“فارغ البال” —- امجد اسلام امجد کا شخصی خاکہ — سلمان باسط

0

جس دن سے پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، اسلام کے نفاذ کی جدوجہد لگاتار اور پوری تندہی سے ہو رہی ہے۔ شاید اتنی کوشش پاکستان بنانے میں صرف نہ ہوئی ہو جتنی اس کے بننے کے بعد یہاں اسلام کے نفاذ کے لیے ہوئی ہے۔ اندیشہ یہ ہونے لگا تھا کہ اس کشاکش میں کہیں لوگ اسلام کو گم ہی نہ کر بیٹھیں۔ اس صورتِ حال پر وطنِ عزیز کے ایک سپوت کا دل اس قدر بھر آیا کہ اس نے ایک دن “چپ چپیتے” تین پھٹے جوڑے اور بیچ والے پھٹے میں اسلام کو اس طرح محفوظ کر لیا کہ کوئی نا ہنجار اسے چرانے کی مذموم کوشش نہ کرے۔ دائیں اور بائیں والے دونوں پھٹوں پر سیکیورٹی کے نقطہء نظر سے امجد لکھ دیا تاکہ کسی کو پتہ نہ چل سکے کہ اسلام کا اصل رکھوالا کون سا امجد ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ اسلام تک پہنچنے کے لیے امجد کا دریا عبور کرنا پڑتا ہے اور آپ جانتے ہی ہیں کہ منطقی اعتبار سے یہ بات کتنی درست ہے۔ میرے مرحوم دوست اور باکمال شاعر عدیم ہاشمی نے کیا خوب کہا تھا:

بوجھو بچو، بوجھو بچو، بوجھو اس کا نام
آگے امجد پیچھے امجد، بیچ پھنسا اسلام

اقبال اور فیض کی دیکھا دیکھی امجد اسلام امجد نے بھی سیالکوٹ میں پیدا ہونے کو ترجیح دی۔ سیالکوٹ کے اس ہونہار سپوت کو بھنک پڑ گئی کہ محض تین سال بعد ہی اگست کے مہینے میں پاکستان بھی پیدا ہونے والا ہے لہذا اس ضدی بچے نے اگست کے مہینے میں پیدا ہونے کی ٹھان لی۔ چنانچہ پاکستان بننے سے تین سال پیشتر اگست کی چار تاریخ کو یہ وقوعہ ظہور پذیر ہوا۔ اس کارِ خیر کی تکمیل میں چار کے ہندسے کی غیر معمولی اہمیت قابلِ غور ہے۔ 4 اگست 1944 کی منفرد تاریخ کو پیدا ہونے والے بچے نے فطری طور پر غیر معمولی ہی ہونا تھا۔ اقبال اور فیض کے تتبع میں سیالکوٹ میں پیدا ہو جانے کے بعد اگلا مرحلہ درپیش تھا۔ نہ تو نومولود کے پاس اقبال کا شاہین تھا اور نہ فیض کا انقلاب۔ اس کی زنبیل میں جو سامان قدرت نے رکھ کر بھیجا تھا اس میں کومل نظمیں، مدھر غزلیں اور لوگوں کے دلوں پر تادیر راج کرنے والے ڈرامے تھے۔ سو سارے فیصلے نہایت سے سرعت سے کر لینے کی صلاحیت رکھنے والے اس ہونہار بروا نے اپنے چکنے چکنے پات لاہور کی دلربا سرزمین پر اتارنے کا فیصلہ کر لیا جو علم، ادب اور فنونِ لطیفہ کا ٹکسال تھا اور جہاں سے ڈھلنے والے اس سکّے نے آنے والے وقتوں میں اپنی چکاچوند سے پوری اردو دنیا کی نظروں کو خیرہ کرنا تھا۔

