجود میں نے کبھی سگریٹ نہیں پی، کبھی شراب نہیں پی۔ میں نے کبھی دوستوں کے ساتھ وقت گزاری کے لئے جو مشغلے ہوتے ہیں، ان میں شریک نہیں رہا۔ کوشش کی، اپنی بساط کی حدتک پڑھنے کی، مطالعے میں لگا رہا۔ وہ میری تنہائی، خاندان کی جو تنہائی تھی۔ کوئی میرا بڑا بھائی، چھوٹا بھائی نہیں تھا۔ ایک بہن تھی۔ ان معاشروں میں بہن بھائی بہت زیادہ دوست نہیں ہوتے تھے، جیسے آج کل بہن بھائیوں میں اور والدین اور بچوں میں ہوتی ہے۔ وہ بالکل اور طرح کا معاشرہ تھا۔

تو سلیم گیلانی صاحب مجھ سے بہت شفقت فرماتے تھے۔ شروع میں جہاں میں دو دن خبریں پڑھتا تھا، انہوں نے مجھے ہفتے کے سات دن کی سروسز بلا کر دینی شروع کیں۔ ظاہر ہے، جتنے زیادہ بلیٹن آپ پڑھیں گے، اتنی ہی مشق آپ کی بڑھتی جائے گی۔ چنانچہ ہاتھ ترجمے میں صاف ہوتا گیااور پڑھت کا انداز بھی بہتر ہوتا گیا۔ میری شہرت بھی ہوتی گئی کہ بھئی، ایکسٹرنل سروسز میں ایک لڑکا آیا ہے، وہ اچھی خبریں پڑھتا ہے۔

ہم پھر ڈرامے کرنے لگے۔ چنانچہ ہم نے پہلا پلے کیا۔ ڈرامہ کیا، تو بڑی آوازوں کے ساتھ۔ امیرخان صاحب، ایم سلیم صاحب، خدیجہ نقوی اور میں اور فاروقی صاحب تھے، ڈائریکٹر تھے۔ جب ہم ریڈیو پاکستان میں مشہور ہو گئے، تو وہیں ہماری سلیم احمد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ شاہد احمد دہلوی کے بیٹے مشہود احمداور مبارک زمان خاں صاحب اور یہ سب لوگ تھے۔ مگر وہاں جو سب سے اہم ملاقات ہوئی وہ عبیداللہ بیگ اور قریش پور سے ہوئی۔ ان دونوں کی ملاقات نے ہم تینوں کو قریب کیا۔ وقت ہوتا تھا، جیسے ایک سروس ختم ہوئی ریڈیو کی، تو دوسرا بلیٹن شروع ہوتا تھا، تواب کیا ہوا سجاول کہ ایک سروس بارہ بجے رات کو، تو ایک سروس نو بجے سویرے ہے۔ ہم صبح سے رات تک وہیں ہیں۔ جو فارغ اوقات ہوتے تھے، ہم اس میں ’’کسوٹی‘‘ کرتے تھے۔ جب اسپیشل ٹرانسمشن پروگرام ہوتے، ہم لوگ لکھی ہوئی کسوٹی کرنے لگے۔ اسی اثنا میں ملک میں ٹیلیویژن آگیا۔ ٹیلیویژ ن آیا، تو سلیم گیلانی صاحب ہم لوگوں کو لے کراسلم اظہر صاحب کے پاس پہنچے۔ اسلم اظہر نے جیسے ہی سنا کہ یہ لڑکے یہ کام کرتے ہیں، تو انہوں نے ہمارا ٹیسٹ لیا۔ ہم پاس ہو گئے۔ انہوں نے کہا، کل سے پروگرام ہوگا۔ لائیو پروگرام ہوتا تھا۔ لائیو پروگرام ہوا، تو ہم دو تین ہفتوں میں پورے ملک میں مشہور آدمی ہوگئے۔ ہماری شہرت اڑنے لگی اور آئوٹ سٹینڈنگ کیٹیگری، جو بہت بعد میں لوگوں کو ملتی تھی، اسلم اظہر صاحب نے ہمیں دی۔

