ایک عام آدمی کا روزنامچہ — محمد حمید شاہد

0

’’شاخ زریں‘‘ جیمز جارج فریزر کی وہ مشہور کتاب ہے جس میں ان قوموں کے ہاں رواج پانے والے عقائد کا مطالعہ ملتا ہے جنہیں پس ماندہ اور تہذیب سے پچھڑا ہوا سمجھا گیا۔ کہتے ہیں ۱۸۸۱ ء سے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مدیر رابرٹسن سمتھ نے اوّل اوّل اپنے دوست جیمز جارج فریزر سے ٹیبو یعنی تحریم اور ٹوٹم پر مضامین لکھوا کر انسائیکلو پیڈیا کا حصہ بنائے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ یہ صاحب اس موضوع سے جڑے ہوئے سلسلوں کی کھوج کی طرف یوں چل نکلے کہ ’’شاخ زریں‘‘ کی صورت شاہکار کتاب مرتب ہو گئی۔ پہلی بار یہ کتاب ۱۸۹۰ء میں دو جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔ وہ اس میں اضافہ کرتے رہے، یوں کہ دو کی بارہ جلدیں ہو گئیں۔ مجلس ترقی ادب، لاہور نے اس کتاب کی تلخیص ۱۹۶۵ء میں چھاپی تھی۔ کتاب کا جو نسخہ میرے پاس ہے، یہ کبھی ہمارے محترم دوست اور محبوب فکشن نگار منشا یاد کی لائبریری کا حصہ رہا ہے۔

منشایاد کی عادت تھی کہ وہ کسی کتاب کا مطالعہ کررہے ہوتے تو پنسل ہاتھ میں رکھتے اور جہاں جہاں متن اہم لگتا، اس کے نیچے لکیر کھینچ دیتے۔ یہیں بتاتا چلوں کہ لکھنا اور پڑھنا منشا یاد کے لیے عبادت کا سا عمل تھا۔ وہ اپنے لکھنے پڑھنے والے کمرے میں یوں تیار ہو کر جایا کرتے جیسے ریٹائرمنٹ سے پہلے دفتر جاتے تھے۔ ان کی میز پر امتحانی گتے کی چٹکی میں صاف ستھر ے کاغذوں کے دستے ہر وقت موجود رہتے۔ افسانہ لکھنا ہو یا پڑھتے ہوئے کتاب سے نوٹس لینااور اس کا حوالہ حاضر رکھنے کے لیے عبارت نشان زد کرنا، وہ پنسل سے مدد لیتے تھے۔ ان کے ہاں لکھنے، کاٹنے اور لکھے ہوئے کو سنوارنے کا عمل ایک ساتھ چلتا تھا۔ شاید یہی سبب رہا ہو گا کہ انہیں پنسل سے لکھنا مرغوب تھا۔ نہایت سلیقے سے تراشی گئی پنسلیں، پنسل تراش، ربڑ وغیرہ سے بھری ہوئی ایک کشتی مشرق کی سمت کھلنے والی کھڑکی کے آگے والی نشستوں کے سامنے رکھی میز پر امتحانی گتے کے پاس دھری رہتی۔ اسی میز پر وہ کتب بھی ایک ترتیب میں رکھ لیا کرتے تھے جو ان کے زیر مطالعہ ہوتی تھیں۔

جس کتاب کا میں ذکر کر رہا ہوں، یہ وہی نسخہ ہے جوایک زمانے میں اسی میز پر پڑا دیکھا تھا۔ یہ اب میرے کتب خانے کا حصہ ہے۔ مشتاق بھٹی اپنے نظم نگار بھانجے خلیق الرحمن کے ساتھ جب اپنی یادداشتوں کا مسودہ دے کر چلے گئے تو نہ جانے کیوں میرا دھیان ’’شاخ زریں‘‘ کی طرف چلا گیاتھا۔ کتاب کھولتے ہی جو سطریں میرے سامنے نمایاں ہو رہی تھیں وہ خط کشیدہ تھیں۔ مجھے لگا منشا یاد نے ابھی ابھی کتاب پڑھ کر اس عبارت کے نیچے لکیر کھینچی اور مجھے پڑھنے کے لیے تھما دی تھی۔ میں نے دیکھا وہ عبارت، برطانوی کولمبیا کے قدیم ٹسمشی قبیلے کے اُن توام یعنی ہم شکم بچوں کے بارے میں تھی جو اپنے اندر ساحرانہ قوت رکھتے تھے۔

