لبرل بنیاد پرست اور عمرانو فوبیا —– ٖشیر علی ترین

0

(شیر علی ترین، ڈیوک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہیں اور فرینکلن اور مارشل کالج، امریکہ کے شعبہ مذہبی علوم کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ‘لبرل بنیاد پرست اور عمرانوفوبیا‘ اور ‘غیر نو آبادیاتی سیاست کی خواہشات اور ابہام’ کے عنوانات سے انکے دو مضامین انگریزی زبان میں، غیر ملکی اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔ پاکستانی قارئین کے دلچسپی کے لئے ذیل میں انکے ان دو مضامین کا ترجمہ اور خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ دانش)


عمران خان اپنی زندگی کے بہت سے امور میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، قابل فخر طور پر یہ اعزاز بھی رکھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ مختلف الخیال لوگوں کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔ کچھ لوگ انکی روشن خیالی کے اس حد تک مخالف ہیں کہ انہیں یہودی ایجنٹ تک کہہ دیتے ہیں اور کچھ لوگ انکی اسلام پسندی سے اتنے چڑتے ہیں کہ انہیں طالبان خان کے لقب سے نوازتے ہیں۔ پہلی سوچ رکھنے والے مذہبی بنیاد پرست ہوں یا دوسری سوچ رکھنے والے لبرل بنیاد پرست ہوں بظاہر دونوں مختلف سوچوں کے حامل، عمران مخالف لوگ ہیں لیکن در حقیقت دونوں میں پائی جانے والی ایک قدر مشترک ‘عمران مخالفت’ انہیں ایک کشتی کا سوار بنا دیتی ہے۔ ان دونوں سوچ کے حامل گروہوں میں پائی جانے والی نفرت، انکی دانشورانہ نااہلی اور عمرانو فوبیا کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان کے تناظر میں ‘لبرل بنیاد پرست’ کی کوئی جامع اور مانع تعریف نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ میڈیا، سیاست، قانون اور اکیڈمکس کے شعبہ جات میں مختلف رنگ، سائز اور طبقات کی شکل میں پائے جانے والے لوگ ہیں۔ لیکن ان میں تین ایسی مشترکہ خصوصیات پائی جاتی ہیں جو ان کو اس نوع میں شامل کرتی ہیں۔ انکی پہلی خصوصیت یہ ہےکہ یہ درسی کتب میں موجود لبرل، سیکولر اور جمہوری نظریات کی خوبیوں پر اندھا اعتقاد رکھتے ہیں اور ان نظریات کی خامیوں اورتضادات کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری نہیں سمجھتے۔ انکی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ مذہب کے بارے میں متشککانہ سیکولر رویہ رکھتے ہوئے، مذہب کو ترقی کے ہر راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اور انکی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ تشدد اور انتہا پسندی کی صرف دیسی اقسام کو برا سمجھتے ہیں یہ برطانوی استعمار اور امریکی نو استعمار کے جبر، تشدد اور انتہا پسندی کو سمجھنے اور تسلیم کرنے سے قاصر ہیں۔

عمران خان جو مغرب میں طویل عرصہ تک رہنے اور مقبول کرکٹر ہونے کا پس منظر رکھتے ہیں اور بغیر داڑھی کےہیں، انہیں لبرل بنیاد پرستوں کیلئے ایک قابل قبول چہرہ ہونا چاہیے تھا لیکن انکے اس پس منظر اور روشن خیال چہرے کے باوجود یہ لوگ انکے خلاف ناگواری کا ظہار کرتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ایک تو عمران خان انکی بنیادی اقدار اور رجحانات میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ اور دوسری بات یہ کہ جب وہ عمران خان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسکے چہرے پر تو داڑھی نہیں ہے لیکن اسکے پیٹ کے اندر داڑھی ہے تو انکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چہرے پر داڑھی رکھنے والے مولویوں کو تو مادی مفادات کے تحت رام کیا جا سکتا ہے لیکن عمران خان کو کسی مفاد کے تحت جھکایا نہیں جا سکتا چنانچہ عمران خان ہر وقت انکی تنقید کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔

