امجد فہمی: امجد اسلام امجد کے جہانِ شعرکا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ — نعیم الرحمٰن

0

امجد اسلام امجد ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ دورِ حاضر کے صفِ اول کے شاعر ہیں،جن کی نظم و غزل دونوں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ بہترین ماہرِ تعلیم، بے مثال ڈرامہ نگار، عمدہ کالم نگار، شاندار سفرنامہ نگار اور اعلیٰ نقاد ہیں۔ ڈاکٹر سید تقی عابدی نے ’’امجد فہمی‘‘ میں امجد اسلام امجد کے جہانِ شعر کا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ کیا ہے۔ کتاب میں امجد کی شعری اور نثری تخلیقات کا بہترین انتخاب بھی شامل کیا ہے۔

’’امجدفہمی‘‘ کے ابتدائی دو سو اٹھانوے صفحات میں شاعر کی مختلف شعری اصناف کا بھرپور جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ایک سو تئیس صفحات کے شعری انتخا ب میں امجد اسلام امجد کی سترشعری تخلیقات دی گئی ہے۔ ایک سوبائیس صفحات میں ان کی نثری اصناف کا انتخاب شامل ہے۔ جس میں کالم، ڈرامہ، سفرنامہ، تنقید وغیرہ سب شامل ہیں۔ جبکہ کتاب کے آخری ڈیڑھ سو صفحات میں تصاویر کے آئینے میں امجداسلام امجد اور ان کے وابستہ افراد کی پوری زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔ بہترین آفسٹ پیپر پر بڑے سائزکے سات سوبارہ صفحات جس میں دوسو صفحات پر رنگین تصاویر بھی شامل ہیں۔ اس بہترین کتاب کوبک کارنر جہلم نے اپنی عمدہ روایتی اندازمیں شائع کی ہے اور اس کی قیمت ڈھائی ہزار بہت مناسب ہے۔

ڈاکٹر سیدتقی عابدی ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں۔ شاعری اور ادبی تحقیق اور تنقید ان کا خاص میدان ہے۔ ان کی تصانیف میں اقبال کے عرفانی زاویے، انشااللہ خان انشا، رموزِ شاعری، اظہارِ حق، مجتہد نظم مرزا دبیر، طالع مہر، سلکِ سلام، تجزیہ یادگارِ انیس، ابواب المصائب، عروسِ سخن، مثنویات دبیر، فیض فہمی، اردو کی دو شاہکار نظمیں، رباعیاتِ رشید لکھنوی، رباعیاتِ انیس، فیض شناسی، حالی فہمی اور بہت سی دیگر کتب شامل ہیں۔ ان کی ایک گراں قدر تصنیف ’’باقیاتِ فیض‘‘ بھی ہے اور بھی کئی کتب زیرِتصنیف ہیں۔

