متحدہ عرب امارات کی جدید اصلاحی ترجیحات‎ —- منصور ندیم

0

آج دنیا کے نقشے پر چند طاقتور، معاشی طور پر مستحکم، انتہائی پر امن، جدید اور دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے ملکوں میں متحدہ عرب امارات سر فہرست ممالک میں شامل ہے۔ عرب دنیا میں خصوصا (Gulf Cooperation Council (GCC خلیجی ممالک میں ایسا ملک ہے جس کا معاشی کلی انحصار پیٹرول کے بجائے دوسرے زرائع پر ہے۔ متحدہ عرب امارات میں خلیجی عوام کے لیے روزگار کے کئی مواقع پیدا کیے گئے، ورنہ پہلے کھجوروں کی کاشت آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہوتی تھی۔ بیسویں صدی کے درمیان کے عشرے تک یہ سلسلہ جاری رہا، اس دوران تیل کمپنیوں نے تیل کی تلاش کی۔ خام تیل کی پہلی کھیپ 1962 میں ابوظہبی سے برآمد ہوئی، جسے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے استعمال کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کا اکثر علاقہ صحرا پر مشتمل ہے جس میں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں۔ دبئی اور ابو ظہبی دنیا کی جدید ترین عمارات، سڑکوں اور پلوں کا جال، پارکس اور شاپنگ مالز میں اپنی مثال آپ ہے۔ متحدہ عرب امارات میں سردی کا موسم معتدل جبکہ گرمی کا موسم نہایت سخت ہوتا ہے۔

متحدہ عرب امارات سات مملکتوں کے اتحاد کا نام ہےجس کی تاریخ تجارت سے جڑی ہوئی ہے، جو سنہء 630 میں اس خطے میں داخل ہوئی، اس وقت اس کا ساحل یورپی جارحیت پسندوں کے زیر قبضہ تھا۔ یہ علاقہ انیسویں صدی میں برطانوی استعمارکے کنٹرول میں رہا، یہاں تک کہ جواہرات اور ہیروں کی کھیپ برآمد ہوئی پھر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں یہاں ان مملکتوں کو خود مختاری مل گئی۔ برطانوی استعمار کے خلیج سے دستبرداری کے اعلان کے ساتھ ہی ابو ظہبی، دبئی، شارجہ، عجمان، ام القواین اور فجیرہ کے حکمرانوں کے مابین یک معاہدہ طے پایا۔ اور  1971 میں متحدہ عرب امارات کے نام سے فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا اور اگلے ہی سال میں ساتویں امارت راس الخیمہ نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔ دارالحکومت ابوظہبی بنایا گیا۔

متحدہ عرب امارات دستوری اعتبار سے ایک وفاقی ریاست ہے، آئین ریاست کے تمام شہریوں کو مساوی مواقع اور مساوی حقوق دیتا ہے، متحدہ عرب امارات میں حکومت سلیکشن کے پراسس سے گزر کر ہوتی ہے۔ چنانچہ ریاست کے صدر کا انتخاب ان سات امارات کے حکمرانوں کے ذریعے کیا جاتا ہے جو فیڈرل سپریم کونسل تشکیل د یتے ہیں اور ملک کا سیاسی نظام اس آئین پر مبنی ہے جس کا تعین پانچ فیڈرل اتھارٹیز کرتی ہے۔

خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات وہ عرب اسلامی ملک ہے جہاں دوسرے ممالک کی نسبت اسلامی شریعت کا نفاذ عائلی اور معاشرتی طرز زندگی میں مقامی افراد کے اطلاق کے علاوہ، مغربی ممالک کے طرز پر بار کلب، شراب اور مساج سینٹرز کی سہولیات بھی بیک وقت میسر رہیں، دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے متحدہ عرب امارات کو خاصی شہرت بھی حاصل ہے اور ایشیاء اور یورپ و امریکا کے مابین ہوائی سفر کے گیٹ وے کی حیثیت بھی حاصل ہے۔

متحدہ عرب امارات کی سیاحت اور دوسری حیثیتوں میں سب سے قابل ذکر یہاں کے نظام اور قوانین کا اطلاق ہے، جس میں بیک وقت بہت زیادہ تنوع ہونے کے باوجود یہاں کی معاشرت محفوظ اور غیر ملکیوں کے ہونے باوجود انتہائی پر امن ملک ہے۔ متحدہ عرب امارات کی مجموعی آبادی 9.89 ملین پر مشتمل ہے، جس کا تقریبا 80 سے 85 فیصد حصہ غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔ متحدہ عرب امارات اب تک دنیا بھر میں ریپ، منشیات، اور دوسرے جرائم کے معاملے میں سخت ترین ممالک کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔ جدید معاشی ترقی، انفراسٹرکچر، ڈویلپمنٹ، اںویسٹمنٹ، سیاحت، بزنس میلے، اور تفریحی میلوں میں بھی کئی یورپین ممالک سے بہتر ملکوں میں آتا ہے۔ فی کس مقامی فرد کی آمدنی میں بھی دنیا کے Top Twenty بیس ممالک میں برتری حاصل کرنے والے ملکوں میں شامل ہے۔