عمران خان کے خلاف لگائے گئے انکے الزامات کی اگر سرسری طور پر بھی جانچ پڑتا ل کریں تو ان لبرل بنیاد پرستوں کے ناقص مفروضات کا پول کھل جاتا ہے۔ مثلاً نواز شریف کی نااہلی کے وقت یہ شور مچا رہے تھے کہ اس سے ریاست کے معالات میں سول سپرمیسی کی بجائے ڈیپ اسٹیٹ کی مداخلت بڑھے گی اور جمہوریت ڈی ریل ہو جائے گی لیکن انکی اصل پریشانی نہ جمہوریت تھی اور نہ سول سپرمیسی بلکہ انکی پریشانی یہ تھی کہ نواز شریف کی جگہ کہیں عمران خان نہ آ جائے کیونکہ نواز شریف کو تو بہت آسانی سے ڈیل کیا جاسکتا ہے لیکن عمران خان کو آسانی سے ڈیل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح لبرل بنیاد پرستوں کی یہ دلیل بھی بے بنیاد تھی کہ کرپٹ وزیر اعظم (نواز شریف) کو اس لئے ہاتھ نہ لگایا جائے کہ اس طرح فوجی مداخلت کا راستہ ہموار ہوگا۔ اسی طرح عمران خان کی طرف سے بدعنوان اشرافیہ کے خلاف کئے جانے والے احتجاجوں پر بھی یہ لبرل بنیاد پرست اپنی شدید بے چینی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

یہ لوگ عمران خان پر طالبان خان کا الزام اس لئے لگاتے رہے ہیں کہ عمران خان کی دلیل یہ تھی کہ پاکستان میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کاپھیلائو ان محرکات کے ساتھ الجھا ہوا تھا جو امریکہ نے عسکریت پسندوں کی تربیت، روس کے خلاف جنگ، مسلم علاقوں پر قبضے، نائن الیون اور اسکے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیدا کئے۔ لبرل بنیاد پرستوں کی صرف یہ دلیل تھی کہ ہر بات کا الزام امریکہ پر نہیں لگانا چاہیے لیکن انکے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کہ برطانیہ، روس اور امریکہ سامراج اپنے مفادات کیلئے کمزور ممالک میں ایسے حالات پیدا ہی کیوں کرتے ہیں جس سے عسکریت پسندی کو فروغ ملتا ہے؟ عمران خان کی اس دلیل سے کوئی بھی معقول شخص انکار نہیں کر سکتا کہ اپنی ہی ریاست کے شہریوں سے جنگ کی بجائے بات چیت اور افہام و تفہیم سے مسائل کو حال کرنا چاہیے اور صرف ناگزیر صورتحال میں محدود طاقت کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

اسی طرح لبرل بنیاد پرست ایک طرف یہ الزام لگاتے ہیں کہ مدرسوں پر حکومت کا کنڑول نہیں اور جب یہ مدرسےچندہ لیکر کام چلاتے ہیں تو حکومت کو خاطر میں نہیں لاتے اور انکے نصاب میں تبدیلیاں کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا لیکن جب عمران حکومت کچھ مدرسوں کے ساتھ بات چیت کرکے اور انہیں تعلیمی اخراجات کیلئے فنڈز مہیا کرکے انکے نصاب وغیرہ میں تبدیلیاں لانے کی بات کرتی ہے تو یہی لبرل بنیاد پرست عمران خان پر الزام لگاتے ہیں کہ ان فنڈز کا صحیح استعمال نہیں ہوگا۔ ان لبرل بنیاد پرستون کا غیض و ٖغضب بالکل اسی طرح ہے جس طرح مغرب میں چند مسلمان عسکریت پسندوں کی وجہ سے وہ پورے اسلام کے خلاف اسلاموفوبیا کا شکار ہیں اسی طرح یہ لبرل بنیاد پرست چند علماء کی وجہ سے تمام مدرسوں کے خلاف مدرسوفوبیا کا شکار ہیں۔