منشایاد اور مشتاق بھٹی یقینا جڑواں پیدا نہ ہوئے تھے۔ میں جانتا ہوں کہ ان کی عمر وںمیں کئی برسوں کا فرق تھا۔ ایک نے اپنی ماں کی اتنی ممتا سمیٹی تھی کہ اس کا اپنا وجود ماں جیسا ہو گیاتھا جبکہ دوسرے کو بس ماں کا مرنا یاد رہ گیا تھا۔ وقت جوں جوں گزرتا ہے پیچھے رہ جانے والا زمانہ بھی سکڑنے لگتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کا دوسرا ناول ’’قبض زماں‘‘ پڑھتے ہوئے ’’کنزالکرمات‘‘ کا ایک حوالہ نظر سے گزرا تھا؛ وہی جس میں شیخ ابن سکینہ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اپنے کسی بندے پر زمانے کو پھیلا دے جب کہ وہ دوسروں کے لیے کوتاہ رہے اسی طرح وہ قبض زماں کرتے ہوئے دراز زمانے کو کوتاہ کردیتا ہے۔ جن معنوں میں یہ ارشاد ہوا، یہاں یہ حوالہ عین مین منطبق نہیں ہوتا۔

مجھے یاد آگیا تو یوں کہ میں نے ان دونوں کو عمر کے جس حصے میں دیکھا تھا، اپنے قدکاٹھ اور رنگ ڈھنگ سے، دونوں کی عمروں کے بیچ کا زمانہ کوتاہ ہوتا چلا گیاتھا؛ یوں کہ دونوں ایک سے لگنے لگے تھے۔ بس فرق تھا تو یہ کہ منشایاد کا اوڑھنا بچھونا لکھنا پڑھنا تھا۔ اس لکھنے پڑھنے نے انہیں اردو ادب کے میدان میں ممتاز مسند عطا کر دی تھی۔ مشتاق بھٹی ادب کے نہیں، زندگی میں ان کی جد وجہد کے ساتھی تھے۔ مجھے نہیں یاد کہ مشتاق بھٹی سے ادب کے موضوع پر کبھی بات بھی ہوئی ہو۔ شاید یہی سبب رہا ہوگا کہ جب وہ اپنی یادداشتوں کا مسودہ دِے کر چلے گئے توادب سے دلچسپی کی طرف ان کی اس حیران کن جست سے یہ فرق بھی کم ہوتا محسوس ہوا اور میرا دھیان ’’شاخ زریں‘‘ کے ان توام بچوں کی طرف چلا گیا تھا جن پر قدرت بہ طور خاص مہربان ہوا کرتی تھی۔

میں نے مشتاق بھٹی کی یادداشتوں کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے۔ صاف سادہ زبان میں اخلاص کے قلم سے لکھی ہوئی ایک خاندان کی ایسی کہانی جس کا پہلا حصہ یوں لگتا ہے جیسے برطانوی کولمبیا کے قدیم قبائل کے بچ رہے لوگوں کی بابت ہے۔ یہ لوگ بھی ویسے ہی پس ماندہ تھے جیسے قدرت کے پچھواڑے میں پڑے ہوئے تھے۔ مشتاق بھٹی کی یادداشتیں پڑھتے ہوئے جب میں بوڑھ باٹھ اور ٹھٹہ نسترکے مکینوں کی زندگیوں کا تقابل اپنے آس پاس کے جدید شہریوں سے کر رہا تھا تو اپنی پس ماندگی میں وہ مجھے ٹسمشیوں جیسے لگے تھے؛ دھول میں اٹے ہوئے، وقت کے گول چکر تلے کچلے ہوئے، ہانپتے ہونکتے خاک میں قدم گھسیٹتے اور ادبدا کر اسی خاک میں گر تے ہوئے۔ اس دھول سے ہمارے منشایاد اُٹھے اور اپنے بھائی مشتاق بھٹی کو بھی اٹھا کر راولپنڈی کے بنی محلے میں آبسے تھے۔ یہ محض آغاز تھا؛ کپڑوں سے مٹی جھاڑ کر اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کا آغاز اور اپنے پیاروں کے لیے راستے تراشتے چلے جانے کا آغاز۔

