راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 19) —- یاسر رضا آصف

0

گاڑی اپنی مخصوص آواز کے ساتھ ہنزہ کی وادی کو خدا حافظ کہہ رہی تھی۔ گاڑی کے اندر اُدھم مچا ہوا تھا۔ شور اتنا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ سبھی بڑھ چڑھ کر بول رہے تھے۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں مسلسل بول رہے تھے۔ نیا موضوع جو ہاتھ آگیا تھا اس لیے ماحول شگفتہ ہو گیا تھا۔ جسے بھی چھیڑا جاتا وہ ایسا چھڑتا کہ چُپ ہونے کا نام ہی نہ لیتا۔ موضوع ہی کچھ ایسا تھا۔ دراصل قلعہ کی اترائی پر مختلف دکانیں تھیں۔ جس میں ایک دکان کی پیشانی پر یہ عبارت کنندہ تھی۔ ’’خالص سلاجیت دستیاب ہے‘‘ سبھی نے دلچسپی لی تھی اور بڑھ چڑھ کر خریداری کی تھی۔ کوئی کراکری کے بہانے خرید لایا تھا تو کوئی لکڑی کی اشیاء کے ساتھ لے آیا تھا۔

سبھی کو بہ خوبی علم تھا کہ ہر ایک نے خریدی ہے اور بھاری مقدار میں خریدی ہے۔ سبھی ایک دوسرے سے خریدی گئی اشیاء کا مصرف پوچھ رہے تھے۔ وجہ دریافت کر رہے تھے۔ چوں کہ وہ اشیاء تو اصل تک پہنچنے کا ذریعہ تھیں۔ اس لیے ماحول خاصہ مضحکہ خیز صورت اختیار کر گیا تھا۔ فہیم اور فخر نے دیدہ دلیری دکھائی اور جیب سے سلاجیت نکال کر ہوا میں لہرانے لگے۔ فہیم نے سیر حاصل لیکچر شروع کر دیا کہ کیسے سنگلاخ پہاڑوں سے اسے نکال کر لایا جاتا ہے اسے پہاڑوں کا پسینہ بھی کہتے ہیں۔ پھر کس طرح ان پتھریلے ٹکڑوں کو پانی میں ابال کر یہ نایاب شئے الگ کی جاتی ہے۔ اب فخر سلاجیت کی افادیت پر بات کرنے لگا تو میرے ساتھ بیٹھے اسلام کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ یہ سرخی غصے کے باعث تھی یا شرم کی وجہ سے تھی۔ اس کی خبر مجھے نہ ہو سکی لیکن سرخی کی لہر میں نے اسلام کے چہرے پر ضرور دیکھی۔ پہاڑی لوگوں کا کلچر، رہن سہن اور ماحول دوسرے علاقوں سے میل نہیں کھاتا۔ وہاں کی اقدار بہت مختلف ہیں۔ یہی انفرادیت ان کی شناخت بھی ہے۔

چودھری عابد، سمیر اور میں نورانی نور کے پہاڑوں کو دیکھ رہے تھے۔ ہم لوگ قبرستان میں بکھرے ہوئے پتھروں پر بیٹھے ڈوبتے سورج کا نظارہ کررہے تھے۔ سخت چٹانوں کو کھود کر کیسے قبریں تیار کی گئی تھیں۔ یہ موضوع ہماری گفتگو کا مرکز تھا۔ جا بجا قبریں تھیں جو پتھروں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ جن پر پتھریلے کتبے سجے تھے۔ شکستہ خط میں کچھ نام پڑھے جاسکتے تھے اور زیادہ تر مٹ چکے تھے۔ سورج آہستہ آہستہ پہاڑوں کے پیچھے اپنا آپ چھپا رہا تھا۔ پہاڑی علاقے کی شام ہمارے علاقے سے خاصی مختلف تھی چوں کہ وقت سے پہلے ہی سورج سنگلاخ پہاڑوں کے پیچھے غائب ہو رہا تھا۔ سائے لمبے ہوتے جارہے تھے اور پتھریلے مکانوں پر چھا رہے تھے۔ ہم تینوں نے واپسی کا راستہ ماپا۔ ہم ڈھلوان سے قدم جما کر اترنے لگے۔