پاکستانی لبرل بنیاد پرستوں کی طرح ہندوستان کے ایک مصنف پنکج مشرا نے بھی عمران خان کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد یہ عجیب و غریب دلیل دی کہ کرکٹ کے میدان میں کامیابی کے بعدعمران خان کے بارے میں لوگوں کا یہ اعتقاد پختہ ہو گیا تھا کہ اسکی سیاسی کامیابی کے پیچھے بھی خدائی ہاتھ ہے۔ مشرا نے بھی عمران خان کی مذہبی عناصر کے ساتھ وابستگی دکھانے کی کوشش کی ہے لیکن مشرا کو ان مذہبی عناصر کی پاکستانی معاشرے کے تعلیمی و سماجی امور میں یا انتخابی سیاست میں شراکت اور اثر و رسوخ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ بھی صرف اسلاموفوبیا سے ہی متاثر نظر آتا ہے اور اسکی تنقید صرف یہ ہے کہ مسلمان عسکریت پسندی اور بربریت میں اس مقام تک پہنچ گئے ہیں کہ اب جدید سیکولر سیاست میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ مشرا، اپنی لبرل اورسیکولر خواہشات سے اتنا مغلوب نظر آتا ہے کہ وہ اسلام اور اسلاموفوبیا میں تمیز کرنے سے بھی قاصر ہے اور سیکولر جدیدیت کیلئے اسلام اور مسلمانوں کو پامال کرنے کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔

اسی طرح لبرل و سیکولر طبقے کے دل و دماغ میں محسوس کی جانے والی شدید تکلیف کی ایک اور مثال فاطمہ بھٹو ہیں جنہوں نے گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں، عمران خان کو الیکشن میں کامیابی کے بعد ‘فوج کے شیطانی پیادے’ کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح حسین حقانی (جو ایک اسلامسٹ سے لبرل بن گئے) کی طرف سے ڈیپ اسٹیٹ پر تنقید کرنا شاید اہمیت کی حامل ہو لیکن یہ تنقیدایسے وقت میں زیادہ معنی خیز بن جاتی ہے جب امریکی سامرج کی طرف سے پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کرنے کیلئے قوم پرستانہ سیاست کا ایک پیکج تیار کیا جارہا ہو۔ لیکن اس سلسلے میں سنسنی خیزی پیدا کرنے کا سب سے بڑا سہرا پاکستانی صحافی مہرین زہرا کے سر جاتا ہے جو اس نے واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ‘کون کون عمران خان کے پاکستان سے خوفزدہ ہے؟” اور پھر خود ہی جواب میں لکھا کہ تقریباً ہر شخص خوفزدہ ہے۔

پاکستان کو ریاست مدینہ کے طرز پر ویلفئیر اسٹیٹ بنانے کا خواب کوئی محض نعرہ نہیں تھا بلکہ پی ٹی آئی حکومت نے بہت سے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جنہوں نے نوآبادیاتی دور کے اقتدار کے ورثے کے ذریعے تقویت پانے والی طویل عرصہ کی سماجی نا انصافیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان اقدامات میں لاکھوں افغان اور بنگالی پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا ارادہ، ملک بھر کے شہروں میں شیلٹر ہومز کا قیام جو غریبوں، گائوں دیہات سے آنے والوں اور مزدور پیشہ افراد کو عارضی رہائش اور کھانا مہیا کرتے ہیں۔ غربت خاتمے کے اقدامات، غریب خواتین، بچوں، یتیموں وغیرہ کیلئے صحت، تعلیم اور رہائش کی سہولیات کی فراہمی اور ہیلتھ انشورنس وغیرہ شامل ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ کفایت شعاری کے اقدامات جس نے ریاستی دفاتر کے اخراجات کو کم سے کم کیا ہے اور وزیراعظم اور وزراء و مشیران کی پرتعیش کاروں اور خدمتگاروں کی فوج کو کم کیا ہے۔ وزیر اعظم کے بیرونی دورے کے اخراجات کو بھی کم کیا گیا ہے۔