زمانہء طالب علمی میں ہمارے اس دوست کو کرکٹر بننے کا بہت شوق تھا۔ یہ شوق جنون کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا۔ چشمِ تصور میں اس نے خود کو بارہا کرکٹ کی یونیفارم پہنے قومی ٹیم کی نمائندگي کرتے، گراؤںڈ میں بڑے طمطراق سے اترتے، لاکھوں دلوں کی دھڑکن بنتے اور چاروں جانب امڈتی ہوئی حسیناؤں کو اک ادائے بے نیازی سے آٹوگراف دیتے دیکھا۔ اگر قدرت کو کچھ اور منظور نہ ہوتا تو یقینا” وہ ایک بڑا کرکٹر بن کر ہی دم لیتا۔ قدرت کو اس کی ان معصوم خواہشوں پر پیار آگیا۔ وہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن بھی بن گیا، اس کی شہرت اوجِ ثریا کو چھونے لگی، حسیناؤں کا جھرمٹ بھی اس کے ارد گرد رہنے لگا۔ وہ سب کو بے نیازی سے تو نہیں، بڑی محبت سے آٹوگراف بھی دینے لگا مگر وہ نہ بن سکا جو وہ بننا چاہتا تھا۔ اسلامیہ کالج سے گریجویشن کرنے اور پنجاب یونیورسٹی میں داخلے کے بعد کرکٹر بننے کا خواب کہیں بھاپ بن کر اڑ گیا اور امجد اسلام امجد نے شاعر بننے کی ٹھان لی۔ اس مستقل مزاج اور محنتی شخص نے شاعری اور ادب میں وہ مقام پیدا کیا، ایک کرکٹر جس کا فقط خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔ کرکٹر ایک مدت تک لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتا ہے۔ پھر اس کے بعد نئے ہیرو اس کی جگہ لے لیتے ہیں مگر میرا دوست زندگي کی ستر سے زائد بہاریں دیکھ لینے کے باوجود ہیرو ہے۔ اللہ اس کو زندگي اور صحت دے، وہ یقینا” بہت دیر تک اسی طرح ہیرو رہے گا۔ ہماری بھابھی کے علاوہ دیگر ہیروئنز چاہے بدلتی رہیں۔ اس میں نہ کوئی مضائقہ ہے اور نہ ہمارے دوست کو کوئي اعتراض۔ اللہ اللہ خیر سلّا۔

تعلیم سے فراغت کے بعد اس نے اپنی پیشہ وارانہ زندگي کا آغاز لیکچرر کی حیثیت سے کیا۔ اس پیغمبری پیشے کو اس نے کسی نہ کسی طور زندگي بھر اختیار کیے رکھا۔ بیچ میں مختلف مناصب کالی بلی کی طرح اس ملازمت کی راہ کاٹتے رہے مگر اس نے خود کو کبھی مکمل طور پر اس پیشے سے غیر وابستہ نہ کیا۔ اس کی جھولی میں پاکستان ٹیلی ویژن، اردو سائنس بورڈ اور چلڈرن لائبریری کامپلیکس کی ڈائریکٹری مختلف اوقات میں آآکر گرتی رہی۔ وہ ہر عہدے کو بہت بردباری اور خوش اسلوبی سے نبھاتا رہا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اپنے کچھ ہم عصروں کی طرح جاہ و حشمت، مقام و مرتبے اور مال و منال کی خاطر خود کو گروی رکھ دینے کی اہلیت رکھتا تو اب تک بہت سے ایسے عہدے اس کے پاؤں کی خاک ہوتے جنہیں اس سے کہیں کم اہل اور کم علم لوگ اپنے پاؤں تلے روند چکے ہیں لیکن اس نے ان سب دنیاوی فوائد کی کجکلاہی کے بدلے لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے محبت اور عزت خرید لی۔ اس کی طبیعت کے انکسار، عجز، محبت، خلوص اور انسانی اقدار پر ایمان نے اسے محض ایک ادیب اور شاعر کی سطح سے کہیں بلند لے جا کر کھڑا کردیا ہے۔۔۔۔۔۔ “فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شک”

امجد اسلام امجد کے بیضوی چہرے پر دو حیران مگر مہربان آنکھیں ہیں۔ ان دو آنکھوں میں محبت ہلکورے لیتی رہتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ محبت صرف صنفِ کرخت تک محدود نہیں۔ اس نے محبت کے پیغام کو جہاں جہاں تک پہنچانے کا عزم کیا تھا وہاں وہاں تک پہنچا کر رہا۔ اس سفر میں سطح مرتفع بھی آئی مگر اس کے پائے استقامت میں کبھی لغزش نہ آئی۔ اس کا پیغام اپنے گرائیں اقبال کی طرح نیل کے ساحل سے لے تابخاکِ کاشغر تو نہ پہنچ سکا مگر گلگت سے کراچی تک ضرور پہنچا۔ بسا اوقات تو اس کی محبت نے ملک کی حدود سے تجاوز بھی کیا لیکن اس فن میں اس کی مہارت کو داد دینا پڑتی ہے کہ اس نے دامن اس طرح بچا کر رکھا کہ نچوڑنے پر فرشتے بھی شاید وضو کر بیٹھتے۔

