راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 18) —- یاسر رضا آصف

0

میں پہلے بھی کئی مرتبہ چڑھائی چڑھ چکا تھا۔ پاک پتن میں ڈھکی مسلسل اوپر کو جاتی سڑکوں اور پیچ دار گلیوں سے جانی جاتی ہے۔ یہ کسی دور میں ٹیلہ تھا پھر ٹیلے پر مکانات تعمیر ہونے لگے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مکانوں اور رہائشیوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ کسی کالونی کی طرح مکان کسی خاص ترتیب یا نقشے کے تحت نہیں بنائے گئے۔ اس لیے گلیاں تنگ، پیچ دار اور بھول بھلیوں جیسی ہیں۔ مکانات ماچس کی ڈبیوں کی مانند پورے ٹیلے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ٹیلے سے یوں چپکے ہوئے ہیں جیسے صدیوں سے ٹھیک اسی جگہ موجود ہوں کہ جہاں اب وہ ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مکانات دھڑا دھڑ بنتے گئے۔ یوں دیواروں اور اینٹوں نے ٹیلہ پوری طرح ڈھانپ لیا اور ڈھکی کی موجودہ صورت سامنے آئی۔ قلعہ کو جانے والا راستہ ڈھکی کے راستوں سے ملتا جلتا تھا۔ بس تھوڑا کشادہ تھا اور پتھریلی اینٹوں سے بنا تھا۔ سڑک ڈھلوان کی مانند تھی۔ معاملہ یہ تھا کہ ہم ڈھلوان کے زمینی سرے پر موجود تھے۔ ہمیں پھسلنا نہیں بلکہ چڑھنا تھا۔

میں نے تیزی سے قدم پر قدم اٹھانے شروع کیے۔ ہر روز چہل قدمی کرنا میرا معمول ہے۔ پیدل چلنے میں لطف محسوس ہوتا ہے۔ قدموں کا ترنم جب دھڑکن کے ترنم سے ہم آہنگ ہوتا ہے تو فطرت کا ترنم جنم لیتا ہے۔ پھر قدم خود بہ خود اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ پیدل چلتے وقت میں خود کو کسی اور دنیا میں محسوس کرتا ہوں۔ یوں سفر آسان ہو جاتا ہے۔ جس طرح لمبے سفر کے مسافر خود کو کتاب میں گم کرلیتے ہیں اور اچانک سے اپنی منزل پر پہنچ کرچونکتے ہیں لیکن بلتت قلعے کی جانب جانے والی پتھریلی اور مسلسل اوپر کو اٹھتی سڑک پر سابقہ تمام تجربات غلط ثابت ہوئے۔ وہاں آکسیجن کی حد درجہ کمی تھی۔ مقامی لوگ تو اس کمی کو شاید محسوس بھی نہ کرتے ہوں چوں کہ ان کے پھیپھڑے اس کے عادی ہو چکے تھے لیکن مجھے اس کمی نے اپنی صحت کے متعلق شک میں مبتلا کردیا۔ ہوا یوں کہ جب میں گنتی کے بیس یا پچیس قدم تیزی سے چڑھائی چڑھا تو سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگی۔ سر چکرانے لگا۔ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ بات تک کرنا ممکن نہ رہا۔ مجھے لگا کہ شاید میں اندر سے کمزور ہو چکاہوں۔ مجھے اپنی صحت کی پرواہ نہیں رہی۔ میں موڑ مڑا اور دیوار کے کونے پر رکھے چوکور پتھر پر بیٹھ کر سانس درست کرنے لگا۔ جب ہوش ٹھکانے آئے اور اردگرد نظر دوڑائی تو اپنے دائیں بائیں دوستوں کو کھلے مُنھ کے ساتھ لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے دیکھا۔ وہ بھی اسی حالت سے گزر رہے تھے۔

میں نے اطمینان کا سانس لیا اور آنکھیں موند لیں۔ سبھی کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ کیا سبھی بیمار تھے ایسا ہونا ناممکن سی بات تھی۔ میں نے دیوار کی اوٹ سے سر نکالا اور نیچے جھانک کر دیکھا۔ گاڑی ایک چھوٹے سے ڈبے کی طرح لگ رہی تھی۔ میں حسرت سے گاڑی کو تکے جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ گاڑی اوپر کیوں نہیں آسکی۔ میری طبیعت بحال ہونے لگی اور سانس آسانی سے آنے جانے لگا۔