عمران خان نے ہمیشہ اندرونی مسائل کو تشدد اور آپریشن کی بجائے بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے اور مودی کے ہندو قوم پرست شائونسٹ رویے پر ایک قابل قدر ذہانت اور اعتماد کے ساتھ مذمت اور مخالفت کی ہے۔ پلوامہ کے واقعے کے دوران نازک لمحوں پر عمران خان اور فوجی قیادت نے مل کر بہت اچھے طریقے سے بھارت کے ساتھ جنگ سے بچتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے انہیں ذلیل و رسوا کیا ہے۔ مذہبی اقلیتوں کو بین المذاہب ہم آہنگی کے اصول کے تحت آزادی دی گئی ہے اور انکے عبادتخانوں کو کھولنے کے منصوبوں کی حمایت کی گئی ہے۔ بابا گرو نانک کی 550 ویں سالگرہ پر دنیا بھر کے سکھ یاتریوں کیلئے کرتار پور کی راہداری کا افتتاح کرکے اور 1000 سالہ پرانے مندروں کی بحالی کرکے ان کے دل جیتے گئے ہیں۔ عمران خان نے اعتماد، عزت نفس اور وقار کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور ٹوئیٹر بیانات میں اپنے شدید تحفظات اور رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے اسکی مشکلات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ اسی طرح عمران خان نے بیباکانہ طور پر 1980 اور 1990 کی د ہائیوں میں افغان جنگ میں بین الاقوامی طاقتوں کی مجرمانہ مداخلت اور پاکستان کےماضی کے گناہوں کا اعتراف بھی کیا۔ کشمیر کیلئے عالمی سطح پر بہتر طور پر آواز اٹھائی اور اپنے آپ کو کشمیریوں کے وکیل اور سفیر کے طور پر پیش کیا۔ ان سب امور کی نواز شریف یا بینظیر بھٹو سے توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔

یہ عمران خان ہی تھے جنہوں نے پاکستان مین امریکی سامراجی طاقت کے تاثرات کو ملک میں ہونے والی عسکریت پسندی سے منسلک کیا اور اسی تجزیے کی وجہ سے عسکریت پسندی کے خلاف فوج کشی کی حمایت کرنے والے اور فوج کی مخالفت کرنے والی اشرافیہ اور لبرلز نے انہیں طالبان خان کا خطاب دیا اور اسکے جواب میں عمران خان نے انہیں خونی لبرلز اور دھرتی کا گند قرار دیا تھا۔ عمران خان کو فوج کی کٹھ پتلی قرار دینے اور ان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والے عناصر دراصل وہ مایوس عناصر ہیں جن کو عوام نے مسترد کر دیا ہے اور ان سے عمران خان کی بڑے پیمانے پر مقبولیت ہضم نہیں ہو رہی ہے۔

یقیناً عمران خان کے اقتدار کے پہلے دو سال کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جو استعماری سیاست کے خلاف انکی طرف سے سماجی انصاف کی غرض سے اٹھائے گئے اقدامات کے مضمرات کو بہت اچھی طریقے سے واضح نہیں کرتے کیونکہ ابھی انکے اثرات مرتب ہونے میں اور مثبت نتائج نکلنے میں وقت لگے گا۔ لیکن یہ خیال کہ انکے سیاسی انداز اور سابقہ اشرافیہ کے انداز سیاست میں کوئی فرق نہیں ہے یا انکےنئے پاکستان کا وعدہ، پرانے پاکستان کا ہی تسلسل ہے ایک کھلا تعصب اور پروپیگنڈا ہے جو عمران کے مخالف مایوس سیاستدانوں کا پھیلایا ہوا ہے۔ بلاشبہ عمران خان کی سیاست کے بہت سے کمزور پہلوئوں پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن انہوں نے غیر نوآبادیاتی سیاست کے جس ممکنہ پروڈکٹو انداز سیاست کا آغاز اور افتتاح کیا ہے اس پر تنقید کی بوچھاڑ کرنے کی بجائے اسکی پہچان، اسکا فہم وادراک اور اسکی تعریف زیادہ غور طلب پہلو ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20