ہم لوگ قبرستان کی اونچائی پر تبصرے کرتے ہوئے نیچے آرہے تھے۔ قبروں کی ہیئت اور بناوٹ ہمیں بار بار بات کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ یوں ہی باتیں کرتے ہوئے ہم لوگ چوک میں آگئے۔ وہاں ہماری بس کھڑی تھی۔ جس کے ٹائروں کو دھویا جارہا تھا۔ ہم نے ڈرائیور اور کنڈیکٹر سے سلام دعا کی۔ بس کی حالت کے بارے پوچھا اور بازار کا چکر لگانے لگے۔ بازار تو بس نام کا تھا۔ نیچی چھتوں والی پتھریلی دکانیں اپنے لکڑی کے بازوئوں کو کب کی سمیٹ چکی تھیں۔ ہو کا عالم تھا۔ شام جیسے کسی آفت کا پیغام لے کر آئی تھی۔ ہم تینوں بڑے سے پتھریلے چبوترے پر بند دکان کے کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔ ماحول خاصہ پر اسرار ہو رہا تھا۔ ہم لوگ سگریٹ سلگا کر اسے مزید پر اسرار بنانے لگے۔

سگرٹیں سلگتی جا رہی تھیں اور دھواں چھوڑتی جا رہی تھیں۔ یہ عمل جاری تھا کہ ایک مقامی لڑکا دائیں ہاتھ پر ٹرے اٹھائے آواز لگاتا ہوا ہمارے قریب آگیا۔ ہم تینوں اس کی آواز پر چونک گئے۔ اس نے کھلے پائینچوں والی شلوار اور ڈھیلی ڈھالی قمیض پہن رکھی تھی۔ پائوں میں گرد سے اٹی ہوئی پشاوری چپل تھی۔ وہ ٹرے پر ترتیب کے ساتھ اوپر نیچے کالے رنگ کی لمبی لمبی قاشیں رکھے ہوئے تھاجیسے لوکل بسوں میں برفی بیچنے والے رکھے ہوتے ہیں۔ وہ بلا جھجھک آواز لگا رہا تھا ’’چرس لے لو چرس۔ خالص چرس لے لو۔ خالص چرس‘‘۔

جھٹ پٹے کا عالم تھا لیکن چہرہ سجھائی دے رہا تھا۔ اس کی عمر مشکل سے دس بارہ برس ہوگی۔ چہرے مہرے سے توانا دکھائی دے رہا تھا۔ نین نقش پہاڑی لوگوں کی طرح دبے دبے مگر رنگت صاف تھی۔ سمیر نے لڑکے کا انٹرویو شروع کردیا۔ وہ بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ پنجاب میں اس پر پابندی ہو گی مگر یہاں تو ہر کوئی تھکاوٹ اتارنے کے لیے چرس ضرور پیتا ہے۔ قہوہ خانے میں رکھے حقے کی چلم میں چرس کا نہ ہونا ہوٹل مالک کی تذلیل سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے خریداری میں دلچسپی نہیں لی اس لیے وہ جلد ہی چلا گیا۔ ہم لوگ تو سادہ سگریٹ بھی گھر والوں سے چوری پیتے تھے۔ سو ہمارے لیے یہ سب تعجب بھرا تھا۔ ہم تینوں چہروں پر مسکان سجائے اور تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے کی طرف بڑھنے لگے۔

وین میں شور کے بعد اب خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ جس طرح آندھی کے بعد ہوا شانت ہو کر چلنے لگتی ہے بالکل اسی طرح وین کا ماحول بھی شانت ہو گیا تھا۔ میں نے اسلام سے پوچھنا چاہا کہ اب کہاں کا ارادہ ہے لیکن جانے کیا سوچ کر چپ رہا۔ میں نے بوتل سے ایک بڑا گھونٹ پانی کا بھرا ور خود کو پر سکون کرنے کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ وین کے مسافروں یعنی میرے ہمسفروں کو مجھ سے اللہ واسطے کا بیر تھا یا محض اتفاق تھا۔ پچھلی نشستوں پر ایک دم شور مچ گیا۔ مجھے لگا گاڑی میں کوئی سانپ گھس آیا ہے۔ پلٹ کر دیکھا تو فہیم کسی موضوع پر اظہارِ خیال کر رہا تھا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ مُنھ سے قریب قریب کف اڑ رہی تھی۔ ہاتھ ڈوبتے شخص کی طرح ہوا میں بے ترتیبی سے چل رہے تھے۔ سکون کی چڑیا تو پھُر کرکے اڑ گئی تھی سوچا فہیم کی بات ہی سُن لی جائے۔