ایک اسی نوے سالہ بزرگ لاٹھی تھامے ہمارے سامنے سے گزرنے لگے۔ وہ بڑی آسانی سے گردن اونچی کیے جارہے تھے۔ سر پر ہنزہ کی مخصوص ٹوپی تھی۔ جس کا رنگ سفیدی مائل تھا۔ ٹوپی کے ماتھے پر مور کا پنکھ سجا تھا۔ بید کی چھڑی پر نقش و نگار کنندہ تھے۔ انھوں نے مضبوطی سے چھڑی کی دستی کو تھاما ہوا تھا۔ قد کافی اونچا تھا پر خم برائے نام بھی نہیں تھا۔ پائوں میں پشاوری چپل تھی۔ سفید شلوار قمیض کے اوپر کلیجی رنگ کی واسکٹ پہنے ہوئے تھے۔ چہرے پر جھریوں کے باوجود آنکھوں میں چمک تھی۔ وہ متوازن قدموں سے چل رہے تھے۔ نہ انھیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی، نہ ہی انھیں ہماری طرح سستانے کے لیے جگہ ڈھونڈنی پڑ رہی تھی۔

میں نے پاس بیٹھے اسلام کو اشارہ کیا۔ ہم بابا جی کی پر اعتماد چال کو رشک سے دیکھنے لگے۔ اسلام نے بتایا کہ یہاں کے مقامی لوگوں کی طبعی عمر نوّے سال سے کچھ اوپر ہی ہے۔ انھیں کوئی بیماری نہیں ہوتی۔ سادہ خوراک اور سادہ طرز زندگی ان کی صحت کا راز ہے۔ عابد نے اسلام کی تائید کی اور بات کو آگے بڑھایا کہ عالمی ادارے نے جب طویل عمر علاقوں اور لوگوں پر تحقیق کی تو ہنزہ بھی اس میں شامل تھا۔ مجھے ان کی طرزِ زندگی اور رہن سہن پر رشک آنے لگا۔
شہروں میں بسنے والے لوگ گرد، مٹی، دھواں اور شور کے باعث کئی جسمانی اور ذہنی عارضوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ کم عمری میں ہی دنیا کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ ماحول کے ساتھ غذا بھی طویل عمری کے لیے موثر ہوتی ہے۔ ہنزہ میں ماحول صاف اور پانی شفاف ہے پھر مقامی لوگ اپنی دھرتی میں اگائی گئی اجناس بغیر دوا دارو کے صدیوں سے استعمال کرتے آرہے ہیں۔ مصنوعی اور مشینی زندگی کے برعکس فطری اور سادہ زندگی طویل عمری کا تحفہ لیے ہے۔ بیماری کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
میں طویل عمری کی طویل سڑک پر سفر کررہا تھا۔ اسلام اور عابد نے ٹہوکا لگایا اور کہنے لگے کہ بہت آرام کرلیا۔ کئی دوست تو چلے بھی گئے ہیں۔ میں نے حوصلے کو مجتمع کیا اور اٹھ کھڑا گیا۔

رستہ پتھریلا تھا اور زینے ٹوٹی پھوٹی صورت میں کسی کسی جگہ موجود تھے۔ رستے کے اوپر ہی لکڑی کی چھت ڈال کر کمرہ بنایا گیا تھا۔ کھڑکی کے تختے رنگین شیشوں سے سجے تھے۔ راستے پر کچھ گھر بھی تھے۔ زیادہ تر دروازوں پر کھدائی کا کام کیا گیا تھا۔ لکڑی سیاہ پڑ چکی تھی پرکنندہ پھول ابھی تک اپنے ابھاروں سمیت موجود تھے۔ قلعے کی دیواریں پتھریلی تھیں۔ سامنے کھلی جگہ تھی۔ قلعے کے پاس ٹکٹ لے کر انتظار کرنا کسی طور بھی اکتا دینے والا نہیں تھا۔ جس چبوترے پر ہم لوگ کھڑے تھے۔ وہاں سے وادی کا کچھ حصہ واضح نظر آرہا تھا۔ اونچے نیچے مکانات تھے، سبزہ تھا، بہتا دریا تھا اور برف پوش چوٹیاں تھیں۔ منظر آئل پینٹنگ جیسا تھا اور تصویر کیے جانے کے قابل تھا۔