اسی اثنا میں وہاں ایک جاب انائونس ہوئی۔ اس کا نام تھا، سیریل اسکرپٹ پروڈیوسر، ایس ایس پی۔ اب کیا ہوا کہ مجھے بھی کہا گیا، میں بھی لکھوں۔ اس وقت تک میری کوئی کتاب آئی تھی نہ میں نے کوئی مقالہ لکھا تھا۔ میں انٹرویو میں گیا۔ موسیٰ احمد صاحب پاکستان ٹیلی وژن کے ایم ڈی تھے اور وہ تھے میرے بورڈ کے چیئرمین۔ اس میں خواجہ شاہد حسین، جلال الدین احمد اور اسلم اظہر بیٹھے تھے۔ ابھی اسلم اظہر صاحب سے میری نیاز مندی اس طریقے سے نہیں ہوئی تھی، جو گویا آج ہے یا بعد میںمیرے باپ، میرے استاد اور میرے بڑے بھائی کی طرح ہو گئے تھے۔

اب ہم نے اپلائی کیا، تو میں نام نہیں لینا چاہتا۔ بڑے مشہور لوگ، بڑے بڑے بریف کیسز اٹھائے، کسی کے ہاتھ میں پانچ کتابیں، تو کسی کے ہاتھ میں گیارہ کتابیں ہیں۔ کوئی ایک ٹینک بھر کے رسالے اپنے لے آیا کہ میں مدیر ہوں فلاں اخبار کا اور رسالے کا۔ اب میری باری آئی۔ میں نے کہا، اب آیا جو ہوں، تو انٹرویو دے لیتے ہیں، کیا ہے۔ ہم اس سے پہلے دو انٹرویوز دے چکے تھے۔ مشتاق احمدیوسفی اس زمانے میں آسٹریلیشیابنک کے ایم ڈی تھے۔ انہوں نے مجھ کو پروبیشن آفیسر کی جاب آفر کی ڈھائی سو روپے کی۔ اس زمانے میں ڈھائی سو روپے بڑی رقم ہوتی تھی۔ ایک ہم نے کورس پاس کیا، وہ پاس کئے تحریری یوبی ایل میں۔ جمیل نشتر مرحوم، جو بعد میں ہمارے بڑے کارفرما ہمارے دوست ہوئے، فائنل انٹرویو کے لئے ان کے پاس گئے۔ تو آپ سجاول یقین کیجئے کہ ہمارے پاس تو پہننے کے لئے کپڑے بھی نہیں تھے سلیقے کے۔ ہم کھدر کا کرتا اور کھدر کا پاجامہ پہنتے تھے۔

Kishwar Naheed speaking at Urdu Markaz, London, in 1983 along with Iftikhar Arif

ہمارے تحریری امتحانات کے نتائج بہت اچھے تھے۔ بڑی سی میز کے پیچھے جو صاحب بیٹھے ہوئے تھے، ہم ان کو پہچانتے نہیں تھے۔

’’اچھا تو آپ نے یہ کیا اور یہ کیا ہے..‘‘ ’’اچھا تو آپ نے پچھلے دنوں کوئی کتاب پڑھی؟‘‘ میں نے کہا، جی ہاں، پڑھی ہے۔ تو کہنے لگے، پچھلے برس آپ نے جو کتابیں پڑھیں، ان میں سے اچھی کتاب آپ کو کیا لگی؟میں نے ان کو بتایا R. Desmant David کی کتاب Lonely Crowd مجھ کو اچھی لگی۔ ’’پھر سے بتائیے، کون سی کتاب؟‘‘ میں نے نام بتایا، تو وہ رولنگ چیئر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی کرسی کو پیچھے کیا اور ریک سے وہ کتاب نکال کر یوں کر کے میز پر ڈالی اور مجھ سے کہنے لگے Would you talk about it انہوں نے سمجھا، میں بلف کر رہا ہوں۔ شاید دل میں خیال آیا ہویا پھر امتحان میں ہوتا ہی ہے۔

میں نے کہا، سر انگریزی میں بات کی مجھے عادت نہیں۔ میں ایک غریب گھرانے سے ہوں۔ میں لکھ سکتا ہوں شاید اور سمجھ سکتا ہوں۔ آپ انگریزی میں مجھے سوال کریں اور اگر اجازت دیں، تو میں جواب اس کے اردو میں دوں؟ انہوں نے کہا، ٹھیک ہے۔ تو میں نے جواب دیئے۔