میں سیٹ پر یوں ٹیڑھا ہو کر بیٹھ گیا کہ ایک ٹانگ موڑ کر کے سیٹ پر رکھ لی۔ فہیم اپنے جوکر کو سب سے مہان ثابت کرنے کی کوشش میں باقیوں کو دلیل دے کر تاش کے گُر بتا رہا تھا۔ انھیں اصول سمجھارہا تھا۔ چوں کہ میری دلچسپی تاش سے اتنی ہی ہے جتنی آج کل ایک پڑھے لکھے شخص کی کتاب سے ہے۔ سو میں نے ٹانگ نیچے کھسکائی اور دوبارہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اب گاڑی پتھریلی سڑک پر اوپر کی طرف اٹھنے لگی۔ کبھی دائیں تو کبھی بائیں ہوتے ہوئے مسلسل اونچائی کی طرف بڑھنے لگی۔ اگر ہماری وین نئے ماڈل کی نہ ہوتی تو ایسی چڑھائی چڑھنا ناممکن ہوتا۔ راستے میں بوڑھا شخص بڑے سے ٹوکرے میں گلابی خوبانیاں سجائے بیٹھا تھا۔ وین وہاں روک دی گئی۔ اس سے خوبانیوں کا بھائو پوچھا تو وہ اپنے بوڑھے مگر توانا چہرے پر مسکان کے ساتھ تحفتًا پیش کرنے پر راضی ہو گیا۔ ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ پنجاب میں تو خراب امرود بھی کم قیمت پر ہی سہی بیچے ضرور جاتے ہیں اور ان کی قیمت وصول کی جاتی ہے۔ یہاں کیا ماجرا ہے؟ میں سوچنے لگا کہ مہمان نوازی پہاڑی باشندوں کے گویا خون میں شامل ہے۔

ہم نے بتھیرا اصرار کیا پر بوڑھا اپنی ہٹ کا پکا نکلا اور روپے وصول کرنے سے مسلسل انکاری رہا۔ سو ہم نے تھوڑی سی خوبانیاں اٹھالیں۔ پر اس پر بھی وہ راضی نہ ہوا۔ اس نے کہا کہ کوئی بڑا برتن دو۔ ہمارے پاس پلاسٹک کا نیلا ٹب موجود تھا۔ درمیانے سائز کا یہ ٹب اسلام نے اٹھا کر بوڑھے شخص کے آگے رکھ دیا۔ وہ دریا دلی کے ساتھ اپنے بڑے بڑے اور مضبوط ہاتھوں سے ٹب میں خوبانیاں ڈالنے لگا۔ اسلام اگر بس نہ کہتا تو میرا خیال ہے وہ ٹب بھر کے ہی دم لیتا۔

اسلام نے ٹب اٹھا کر وین کے درمیان رکھا۔ کولر کا ٹھنڈا پانی اس میں انڈیلا اور انھیں دھونے لگا۔ پھر پانی کو باہر پھینکا اور دوبارہ خوبانیوں کو پانی میں ڈبو دیا۔ بوڑھے شخص کا وین میں موجود پوری پلٹن نے باآواز بلند شکریہ ادا کیا۔ وین دوبارہ چل پڑی۔ چوں کہ ہمارا دھیان خوبانیاں کھانے کی طرف ہو گیا اس لیے سفر خطرناک نہ رہا۔ پنجاب میں جو پھل شمالی علاقوں سے لائے جاتے ہیں۔ غالبًا تیسرے درجے کے ہوتے ہیں۔ پنجاب میں دستیاب خوبانی پیلے رنگ کی ہوتی ہے۔ سبز لہر کے ساتھ بھی ملتی ہے اوروہ خوبانی گلابی رنگ کی تھی پھر ذائقے میں شہد سے زیادہ میٹھی بھی تھی۔

پھل کھانے کی تہذیب ہوتی ہے آہستہ آہستہ پھل کا ذائقہ محسوس کرتے ہوئے چبا چبا کر کھایا جاتا ہے مگر ہم تمام تر تہذیب بھول کر ایسے کھا رہے تھے جیسے ٹیلی ویژن شو میں مقابلہ کرنے والے کھاتے ہیں۔ ہر ایک اسی کوشش میں تھا کہ زیادہ سے زیادہ خوبانیاں اس کے حصے میں آجائیں۔ ہماری رفتار کے سامنے خوبانیوں کی تعداد جلد ہی شکست کھا گئی اور چند منٹوں میں ہی ٹب میں صرف میلا پانی رہ گیا۔ خوبانیاں ختم ہو گئی تھیں لیکن کچھ ہاتھ ابھی تک ٹب کی تہہ میں سے خوبانیاں برآمد کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک ہاتھ میرا بھی تھا۔ ٹب کا پانی سڑک پر پھینک دیا گیا اور ہم لوگ کافی دیر تک خالی ٹب کو حسرت بھری نگاہوں سے تکتے رہے۔