سید تقی عابدی ’’امجدفہمی‘‘ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔ ’’فنونِ لطیفہ کے گلشن کاگل ِ سرسبد شاعری ہے۔ شعور کی وجہ سے یہ حیوانِ ناطق انسان کہلا تاہے۔ چناں چہ ہروہ فن جو انسانی شعور کی نمو اور اس کی قدروں کی جلوہ نمائی کرتا ہے، جزو پیمبری بن جاتاہے کیوں کہ وہ مشیت الہٰی اور پیامبروں کو تشہیر کرکے انسانوں کی تعلیم وتربیت کرتاہے۔ موجودہ دور انسانیت کی تلاش میں ہے چناںچہ حقوق آدم، مقامِ آدم اور احترام آدم آدمیت کے لیے ضروری ہے۔ امجد اسلام امجد کی تخلیقات کا محور انسان ہے۔ امجدایک ہمہ جہت تخلیق کارہیں لیکن ان کی شاعری دوسری تخلیقات کے مقابل توانا، نمایاں اور افضل ہے اس لیے امجد فہمی دورِحاضر کی ضرورت اور اردو شعروادب کی ترقی کی ضامن بھی ہے اور اسی وجہ سے یہاںصرف ان کی شاعری کاتجزیاتی اورتنقیدی جائزہ لیاگیاہے تاکہ اس سیرِ گل گشت سے عامی اور عالم دونوں مستفید ہو سکیں۔ عمدہ شاعری ادب عالیہ ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ کہتاہے، ’’جس زبان میں ادب عالیہ موجود ہو وہ فنا نہیں ہوسکتی۔‘‘ آج کے گلوبل ولیج کے سماجی ماحو ل کے تقاضوں، جدیدسائنسی اور کہکشانی انکشافات کے ساتھ خود انسان شناسی کے موضوعات اکیسویں صدی کی زندہ شاعری کی ضروریات ہیں۔ امجداسلام امجد اردوکے ان ممتاز چند شاعروں میں ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کوان مطالب سے جوڑ کر مثبت نتائج پیش کیے ہیں۔ یہ دستاویز انہی جواہرپاروں کی روشنی سے تابناک ہے۔ امجدجیسے قادرالکلام، کہنہ مشق، نکتہ سنج اور پُرگو شاعر کا احاطہ کرناممکن نہیں۔ سچ ہے اگر دریا کا شیریں پانی پورا سینچا نہ جاسکے تو کم ازکم اتنا تو اپنے ساغر میں بھرلیا جائے کہ تشنگی کسی حدتک کم ہو جائے۔ ہمیں یقین ہے کہ امجداسلام امجد درخشاں ستارے کے مانند اردو شاعری کے آسمان پر چمکتے رہیں گے۔
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق
اولاد سے تو ہے یہی دوپشت چار پشت‘‘

کتاب کی ابتدا امجد اسلام امجد کے زندگی نامہ سے کی گئی ہے۔ جس کے مطابق ان کی پیدائش 4اگست 1944ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی شریک حیات فردوس امجد ہیں، روشین امجد بیٹی، تحسین امجد اور علی ذیشان امجد بیٹے ہیں۔ پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں سینئر وزیٹنگ پروفیسر، مشیر دنیا ٹی وی، ڈائریکٹر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ، پروجیکٹ ڈائریکٹر چلڈرن لائبریری، ڈائریکٹر جنرل اردوسائنس بورڈ، ایسوسی ایٹ پروفیسر ایم اے اوکالج رہے۔ 1987ء میں اعلیٰ ادبی خدمات پر حکومتِ پاکستان نے پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا، 1998ء میں ستارہ امتیاز حاصل کیا۔ امجد اسلام امجدکے فن اور شخصیت پر تیس سے زیادہ پی ایچ ڈی، ایم اے اور ایم فل کے مقالے لکھے گئے ہیں۔ یہ مقالے پاکستان، مصر، بھارت اور ترکی کی یونیورسٹیوں میں پایہ تکمیل کوپہنچے۔

’’عکس باطن‘‘ کے عنوان سے امجداسلام امجدسے ایک سوال نامے کے جواب حاصل کیے گیے۔ جن کے مطابق ان کامزاج جیو اور جینے دو، خون کارنگ تادم ِ تحریر سفید نہیں ہوا، بلاپرکھے ہرکسی پراعتماد کرنا کمزوری، وہ شخص جوزندگی کے ارتقا پر یقین نہیں رکھتا اسے دشمن سمجھتے ہیں، اللہ کے فضل سے بہت دوست ہیں، ہراس شخص کی قدرکرتاہوں جو محنت کی عظمت پریقین رکھتاہے، اس صحبت سے اجتناب کرتے ہیں جہاں انسان کا مرتبہ اس سے زیادہ ہو، موت کے سامنے انسان کی بے بسی دیکھ کر رو پڑتے ہیں۔ پسندیدہ کتاب دیوان غالب اور غیر ادبی سرگرمی کرکٹ سے محبت ہے۔ ان سوالات سے امجداسلام امجد کی پوری سوچ اور شخصیت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ امجد اسلام امجدکی تریسٹھ کتابوں کے رنگین سرورق بھی دیے گئے ہیں۔