بلتت قلعے کو لکڑی کے بڑے بڑے ستونوں کے سہارے کھڑا کیا گیا تھا۔ باہر رکھی توپ نے ہمارا استقبال کیا۔ ٹکٹ خریدتے وقت ہمیں سفید لباس پہنے چھریرے جسم والا شخص ملا۔ جو اپنی مونچھیں لپیٹ کر مُنھ پر سجائے ہوئے تھا۔ مجھے موپاساں کی مونچھیں یاد آگئیں۔ کسی دور میں مونچھیں رکھنے کا رواج عام تھا۔ برصغیر کے ادیبوں میں علامہ اقبالؒ تھے اور بہت سوں کی بھی ہوں گی لیکن موپاساں اور اقبالؒ اس حوالے سے مقام اور کام میں بھی نمایاں رہے۔ پنجاب کے لوگ چہرے پر خاص اہتمام کے ساتھ مونچھیں سجا کر رکھتے تھے۔ نوک دار، چپٹی اور کنگی نما ہر طرح کی مونچھیں دیکھنے کو مل جاتی تھیں۔ اس شخص کی مونچھیں دیکھ کر امیتابھ کی فلم شرابی کا مشہور ڈائیلاگ ’’مونچھیں ہوں تو نتھو لال کے جیسی ہوں ورنہ نہ ہوں‘‘ میرے دماغ کے گنبد میں گونجنے لگا۔

ہم سبھی دوست ٹکٹ ہاتھ میں تھامے انتظار کرتے رہے۔ لکڑی کی سیڑھی پر بیٹھ کر تصویریں بناتے رہے جس کے زینے کافی تنگ تھے۔ بالآخر منتظم نے ہمیں آکر قلعے کی مختصر تاریخ بتانا شروع کی۔ میں منتظم کے لہجے اور الفاظ پر غور کر رہا تھا۔ جو ہر لفظ پر زور دے کر بول رہا تھا۔ کسی بھی شخص کے بات کرنے کا انداز، الفاظ کی ادائیگی، لہجے کا اتار چڑھائو اور ہاتھوں کی حرکت سب مل کر شخصیت کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو باتوں سے دل موہ لیتے ہیں۔ اس شخص کی گفتگو عمدہ اور لہجہ میٹھا تھا۔ اس نے بڑی آہستگی سے ہمیں گائیڈ کے حوالے کیا۔ جیسے چوزے بیچنے والا گاہک کو احتیاط سے چوزوںبھرا ڈبہ تھماتا ہے بالکل ویسے ہی ہمیں گائیڈ کو تھما دیا گیا۔

گائیڈ نو عمر لڑکا تھا۔ اس کی زبان تیز تیز چل رہی تھی۔ وہ مسلسل بولے جارہا تھا۔ رٹے رٹائے جملے ادا کرتے ہوئے وہ ہمیں قلعے کے مختلف حصوں کی سیر کروانے لگا۔ اس کا لہجہ خاصہ بناوٹی تھا۔ وہ ہر بات کو پیشہ وارانہ مسکراہٹ کے ساتھ ادا کررہا تھا۔ وہ بولتا جا رہا تھا اور سبھی لوگ خاموشی سے سنتے جا رہے تھے۔ جس موضوع پر بات کرتا ساتھ ہاتھ کا اشارہ بھی ہوتا۔ سننے کے ساتھ ہمیں اشارے کی طرف دیکھنا بھی ہوتا۔ قدیم برتن، منقش قالین، سیاہ فرنیچر سبھی کچھ صدیوں پہلے مقامی سطح پر تیار کیا گیا تھا۔ زیادہ تر اشیاء کی تیاری اور ڈھانچے میں لکڑی استعمال ہوئی تھی۔ جو کئی سو سال گزرنے کے بعد سیاہ رنگت اختیار کر چکی تھی۔ میں نے اسے ’’حبشی فرنیچر‘‘ کا نام دیا تو سبھی دوستوں میں ہنسی کی لہر پھیل گئی۔