پچھلے کچھ سالوں میں جہاں ترقی کی منازلیں طے کرنے والا ملک متحدہ عرب امارات رہا، وہیں کچھ عرصے سے جدید قانونی اصطلاحات بھی ہوتی رہیں ہیں، جہاں ویسے بھی ریاست اپنے شہریوں کو ایک معقول اور متوازن آمدنی کا معیار رکھتی ہے، صحت تعلیم، روزگار اور بے روزگار افراد کے لئے وظائف، وہیں متحدہ عرب امارات میں سنہء 1980 سے جاری شدہ وفاقی قانون کی دفعہ 32 میں ملازم خواتین اور ملازم مردوں کی تنخواہوں میں فرق رکھا گیا تھا- 24 ستمبر جمعرات کو صدارتی فرمان جاری کرکے اس میں ترمیم کردی گئی- اگر کوئی ملازم خاتون مرد ملازم کے ہم پلہ کام کررہی ہو تو دونوں کی تنخواہیں ایک جیسی ہی ہونگی۔ اماراتی وزارت افرادی قوت نے ملازم خواتین کی تنخواہیں مرد ملازمین کے برابر کرنے والے قانون پر عمل درآمد شروع کردیا ہے- جس پر عمل درآمد 25 ستمبر 2020 سے کردیا گیا ہے، مرد ملازمین کی تنخواہوں کے برابر خواتین کی تنخواہیں کرنے کی بدولت دنیا بھر میں متحدہ عرب امارات کی حیثیت مضبوط ہوگی۔ اس تبدیلی کی بدولت امارات کے تمام علاقوں کے نجی اداروں میں خواتین کے لیے کشش بڑھے گی۔

متحدہ عرب امارات نے حال ہی ميں امريکا کی ثالثی ميں اسرائيل کو بطور ايک رياست بھی تسليم کيا ہے۔ اس پيش وفت کے بعد دونوں ممالک کے مابین کئی تجارتی اور سیاحتی معاہدے بھی ہوئے ہیں، ان معاہدوں سے متحدہ عرب امارات ميں يہودی سرمايہ کاری اور سياحوں کی آمد بڑھے گی، اور مہینے میں متحدہ عرب امارات سے اسرائیل کے لئے 27 بین الاقوامی پروازوں کا بھی آغاز ہوگیا ہے۔ متحدہ عرب امارات ميں کام کاج کی غرض سے دنيا بھر کے لوگ آباد ہيں، جو ذاتی سطح پر آزادی کے متمنی ہيں۔ اماراتی حکام اپنے ملک کو مغربی ممالک سے زيادہ ہم آہنگ بنانے کے ليے آہستہ آہستہ اصلاحات و نرميوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہيں۔ اب پچھلے ہفتے متحدہ عرب امارات نے آج اب تک کی سب سے بڑی قانونی اصلاحات کی ہیں، موجودہ قوانین میں ترمیم اور نئے قوانین سے اہم ذاتی اور شہری قوانین کو منظم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور تازہ اقدامات بھی اسی کی ايک کڑی ہيں۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے سخت اسلامی قوانين ميں بھی نرميوں کا اعلان 7 نومبر 2020 کو کيا ہے۔ جو قوانین اب تبدیل یا جن میں ترامیم کی گئی ہیں ان میں کسی شخص کے پیدائش کے ملک کے قوانین کا طلاق اور وراثت کے مسائل لئے کے لئے استعمال بھی شامل ہے، یعنی غیر ملکیوں کے لئے خاندانی مسائل اور معاملات کی بات کی جائے تو اسلامی قانون کا ان پر اطلاق نہ ہوگا۔

خاندانی اور عائلی قوانین :
سب سے اہم قانونی پیشرفت طلاق، علیحدگی اور اثاثوں کی تقسیم سے متعلق ہے اگر کوئی ایسی شادی ٹوٹ جاتی ہے جو اس جوڑے نے اپنے آبائی ملک میں کی تھی لیکن متحدہ عرب امارات میں طلاق ہو تو ایسی صورت میں اس جوڑے پر اس ملک کے قوانین لاگو ہوں گے جہاں یہ شادی ہوئی تھی۔ نئے قانون میں مشترکہ اثاثوں اور مشترکہ بینک اکاونٹس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر اس حوالے سے دونوں فریقوں کے مابین کوئی معاہدہ نہیں ہے یا نہیں ہوتا ہے تو عدالت کو ثالثی ادا کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔

وصیت اور وراثت :
وصیت اور وراثت کے حوالے سے شریعت کے تحت اثاثوں کی تقسیم کے بجائے اب قانون کے ماتحت لایا جائے گا، یعنی شرعی قانون کے بجائے اب کسی شخص کی شہریت یہ طے کرے گی کہ اس کے اثاثوں کو اس کے بعد اسکے رشتہ داروں میں ایسی صورت حال میں کیسے تقسیم کیا جائے کہ مرنے والے کی طرف سے کوئی وصیت نامہ بھی موجود نہ ہو، مگر متحدہ عرب امارات میں خریدی گئی پراپرٹی کی تقسیم متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق ہی ہو گی۔

غير شادی شدہ جوڑوں کو ساتھ رہائش کی اجازت:
قوانين ميں تازہ تراميم کے بعد اب متحدہ عرب امارات ميں غير شادی شدہ جوڑوں کو ايک ساتھ رہائش کی اجازت ہے۔ قبل ازيں غير شادی شدہ لڑے لڑکی کا ساتھ قيام ممنوع تھا۔ پہلے بالخصوص دبئی ميں اکثر غير ملکيوں کے حوالے سے یہ معاملہ خاصا نرم تھا، بلکہ حقیقت میں مقامی ہوٹلوں میں پیشہ ور عورتیں باقاعدہ موجود رہتی تھیں، اور ان تک رسائی بہت آسان معاملہ رہتا تھا، مگر مقامی افراد کے لئے بہرحال سزا کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا تھا۔ لیکن غیر ملکیوں کے لئے رضامندی کے معاملات میں کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہیں آتی تھی، الا کہ کسی معاملے میں زور زبردستی یا جنسی ہراسگی نہ شامل ہو۔ جنسی ہراسگی کی سخت ترین سزاؤں کے خوف سے یہاں گزشتہ دو دہائیوں ریپ اور اس جیسے معاملات میں ہرسال شرح میں بتدریج بہتری آرہی تھی، جبکہ اس کے مقابلے نیں یورپ اور امریکا میں جنسی ہراسگی یا ریپ کے واقعات میں بہر حال ہرسال اضافی ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

خودکشی اور اچھا معاشرتی عمل :
خودکشی کی کوشش کو قانونی طور پر جائز قرار دیا گیا ہے، پولیس اور عدالتیں یہ یقینی بنائیں گی کہ نفسیاتی طور پر کمزور لوگوں کو ذہنی صحت سے متعلق مدد ملے، تاہم جب بھی کسی نے خود کشی کی کوشش میں کسی فرد کی مدد کی اس صورت میں اس فرد کو غیر متعین سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

غیر شادی شدہ جوڑوں کا ایک ساتھ رہنا :
یہ قانون پہلی بار غیر شادی شدہ جوڑوں کو ایک ساتھ رہنے کی قانونی سہولت اور اجازت دے رہا ہے، ورنہ اس سے پہلے صرف غیر ملکیوں کو اس کی باقاعدہ قانونی اجازت تو نہیں تھی لیکن لیکن اس معاملے میں خاصی نرمی برتی جاتی تھی، اس سے پہلے قانونا غیر شادی شدہ جوڑے، یا غیر متعلقہ فلیٹ میٹ کے لئے بھی امارات میں رہائش شئیر کرنا غیر قانونی تھا، مگر غیر ملکیوں خصوصا یورپین یا امریکن کے لئے اتنا زیادہ سختی کا معاملہ نہ تھا، لیکن اب یہ قانون مقامی افراد کے لئے بھی قانونی سہولت اور اجازت بن گیا ہے، متحدہ عرب امارات ايک ايسا ملک ہے، جہاں ہر ايک مقامی شہری کے مقابلے ميں نو غير ملکی شہری آباد ہيں۔ اس تناظر ميں يہ اصلاحات کافی اہم ہيں۔ يہ امر بھی اہم ہے کہ اب متحدہ عرب امارات ميں مقيم غير ملکی شہریوں کے ليے يہ ضروری نہيں کہ شادی بياہ، طلاق اور ديگر معاملات ميں صرف اسلامی شريعہ قوانين کا سہارا ليا جائے۔ بلکہ یہ معاملہ مقامی مسلمان عرب ریاستی شہریوں کو بھی دے دیا گیا ہے۔