امجد اسلام امجدکی شاعری میں غزلوں کی کلیات اور انتخاب سمیت اٹھارہ، نظم کی کلیات سمیت پانچ، گیتوں کی کلیات اور دو مزیدکتب، بچوں کے گیتوں کی تین کتابیں، غیرملکی شاعری کے آٹھ تراجم، کالمز کی گیارہ کتب جن میں ایک کتاب تعزیتی کالموں پرمبنی ہے۔ امجداسلام امجد کے فن اورشخصیت پردوکتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ انہوں نے پروین شاکرکا انتخاب، اردوشاعرات، کلاسیکی شاعری اورافسانوں کے انتخاب کی کتابیں مرتب کیں۔ پانچ سفرنامے ریشم ریشم، شہر در شہر، چلو جاپان چلتے ہیں، سات دن اورسفرپارے شائع ہوچکے ہیں۔ تنقید کی ایک کتاب ’’سچ کی تلاش‘‘ ٹی وی سیریلز اور انفرادی ڈراموں کی کئی کتب شائع ہوئیں۔ انہوں نے سترہ ٹی وی سیریل، سترہ طویل ڈرامے، چوالیس انفرادی ڈرامے تحریر کیے۔ بائیس کی ڈرامائی تشکیل کی۔ تین بچوں کے ڈرامے بھی لکھے۔ پانچ فلمیں اور تین اسٹیج ڈرامے بھی انہوں نے تحریرکیے۔ ٹی وی کے تین پروگراموں کی میزبانی بھی کی۔ ان تمام تفصیلات سے واضح ہے کہ امجد اسلام امجد کی شخصیت کتنی ہمہ جہت ہے اورانہوں نے کس قدرکام کیاہے، جو مختلف ابعاد میں پھیلاہوا ہے۔

’’امجدفہمی‘‘ کا آغاز ڈاکٹر سیدتقی عابدی نے’’امجد اسلام امجدکے بہتر نشتر‘‘ کے عنوان سے شاعرکے بہتر یادگار اشعار درج کیے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ کریں۔

اُس حرفِ کُن کی ایک امانت ہے میرے پاس
لیکن یہ کائنات، مجھے بولنے تو دے

سمے کے سمندر، کہا تُو نے جوبھی، سناپر نہ سمجھا
جوانی کی ندی میں تھا تیز پانی، ذرا پھر سے کہنا

زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں
محبت کے کنائے ہیں وفا کے استعارے ہیں

کسی کو پھر نہ ملا رنگ میر و غالب کا
اگرچہ یوں تو ہزاروں ہی خوش بیاں گزرے

’’امجداسلام امجدکے زرّیں فقرے‘‘ میں ان کی برجستہ گوئی کی مثال چندیادگارفقرے دیے گئے ہیں۔ یہ فقرے دیکھیں۔
خواہش ایسااسم ہے جوسب بھیدوں کی کنجی ہے۔
لطیفہ نسل آدم کی میراث ہوتا ہے اسی لیے جہاں تک ہوسکے اسے خلقِ خداتک پہنچانا چاہیے۔ اتنی ٹینس اور پریشان زندگی میں کچھ تواپنے ہونے کا احساس ہو۔
میر کا پرابلم یہ ہے کہ اس کی دستارہمیشہ خطرے میں رہی ہے۔ سوداہماری کلاسیکی شاعری کاپرابلم چائلڈ ہے۔ نظیر اکبر آبادی ایک اعتبارسے اردوشاعری کا محمد تغلق ہے۔
اسلام کو اپنے دوناموں کے بیچ میں رکھاہے تاکہ جوآنچ بھی آئے میرے نام پرآئے، اسلام پرنہ آئے۔
جہاں تک زمانے اورتجربے کاتعلق ہے اس کاقصہ یوں ہے کہ ازل سے ایک منظرہے فقط آنکھیں بدلتی ہیں۔
زندگی جیسی نظر آتی ہے ویسی ہے نہیں، اور جیسی ہے ویسی نظر نہیں آتی۔