اب ہماری ڈسکشن کتاب سے باہر بھی ہو گئی۔ بحث ہونے لگی۔ اتنے میں لنچ کا وقت ہو گیا، توکہنے لگے، افتخار، اب بات تو دلچسپ ہو گئی ہے۔ آپ میرے انٹرویو کے آخری آدمی تھے۔ میں نے آپ کو الگ سے رکھا ہوا تھا۔ چلئے، ہم چل کے کھانا کھاتے ہیں۔ آئی آئی چندریگر روڈ پر یوبی ایل کا دفتر ہوتا تھا۔ اس کے سامنے مغربی کھانوں کی ایک اچھی سی جگہ تھی۔ جب ہم کھانے پر پہنچے، تو انہوں نے کہا، میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ایک اچھے بنکار نہیں ہو سکتے۔ اس لئے اس جاب میں نہ جائیں۔ مجھے بڑا غصہ آیا۔ اگرچہ ان کی بات مجھے پسند بھی آئی، لیکن مجھے غصہ زیادہ آیا، کیونکہ میں تو ضرورت مند تھا۔ اس زمانے میں بنک کی جاب میں زیادہ پیسے ہوتے تھے۔ ہماری شادی ہوچکی اور ہماری ایک بیٹی تھی۔

اب جو میں ٹیلیویژن میں گیا، تو، دیکھئے، کیا ہوتا ہے؟ اسے کیا کہیں گے؟ کیا یہ اتفاق تھا یا تقدیر تھی، میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ موسیٰ احمد بنگالی تھے۔ وہ خواجہ شہاب الدین صاحب، جو ایوب خان صاحب کے وزیر اطلاعات تھے، کے داماد تھے۔ انہوں نے پہلا سوال یہ کیا کہ کیا سبب ہے، اردو میں ڈرامہ نہیں ہے؟میں نے ایک کتاب حسن عسکری کی پڑھی ہوئی تھی کہ وہ تمام معاشرے، جو مواحد معاشرے ہوتے ہیں۔ جہاں توحید غالب ہوتی ہے، وہاں ڈرامہ نہیں ہوتا۔ ڈرامہ وہاں ہوتا ہے، جہاں میتھالوجیز ہوتی ہیں۔ چنانچہ بڑا ڈرامہ یونان میں ہوا اور بڑا ڈرامہ سنسکرت میں ہوا۔ میں نے ایک طالبعلم کی حیثیت سے نام لینے کی غرض سے دو ایک یونانی ڈرامہ نگاروں کے نام لئے۔ پھر کالا داس وغیرہ کا نام، واں گھٹ کا نام، کشور آردبشارت، ابھیو تنھان شکنتلم کا نام ادھر لیا۔

موسیٰ احمد کا ڈرامے کا پس منظر کچھ ہو گایا وہ سنسکرت جانتے ہوں گے۔ وہ یہ سمجھے، میں نیم ڈراپنگ کر رہا ہوں۔ انہیں نہیں معلوم تھا، میں پڑھ کر آیا ہوں۔ یعنی یونانی تو مجھے نہیں آتی اور شاید میں یونان کے بارے میں اتنا جانتا بھی نہیں تھا۔ ناموں کی حد تک جانتا تھا، لیکن سنسکرت ڈرامہ تو میں نے پڑھا ہوا تھا۔ میں نے سنسکرت تلفظات کے ساتھ چیزوں کو بیان کرنا شروع کیا۔

جب بیان کرچکا، تو مجھ سے پوچھا گیا کہ عزیز احمدکو بحیثیت ناول نگار آپ کیسا سمجھتے ہیں؟ میں نے کہا، افسانہ نگار بھی بہت زبردست ہیں اور ناول نگار بھی بہت زبردست ہیں۔ خاص طور پر اس زمانے میں ’’آگ‘‘، ’’گریز‘‘، ’’کیسی بلندی کیسی پستی‘‘، ’’حذنگ جستہ‘‘، ’’زریں تاج‘‘، ’’جب آنکھیں میری آھن پوش ہوئیں‘‘ وغیرہ آچکے تھے۔ میں نے ان کا ذکر کیا تو وہ بھی خاموش ہو گئے۔