قلعے کی دیواریں پتھریلے گارے سے بنی تھیں۔ دیواروں کے درمیان لکڑی کے بڑے بڑے ستون سہارے کے لیے موجود تھے۔ پھر لکڑی کو ہی پتری نما شکل میں دیواروں کے اندر خوب صورتی کے لیے چنا گیا تھا۔ دیواروں میں جا بجا محرابی خانے تھے۔ جن کے اندر دھاتی برتن سجائے گئے تھے۔ ایک کمرے میں داخل ہوئے تو وہاں تخت پڑا تھا۔ جس کے پائے چوکورتھے۔ تخت کی ٹیک سے لے کر پائوں تک تراش خراش کا کام بڑانفیس تھا۔ تخت کے پیچھے سیاہ قالین لٹک رہا تھا جس کے کناروں پر بالشت بھر چاندی کے تاروں سے بیل بوٹے کڑھے تھے۔ فہیم نے تخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عابد کے کان میں سرگوشی کی اور وہ دونوں مسکرانے لگے۔

ہم گائیڈ کی سربراہی میں باورچی خانے میں داخل ہوئے۔ باورچی خانہ کافی وسیع تھا اور اس دور کی ہر سہولت سے لیس تھا۔ گائیڈ نے برتنوں، کڑاہیوں اور پراتوں کے بارے بتانا شروع کیا۔ آگ جلانے کے لیے مرکزی نظام کی وضاحت کی جس کی شاخوں کے آخر میں پھول نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے چولہے بنے تھے۔ پھر اس نے لکڑی کا ایک مستطیل ڈبہ ہاتھ میں پکڑا اور سوال کیا کہ آپ بتائیں اندازہ لگائیں یہ کیا ہے؟ دبی دبی سرگوشیاں ہونے لگیں۔ کھُل کر کسی نے بھی نہ بتایا۔ ویسے بھی ہم لوگ جھٹلائے جانے کے ڈر سے صحیح بات اکثر نہیں کہہ پاتے۔ یوں سچ سینوں میں ہمارے ساتھ ہی مٹی کا رزق بن جاتا ہے۔ یہ جھجھک ہماری قوم کو شاید ورثے میں ملی ہے۔ گائیڈ لڑکے نے فخریہ انداز میں ڈبے پر لگی لکڑی کی ہُک کو اوپر اٹھا اور بتایا کہ یہ ایک چوہے دان ہے۔ میں نے غور کیا۔ اسے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو خاص مہارت سے جوڑ نے سے بنایا گیا تھا۔ وہ مشین کی قریب ترین حالت تھی۔ چوہے دان سے میری سوچ ہنزہ کی وادی میں پائے جانے والی نایاب نسل کی طرف چلی گئی۔ سنہری چوہے جن کی جلد سونے کی لہر لیے ہوتی ہے۔ چوہوں کی یہ نسل مسلسل دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اب ناپید ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ایک الماری باورچی خانے میں ایسی بھی بنائی گئی تھی جو اس دور میں فریج کا کام دیتی تھی۔ یہ الماری کھانے پینے کی اشیاء کو تازہ اور محفوظ رکھنے کے واسطے کچھ اس طرح بنائی گئی تھی کہ دیوار سے باہر برف سے ڈھکی رہتی تھی۔