وین لکڑی کے کھوکھوں اور عارضی رہائش گاہوں کے پاس سے گزر کر سر سبز قطعہ پر جا کر رک گئی۔ جس کے اردگرد سبز باڑ لگی تھی۔ یہ باڑ قدرتی پودوں کی پتیوں سے بنی تھی۔ تراش خراش کے باوجود چوڑائی میں پوری طرح نہیں آسکی تھی۔ چند پھول بھی دکھائی دے رہے تھے۔ ہم سبھی لوگ اتر گئے۔ یہ پارکنگ ایریا دیدہ زیب تھا۔ سامنے ایگل نیسٹ ہوٹل کی دیدہ زیب عمارت تھی۔ میں ہوٹل کودیکھ کر سوچنے لگا کہ اگر یہ مقام ہمیں اپنے سحر میں گرفتار کر لیتا ہے تو آسانی سے رات گزاری جا سکتی ہے۔ چند گاڑیاں پہلے سے وہاں کھڑی تھیں۔ سبھی نے مل کر سامان اتارنا شروع کر دیا۔ یہ ایگل نیسٹ کا پوائنٹ تھا۔ ہمیں یہاں پہنچنے میں گھنٹہ بھر کی مسافت طے کرنا پڑی تھی۔ پارکنگ کے روپے نہیں تھے۔ اس علاقے کا نام ڈوئی کرتھا۔

ہم نے سلنڈر اوپر لے جانے کا فیصلہ کیا مگر وہاں موجود گارڈز نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی۔ وجہ دریافت کی تو انھوں نے بتایا کہ اوپر ہوا بہت تیز چلتی ہے، آگ لگنے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لیے چولہا جلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسلام نے آم کی پیٹی اٹھائی۔ فہیم نے کچھ برتن اٹھائے۔ میں نے دودھ کے ڈبوں والا گتے کا کارٹن سنبھال لیا۔ فخر، فیاض اور شبیر دروازہ کھلتے ہی رفو چکر ہو گئے تھے۔ وہ سامان لے جانے کے حق میں نہیں تھے۔ اس لیے آنکھ بچا کر پہلے ہی نکل گئے تھے۔ عابد اور سمیر ٹب کے اندر سامان لیے چل رہے تھے۔

گاڑی جہاں کھڑی تھی وہاں سے مشرق کی طرف پتھروں کے درمیان راستہ اوپر چوٹی تک جاتا تھا۔ ہم سبھی بوجھ کے ساتھ بوجھل قدم اٹھاتے ہوئے چلنے لگے۔ راستے میں فربہ شخص پتھر پر بیٹھا مُنھ کھولے سانس لے رہا تھا۔ اسلام اور میں اس کے سامنے پہنچ کر رک گئے۔ وہ اپنے دوستوں کے متعلق ہرزہ سرائی کرنے لگا۔ وہ مغلظات بک رہا تھا۔ لہجہ کراچی کی چغلی کھارہا تھا۔ ہم بھی سانس لینے کے لیے تھوڑی دیر ٹھہر گئے۔ یہاں بھی قلعے کی چڑھائی والا معاملہ سر اٹھانے لگا۔ سانس کسی طرح بھی قابو میں نہیں آرہی تھی۔ اونچائی کے باعث فضا میں آکسیجن کم ہو گئی تھی۔
ہم جیسے تیسے رکتے رکاتے اور جگہ جگہ ٹھہر کر سانس درست کرتے ہوئے اوپر پہنچ ہی گئے۔ چوٹی پر بڑے بڑے پتھر بکھرے ہوئے تھے۔ فہیم فربہ جسم کا مالک تھا۔ شاید اس لیے پیچھے رہ گیا۔ جب وہ سامان اٹھائے اوپر پہنچا تو چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ فیاض اور فخر یہ سب دیکھ کر قہقہے لگانے لگے۔ فخر نے نعرہ لگایا ’’ آگیا بھینسا‘‘ فہیم کی سانس بے ترتیب تھی وہ آپے سے باہر ہو گیا۔ ’’تم لوگ لگڑ بگڑ ہو۔ خود کچھ کرنا نہیں اور اگر کوئی کچھ کر رہا ہو تو اسے برا بھلا کہتے رہنا‘‘۔ اس نے غصے کے عالم میں سر پر رکھا ہوا سامان پھینک دیا اور پتھر پر ڈھیر ہو گیا۔ ہم سب ہکا بکا رہ گئے۔
ایگل نیسٹ اس علاقے کا سب سے بلند مقام تھا۔ جہاں ہوا پوری رفتار سے چل رہی تھی۔ یہاں کسی دور میں عقاب انڈے دیا کرتے تھے۔ ان کی موجودگی کی باقیات پتھروں میں سوراخوں کی شکل میں موجود تھیں یعنی کسی دور میں یہ علاقہ عقابوں کا نشیمن ہوا کرتا تھا۔ انسانی قدم کے یہاں پڑتے ہی وہ اڑاری مار گئے۔ میں نے سامان رکھا اور گول سے پتھر پر بیٹھ کرسانس درست کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد میرے حواس بحال ہوئے تو میں نے علاقے کی خوبصورتی پر نگاہ دوڑائی۔ میں چلتا ہوا پہاڑی کے کنارے تک آگیا۔