موضوعات اپنااسلوب ساتھ لے کرآتے ہیں لیکن شاعرکااصل کمال انہیں اپنے فطری اسلوب سے ہم رنگ اور ہم آواز کرنا ہے اور یہ وہ وصفِ خاص ہے جوہرزبان کے تمام بڑے شاعروں کا مشترک ورثہ ہے۔

’’دورِ حاضرکے حمدیہ موضوعات کاجائزہ‘‘ جس کاذیلی عنوان ’امجدکاشعری انکسار اور فکری اجتہاد‘ ہے۔ سیدتقی عابدی لکھتے ہیں۔ ’’ہمارا یہ مضمون امجد اسلام امجدکی حمدیہ منظوم نگارشات کا تجلیلی، تحلیلی، تشریحی، توصیفی، مذہبی، قرآنی عقیدتی، ادبی اورشعری جائز ہ ہے جوشریعت، طریقت اورحقیقت کے نقش و نگار کے ساتھ ساتھ اکیسویں صدی کے سماجی تہذیبی اورتربیتی قدروں کاصحیفہ بھی ہے۔ چنانچہ اس گلستان کی سیر اور گل چینی آسان اورمحدود اس لیے بھی نہیں کہ یہ ذکروبیان اس رب العالمین سے مربوط ہے جونہ صرف لاالہ کاالااللہ ہے بلکہ اس کے صفات لامحدود کمالات برکات لاانتہا اور اس کی ذات پرانسانی عقل لاعاقل اور عاجز ہے پھربھی اس محدودیت میں ہماری یہ توفیق کی فراوانی ہے کہ اس رب العالمین کی حمد، تعریف، ثنا، تسبیح اور تحلیل کے کچھ پھول امجدکے گلشن حمدسے گل گشت کے دوران گل چیں کرکے گلدستہ ء عشق کی شکل میں پیش کریں تاکہ عامی وعالم، مسلم اورغیرمسلم سب اس کی خوشبو اور رنگینی سے فیضیاب ہوسکیں ورنہ سچ تو یہ ہے کہ اگر سمندر روشنائی، تمام اشجار قلم اور تمام جن وانس کاتب بن جائیں تب بھی اس رب العزت کی حمد بیان نہیں ہوسکتی۔‘‘

اس مضمون میںحمدکیاہے؟ حمد کی تاریخ، حمدشعروادب کی روشنی میں، حمدکاارتقا اورامجدکی حمدیں۔ ان سب کی وضاحت کی گئی ہے۔ ’’حمدوں میں ’کن فیکون‘ کاتجسس اورتلقین‘‘ ایک بہت دلچسپ اورمعلومات افزامضمون ہے۔ ’’حمدوں میں مناجاتی اوردعائیہ تجلیات‘‘ اور’’حمدوں میں کعبے کی قبلہ نمائی‘‘ ان چاروں مضامین میں مجموعی طور پرحمدیہ شاعری کاآغاز و ارتقا اوراس میں صرف امجداسلام امجد کی حمدیہ شاعری نہیں بلکہ پوری تاریخ بیان کی گئی ہے۔ امجد کے حمدیہ اشعارنے مضامین کی اہمیت اوردلچسپی میں اضافہ کیا۔

اگلا مضمون ’’نعتیہ کلام کی معجزبیانی‘‘اور’’سلاموںکی اہمیت اورافادیت‘‘ میں نہ صرف امجدکی نعتیہ شاعری اورسلاموں کا جائزہ لیاہے بلکہ ان کی تاریخ اورارتقاکوبھی عمدگی سے پیش کیاگیاہے۔ ایک دلچسپ مضمون ’’علامت نگاری میں خوابوں کی کرشمہ سازیاں‘‘ میں امجداسلام امجد کی شاعری میں علامات اورخوابوں کا ذکر اور انہیں استعمال کرنے میں شاعر کی فنی مہارت کو خراج تحسین پیش کیاہے۔