یہ موقع بھی تھا، تقدیر بھی تھی اور میری محنت بھی تھی۔ میں ٹی وی کا اسکرپٹ ایڈیٹر ہوگیا۔ اب میری قسمت دیکھئے، اسلم اظہر صاحب کو اردو اس وقت نہیں آتی تھی۔ اسلم اظہر صاحب بالکل انگریزایک طرح کے وہاں سے پڑھ کر آئے تھے۔ وہ بہت زیادہ ملتے جلتے نہیں تھے۔ جو دوسرا افسر میرا پروگرام مینجر تھا، وہ تھے زمان علی خاں، وہ بنگالی تھے۔ ان کو بھی اردو نہیں آتی تھی اور وغیرہ وغیرہ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان دونوں نے مجھے اپنے ساتھ رکھا۔ پروگرام مینجر نے بھی اور جنرل مینجر نے بھی۔ مجھ کو یہ چوبیس چوبیس گھنٹے گھر نہیں جانے دیتے تھے۔ میں کام کرتا تھا۔

فیض صاحب نے یہ بات لکھ دی کہ افتخار عارف سے پہلے فرہاد اور مجنوں اور لیلیٰ اور شیریں وغیرہ قیس کی چیزیں استعارے میں آتی تھیں۔ افتخار نے اسلامی تاریخ کے کرداروں کو اپنا موضوع گفتگو علامت کے طور پر بنایا ہے

اب دیکھئے، ٹی وی میں ’’کسوٹی‘‘ الگ ہو رہی ہے۔ اس کی شہرت ہوتی جاتی ہے۔ اب اسکرپٹ ایڈیٹر کے طور پر بھی میری شہرت ہو گئی۔ ’’خدا کی بستی‘‘، ’’گر تو برا نہ مانے کیا‘‘، ’’انسان اور آدمی‘‘ اور ’’شب تمثیل‘‘ اور ’’پسندیدہ کہانی‘‘ یہ سب چیزیں وہاں سے ہوتی گئیں اور رفتہ رفتہ ’’فروزاں ‘‘ اور ’’ضیا محی الدین شو‘‘ بھی۔ یوںجیسے جیسے پی ٹی وی کا نام بڑھتا گیا، میرا نام بھی بڑھتا گیا۔

میری شاعر کی حیثیت سے تربیت دو آدمیوں نے کی۔ سلیم احمد صاحب کا تعلق جماعت اسلامی سے نہ بھی ہو، وہ جماعت اسلامی والی ذہنیت رکھتے تھے۔ عسکری صاحب اور سلیم احمد صاحب، یہ میرے مربی تھے اور میرے بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے میری تربیت کی تھی۔ ادھر میرے عزیز ترین دوست نصیر ترابی تھے، جن کے والد علامہ رشید ترابی تھے۔ ان کو دیکھ کر مجھے احساس کمتری ہو جاتا تھا۔ مثلاً مجھے فیض صاحب سے شاعری سن کر کبھی احساس کمتری نہیں ہوا۔ سلیم احمد صاحب کی نثر یا عسکری صاحب کی تنقید پڑھ کربھی کبھی احساس کمتری نہیں ہوا۔ مگر علامہ رشید ترابی صاحب کی تقریریں سن کر احساس کمتری ہوتا تھا۔ میں سمجھتا تھا، دیکھو، مجھے اسلامی تعلیم بھی آتی ہے۔ میں شاعری بھی پڑھ سکتا ہوں۔ یعنی تصور اپنے بارے میں ہوتا ہے ناکہ میں سب یہ کر سکتا ہوں، لیکن تقریر ایسی نہیں کر سکتا۔ اپنے عجز کو محسوس کرتا تھا۔