وسیع منظر اپنی تمام تر قدرتی کرشمہ سازی کے ساتھ جادو بکھیرتا ہوا موجود تھا۔ یہ منظر دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے سارے پہاڑ واضح دکھائی دے رہے تھے۔ سورج کی شعاعیں بادلوں کے باعث آدھے منظر کو دکھارہی تھیں۔ آدھی وادی واضح تھی اورباقی وادی پر پردہ پڑا تھا۔ باریک پردہ جس میں سے وادی دکھائی دے تورہی تھی مگرملگجی شکل میں وادی کسی دوشیزہ کے ہتھیلی سے آدھے ڈھانپے ہوئے چہرے کی طرح لگ رہی تھی۔ بادل کے سفید ٹکڑے بہت قریب لگ رہے تھے۔ جیسے ہاتھ بڑھا کر چھولینے کی سہولت لیے ہوں۔ میں ان گھونسلوں کی شکلیں دیکھ رہا تھا اور کوئی پیٹرن بنانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔

ان گھونسلوں میں نہ تو کوئی ترتیب تھی اور نہ ہی بناوٹ میں یکساں تھے۔ نوکیلی چونچوں اور فولادی پنجوں سے جیسے جیسے پہاڑی پتھر ذروں میں تبدیل ہوتا گیا ویسے ویسے گھونسلہ ترتیب پاتا گیا۔ کچھ پرندے گھونسلہ بنانے میں خاص مہارت رکھتے ہیں ان کا یہ ہُنر سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ پرندہ بھی انھیں میں سے ایک تھا۔ جس کی خاص مہارت پہاڑ کے سخت پتھروں کو تراش کر دائروی سوراخوں میں تبدیل کرتی جاتی تھی۔ انسان کے قدم جہاں ترقی کے ضامن ہیں وہاں یہی قدم فطرت کی بیخ کنی بھی کرتے ہیں۔ انسان اس سیارے کی سب سے عقل مند مخلوق بھی ہے اور بے وقوف مخلوق بھی۔ بیک وقت ان دو انتہائوں پر شاید ہی کوئی دوسری مخلوق پہنچی ہو۔ چوں کہ انسان کا ہر عمل خود غرضی، خود نمائی اور خود پرستی سے جڑاہو تا ہے اس لیے دنیا پر موجود دوسری مخلوقات کے لیے نقصان دہ ہی رہا ہے۔ پھر وہ سیمینار کرتا ہے۔ لوگوں کو جنگلات کے کٹنے، آلودگی کے بڑھنے اور گلیشیئرز کے پگھلنے کی خبریں سناتا ہے لیکن یہ سب بھی اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ ہے۔ یوں انسان دنیا کی بربادی پر روتا بھی ہے اور اسے برباد کرنے کا کام بھی کرتا چلا جاتا ہے۔

میں عام طورپر مرگ والے گھر کم ہی جاتا ہوں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح خلاصی ہوجائے۔ جاں بخشی ہوجائے اور مجھے نہ ہی جانا پڑے۔ اس کی وجہ مسلسل آہ و بکا کا ماحول اور سوگواری کی کیفیت ہے جو میرے دل کو اس حد تک ملول کردیتی ہے کہ کئی روز کے لیے طبیعت اداسی کے گھیرے میں آجاتی ہے۔ کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ کسی لطیفے اور چٹکلے سے بھی چہرے پر روشنی بھری مسکان نہیں پھوٹتی۔ سو میں زیادہ تر چکما دے جاتا ہوں۔ بہانہ کرلیتا ہوں لیکن کئی جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں ان سب سے کام نہیں چلتا سو وہاں مجھے خود جانا ہی پڑتا ہے۔ یہ بھی ایسا ہی ایک گھر تھا۔