شراب کا استعمال:
متحدہ عرب امارات ميں نئے قوانين کے مطابق اکيس سال يا اس سے زائد عمر والے افراد کے شراب پينے، بيچنے يا شراب ساتھ رکھنے پر اب کوئی رکاوٹ نہيں۔ یعنی قانونی طور پر شراب پینے کے لئے کسی فرد کا کم از کم 21 سال کا ہونا ضروری ہے اور جو بھی شخص اس سے کم عمر سمجھے جانے والے فرد کو شراب فروخت کرتے ہوئے پکڑا جائے گا اسے سزا دی جائے گی- نئے قوانين کے اعلان سے قبل مقامی افراد کو شراب پينے، خريدنے يا ٹرانسپورٹ کرنے کے ليے خصوصی پرمٹ درکار ہوتا تھا۔ تاہم اب مسلمان بھی بغير کسی پرمٹ کے شراب اپنے گھروں پر رکھ بھی سکيں گے اور پی بھی سکيں گے۔ اس سے پہلے صرف غیر ملکیوں کو یہ سہولت قانونا حاصل تھی لیکن اب نئے قوانین میں ترامیم کے مطابق شراب کا استعمال جرم نہیں ہے کوئی شخص بھی شراب پیتا ہے، شراب کا سٹاک رکھتا ہے یا شراب کے لائسنس کے بغیر کسی علاقے میں شراب بیچتا ہے اسے اب کسی قسم کے جرمانے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

غیرت کے نام پر قتل اور ہراسمنٹ:
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے غيرت کے نام پر قتل جيسے واقعات ميں ملنے والے تحفظ کو ختم کر ديا ہے۔ قبائلی روايات ميں اگر کسی خاتون کے بارے ميں يہ سمجھا جائے کہ وہ يا اس کے اعمال خاندان کے ليے بدنامی کا باعث بنے، تو اسے تشدد يا قتل تک کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ لیکن اب ایسے تمام تحفظات کو جو غیرت سے منسوب سمجھے جاتے تھے، ايسے جرائم کے حوالے سے غير واضح قوانين اب بالکل ختم ہو گئے ہيں۔ بلکہ اب اس طرح کے واقعات کو کسی دوسرے حملہ کی طرح ہی مکمل قابل سزا جرم سمجھا جائے گا – ایسے مردوں کے لئے سخت سے سخت سزایں ہوں گی جو خواتین کو کسی بھی طرح کی ہراسانی کا نشانہ بناتے ہیں، نابالغ یا کسی ذہنی معذور کی عصمت دری کی موجود سزا پر عمل درآمد ہوگا۔

نئے قوانین میں عدالتی طریقہ کار میں بھی واضح تبدیلیاں کی گئی ہیں، اگر کوئی عربی نہیں بول سکتا تو ایسی صورت میں عدالت میں مدعا علیہان اور گواہوں کے لئے مترجم فراہم کیے جائیں گے اور عدالت کو قانونی مترجم دستیاب ہونے کو یقینی بنانا ہوگا۔ رازداری کے نئے قوانین کے تحت غیر اخلاقی حرکات و جرائم کے مقدمات سے متعلق شواہد اور معلومات کو عوامی طور پر ڈسکلوز نہیں کیا جا سکے گا –

جدید قانونی اصطلاحات پر ناقدانہ نظر:
متحدہ عرب امارات نے جن قانونی اصطلاحات میں تبدیلی کا سفر کیا ہے، یہ تمام اصطلاحات بین الاقوامی دنیا کو سرمایہ کاری اور یہ تحفظ دلاانے کی کوشش میں کی ہیں کہ بین الاقوامی دنیا، سیاحت اور سرمایہ کاری کے لئے متحدہ عرب امارات کا رخ کرے۔ ان قوانین کی تبدیلی سے پہلے بھی یورپین و امریکنز کو کم و بیش یہ سہولیات کسی نہ کسی صورت میسر رہیں ہیں، لیکن اب یہ سہولیات ایشین غیر ملکی کی ان افراد کو بھی میسر ہونگی جو یہاں پر مختلف صورتوں میں کاروبار یا نوکری کرتے ہیں، مگر اس سے زیادہ عرب کا وہ قبائلی معاشرہ اور وہ مقامی عرب جو آج بھی اپنے معاشرتی معاملات میں اسلامی تہذیب اور اقدار سے باوجود وسیع النظر ہونے کہ کسی نہ کسی صورت جڑے ہوئے تھے، کیا ان کی آنے والے نسلیں اس تہذیب اقدار کو بچا پائیں گی۔ متحدہ عرب امارات آج بھی دنیا کے ان چند ممالک میں ایک مثال کی صورت میں ہے، جہاں خاندانی نظام باقاعدہ رجسٹرڈ اور اسلامی اقدار کی صورت میں زندہ ہے، اور اس معاشرے میں بہت آزادی کے باوجود جنسی ہراسگی اور ریپ، قتل اور دوسرے مسائل پر سخت ترین قوانین کی عملداری کی وجہ سے دنیا کے پر امن اور بہترین ممالک میں شامل ہے۔

لیکن یہ ایک بہت بڑاسوال رہے گا کیا ان قوانین کے بعد متحدہ عرب امارات اپنا اسلامی تہذیبی ثقافتی و اقداری نظام قائم رکھ پائے گا؟

حوالہ جات:
DW news Arab news AkaZ news

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20