گائیڈ ہر بات کو کہانی کے انداز میں پیش کررہا تھا۔ چھوٹی سے چھوٹی اور غیر اہم چیز کو بھی اہم بنا کر پیش کرنے کی صلاحیت ہماری دلچسپی میں اضافہ کررہی تھی۔ وہ ہر اس بات کی بھی وضاحت کررہا تھا جس کی وضاحت کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ میں قدیم پہاڑی قلعے میں خود کو بھی قدیم تصور کرنے لگا۔ دو ہزار چار میں یونیسکو کے ثقافتی ورثے کا حصہ بننے والا قلعہ عجائبات سے بھرپور تھا۔ دیوار پر لکڑی کے چمچ لکڑی کے دائرے پر کچھ اس قرینے سے سجے تھے کہ پھن پھیلائے سانپوں کا حصار لگ رہے تھے۔ اب ہم لوگ ایک اور کمرے میں آ چکے تھے۔ جو کھلا اور ہوا دار تھا۔ موسیقی کے آلات دیوار کے ساتھ ترتیب سے ٹنگے تھے۔ میں انھیں دیکھ کر سوچنے لگا کہ اب تک ان مختلف قسم کی بانسریوں میں کتنی سانسیں پھونکی گئی ہوں گی اور ان ڈرموں سے کتنی دھنیں نکلی ہوں گی۔ ان کے باہمی اشتراک سے کیسی کیسی آوازیں برآمد ہوئی ہوں گی۔ لوگوں کے بے اختیاری میں ان گنت مرتبہ پیر تھر تھرائے ہوں گے اور بے خودی میں کیسا کیسا رقص جاری ہوا ہو گا۔ اب ہم ایک خاصے کشادہ کمرے میں آچکے تھے۔ جہاں کسی دور میں غالبًا جرگہ ہوتا تھا۔ مہمانوں کی نشست گاہ قالین سے سجی تھی۔ کونے پر ہونے کی وجہ سے باہر کامنظر دیکھا جا سکتا تھا۔ لکڑی کے ستونوں میں نوک دار محرابی شکل کے کھلے حصے چھوڑے گئے تھے۔ جن کے اوپر جالی نما روشن دان تھے۔ سورج کی روشن چھن چھن کر خاص زاویے سے قالین اور ترتیب سے سجے گائو تکیوں پر پڑی رہی تھی۔ مجھے پگڑیاں باندھے، حقہ پیتے اور قہوہ سے لطف اندوز ہوتے قبائلی سردار دکھائی دینے لگے۔ جو گائو تکیوں سے ٹیک لگائے بات چیت کر رہے تھے۔ ان کے چہروں پر سرخی تھی۔ نین نقش تیکھے تھے اور آنکھیں نیلم جیسی چمک لیے تھیں میں نے جوتے باہر اتارے اور قالین کی پھول پتیوں پر سہج سہج کر چلنے لگا مبادا پھول کچلے نہ جائیں۔ میں قالین پر آہستگی سے قدم دھرتا ہوا محرابی چلمن کے پاس چلا گیا۔ نظارہ تھا کہ آنکھوں کو خیرہ کیے جاتا تھا۔ سرسبزوادی میں درختوں کی بہتات تھی۔ سبھی پیڑ پودے سبز رنگ سے ڈھکے ہوئے تھے۔ بہتا دریا لکیر کی صورت درمیان سے بل کھاتا ہوا گزر رہا تھا۔ پرے مٹیالے پہاڑ تھے۔ رنگوں کی ایسی بھڑک اور آپسی تال میل میں نے جیتی جاگتی آنکھوں سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میری آنکھیں جیسے زندہ ہو گئی تھیں۔ میں آنکھوں کے رستے ان رنگوں کو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کرنے لگا۔ پھر میں نے آنکھیں بند کیں اور ایک لمبا سانس لیا۔ باہر سے آنے والی کچے پھلوںکی خوشبو اور خوش رنگ پھولوں کی مہک اپنے اندر سمونے لگا۔

گائیڈ کی آواز مجھے واپس پتھریلے قلعے میں کھینچ لائی۔ وہ گروپ میں ایک ساتھ رہنے کا کہہ رہا تھا۔ دروازے کے سامنے سے گزرتے ہوئے شاید اس کی نگاہ مجھ پر پڑ گئی تھی لیکن میں اُسے کیسے سمجھاتا کہ مجھے قلعے کی چیزوں سے زیادہ فطرت میںدلچسپی ہے۔ میں پھولوں، پھلوں اور پودوں کا شیدائی ہوں۔ مجھے فطری مناظر اپنے حصار میں قید کرلیتے ہیں۔ میں روشنی کی طرح ہوا میں ہر طرف پھیل جانا چاہتا ہوں اور تم مجھے واپس پتھروں کی دنیامیں لے جانا چاہتے ہو۔ جہاں سوائے اندھیرے کے اور کچھ بھی نہیں۔