میں بی۔ اے کی تیاری کررہا تھا کہ خبر ملی۔ موت کی خبر وبا کی طرح پھیلتی ہے۔ علاقے کے ایک چھور سے دوسرے چھور تک دیکھتے ہی دیکھتے ہر بندے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ ہمیں یہ خبر مغرب کی اذا ن سے کچھ دیر پہلے ملی۔ گاڑی کروائی گئی۔ گائوں شہر کے قریب ہی تھا۔ اس لیے جلد ہی ہم لوگ مرگ والے گھر پہنچ گئے۔ آہ و زاری کرتی عورتیں ہمیں گھیرا ڈال کر کھڑی ہو گئیں۔ بین تیروں کی صورت کلیجے کے آرپار ہوئے جاتے تھے۔ کانوں کو چھید دینے والی چیخیں تھیں۔ میں مل ملا کر مردانے میں آ کر بیٹھ گیا۔

مرنے والا اپنے پیچھے بیوی بچوں کی شکل میں کنبہ چھوڑ گیاتھا۔ دونوں بھائی ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔ سانجھی روٹی پکتی تھی۔ مل بانٹ کر کھالیا کرتے تھے مگر اچانک دل کا دورہ پڑا اور بڑا بھائی اگلے جہان کو روانہ ہوگیا۔ یہ سب باتیں مردانے میں سوگواری کی حالت میں بیٹھے لوگوںسے معلوم ہوئیں۔ چھوٹا بھائی سینہ کوبی کرتا۔ صحن کے ایک سرے سے دوسرے سرے کی طرف بھاگ رہا تھا۔ بے ہوش ہوا جاتا تھا۔ جنازے کے بعد گھر میں چند مرد ہی بچے تھے انھیں صحن کے ایک طرف دری بچھا کر بٹھا دیا گیا۔ میں بھی ان میں سے ایک تھا۔ میں بیٹھا مرحوم کے بھائی کوہی دیکھے جارہا تھا۔ جو سر پر کپڑا باندھے گریبان کھولے صحن میں روتا پیٹتا پھر رہا تھا۔ اس کی زبان پر یہ الفاظ بار بار آرہے تھے ’’ہائے میرا بھائی‘‘ پھر ہائے ہائے جوڑے کی شکل میں تین مرتبہ لازمی آتا تھا۔ شاید یہ ردھم کو قائم رکھنے کے لیے تھا۔ میں دلچسپی سے مسلسل اس کی حرکات دیکھ رہا تھا۔ غم کا ایسا پرزور اظہار میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔

گھر والوں کے آگے کھانا رکھا جانے لگا۔ وہاں گائوں کے لوگوں میں یہ رواج تھا گھر میں انسانی موت کے موقع پر صحن میں کھڑے کسی بڑے جانور بچھڑے یا بھینسے کو چھری پھیر دیتے تھے۔ یوں گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے ہر پلیٹ میں کثیر تعداد میں تھے۔ ہم نے اجازت مانگی تو مہمان داری کے اصولوں کی بیڑی پائوں میں آن پڑی۔ بڑوں نے کہا کہ آپ مہمان ہیں کھانا کھائے بنا جانا ہمیں دراصل شرمندہ کرنا ہے۔ مجبورًا ہمیں رُکنا پڑ گیا۔ جب یوں سوگوار گھر میں دری پر بیٹھنا تھا تو کچھ لقمے چکھ لینا بہتر تھا۔ میری نگاہ پھر مرحوم کے بھائی پر جم گئی جو کسی طور بھی کچھ کھانے پرآمادہ نہ تھا۔ وہ دیواروں سے سر ٹکراتا۔ بار بار زمین پر تڑپنے لگتا۔ کبھی ایسی بے معنی باتیں کرنے لگتا۔ جیسے دماغ چل گیا ہو پھر دھاڑیں مار کر رونے لگتا۔