اب دیکھئے، طالبعلمی کے زمانے میں اور غربت سے جو حافظہ تھا، وہ کیسے تقویت پایا۔ لالٹین کی روشنی میں میں پڑھتا تھا۔ بجلی نہیں تھی۔ گیارہ بجے لالٹین کا تیل ختم ہوجاتا تھا۔ آنکھ میری کھل جاتی تھی، تو بس میں پڑھتا رہتا تھا۔ جو گیارہ بجے تک پڑھا ہوتا، وہ بارہ ایک بجے تک یاد کرتا رہتا تھا۔ صبح کو کالج اور یونیورسٹی پیدل جاتا تھا۔ کوئی میرے پاس سواری نہیں تھی۔ پیسے ہی نہیں ہوتے تھے۔ چار آنے کے پیسے ہوتے، وہ میں کھانے کے لئے رکھتا تھا۔ اگر میں گھر سے یونیورسٹی چلا گیا ہوں، تو اب گھر آ کر کھانا تو نہیں کھا سکتا تھا۔ اس طرح دن بھر یونیورسٹی میں گزار دیتا تھا۔
کیا ہوا کہ جتنی دیر پیدل جاتا اور جتنی دیر پیدل آتا تھا، وہ جو پڑھتا تھا، اس کو دہراتا رہتا۔ تکرار کرتا جاتا، یاد کرتا جاتا تھا۔ اس نے حافظے کی تربیت کی۔ اب جو میں پڑھتا ہوں، ابھی تک یہ ہے کہ میرا ذہن تجویز کر دیتا ہے کہ دیکھو، یہ بات یاد کر لینا۔ دیکھو، یہ خیال یاد کر لینا۔ وہ محفوظ ہو جاتا ہے۔ تو وہ جو غربت اور اس کے جو آلام تھے، اس کو قدرت نے میرا اثاثہ بنا دیا۔ یعنی غربت کی جو مجبوری تھی، اس میں اللہ نے میرے لئے نعمت رکھ دی۔

لکھنو میں بڑے بڑے ذاتی کتب خانے ردی کی صورت میں بک رہے تھے۔ صبح کو میرے نانا اتوار کی صبح کو جاتے تھے اور دو سیر میرزا غالب لے آئے۔ دوسیر طلسم ہوش ربا خرید لائے۔ مشاعروں کے گلدستے ملتے تھے۔ طرحی مشاعرے جو ہوتے تھے، وہ بعد میں چھاپ دیئے جاتے تھے۔ ایک ایک مشاعرہ ایک ایک گلدستے کی صورت میں محفوظ ہو جاتا تھا۔ میں بیت بازی کے مقابلوں کے لئے ان کو یاد کر لیا کرتا تھا۔ پورا پورا گلدستہ مات دینے کے چکر میں یاد ہو جایا کرتا تھا۔

شروع کے دنوں میں روشن آرا بیگم، ملکۂ ترنم نورجہاں، تصورخانم، فریدہ خانم اور اقبال بانو غزلیں گاتی تھیں، تو مجھے تو بالکل رومانوی شاعری کا ہو کر رہ جانا چاہیے تھا۔ مگر میں نے اس سے فرار اختیار کیا اور انسانی صورتحال کی جو شاعری کرنی شروع کی۔ 

کیا ہوا کہ وہ چیزیں شامل مشاعرہ ہوتی تھیں۔ کسوٹی سے، دیکھئے رانجھا صاحب کیسی اللہ کی نعمت ہے۔ چالیس برس اس شہرت کا برقرار رہنا، یہ اللہ کی بڑی عطا ہے۔ چالیس برس بڑی مدت ہوتی ہے۔ جو بدترین دشمن ہیں، وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ میں شعر خراب کہتا ہوں۔ وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ میرا علم ناقص ہے۔ ظاہر ہے کہ مجھ سے بہتر شعر کہنے والے موجود ہیں۔ لیکن جب گفتگو ہو گی تو اپنے اپنے مقابلے، اپنی جنریشن میں ہوتی ہے، اپنی نسل میں ہوتی ہے۔ جیسے پاکستان ٹیلیویژن کے سکرپٹ ایڈیٹر ہیں، تو اس سے مقابلہ ہو گا۔ پروڈیوسرز ہیں، تو ان میں مقابلہ ہوگا۔ ستر کی دہائی کے شاعر ہیں، تو ستر کی دہائی کے شاعروں میں مقابلہ ہو گا۔ مجھہ کو زبردستی لڑا دیا گیا اپنے سینئرز سے۔ میرے سینئرز جو تھے، زبردستی مجھ سے مقابلہ کرنے لگے۔ ان کو مجھ سے مسابقت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ان کا جوڑ نہیں تھا میں۔ ان کا جوڑ اوپر تھا لیکن مجھ کو وہ اپنی جوڑ سمجھنے لگے۔