پگھلا دینے والی گرمی سے برا حال تھا۔ چلچلاتی دھوپ تازیانوں کی طرح جسم پر لگتی تھی۔ پسینہ ہر لمحہ شرابور کیے رکھتا۔ بجلی کی آنکھ مچولی اپنی جگہ ایک الگ مصیبت تھی۔ سبھی زبانوں پر مغلظات کے ساتھ ساتھ دعائیہ الفاظ بھی تھے۔ اس دوز خانہ ماحول سے صرف بارش ہی نجات دلا سکتی تھی۔ امید کے ساتھ خشک آنکھیں آسمان کو گرمی کے باوجود تکتی رہتیں۔ گھٹا اٹھی چہرے دمکے اور بارش برسنے لگی۔

میں خرم کے ساتھ گھر سے چل پڑا۔ ہم نے راجباہ کا رخ کیا تاکہ برستی بارش میں کھیتوں اور کھلیانوں کا دلفریب نظارہ دیکھ سکیں۔ ہم آدھ گھنٹے میں راجباہ پر پہنچ گئے۔ سیادہ بادل آسمان پر چھت کی طرح چھائے ہوئے تھے۔ ہم پھسلتے قدموں کے ساتھ راجباہ کی کچی سڑک پر چلنے لگے۔ جوتے ربڑ کے تھے۔ سڑک کیچڑ سے بھری ہوئی تھی پھسلن تھی۔ پانی جگہ جگہ کھڈوں میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے پھسلتے پھسلاتے چلے جا رہے تھے۔ یہ کوئی باقاعدہ قدموں کی سیدھی چال نہیں تھی بلکہ لہراتی اور بل کھاتی صورت میں تھی۔

ہوا کے جھونکے بارش کی بوچھاڑوں کا رخ سلسلہ وار بدل رہے تھے۔ کبھی بوچھاڑ دائیں جانب سے حملہ آور ہوتی تو کبھی سیدھی ہمارے سینے پر بوندیں برسانے لگتی۔ گزشتہ دنوں میں گرمی نے جسم کا حشر نشر کر دیا تھا اسی لیے ہمیں پانی کے تیرزخموں پر پھاہے محسوس ہو رہے تھے۔ راجباہ کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ہماری حرکات باولے انسانوں جیسی تھیں۔ کبھی میں خرم کو گرنے سے بچانے کے لیے سہارا بنتا تو کبھی وہ مجھے توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا۔ اس طرح ہم اپنی جگہیں بدلتے اور کچی سڑک پر گرتے سنبھلتے آگے بڑھ رہے تھے۔ ہم لوگ بالآخر سیمنٹ کی پل پر پہنچ گئے۔ پکی سڑک پر قدم جمے تو سکھ کا سانس لیا۔

پُل اونچائی پر تھا۔ میں نے کھیتوں کھلیانوں پر نگاہ دوڑائی پھر کسی کیمرے کی طرح میری نگاہ اوپر اٹھتی ہوئی دور ڈھکی کے پختہ مکانوں تک چلی گئی۔ جو اُبھرے ہوئے چھوٹے چھوٹے خانوں کی صورت بارش کے باعث دھندلے دکھائی دے رہے تھے۔ راجباہ میں پانی طغیانی سے بہہ رہا تھا۔ سیاہ بادل دور تک آسمان پر اپنی حاکمیت قائم کیے ہوئے تھے۔ وقفے وقفے سے بجلی کڑکتی اور سیاہ بادلوں کے خدوخال واضح دکھائی دینے لگتے۔ مختلف شکلیں ابھرتیں، سیاہ بادل کبھی کسی محل کا روپ دھار لیتے تو کبھی معصوم بچے کی مسکراہٹ کی شبیہ ظاہر کرتے۔ میں یہ کھیل کافی دیر تک دیکھتا رہا۔

اچانک نہ جانے خرم کو کیا سوجھی کہ وہ پکی سڑک پر بھاگنے لگا۔ میں نے بھی اس کے پیچھے دوڑ لگادی۔ ہمارے قدم برستی بارش میں سڑک پر چھڑاپ چھڑاپ کی آواز پیدا کرتے ہوئے پڑ رہے تھے۔ پکی سڑک سنسان تھی۔ بارش کی بوندوں کے علاوہ بجلی کی گرج کی آواز تھی یا ہمارے قدموں کی۔ میں قلعے میں گائیڈ کے پیچھے چلتے ہوئے اندر سے بھیگ چکا تھا۔