میں نے اس کی بہت پرانی تصاویر بھی دیکھی ہیں اور بہت غور سے دیکھی ہیں۔ اس کی ازمنہء وسطی والی تصاویر میں بھی سر پر بال نہیں۔ ایسا لگتا ہے اس کو مکمل طور پر فارغ البال کرکے ہی اس دنیا میں بھیجا گیا تھا۔ اب اس کی شبیہ بالوں کے تصور کے ساتھ مکمل ہی نہیں ہوتی۔ سچ پوچھیے تو اب وہ اسی طرح اپنے سر کے چاند کے ساتھ ہی بھلا لگتا ہے۔ اس کے سر اور چہرے کی گندمی رنگت کچھ اس طرح ہم آمیز ہو کرسامنے آتی ہے کہ ماہر جغرافیہ دان بھی حدود اربعہ کا کماحقہ تعین نہیں کرپاتے۔ عجیب بات یہ ہے کہ میں نے بہت سے لوگوں کو اپنے اپنے سروں پر بالوں کے دلکش سٹائل رکھنے کے باوجود اس کے سامنے احساسِ کمتری میں مبتلا دیکھا ہے۔ ویسے تو وہ اب ہر اعتبار سے فارغ البال ہے۔ ڈرامے لکھنا بھی تقریبا” ترک کر چکا ہے، نوکری بھی تیاگ چکا ہے۔ نظمیں بھی بے شمار لکھ چکا ہے۔ کتابوں کا بھی انبار لگا چکا ہے اور لوگوں سے وصول کردہ محبتوں کا پہاڑ بھی سر کر چکا ہے۔ اب وہ مکمل فارغ البال ہو کر اس پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا نیچے بسنے والی دنیا کا چشم_ تماشا سے تماشا کر رہا ہے۔

میانہ قامت، میانہ جسامت اور میانہ لہجے سے اس نے میانہ روی کا کچھ ایسا اہتمام کر رکھا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ اس کو کبھی بلند آواز میں گفتگو کرتے نہیں دیکھیں گے۔ غالبا” اسے یقین ہے کہ وہ آواز بلند کیے بغیر بھی اپنی بات منوا سکتا ہے۔ وہ مخاطب کی بات پوری توجہ اور اطمینان سے سنتا ہے۔ پھر اپنی باری آنے پر اتفاق یا اختلاف کرتا ہے۔ میں نے اسے کبھی اختلاف کرتے ہوئے غصے میں آتے، آواز کو بلند کرتے یا ناراض ہوتے نہیں دیکھا۔ آپ اس سے اختلاف کریں، اس کی بات ماننے سے انکار کر دیں، حتی کہ اس کو اشتعال بھی دلانے کی کوشش کر دیکھیں، باری آنے پر اس کی گفتگو اور آواز کی سطح وہی رہے گي جو اس نے اپنے لیے معیّن کر رکھی ہے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے اس نے اپنی آواز کے والیم کی پروگرامنگ کروا رکھی ہے۔ اس کی آواز میں ایک عجیب طرح کی تال ہے جو کبھی کسی طبلے سے برآمد ہونے والی موسیقی محسوس ہوتی ہے اور کبھی اظہار کی جدوجہد میں مصروف ایک پرسوز نالہ جو بمشکل سامع تک سفر طے کر پاتا ہے۔ اس سفر کو منزل تک بخیر و خوبی پہنچانے کے لیے سامع کو بھی بہت سا سمعی اور بصری تعاون کرنا پڑتا ہے۔ اس کی یہ میانہ روی صرف گفتگو اور لہجے سے ہی نہیں ٹپکتی، اس کا رویہ اور اس کے جذبات بھی حدِ اعتدال سے آگے نہیں بڑھتے۔ میں نے ادیبوں اور شاعروں کی اپنی اس برادری میں بہت سے لوگوں کو اس کے ساتھ، اس کی شاعری کے ساتھ خدا واسطے کا بیر رکھتے دیکھا ہے اور اس کے بارے میں زہر اگلتے بھی سنا ہے مگر اس کی زبان سے کبھی کسی کے بارے غیر معتدل گفتگو نہیں سنی۔ اتنا غیر ضروری اعتدال تو بعض اوقات تو مخالف فریق کو ٹھیک ٹھاک اشتعال دلانے لگتا ہے۔ بھلا ایسا اعتدال کس کام کا کہ کوئی ٹھک ٹھک ہی نہ ہو۔ جانے وہ اتنے آرام سے کیسے جی لیتا ہے۔