’’برگزیدہ اورامجدی نظموں کاتجزیہ‘‘ میں مصنف نے لکھاہے۔ ’’ امجدشناسی شعریت کی بنیاد پرکم ہوئی ہے یعنی ان کی وہ نظمیں جوذات اور کائنات فہمی سے تعلق رکھتی ہیں اورجن سے ہمیں کون ومکان کے رموزاورخالقِ کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اُس سے عوام توکجا خواص بھی واقف نہیں۔ شایدآنے والی نسلیں اس سے استفادہ کریں گی چونکہ امجد چھپ چکاہے اورسچ ہے۔ ع: چھُپ نہیں سکتاہے شاعر شعر کے چھپنے کے بعد۔ امجد کی نظم ’آبِ حیات‘ ہمیں آبِ حیات پی کرجاوداں ہونے کی دعوت دیتی ہے۔ ‘‘یہاں امجد کی نظموں کے ٹکڑے بھی بہت عمدہ ہیں اورمضمون کی تفہیم میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

’’غزل میں خیال اورلفظ کے اتصال کاجمال وکمال‘‘ میں امجداسلام امجدکی غزلیہ شاعری کاجائزہ لیاگیاہے۔ امجداگرچہ نظم کے شاعرمشہور ہیں لیکن ان کی سواتین سوغزلیں مطبوعہ شکل میں کلیات غزل۔ ’’ہم اس کے ہیں‘‘ میں موجود ہیں۔ مضمون میں امجد کی منتخب غزل کے اشعار پر تنقیدی، تجزیاتی اورتشریحی تبصرے سے پہلے اردوشعروادب میں غزل اور امجد کی غزل گوئی پر بھرپور نظر ڈالی گئی ہے اوران کے انتخاب سے اس کے معیارکاتجزیہ کیاگیاہے۔ اگرچہ شاعری کو حتمی طور پرخانوں میں تقسیم نہیں کیاجاسکتا، پھربھی نظم نظم ہے اورغزل غزل ہے۔

ممتاز شاعر اور نقاد خورشیدرضوی نے ’’شاعرامجد‘‘ میں سچ کہاہے۔ ’’ امجدنے جس بے ساختہ اورسچے انکسارسے کام لیا ہے اس سے اس کے اندرکی بڑائی منکشف ہوتی ہے۔ امجدکی غزلوں کے قارئین کا حلقہ واقعی خاصابڑا ہے وہ ہمارے مقبول ترین ہم عصروں میں ہے اوران کی غزل میں ان کے بہت سے احباب سے بہت بہتر شعر نکل آتے ہیں جواپنے مقام کے تعین میں خودمیر و غالب کو بھی کہیں میلوں پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔‘‘ امجد کی غزل میں کچھ نئے مضامین دیکھیں۔

کاٹے ہیں اس طرح سے ترے بعد روزوشب
میں سانس لے رہا تھا پہ زندہ نہیں رہا
اُ س کی گلیوں میں گردِ سفر کی صورت
سنگِ منزل نہ بنے، راہ کا پھترنہ ہوئے
دن کے بھولے کو اور کیا کہیے
جو سرِ شام بھی نہیں آیا