اب نتیجہ کیا ہواکہ پھر میں رفتہ رفتہ ادھر سے اوپر کی طرف بھیج دیا گیا (یہاں انہوں نے آف دی ریکارڈ بعض سرکردہ ادیبوں اور شاعروں کے نام گنوائے ہیں۔ ایڈیٹر) اب وہ چلے گئے سب۔ میں رہ گیا۔ اب فرمائیے؟ اب ظفر بھائی رہتے ہیں۔ ظفر اقبال وہ ہیں کہ جو تمام و کمال شاعر ہیں۔ میں ان کی عظمت کا بھی قائل ہوں۔ ان کی اہمیت کا بھی قائل ہوں۔ ان کے اعتبار سے بہت سے ضعیف لوگ ہیں۔ لیکن ضعیف ہونے اور بزرگ ہونے میں بڑا فرق ہے۔ ہر ضعیف آدمی سینئر نہیں ہوتا۔ ٹھیک ہے جی؟

اب کیا ہے کہ شروع میں مجھ کو کہہ دیا گیا تھا، ایک سبق دیا گیا۔ میں نے غزل کہی

وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے
مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے

میرے ایک دوست نے کہا، یہ کیسا آدمی ہے۔ لکھنو سے آیا ہے اور اسے سلام میں اور غزل میں فرق معلوم نہیں ہوتا۔ میں بہت آزردہ ہوا کہ دوست کی طرف سے الزام آیا تھا۔ میں نے جا کر سلیم احمد صاحب سے کہا۔ انہوں نے کہا، لوگ تو اپنی کالی بھینگی محبوبائوں کے لئے شعر کہتے ہیں، تمہارا محبوب تو بہت خوبصورت ہے، تمہیں کیا ہے؟ میں نے کہا، میں نے استعارے کے طور پر لکھاہے۔ یہ نہیں کہ میں نے سب سے پہلے لکھا، لیکن میں نے استعارے کے طور پر کربلا لکھنا شروع کیا۔ مجھ سے پہلے میر انیس اور مرزا دبیر والے جو لوگ تھے، انہوں نے تو واقعے کے طور پر عقیدے کے طور پر لکھا تھا۔ ایک بیانیہ کے طور پر لکھا تھا۔

مگر ہمارے زمانے میں، ہماری نسل میں اقبال کی جو روایت تھی۔ علامت کے طور پر استعارے کے طور پر، میں نے لکھا اور ہوا یہ کہ فیض صاحب نے سب سے پہلے میری کتاب کے پیش لفظ میں یہ بات لکھ دی کہ افتخار عارف سے پہلے فرہاد اور مجنوں اور لیلیٰ اور شیریں وغیرہ قیس کی چیزیں استعارے میں آتی تھیں۔ افتخار نے اسلامی تاریخ کے کرداروں کو اپنا موضوع گفتگو علامت کے طور پر بنایا ہے۔ میں نے تاریخ کو عصر حاضر کی صورتحال سے جوڑنا شروع کیا۔ دور آمریت اور مطلق العنانیت میں مجھے کوئی اور صورت نہیں تھی کہ میں کیا کرتا۔ میں نے ابوذر غفاری اور ابوطالب اورحسین اور زید ابن حارثہ کو لکھا اور اللہ نے اس سے میری پہچان قائم کی دوسری بات یہ تھی کہ میں نے غزل لکھی

کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائے
پس اک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائے

کہا گیا، یہ تو کتوں کا کام ہے۔ مگر میں بھاگا نہیں۔ میں وہ تھا کہ جس کی آواز کی شاعری جو تھی، وہ تصور و رومان کی شاعری ہوتی ہے

تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں
جان بہت شرمندہ ہیں

اس کی بڑی شہرت تھی

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

شروع کے دنوں میں روشن آرا بیگم، ملکۂ ترنم نورجہاں غزلیں گاتی تھیں اور تصورخانم، فریدہ خانم اور اقبال بانو غزلیں گاتی تھیں، تو مجھے تو بالکل رومانوی شاعری کا ہو کر رہ جانا چاہیے تھا۔ مگر میں نے اس سے فرار اختیار کیا اور انسانی صورتحال کی جو شاعری کرنی شروع کی۔ جو میرے دل پر گزرتی تھی، وہ میں نے لکھا۔

اس دلچسپ انٹرویو کا دوسرا اور آخری حصہ اس لنک پر ملاحظہ کیجئے ——-

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: