جدید قومی ریاستوں کے بے ریاست شہری —– وحید مراد

0

انسان صدیوں سے مختلف گروہوں، قبائل اور قوموں کی شکل میں آباد ہے جنکی مختلف زبانیں، ثقافت اور طرز بودو باش تھی۔ روائیتی طرز کی سلطنتوں اور ریاستوں میں مختلف قبائل اور قومیں باہم مل کر رہتی تھیں لیکن سترھویں صدی میں جب یہ تصور عام ہوا کہ کسی خاص علاقے میں رہنے والی قوم کا ہی حق ہے کہ اس علاقے کے وسائل پر تصرف حاصل کرے اور کسی دوسری قوم کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں تو حق خود ارادیت اورقومی خود مختاری کے تصورات تشکیل پائے۔ مشترکہ ثقافت، نسل، جغرافیائی محل وقوع، زبان، مذہبی روایات و تاریخ، سماجی خصوصیات، سیاسی معیشت وغیرہ پر مبنی قومی شناخت کی تشکیل ہوئی اور پھر جب قومی خود مختاری کیلئےتحریکیں چلیں تو اس مطالبے کو پورا کرنے کیلئے قومی ریاستیں وجود میں آئیں۔

جدید قومی ریاستوں کے وجود میں آنے سے قبل سترھویں اور اٹھارویں صدی میں یورپ میں آسٹریا کی سلطنت، برطانیہ، فرانس، ہنگری کی بادشاہت، روسی سلطنت، پرتگالی سلطنت، ہسپانوی سلطنت، اسلامی دنیا میں خلافت عثمانیہ، ایرانی سلطنت اور ہندوستان میں مغل سلطنت وغیرہ کے علاوہ کئی اور بھی چھوٹی بادشاہتیں موجود تھیں۔ قومی تحریکیں اس تصور پر اٹھیں کہ روائیتی سلطنتوں اور باشاہتوں میں ایک خاندان یا نسلی گروہ کا تسلط ہوتا ہے اور دیگر قومیتوں کو ریاست کے وسائل پر تصرف کا حق اس طرح حاصل نہیں ہوتا جس طرح حکمران خاندان یا گروہ کو ہوتا ہے اور قومی ریاستیں معاشی، معاشرتی اور ثقافتی زندگی میں قومی اتحاد کے اصول کے تحت تمام شہریوں کو برابری اور مساوات کی بنیاد پر سیاسی، سماجی، معاشی حقوق دیں گی۔ لیکن قومی ریاستیں وجود میں آنے کے بعد طاقتور ریاستوں میں کمزور ریاستوں کے علاقوں اور وسائل پر قبضے کی مسابقت شروع ہو گئی اور طاقتور ریاستوں نے ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں بے شمار کمزور اقوام کو غلام بنا کر انہیں نوآبادیاتی کالونیوں کی شکل دے دی۔

بعد ازاں طاقتور اقوام میں معاشی مسابقت اور کمزور اقوام پر قبضے کی ہوس، جنگ عظیم اول، دوم کی ہولناک جنگوں کی شکل اختیار کر گئی جس میں لاکھوں معصوم افراد کام آئے۔ ان ہولناک جنگوں کے بعد قومی ریاستوں نے انسانیت کو صفحہ ہستی سے مٹادینے والا جدید اسلحہ، جبر، تشدد، دہشت گردی، منافرت، لسانیت، فرقہ واریت، ماحولیاتی آلودگی، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی بیماریاں، مہنگائی، بیروزگاری، جنسی بے راہروی، خاندانی نظام کی تباہی، جرائم، خودکشی، جیلوں میں اذیت ناک ماحول اور انسانیت سوز سزائیں اور درندگی کے جانے کیا کیا تحفے دئے۔ ان میں سب سے بڑا تحفہ انسانوں کو ‘بے ریاست ‘ کرنے کا ہے۔

Beyond borders: Statelessness and the people in between | Daily FTبے ریاستی کی سب سے بنیادی قسم وہ ہے جب کسی قوم کے افراد سے انکی ریاست چھین کر انہیں بے ریاست کیا جاتا ہے اور انکی ریاست پر کوئی دوسری طاقت قبضہ کر لیتی ہے۔ سامراجی دور میں برطانیہ، فرانس، روس اور کئی دیگر طاقتور ریاستوں نے جب اپنی سرزمین سے باہر اثر و رسوخ بڑھایا اور اسکے نتیجے میں نوآبادیاتی کالونیاں کی خودمختاری ختم ہو گئی تووہ قومیں بے ریاست ہو گئیں۔ بہت سی قومیں اس وقت بھی بے ریاست ہو گئیں جب سامراج نے اپنی بد انتظامی کے نتیجے میں معاشی مسائل کا شکار ہو کر مقبوضہ علاقوں سے بوریا بستر لپیٹا اور اپنے مستقبل کے مفادات کے تحت بہت سی قوموں کےجغرافیے کو کئی ممالک میں تقسیم کر دیا۔ اس طرح کئی اقوام مختلف ممالک کے اندر ٹکڑوں میں بٹ گئیں اور انکی ثقافت، روایات اور شناخت پسماندگی کا شکار ہو گئیں۔

بے ریاستی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سامراج نےقبضہ ختم کرتے وقت جان بوجھ کر کچھ چھوٹی ریاستوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تاکہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ سودے بازی کرکے ان پر قبضہ کروایا جا سکے۔ پنجاب مسلم اکثریتی صوبہ ہونے کے باوجود پاکستان کے حوالے نہیں کیا گیا بلکہ ہندوستان اور پاکستان میں بانٹ دیا گیا تاکہ پاکستان کے آبی وسائل ہندوستان کے کنڑول میں رہیں اور بوقت ضرورت ہندوستان پاکستان کے معاملات میں مداخلت کرنے کی پوزیشن میں رہے۔ ہندوستان کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ کشمیر، حیدر آباد دکن، جونا گڑھ وغیرہ پر قبضہ کر ے اور کئی دیگر چھوٹی قوموں مثلاً مسلمان، سکھ اور گورکھوں وغیرہ کو خود مختاری نہ دے۔ سلطنت عثمانیہ کو کئی چھوٹی قوموں ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا اور فلسطینیوں کو اپنے علاقے سے بے دخل کرکے وہاں ایک غیر قانونی ریاست اسرائیل کی شکل میں قائم کر دی گئی۔ اسی طرح تبت اور سنکیانک کو چین نے اپنی ریاست میں ضم کر لیا، روہنگیا میانمار کے قبضے میں آگئے، کردوں کو ایران، شام، ترکی اور عراق میں تقسیم کر دیا گیا۔

UNHCR urges states to end limbo for stateless people – News Update Daily1971 میں جب سقوط ڈھاکہ ہوا اور بنگلہ دیش ایک الگ ملک بن گیا تو 3 سے 5 لاکھ بہاریوں کو بے ریاست کر دیا گیا جو آج تک کیمپوں میں پناہ گزیں کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان نے بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا کہ چونکہ بنگلہ دیش، مشرقی پاکستان کی جانشینی ریاست ہے اس لئے اسکی ذمہ داری ہے کہ وہ بہاری لوگوں کو اپنی ریاست میں شامل کرے جیسے مغربی پاکستان نے اس خطے میں رہائش پذیر تمام اقوام کو ریاست پاکستان میں شامل کیا لیکن تاحال بنگلہ دیش نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اسی طرح نیپال میں ایک لاکھ سے زیادہ بھوٹانی گناہ گزین ہیں جنکے پاس نہ بھوٹانی شہریت ہے اور نہ نیپال انکو اپنا شہری تسلیم کرتا ہے۔

بے ریاستی کی ایک بڑی وجہ وہ امتیازی سلوک ہے جو کچھ ریاستیں اپنے مخصوص شہریوں سے انکی نسل، رنگ، زبان، مذہب یا ثقافت کی بنیاد پر روا رکھتی ہیں اور جسکی بنیاد پر انسانوں کے بڑے بڑے گروہوں کو ملکی شہریت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اس امتیازی سلوک کے خلاف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ نسلی امتیاز کے خاتمے کے بارے میں اقوام متحدہ کی کمیٹی نے یکم اکتوبر 2014 کو کہا کہ “نسل، رنگ، قوم، زبان یا مذہب کی بنیاد پر شہریت سے محروم کرنا اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو تمام ریاستوں نے کیا ہوا ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں سے امتیازی سلوک کے خاتمے کو یقینی بنائیں گی” لیکن بہت ساری طاقتور ریاستیں اقوام متحدہ کے احکامات کو خاطر میں نہیں لاتیں اور اپنے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہیں۔

قومی ریاستوں کے وجود میں آنے سے قبل قومیت اور شہریت کے سخت قوانین موجود نہیں تھے اس لئے کسی بھی علاقے کے لوگ دنیا کے کسی بھی خطے میں آسانی سے جا کر رہاش اختیار کر سکتے تھے اور بیشمار ایسی قومیں تھیں جنکی اپنی کوئی الگ ریاست نہیں تھی لیکن پھر بھی انہیں اپنے رہائش پذیر علاقوں میں تمام سہولتوں سے فیضیاب ہونی کی سہولتیں میسر تھیں۔ لیکن اب ایسی پسماندہ قوموں کو اپنے ہی علاقے میں بے ریاست کر دیا گیاہےاورانکی حالت اب جانوروں سے بھی بدتر ہو چکی ہے کیونکہ بڑی طاقتوں کی طرف سے دیگر ریاستوں پر بھی پریشر ڈالا جارہا ہےکہ وہ ان لوگوں کو پناہ گزینوں کے طور پرقبول نہ کریں۔

The Last Word - Stateless People - Children of the League of Nationsاقوام متحدہ کے مطابق، بے ریاست شہریوں کی شہریت کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور کسی بھی ملک کی شہریت نہ ہونے کی وجہ سے بے ریاست افراد کو جائیداد رکھنے، بینک اکاؤنٹ کھولنے، قانونی طور پر شادی کرنے اور بچوں کی پیدائش کے اندراج جیسے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی افراد کو طویل عرصے تک حراست میں رہنا پڑتا ہے کیونکہ وہ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ وہ کون ہیں اور ان کا تعلق کس خطے سے ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں ایک کروڑ بیس لاکھ (10 سے 15 ملین)لوگ ایسے ہیں جو اپنے ہی علاقے میں اجنبی بن گئے ہیں۔ یہ لوگ جس ملک میں پیدا ہوئے، جہاں پرورش پائی وہی ملک ان سے کسی نسلی یا مذہبی امتیاز کی بنا پر شہریت سے انکار کرتا ہے۔ کسی بھی ملک کی شہریت نہ ہونے کی وجہ سے یہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں اور ان میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔

1954 میں اقوامِ متحدہ کی طرف سے بے ریاست افراد کے ساتھ کم سے کم معیار کا سلوک قائم کرنے کے لئے ایک کنونشن لایا گیا جو بے ریاست افراد کو تعلیم، روزگار، رہائش، شناخت، سفری دستاویزات اور انتظامی مدد کا حق دیتا ہے۔ 1961 میں ایک نیا کنونشن لایا گیا جس میں شہریت کے لیے ہر بے ریاست فرد کے حقوق یقینی بنانے کے لیے، ایک بین الاقوامی فریم ورک قائم کیا گیا۔ اس کنونشن میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر والدین نے کوئی دوسری قومیت حاصل نہیں کی تو بچوں کو اسی ملک کی شہریت حاصل ہوگی جس میں وہ پیدا ہوئے ہیں۔ اسی طرح یہ کنونشن بے ریاستی کی روک تھام کے لیے اہم حفاظتی اقدامات کا تعین بھی کرتا ہے۔ دنیا بھر کے چھیاسٹھ ملکوں نے ابھی تک اقوام متحدہ کے انیس سو چون کے کنونشن پر دستخط کیے ہیں جس میں بے ریاست افراد کے ساتھ برتاؤ کے کم سے کم معیار مقرر کیے گئے ہیں جبکہ صرف اڑتیس ممالک اقوامِ متحدہ کے انیس سو اکسٹھ کے کنونشن کے ارکان ہیں جس میں بے ریاست افراد کی بے وطنی کم کرنے کے لیے قانونی دائرہ کار کا تعین کیا گیا ہے۔

بھارت، بنگلہ دیش اور میانمار نے اقوام متحدہ کے ان کنونشنوں میں سے کسی ایک پر بھی دستخط نہیں کیے۔ لیکن ان کنونشنوں پر دستخط کرنے کے باوجود بھی یہ کنونشن ایسے مواقع کا تعین بھی کرتے ہیں جب کوئی ریاست کسی شخص کو اس کی شہریت سے محروم کر سکتی ہے، چاہے اس کے نتیجے میں وہ بے ریاست ہو جائیں۔ اب تک کئی ریاستوں اپنے علاقے کے مکینوں کے ساتھ یہ کاروائی کر چکی ہیں جن میں بھارت اور میانمار سر فہرست ہیں۔ بھارت بیس لاکھ آسامی مسلمانوں کو اور میانمار چھ لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو بے ریاست کر چکا ہے۔

یورپی نوآبادیاتی حکمرانوں کی آمد سے قبل ایشیاء میں جغرافیائی سرحدوں کا کوئی واضح تعین نہیں تھا۔ اس وقت علاقائی سطح پر ترک وطن عام تھا کیونکہ خود مختار نوابی ریاستوں کے مابین غیر واضح اور ڈھیلی ڈھالی سرحدیں تھیں۔ قومی ریاستیں وجود میں آنے کے بعد اب دنیا میں کوئی ایک چپہ بھی ایسا نہیں ہے جو کسی ریاست کے قبضے سے باہر ہو اور جہاں کوئی بے ریاست قوم یا گروہ تصرف حاصل کر سکتا ہو۔ جنوبی ایشیاء میں 1945ء سے لے کر 1950ء تک کے عرصے میں قائم ہونے والی نئی ریاستوں کو جلد از جلد شہریت سے متعلق نئے قوانین اپنانا تھے۔ ان ممالک نے انتہائی معمولی یا کسی بھی ترمیم کے بغیر ہی زیادہ تر وہی قوانین اپنا لیے، جو پہلے سے موجود اور نوآبادیاتی طاقتوں کے بنائے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے شہریت سے متعلقہ قوانین کے باعث بھی کئی مسائل پیدا ہوئے۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک میں آج بھی کئی ملین انسانوں کے پاس ایسی قانونی دستاویزات موجود ہی نہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی مقامی شہریت ثابت کر سکیں۔ وہ جنہیں بے وطن سمجھا یا قرار دیا جاتا ہے، زیادہ تر ترک وطن یا نقل مکانی کے پس منظر والے ایسے غریب انسان ہیں، جن کی اپنی کوئی زمینیں یا دیگر املاک نہیں۔

بھارت نے آسام میں ‘شہریوں کے قومی رجسٹر‘ یا این آر سی کی تازہ فہرست جاری کی گئی ہے جس میں آسام میں برسوں سے رہنے والے مسلمان شہریوں کو بھارتی شہری تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہ غیر قانونی اور غیر ملکی قرار دیے جانے والے بیس لاکھ افراد عملی طور پر بے وطن ہو چکے ہیں اور اگر وہ اپیل کرنے کے بعد بھی اپنی شہریت ثابت نہ کر پائے تو انہیں ملک بدری، گرفتاریوں اور حراست کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ستمبر میں اپنے دورہ آسام کے دوران یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ ”بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ان در اندازوں کو ایک ایک کر کے اٹھائے گی اور انہیں خلیج بنگال میں پھینک دیا جائے گا‘‘

بھارت کے اس انسانیت سوز عمل کے خلاف آسام میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور اب تک لاتعداد مظاہرین کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ مظاہرین کی طرف سے، ہلاکت سے بچنے کیلئے کی گئی مزاحمت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ان مظاہروں میں 50 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون باہر سے آنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو تو سہولت دیتا ہےلیکن یہ قانون انڈیا کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ لیکن اسکے برعکس ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے ان سے ‘انتقام’ لیا جائے گا اور ‘سرکاری املاک کے ہرجانے کے طور پر ان کی جائیداد کی قرقی کی جائے گی۔ ‘پولیس نے ان کے حکم پر عمل کیا ہے اور ‘مطلوب’ افراد کی نشاندہی کے بعد، جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں، ان کے پوسٹر پورے کانپور میں چسپاں کروا دیے ہیں۔

بھارت کی موجودہ ہندو انتہاپسند حکومت آسامی مسلمانوں کی طرح کشمیر یوں کو بھی بے وطن کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں مودی، نیتن یاہو اور میکرون میں گٹھ جوڑ چل رہا ہے۔ مودی اور میکرون اسرائیل کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لاکھوں مسلمان کشمیریوں، آسامیوں اور الجیرین کو اسی طرح بے ریاست اور بے وطن کرنا چاہتے ہیں جس طرح اسرائیل نے فلسطینیوں کو بے وطن کیا۔

برصغیر کی تقسیم سے قبل کشمیر ایک آزاد ریاست تھی اور یہاں کی نوے فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ تقسیم کے وقت کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے تھے لیکن بھارت نے فوجی مداخلت کرکے وادی کشمیر، جموں اور لداخ پر قبضہ کرلیا اور دیگر علاقوں نے ایک نیم خود مختار ریاست کی شکل میں پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔ لداخ کا کچھ علاقہ، اسکائی چن اور بالائے قراقرم کا علاقہ چین کے کنٹرول میں ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنی قرادادوں کے تحت کشمیری قوم کا حق خود ارادیت تسلیم کیا ہے لیکن بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑا ہوا ہے۔ ایک سال قبل انڈیا نے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا اور اس کو دو یونین ٹریٹری جموں اور لداخ میں تقسیم کر دیا ہے۔

5 اگست 2019 سے وادی، جموں اور لداخ میں بھارتی فوج کا کرفیوں نافذ ہے۔ 9 لاکھ بھاری فوج نے نہتی کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق معطل کئے ہوئے ہیں اور کشمیری اپنے گھروں میں ایک جیل کی طرح رہ رہے ہیں۔ کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے، صحت و علاج کی سہولتیں مفقود ہیں اور کشمیریوں کی آواز کو دنیا تک پہنچنے سے روکنے کیلئے الیکٹرانک میڈیا، پریس، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور عالمی آبزرورز کا داخلہ کشمیر میں بند کر دیا گیا ہے۔ اس پر مزید ظلم یہ ہے کہ بھارت نے جموں کشمیر میں ڈومیسائیل کے نئے قوانین نافذ کر دئے ہیں جن کے تحت بھارتی شہریوں کو کشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے اور زمینیں اور جائیدادیں خرید کرکشمیریوں کو فلسطینیوں کی طرح بے وطن کرنےکا راستہ ہموار کر دیا ہے اور عالمی ضمیر اس صورتحال پر مسلسل خاموش تماشائی کی طرح بے حسی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

بھارت کی طرح میانمار کی فوج نے بھی سخت مظالم ڈھاتے ہوئے چھ لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے پر مجبور کر دیا ہے جہاں وہ رخائن ریاست میں رہائش پزیر تھے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق ان مسلمانوں کے گھر بار، گاؤں، مویشی جانور اور کھیت تمام نذر آتش کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ ملک میں واپس نہ آئیں۔ وہ روہنگیا مسلمان جو ان مظالم سے بچنے کے لیے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی راہ کو نکلتے ہیں، میانمار کے حکام سیکورٹی نافذ کرنے کے لیے آپریشن کے نام پر ان شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں اورعورتوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے تعینات سفیر کے مطابق اکتوبر سے لے کر اب تک چھ لاکھ افراد سرحد عبور کر کے میانمار سے بنگلہ دیش داخل ہو چکے ہیں۔ ان روہنگیا پناہ گزینوں کو ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غذا کے بغیر پیدل چلنا پڑا جس کے بعد بالآخر وہ بنگلہ دیش تک پہنچےاقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق ‘بہت ممکن’ ہے کہ میانمار کے سیکورٹی اہلکاروں نے جان بوجھ کر روہنگیا پناہ گزینوں کے پیدل چلنے والے سرحدی راستے میں بارودی سرنگیں نصب کی تھیں جس سے ان کا سفر اور بھی خطرناک ہو گیا تھا ماہرین کے مطابق چند روہنگیا مسلمانوں کو تین ہفتے تک مسلسل چلنا پڑا تھا جس کے بعد وہ بنگلہ دیش میں حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے پناہ گزین کیمپ تک پہنچ سکے تھے درجنوں لوگ اب تک اس سفر میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

اخبار ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق 24 اگست سے اب تک 28 کشتیاں ڈوب چکی ہیں جن میں 184 افراد ہلاک ہو چکے ہیں بنگلہ دیش کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے لیے پناہ گزین کیمپ قائم کریں گے جہاں 80000 روہنگیا کو رہنے کی جگہ میسر ہو سکے گی۔ میانمار سے جان بچا کر بھاگنے والوں کے مطابق رخائن ریاست میں کھانے کی قلت کی وجہ سے ان کو بھاگنا پڑا تھا کیونکہ وہاں موجود کھانے کی دکانیں بند کر دی گئی تھیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق کیمپوں میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب خواتین موجود ہیں جو ماں بننے کی عمر میں ہیں۔ ان میں سے 24000 خِواتین حاملہ ہیں اور ان کے پاس روڈ پر اولاد جنم دینے کے علاوہ اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

روہنگیا اور آسامی مسلمانوں کی طرح فلسطینی مسلمان بھی اس وقت سے پناہ گزینی اور بے وطنی کی زندگی گزار رہے ہے جب برطانوی سامراج نے امریکہ کے ساتھ مل کر جب سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کئے تو یورپ کے لاکھوں یہودیوں کو فلسطین کی سرزمین پر لا کر بسایا۔ ان یہودیوں نے سامراج کی پشت پناہی سے اسرائیل کی غیر قانونی ریاست قائم کرنے کے بعد اس میں توسیع کرتے ہوئے فلسطینی عوام کو صدیوں سے رہائش پذیر علاقوں سے بے دخل کرتے ہوئے بے ریاست کر دیا۔ اس وقت دو لاکھ سے زائد فلسطینی یورپ میں پناہ گزین ہیں اور باقی ماندہ اردن، لبنان، شام اور غذہ کی پٹی میں بے وطن ہیں۔ جن علاقوں میں فلسطینی رہائش پذیر ہیں، عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ وہاں کے شہری ہیں حالانکہ وہ وہاں پناہ گزیں کی حیثیت سے رہتے ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں بسنے والے فلسطینیوں کو اوسلو معاہدوں کے تحت فلسطینی پاسپورٹ جاری کر دئے گئے تھے اور بین الاقوامی سطح پر انکی قانونی حیثیت کو 2018 میں کسی حد تک تسلیم کیا گیا تھا۔ اور کچھ ممالک انکی سفری دستاویزات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن انکی فسطینی شہریت کو تسلیم نہیں کیا جاتا کیونکہ صرف ان شہریوں کی شہریت کو تسلیم کیا جاتا ہے جو کسی باقاعدہ ریاست کے شہری ہوتے ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کوئی باقاعدہ ریاست نہیں ہے یہ 2012 سے اقوام متحدہ کی محض nonmember observer state ہے اور اسے بہت سارے ممالک کی طرف سے تسلیم نہیں کیا گیا ہے لہذا فلسطینی جہاں بھی رہائش پذیر ہیں بے وطن اور بے ریاست ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی بے وطن قوم کرد قوم ہے جسکی آبادی 3 کروڑ سے زائد ہے۔ ان میں سے 20فیصد کے لگ بھگ ترکی میں رہائش پذیر ہیں، 20 سے 25 فیصد عراق میں، 10 فیصد ایران میں اور تقریباً 9 فیصد شام میں اور ایک ملین سے زائد مغربی ممالک میں رہائش پذیر ہیں.2011 تک ایک اندازے کے مطابق شام میں 3 لاکھ کے قریب بے ریاست کرد ہیں اور شام کی بے حسی کی وجہ سے یہ متاثرہ افراد دیگر ملکوں اور علاقوں میں نقل مکانی کر رہے ہیں جس سے انکی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