پینٹ شرٹ اس کا عمومی ملبوس ہے لیکن وقت پڑنے پر شلوار قمیص بھی زیب تن کر لیتا ہے۔ ہلکا آسمانی نیلا رنگ اس کا محبوب پہناوا ہے۔ شاید وہ آسمان کی وسعتوں کو چھونا چاہتا ہے یا ان پہنائیوں میں گم ہونا چاہتا ہے۔ زیادہ مشکل میں ڈال دینے والا لباس وہ نہیں پہنتا۔ میں نے کم کم ہی اسے کوٹ پینٹ کے ساتھ ٹائی لگائے دیکھا ہے۔ یہ اس کے آسان رہنے کی کوشش کی دلیل ہے۔

امجد اسلام امجد ایک خوش گفتار، زندہ دل اور حاضر جواب شخص ہے۔ وہ ہر محفل کی جان ہوتا ہے۔ مخاطب کو ہمہ وقت اس کے برجستہ جملوں کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ اس کا ذہنِ رسا دوسرے شخص کی بات سے مطلوبہ جملہ اچک لیتا ہے اور وہ اتنے بے ساختہ انداز میں جملہ کستا ہے کہ فریقِ ثانی کسمساتا رہ جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے جملوں کے پیچھے کسی کی تضحیک کا جذبہ ہرگز کارفرما نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ دوسرا شخص جملے “کھا” کے بھی بدمزہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی بذلہ سنجی سے پوری طرح لطف اندوز ہوتا ہے۔ وہ جملہ پھلجھڑی کی طرح چھوڑتا ہے اور اس سے خود بھی بھرپور طریقے سے لطف اٹھاتا ہے۔ جملہ کستے ہی وہ ایک زوردار قہقہہ لگاتا ہے اور اپنے دائيں ہاتھ اور کہنی کو ذرا سا کھینچ کر مخاطب کے سامنے کر دیتا ہے کہ اگر سامنے والا شخص جملہ سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو تو اس کا دستِ نیم کش واپس اپنی جگہ پر آ جائے۔ اس کو بہت سے لطائف ازبر ہیں اور لطیفہ سناتے ہوئے وہ خود ہی اتنا لطف لے لیتا ہے کہ سننے والے کے لیے لطف کا سامان بہت کم چھوڑتا ہے۔ باقی بات اس کے زوردار قہقہے میں دب جاتی ہے۔

وہ عام طور پر لوگوں سے اردو میں گفتگو کرتا ہے لیکن دوستوں کے ساتھ نجی محفلوں میں سیالکوٹ اور لاہور کے لہجوں پر مشتمل ایک ایسی پنجابی بولتا ہے جو ان دونوں شہروں کی مشترکہ پروڈکشن کی چغلی کھاتی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی پنجابی کا ذخیرہء الفاظ اس کے سیالکوٹی ہونے کا پتا دیتا رہتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ لاہور میں عمرِ عزیز کا طویل عرصہ گزار دینے کے بعد اس کے لہجے میں سیالکوٹ کی وہ مخصوص لچک نہیں رہی جس کا اپنا ہی “سواد” ہے۔ وہ بےتکلفی اور سہولت سے پنجابی بولتا ہے تو اس کے اندر کی آسانی کا احساس پوری فراوانی کے ساتھ چمکنے لگتا ہے۔ فون پر بات کرتے ہوئے “برادر” کہہ کر مخاطب کرنا نہیں بھولتا۔ میرا بہت جی چاہتا ہے کبھی خاتون بن کر اسے فون کروں اور سنوں آیا اخوت کا یہ جذبہ صرف مردوں تک محدود ہے یا خواتین بھی اس سے مستفید ہوتی ہیں۔ ویسے تو مجھے پورا یقین ہے کہ میری بات کے دوسرے حصے میں یقین کی کوئی گنجائش نہیں ہوگي۔

امجد اسلام امجد کھانے کا خصوصی ذوق رکھتا ہے۔ اگرچہ وہ زیادہ بلکل نہیں کھاتا لیکن کھانے کی اور بالخصوص اچھے کھانے کی خصوصی رغبت رکھتا ہے۔ اس کو دنیا بھر میں وہ تمام جگہیں ازبر ہوتی ہیں جہاں اچھا، لذیذ اور معیاری کھانا دستیاب ہوتا ہے۔ میٹھا اسے پسند ہے اور دوسروں کو بھی میٹھے کے فضائل سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ اسے مرچیلے اور تیز مصالحوں والے کھانے بھی پسند ہیں۔ اپنے خوش ذوق ہونے کا ثبوت دینے کے لیے ایک دفعہ اس نے شہرہء آفاق مصور صادقین کو بھی گوالمنڈی کے تیز مرچوں والے کھانے کھلا دیے۔ بعد کی تفصیلات غیر ضرری ہیں۔