’’کلام امجد میں وقت کی تصویر کشی‘‘ میں تقی عابدی لکھتے ہیں۔ ’’وقت امجد کی شعری اُپچ کاایک خاص سبجیکٹ ہے۔ امجد نے اسے کسی خاص ضابطے کے تحت نہ کہاہے اورنہ اس کوکسی خاص ترتیب کے ساتھ جمایاہے بلکہ یہ افکار و خیالات ان کے شعری کوہ ودمن میں قدرتی پھولوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں جن کوچُن کرگلدستہ بنانابھی اس لیے آسان نہیں کہ وقت کے موضوعات کی طرح ان کی شکلیں، رنگ اورجسامتوں میں فرق ہے لیکن اشعارفکری زاویوں کو متحرک اور خیالات کو منہمک کرتے ہیں اور آگاہی کے دروازوں پردستک دیتے ہیں ہمارے مطالعے میں بعض فارسی اوراردوکے شاعروں جن میں اساتذہ بھی شامل ہیں انہوں نے تصوفی اورفلسفہ کی منطقی اور وجدانی سیرکی ہے۔ وقت اور زمان ومکان پر شعر کہیں ہیں۔ ان میں سے بعض کاذکرخودامجدنے اپنی تنقیدی کتاب ’نئے پرانے‘ میں کیاہے۔ ‘‘ان کی نظم آج دیکھیں۔

یہ ’’آج‘‘ جوکل میں زندہ تھا
یہ ’’کل‘‘ جوآج میں زند ہ ہے
وہ کل ’’جوکل ‘‘ کے ساتھ گیا
وہ کل ’’ جوابھی ‘‘ آئندہ ہے
گرزچکے اورآنے والے جتنے’’کل ‘‘ ہیں ’’کل ‘‘ تھے
ان کاکوئی وجود نہ ہوتا
ہم اورتم بے اسم ہی رہتے
’’آج‘‘ اگرموجود نہ ہوتا

کتاب کے دیگرمضامین میں ’’کلام میں رزق کی فراوانی‘‘، ’’شعری آہنگ میں محبت کے ڈھنگ‘‘، ’’اشعارمیں آنکھوںکی جلوہ گری‘‘، ’’ سحر آثارکی رونمائی‘‘، ’’شعریات امجدکے چندہنری نکات‘‘، ’’اقربا اور مشاہیر پردلکش نظمیں‘‘، ’’ امجدکاشاعر اور شاعری پرمنظوم تبصرہ‘‘شامل ہیں۔ جس کے بعد ’’ امجد کاکلاسک شعراپرریویو اور شعری انتخاب‘‘ اور ’’امجد کی شاعری پر مشاہیرِ شعروادب کے تاثرات‘‘میں ان کے کلاسیکی شعراء پرتبصرے اوران کی شاعری کے بارے میں مشاہیرِ علم وادب کے تاثرات دیے گئے ہیں۔

’’امجد فہمی‘‘ کے آخری حصے میں امجداسلام امجدکے شعری انتخاب سترمنظومات میں حمدونعت، نظم وغزل اور دیگر اصناف دی گئی ہیں۔ نثری انتخاب تیرہ تخلیقی شہ پارے شامل ہیں۔ جن میں ’’وارث ‘‘ کا ٹکڑا ایک اورڈرامے’’سمندرکے نیچے‘‘ سفرناموں میں ’’لندن‘‘، ’’ہانگ چُو‘‘، ’’چلوجاپان چلتے ہیں‘‘ اور’’آگرہ‘‘ کے اقتباسات ہیں۔ چھ کالم بھی اس حصے میں شامل ہیں۔ جبکہ مصحفی کے بارے میں امجداسلام امجد کا ایک مضمون بھی دیاگیاہے۔ آخر ی ایک سوساٹھ صفحات پر امجد اسلام امجدکی تصاویردی گئی ہیں۔ اس طرح’’امجدفہمی‘‘ بنیادی طور پرامجداسلام امجد کی شاعری کا بھرپور تجزیہ ہے۔ لیکن کتاب میں مجموعی طور پران کے فن کی مختلف جہات کوپیش کیاگیاہے۔ شعروادب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ’’امجد فہمی‘‘ بہترین کتاب ہے اوراسے اپنی ذاتی لائبریری میں رکھاجانا چاہیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20