دنیا کی تمام جدید طاقتور ریاستوں کی طرف سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ اس وقت دنیا سے غلامی کا خاتمہ کر دیا گیاہے حالانکہ یہ محض ایک مفروضہ اورغلط فہمی ہے جس سے سادہ لوح عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھی دنیا میں طاقتور قوموں کی طرف سے کمزور قوموں کے ساتھ غلامانہ سلوک کیا جاتا ہے اور بین الاقوامی قانون میں اسکی گنجائش موجود ہے۔ جب کوئی طاقتور ریاست اپنے شہریوں کو حقوق شہریت سے محروم کر دیتی ہے تو خود بخود وہ تمام دیگر قانونی حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اور جب طاقتور ریاستیں دیگر کمزور ریاستوں پر دھونس ڈالتی ہے کہ وہ ان بے ریاست شہریوں کو پناہ گزیں کے طور پر ملک میں نہ گھسنے دیں تو ان لوگوں کی حیثیت غلاموں سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح امریکہ اور دیگر طاقتوں نے جن لوگوں کو جنگی مجرم قرار دے کر گوانتاناموبے جیل، برطانیہ کی بل مارش جیل، عراق کی ابوغریب جیل اور افغانستان کی بٹگرام جیل میں ڈال دیا ہے انکی حیثیت بھی غلاموں سے بدتر ہے کیونکہ ان پر کسی ملک کے وہ قوانین بھی لاگوں نہیں ہوتے جو وہاں کے عام قیدیوں کو کچھ انسانی حقوق فراہم کرتے ہیں۔

روائیتی اور مذہبی ریاستوں میں آزادی اور مساوات کے نام پر انسانیت پراس طرح کے ظلم و ستم کبھی نہیں کئے گئے جو آج کی جدید ریاستیں کر رہی ہیں۔ شریعت ایک انسان کو جو حقوق عطا کرتی ہے وہ کسی آقا، مالک، حکمران اور ریاست کو چھیننے کا اختیار نہیں ہوتا۔ امت مسلمہ کے ہر فرد کو کسی بھی اسلامی معاشرے اور علاقے میں وہی حقوق حاصل ہوتے تھے جو اسے اپنے پیدائشی علاقے میں حاصل ہوتے تھے۔ روائیتی حکمران اور ریاستیں جب کسی مجرم کو علاقہ بدر کر دیتی تھیں تووہ اسکے لئے ایک جزوی سزا ہوتی تھی، اور اس سنگین جرم کی سزا کی وجہ سے صرف اپنے علاقے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا باقی دنیا اسکے لئے کھلی ہوتی تھی اور وہ کہیں بھی انسانوں کی طرح زندگی بسر کر سکتا تھا۔ مثلاًجب یہودیوں کیلئے پورا یورپ مقتل بنا ہوا تھا اوروہاں انکا جینا حرام کر دیا گیا تھا تو انہیں اسلام کی آغوش میں پناہ ملی۔ جب اسپین سے ڈھائی لاکھ یہودیوں نے ہجرت کی تو انہیں سلطنت عثمانیہ نے سلونیکا میں آبادکاری کی جازت دی اس لئے اسلامی خلافت کا وہ دور یہودیوں کیلئے سنہری دور کہلاتا ہے لیکن آج کے دور میں دنیا میں بیس سے زیادہ اقوام در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں اور انہیں کوئی ریاست اپنا شہری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ بین الاقوامی قانون کی روسے جن حقوق کو انسانی حقوق قرار دیا گیا ہے انکا مطالبہ صرف ریاست سے ہی کیا جا سکتا ہے اور جو شخص یا قوم ریاست کی شہریت سے محروم ہو جائے اسے کسی قسم کے کوئی حقوق حاصل نہیں ہوتے اور اسکی حیثیت غلام سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20