کھانا جب اس کے سامنے رکھا گیا تو اس نے گوشت کا ٹکڑا مُنھ میں رکھا اور ساتھ بین بھی کرتا گیا۔ یہ عملِ مسلسل پلیٹ کے اختتام تک جاری رہا۔ پھر نئی پلیٹ پر دوبارہ شروع ہو گیا۔ میں چوں کہ سگریٹ پیتا ہوں اور کھانے کے بعد طلب کچھ مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے میں گھر سے باہر آگیا۔ میں سگریٹ کے کش کھینچ رہا تھا کہ مجھ سے آکر وہ سگریٹ طلب کرنے لگا۔ میں نے پیکٹ حوالے کیا اور ادھر ادھر کی باتیں شروع کردیں۔ تو وہ شخص کچھ بے تکلف سا ہو گیا اپنے بارے بتانے لگا کہ بی۔ اے میں تھا جب باپ کی وفات پر پڑھائی کو چھوڑ دیا مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کچھ دیر پہلے جس طرح وہ رو رہا تھا میں اس کے پڑھا لکھا ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ میں نے بھی کہہ ہی دیا کہ پڑھے لکھے لوگ تو ایسے نہیں روتے جیسے آپ رو رہے تھے۔ وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا کہ ادھر اگر ایسا نہ روئیں تو لوگ سمجھتے ہیں اسے گندم کے دانے جتنا بھی دکھ نہیں ہے بلکہ یہ تو بھائی کے مرنے کی چاہت رکھتا تھا۔ یہاں لوگ دوہری زندگی جیتے ہیں ایک بال بچوں کے لیے اور دوسری دکھاوے کے لیے؛ مجھے اس میں دانش ور ہونے کی جھلک دکھائی دی۔ آج کا انسان بھی دوراہے پر کھڑا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی معاشرے سے تعلق رکھتا ہو۔ مسائل سے مبرّا نہیں ہو سکتا ہاں ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو جاتی ہے بالکل ترقی یافتہ ممالک کی طرح سے اسے ترقی بھی کرنی ہے آگے بھی بڑھنا ہے، نوحہ بھی جاری رکھنا ہے۔ المیہ در المیہ ہے صورتِ حال بہت پیچیدہ ہے۔

ایسی دلکش جگہ پر کھڑے ہو کر ایسی غیر شاعرانہ باتیں سوچنے پر مجھے ہنسی آگئی۔ اپنے آپ پر اور اپنی ایسی سوچ پر حیرت زدہ ہو گیا۔ مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ میں موت اور مرگ کے متعلق سوچوں۔ سامنے سرسبز وادیاں ہیں۔ برفیلی چوٹیاں ہیں۔ جیتا جاگتا منظر ہے۔ مجھے یہ سب چھوڑ کر ان سے آنکھیں چرا کر کہیں اورنہیں جانا چاہیے۔ میں نے اپنی آنکھیں کھلی رکھنے اور حسین نظارے کو ذہن کی چادر پر ثبت کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں کافی دیر آنکھ جھپکائے بغیر دیکھتا رہا۔

اب میں خود کو سپہ سالار تصور کر رہا تھا۔ سفید پہاڑ میری فوج کے خیمے بنے اور میری اعانت کے لیے عقابوں کی فضائی کمک آ پہنچی۔ مجھے لگا کہ سفید خیموں سے ابھی جری جوان تلواریں لہراتے ہوئے نکلیں گے نیزے گھماتے اور تیر برساتے سپاہیوں پر ٹوٹ پڑیں گے۔ ان کے قد بادلوں تک ہوں گے۔ پائوں کی دھمک زلزلے کی آمد ثابت ہوگی۔ جنگ شروع ہو گئی۔ میرے جری جوان مخالف فوج کو کیڑے مکوڑوں کی طرح روندتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ عقاب پتھرائو کرنے لگے۔ انھیں مخالف فوج کے سپاہی خرگوش لگ رہے تھے۔ ڈریگن کی جسامت جتنے عقاب آسمان سے غوطے لگاتے اور پلک جھپکنے میں پنجوں سے پورا انسان فضا میں اُڑالے جاتے۔ پھر اسے چھوڑ دیتے، آزاد کردیتے۔ یہ منظر مجھے کسی ہالی ووڈ کی فلم کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ میں شاید جنگ جیت بھی جاتا اگر بلال مجھے لسی اور آم کی خبر نہ دیتا۔