جب اپنی زندگی کے پہلے منظر کے طور پر مشتاق بھٹی اپنی ماں کے بچھڑنے کی تصویر بنا رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ کیسے انہوں نے بیوہ پھوپھی کے ہاں ممتا کی دولت پالی تھی، تو ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے بھائی کا ذکر کچھ یوں کر رہے تھے جیسے منشا یاد، ان کا محض بڑا بھائی نہ تھا اپنے بھائی بہنوں اور عزیز و اقارب کے لیے ایک ماں کا سا وجود ہوگیا تھا۔ ممتا کے جذبے سے کناروں تک بھرا ہوا اور ہر مشکل مر حلے پر کناروں سے چھلکتا ہوا۔

یہ کتاب منشایاد کی زندگی کا زائچہ نہیں، مشتاق بھٹی کی اپنی زندگی کی کہانی ہے مگر میں اس کہانی سے منشا یاد کو الگ کر کے نہیں دیکھ سکا ہوں۔ جی، تب بھی نہیں کہ جب مشتاق بھٹی اپنے بھائی سے دور رزق کمانے دوبئی چلے گئے تھے اور تین اطراف سے سمندر میں گھرے راس الخیمہ کے ایک کیمپ میں پڑائو ڈال لیا تھا۔ درست کہ یہ کسی منصب دار، کیسی سیاست دان، کسی دانش ور یا کسی ادیب کی نہیں، ایک عام آدمی کی یادداشتیں ہیں مگر تعلیم، ملازمت، شادی اور بچوں کی پیدائش سے لے کر خاندانی الجھنوں اور سماجی سیاسی صورت حال کا ایسا دلکش بیان بھی تو ہیں کہ پڑھنے والے کو عبارت آخر تک گرفتار رکھتی ہے۔ یوں دیکھیں تو عام آدمی کی زندگی اس تحریر میں ڈھل کر خاص ہو گئی ہے۔

زندگی کو جتن کرکے کمانے والوں کی خاص داستان۔

آپ محسوس کریں گے کہ پہلی بار شہر جانے اور جیومیٹری باکس جیسی عام سی چیز کو حیرت سے دیکھنے کا ذکر ہو رہا ہو یا گھر میں موٹر سائیکل اور ٹیلی وژن کے آنے کا، ملکی حالات پر تبصرہ ہو یادلوں میں کچھ رنجشوں کے پیدا ہونے اور اُن کے رفع ہونے کا، پاکستان کے نئے دارالحکومت اسلام آباد کے بننے کے مناظر ہوں یا اس شہر کے آباد ہونے کی کہانی، روس کے افغانستان پر حملے کا قصہ ہو یا اس کی پسپائی اور امریکی جارحیت کا، حج کی سعادت اور مقدس مقامات کی زیارتوں کی ادائی کا ذکر ہو یا ملائیشیا کی سفر گزشت، بچوں کی کامیابیوں پر چہروں کے کھل اُٹھنے کی تصویریں ہوں یا اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر دِل پھٹنے کی روداد، سب کچھ یوں سادگی اور سہولت سے متن ہوا ہے کہ قصہ لذیذ تر ہو گیا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ مشتاق بھٹی کی یہ کتاب ایسے افراد کی زندگیوں کو سمجھنے میں معاون ہو گی جو خاک سے اُٹھتے ہیں، اپنی کوشش اور ہمت سے زندگی کما کر اپنی آنے والی نسلوں پر کامیابیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ یہ کتاب اپنے پڑھنے والوں کے دل میں زندگی خود کمانے کی تاہنگ بھی بھر دے گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20