قلعے کی دیواریں پختہ تھیں۔ کارہ گری کا شاہکار تھیں لیکن اپنائیت سے محروم تھیں۔ میں قلعے سے دوستی کرنا چاہتا تھا۔ بانہیں کھول کر اسے اپنانا چاہتا تھا۔ جپھی ڈالنا چاہتا تھا۔ پر وہ رعونت سے گردن اکڑائے کھڑا تھا۔ درگاہوں اور درویشوں کے تکیوں پر جانا ہوا۔ درو دیوار سے اپنائیت جھلکتی تھی۔ رواں رواں سرشار ہوا جاتا تھا۔ وہاں قلبی اطمینان تھا اور یہاں بے چینی تھی۔ وہاں تازگی تھی تو یہاں گھٹن تھی۔ میرے کانوں نے سنا اور میں نے غور کیا۔ قلعے کی دیواریں نوحہ کُناں تھیں۔ میں ایسی ہی محسوسات کی کیفیت کے مختلف درجوں سے گزرتا گائیڈ کے ساتھ بڑے کمرے میں آگیا۔ جہاں تلوار، چاقو اور شاہی لباس دیواروں کے ساتھ کیلنڈروں کی طرح ٹنگے تھے۔

گائیڈ لڑکا ہنزہ کے جنگجوئوں کی بہادری کے قصے سنا رہا تھا۔ وہ انھیں دنیا کے طاقت ور اور نڈر یودھا ثابت کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ انسان کو ذہنی آسودگی کے لیے برتری اور تفاخر کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔ میں سوچنے لگا اور سوچتا ہی چلا گیا۔ کوئی ماضی کو فخریہ انداز میں پیش کرتا ہے تو کوئی حال پر ناز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کوئی اپنی نسل پر ناز کرتا ہے تو کوئی اپنے پرکھوں پر؛ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے ماضی کے قصے بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ ہمارا ذہنی مسئلہ ہے یا شناخت کا مسئلہ ہے۔ کئی لوگ تو اپنی اشیاء کی نمائش کرتے نہیں تھکتے۔ کچھ اپنی مالی امارت کو جلالی انداز میں بیان کرتے رہتے ہیں۔ میں دوستوں سے اکثر کہتا ہوں کہ اگر حال برا ہو تو شاندار ماضی کا اچار ڈالنا ہے۔ حال کو درست کرو تاکہ مستقبل شاندار ہو نہ کہ ماضی کے گیت گاتے گاتے قبروں میں اتر جائو۔ یہ ہوتا کیا ہے ہم لوگ ماضی کے شاندار قصوں پر خوش ہوتے ہیں تالیاں بجاتے ہیں اور پھر سے لمبی تان کے سو جاتے ہیں۔
میں کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ شاہی لباس پر لگے قیمتی موتی شیشے کے بکسوں میں بھی اپنی چمک دمک دکھا رہے تھے۔ تلواروں کی دھاریں تیز لگ رہی تھیں۔ ایک لکڑی کے لمبوترے ڈبے میں جس پر شیشہ لگا تھا۔ چائنہ کے کرنسی نوٹ دکھائی دے رہے تھے۔ عابد گائیڈ کی باتیں سن کر بامعنی انداز میں مسکرا رہا تھا۔ میں عابد کے قریب ہو گیا تا کہ مسکراہٹ کا سبب جان سکوں مجھے علم تھا کہ عابد بلاوجہ نہیں مسکرا رہا۔ میرے پوچھنے پر آ ہستگی سے بتانے لگا کہ یہ لوگ اگر اتنے بہادر ہوتے تو لڑائی کے دوران بھاگ کر چائنہ میں پناہ نہ لیتے اور برطانوی فوج قلعہ پر قابض نہ ہو پاتی۔ میں نے تُنک کر کہا کہ برطانیہ نے تو پورے برصغیر پر قبضہ کیا تھا تو کیا سبھی لوگ بہادر نہیں تھے۔ عابد پھر سے مسکرایا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے کے انداز میں کہنے لگا کہ مقابلہ کرنا اور میدان چھوڑ کر بھاگ جانا دو الگ الگ باتیں ہیں جناب۔ اسلام جو قریب ہی کھڑ اتھا سرگوشی کے انداز میں گویا ہوا کہ میں نے سنا ہے بادشاہ عیاش پرست اور ظالم تھا۔ ہر رات ہنزہ کی جواں سال لڑکی بادشاہ کے بستر کی زینت بنتی تھی جسے وہ اپنے سپاہیوں سے شام کو اٹھوالیا کرتا تھا اور جوصبح ہوتے ہی دریا بُرد کردی جاتی تھی۔