میں چلتے ہوئے لسی اور آم کے پاس آگیا۔ بڑے سے ٹب میں اسلام لسی پھینٹ رہا تھا۔ سمیر اور فہیم پیٹی سے آم نکال رہے تھے۔ جیسے جادوگر اپنے کوٹ سے کبوتر نکالتا ہے۔ کبوتر پہلے سے موجود ہوتا ہے مگر آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح آم آنکھوں سے اوجھل تھے۔ جیسے ہی پیلے رنگ کے پکے ہوئے آموں پر میری نظر پڑی، مجھے غالب صاحب یاد آگئے۔ میرے حصے میں باقی سبھی کی طرح دو آم آئے۔ میں نے اپنا لسی کا مگھا ہاتھ میں پکڑا آم چوستے ہوئے گھونٹ بھرنے لگا۔ ہوا تیز ہوگئی تھی اور پھر جھکڑ چلنے لگے۔ یہ مقام اونچائی پر تھا شاید اس لیے ہوا طاقت دکھا رہی تھی۔ خالی آموں کے کریٹ ہوا میں ادھر ادھر لڑھکنے لگے تو سب نے اپنے اپنے آم سینے سے چپکا لیے۔ جیسے ہوا کا بے رحم ہاتھ انھیں ہی چھیننے آرہا ہو۔

ایگل نیسٹ پر موسم نے یکبارگی کروٹ لی اور بوندا باندی ہونے لگی۔ پہاڑیوں پر دھوپ جھلملا رہی تھی اور ہم پر بوندا باندی پڑ رہی تھی۔ جس طرح ٹی ایم اے یعنی بلدیہ کی گاڑی سڑک پر انمانے جی سے پانی کا چھڑکائو کرتی ہے اسی طرح بادل بھی چھڑکائو کرکے چلتا بنا۔ میں نے اپنا موبائل سمیر کو تھمایا اور تصویریں بنانے کا حکم دیا۔ وہ بھی میرا یار تھا فورًا ہی انکارکر دیا۔ کہنے لگا کہ آم کھاتے سمے ایسی بات بدشگونی ہوتی ہے۔ یاسر بھائی صبر بھی کر لیا کریں۔ میں آم ہاتھ میں تھامے ہکا بکا رہ گیا۔ آم ختم کیے اور گٹھلی کو پوری طاقت سے پھینکا۔ پوری طاقت کے باوجود بھی گٹھلی چند فرلانگ کے بعد کٹی پتنگ کی طرح نیچے آگئی۔ کٹی پتنگ تو پھر بھی ڈولتی ہے لہریں مارتے ہوئے وقت لیتی ہے پر آم کی گٹھلی نے ایسا بھی نہیں کیا۔ میں نے ہاتھ مُنھ دھویا اور سیلفیاں بنانے لگا۔

بلال برطانیہ سے واپسی پر رنگین یادوں کے ساتھ ایپل کا موبائل بھی لے کر آیا تھا۔ اس لیے وہ سبھی کی نگاہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ سبھی کی خواہش تھی کہ اس کے موبائل سے تصویر بنے۔ پہلے تو وہ فخر، فیاض اور امداد وغیرہ کے ساتھ تصویریں بناتا رہا۔ جب جی بھر گیا تو سمیر اور میرے ساتھ آ کھڑا ہوا۔ بنا کہے ہماری تصویریں بنانے لگا۔ مجھے کبھی کہتا پتھر پر چڑھ جائو، کبھی کہتا دونوں ہاتھ باندھ لو، کبھی ٹائی ٹینک کے جہاز پر بازو کھولنے والے سین کو کرنے کا مشورہ دیتا۔ پھر اس نے مجھے وکٹری کا نشان بنانے کا کہا اور میں جیت کا نشان بنائے ہارے ہوئے وجود کے ساتھ تصویر میں آ گیا۔  میں اپنے آپ سے ملاقات کی غرض سے نکلا تھا۔ خود کو ڈھونڈ نکالنے کی آرزو میں چلا تھا۔ اپنے آپ کا کھوج لگانے کے لیے یہ صعوبتیں برداشت کر رہا تھا لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ میں ناکام ہو گیا ہوں بری طرح ناکام۔ میدان میں پہنچ کر ہار جانا ہار تو ہوتی ہے پر لڑ کر ہارنا بھی اعزاز ہوتا ہے۔ یہاں معاملہ الٹ تھا۔ میں تو میدان میں اترا ہی نہیں تھا۔ میں نے تو ابھی کھیلا ہی نہیں تھا۔ پر مجھے لگتا تھا کہ میں ہار گیا ہوں۔ میں نے سر کو اوپر اٹھا یا اور خود کو سوچوں کی دلدل سے باہر نکال لایا۔ میری آنکھوں کے سامنے دور تک سبزے کی بادشاہی پھیلی تھی اور میرا اندر کوئی ریت اڑا رہا تھا۔

جاری ہے—–

پچھیلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20