اردو ادب میں گنڈاسا متعارف کروانے کا الزام کچھ لوگ احمد ندیم قاسمی صاحب کو دیتے ہیں۔ مشہور ڈرامے “وارث” کے کردار چوہدری حشمت کے ذریعے ایک سلطان راہی کو متعارف کروانے کا ذمہ شاید امجد اسلام امجد کے سر جائے۔ پنجاب کے دیہات کے طرزِ زندگی کی حقیقی ترجمانی تو اس ڈرامے نے ہر ناظر تک کروا دی لیکن چوہدری حشمت کا کردار اتنا توانا ہو گیا کہ شاید اسی طرح مصنف کے ہاتھ سے نکل گیا جس طرح “مرچنٹ آف وینس” کا شائی لاک شیکسپئیر کے بس میں نہیں رہا تھا اور “پیراڈائز لاسٹ” کا سیٹن ملٹن کی دسترس سے باہر ہو گیا تھا۔ امجد اسلام امجد نے اس کردار کے ذریعے ابو جہل کی ہٹ دھرمی، جہالت اور تکبر کی عکاسی کرنے کی کوشش کی مگر یہ کردار اتنا مقبول ہوا کہ شاید ہی کسی کو اس ڈرامے میں اچھائی کی نمائیندگی کرنے والا کوئي کردار اب یاد ہو۔ اگر یاد رہا تو پوری آن بان سے شاندار مکالمے بولنے والا، اونچے شملے اور خبردار مونچھوں والا ہٹ دھرم، ظالم اور ضدی چوہدری حشمت۔ لیکن یہ گئے وقتوں کی بات ہے۔ اب ہمارا ڈرامہ نگار دوست اس سے بہت آگے نکل آیا ہے۔

وہ دوستوں کا دوست ہے لیکن دشمنوں کا دشمن نہیں۔ جملہ کستے ہوئے ہاتھ کھینچ کر رکھنے والا میرا دوست دشمنی میں بھی ہاتھ کھینچ کر رکھتا ہے۔ اسے صرف دوست بنانے آتے ہیں۔ دوسرا ہنر اس نے سیکھا ہی نہیں۔ اس سے محبت کرنے والے بے شمار ہیں لیکن اس کے حاسدین کی بھی کمی نہیں۔ چالیس سے زیادہ کتابوں کا مصنف، دل میں اتر جانے والی نظمیں اور غزلیں کہنے والا خوبصورت شاعر، پاکستان ٹیلی ویژن کا سب سے مقبول اور کامیاب ڈرامہ نگار، دلکش اسلوب کا حامل کالم نگار اور اپنے شاگردوں کی محبتیں سمیٹنے والا شفیق استاد امجد اسلام امجد ایک لیجنڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ سوچا جائے تو پی ٹی وی پر کام کرنے والے بہت سے لوگوں کا تو وہ جدّ_ امجد ہے۔ شہرت کی دیوی نے اس کے ماتھے پر بہت پہلے اپنے بوسے کا نشان ثبت کر دیا تھا۔ اس کی یہ تمام حیثیتیں مسلمہ ہیں اور اس کی بلند قامتی کا تعین کرتی ہیں مگر اس کی اصل قامت اس کا بہت عمدہ اور نفیس انسان ہونا ہے۔ میں نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے، بارہا طویل گفتگو کی ہے، اکٹھے بہت سی محفلوں میں شرکت کی ہے، ایک ساتھ مختلف جگہوں پر مشاعرے پڑھے ہیں، کھانے کھائے ہیں لیکن اس کے ساتھ کھڑے ہو کر مسجدِ نبوی میں نماز پڑھی تو مجھ پر اصل امجھ اسلام امجد کھلا۔ اس کا ذوق و شوق، اس کا خضوع و خشوع اور روضہ مبارک کے سامنے اس کی آنکھوں میں جھلملانے والے موتی میری نظروں میں اسے اتنا شفاف، اتنا عاجز اور اتنا خوبصورت انسان بنا گئے کہ اب مجھے اس میں ڈھونڈے سے کوئي ایسی خامی نہیں ملتی جس سے وہ لوگوں کی نظر میں کوتاہ قامت ہو جائے۔ میں نے پوری کوشش کی کہ خاکہ لکھتے ہوئے اس کو ایک جیتے جاگتے انسان کے طور پر ہی پیش کروں لیکن مجھے اعتراف ہے کہ اس نے میری ساری محنت ضائع کر دی اور میں اس کی خامیوں، کجیوں اور گناہوں کو مقدور بھر تلاش نہ کر سکنے کے باعث ان کا خاطر خواہ احاطہ نہ کر سکا۔ لہذا میں اپنے دوست کے خاکے کو “جیسا ہے جہاں ہے” کی حیثیت میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20