میں اور عابد یہ بات سن کر بیک وقت ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر مسکرانے لگے۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے بولنا شروع کر دیا کہ اسلام صاحب تاریخ قابض اور مقبوض دونوں کی یادداشتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ فاتح قوم خود کو درست سمجھتی ہے اور مفتوح قوم کو ممتاز نہیں ہونے دیتی۔ افواہوں کا لامتناہی سلسلہ شروع کرکے مزاحمتی دیوار میں سوراخ کیے جاتے ہیں تاکہ حملے کے جواز پیش کیے جاسکیں۔ اصل تاریخ وقت کے اوراق پر لکھی ہوتی ہے۔ جیسے قاضی فیصلہ کرتے وقت دونوں فریقوں کی باتیں سنتا ہے۔ تاریخ بھی فاتح اور مفتوح دونوں کی باتوں سے اخذ ہو سکتی ہے۔ پر زیرک نظر تاریخ دان کا ہونا ضروری ہے۔ آج کی قومیں دیکھ لو۔ ہر قوم ماضی کو شاندار بنانے میں لگی ہے۔ بھائی جان سیدھی سی بات ہے جس کا حال شاندار ہوتا ہے اس کا ماضی خودبخود شاندار ہو جاتا ہے۔ میں بات جاری رکھتا مگر سبھی دوست آگئے۔ یوں نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے خاموش ہونا پڑا۔

گائیڈ اپنا کام ختم کر چکا تھا۔ اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔ چوں کہ اس کی رٹی رٹائی روداد ختم ہو چکی تھی۔ ہم لوگ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے پتھریلے زینے سے اوپر کی منزل پر جانے لگے۔ یہ قلعہ کی چھت تھی۔ جہاںنما برآمدہ تھا۔ وہاں بیٹھنے کے لیے تخت جیسی کوئی شئے پڑی تھی۔ جیسی ہمارے گھروںمیں نماز کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جس پر سرخ خانوں والا قالین بچھا تھا۔ چند تکیے بھی لگے تھے۔ قلعے کی چھت سے وادی دور تک دکھائی دے رہی تھی۔ موسم صاف تھا اس لیے ہم نگاہ کی آخری حد تک آسانی سے دیکھ سکتے تھے۔ چاروں جانب نوکیلے اور برفیلے پہاڑ تھے۔ سبزے کے پیرہن نے وادی کے تن بدن کو ڈھانپا ہوا تھا۔ ایسا خوب صورت منظر دیکھ کر مجھے ہالی ووکی فلم ’’لارڈ آف رنگز‘‘ یاد آرہی تھی۔

قلعے کی چھت پر سب نے اپنے اپنے موبائل نکالے اور تصویریں بنانے لگے۔ کوئی مُنھ ٹیڑھے کر رہا تھا تو کوئی خود کو محوِ پرواز دکھانے کے لیے بازوئوں کو کھول کر کھڑا تھا۔ پھر گروپ فوٹو کی باری آئی۔ سبھی دوست لکڑی کے چھجے کے سامنے کھڑے ہو گئے اور گروپ کی صورت میں تصویر کشی ہونے لگی۔ اب واپسی کا وقت آن پہنچا اور ہم لوگ قلعے کی چھت سے نیچے اتر کر سڑک پر آگئے۔ واپسی پر قدم خود بخود اٹھ رہے تھے۔ جیسے کوئی انجانی ڈور سے باندھے ہمیں کھینچ رہا ہو۔ ہم بھاگتے ہوئے اور ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہوئے تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگے۔ سبھی دوست اپنی اپنی نشستوں پر قبضہ جما کر بیٹھ گئے۔ گاڑی پھر سے حرکت میں آگئی۔

جاری ہے۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20