راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 17) —- یاسر رضا آصف

0

میں جب نیند سے بیدار ہوا تو زیادہ تر دوست گلی کی جانب کھلنے والی کھڑکیوں میں کھڑے تھے۔ کوئی شلوار میں ازاربند ڈال رہا تھا۔ کوئی برش سے دانتوں کو گھسائے جا رہا تھا تو کوئی ہنس ہنس کر مسلسل بول رہا تھا۔ باقی سب تو معمول کی بات تھی لیکن یوں کھڑکیوں سے باہر تانک جھانک کرنا میرے لیے تجسس کا باعث بنا۔ انسان شروع سے تجسس کا مارا ہوا ہے۔ یہی تجسس اسے سمندر کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی کے باعث وہ ڈی این اے کی ساخت پر سالوں سے غور و فکر میں مصروف ہے اور اسی کی وجہ سے دوسرے سیاروں پر کمندیں ڈالنے کا سوچ رہا ہے۔

مجھے جب بھی کوئی نیا کھلونا ملتا تو میں اسے توڑ کر اندر ضرور جھانکتا۔ میں جاننا چاہتا کہ اس کا نظام کیسے چلتا ہے۔ کس طرح حرکت میں آتا ہے۔ اس کے پیچھے چھپی وجہ کیا ہے۔ میری سالگرہ پر مجھے پیانو والی گاڑی تحفے میں ملی۔ جو چلتی بھی تھی اور اسے پیانو کی طرح بجایا بھی جاسکتا تھا۔ اس پر سفید اور سیاہ بٹن لگے تھے جنھیں دبانے سے مختلف آوازیں برآمد ہوتی تھیں۔ میں چوتھی کلاس کا طالب علم تھا۔ میں نے وہ گاڑی اپنے ہم جماعتوں کو دکھائی اور خوب شیخی بگھاری۔

اگلے ہی روز میرے اندر موجود تجسس نے مجھے اس گاڑی کے اندر جھانکنے پر مجبور کردیا۔ میں نے اسے کھولا نہیں بلکہ توڑ کر پرزہ پرزہ کردیا۔ اس کا بورڈ نکالا اس پر بنے سرکٹ کو غور سے دیکھا۔ ٹانکوں کو چھو کر محسوس کیا۔ دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ سو سزا کا مستحق ٹھہرا۔ مجھے آدھا گھنٹہ مرغا بننا پڑا۔ وہی گھر والے جو سال گِرہ کے دن مجھ پر واری واری جا رہے تھے اب مجھے ڈانٹ رہے تھے۔ اس تضاد اور بدلتے رویے کی مجھے بہت بعد میں جا کر سمجھ آئی۔ اس لمحے بھی دوستوں کو کھڑکیوں کے پاس کھڑے دیکھ کر بچپن کا فطری تجسس سر اٹھانے لگا۔

میں بیڈ سے نیچے اترا اور کھڑکی کے ساتھ چمٹے دوستوں کے قریب ہوگیا۔ امداد اور امجد پرمسرت چہروں کے ساتھ باہر دیکھ رہے تھے۔ بلال اور سمیر بھی اشارے کرکے باتیں کررہے تھے۔ میں نے ذرا کمزور حریف کو چنا تاکہ بات آسانی سے معلوم ہو سکے۔ امداد سے استفسار پر اس نے باہر کی طرف اشارہ کردیا۔ کھڑکی کے باہر دیکھا تو سامنے کالج کا بورڈ آویزاں دیکھا۔ لڑکیاں کالج کے لان میں تتلیوں کی طرح منڈلاتی پھر رہی تھیں۔ ان کے چہرے دھوپ سے سرخی مائل ہو رہے تھے۔ یا پھر دھوپ کی بجائے ہنزہ کی قدرتی خوراک اور ماحول کا اثر تھا۔ بہرحال جو بھی تھا چہروں کی شادابی حیران کن تھی۔ اب سوال کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔

میں حسین منظر کو آنکھوں میں بسائے مسکراتا ہوا دانت صاف کرنے لگا۔ منھ ہاتھ دھو کر میں پھر سے کھڑکیوں کے پاس آگیا۔ میں حسن پرست ہوں اور حسن میری کمزوری رہا ہے۔ ورڈزورتھ کی طرح میں حسن کو لافانی تو نہیں مانتا لیکن اس کی اہمیت سے انکار بھی نہیں کرتا۔ کالج میں بجنے والی گھنٹی سے لان کی رونق ماند پڑ گئی۔ ٹولیاں چھٹ گئیں اور آخر میں سبز گھاس رہ گئی۔ میں ناشتے کے لیے اسلام کے قریب ہوگیا۔ جہاں چائے کا دور چلنے میں چند ساعتیں ہی باقی رہ گئی تھیں۔ ٹوسٹ ہاتھ میں تھامے اور چائے کا کپ سنبھالے میں ہوٹل کی چھت پر جانے والی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ جس طرح تنے ہوئے رسے پر چلنے والا قدم سنبھال کر رکھتا ہے۔ میری حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ میرے ایک ہاتھ میں ٹوسٹ تھا اور دوسرے ہاتھ میں کپ؛ مجھے توازن کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے پولے پولے قدموں سے چھت تک پہنچنا پڑا۔

چھت کافی وسیع تھی۔ پلاسٹک کی کرسیاں اور میز پڑی تھی۔ میں ٹوسٹ کو دانتوں سے کاٹتا ہوا ایک کرسی پر آرام سے بیٹھ گیا۔ برف پوش پہاڑ کسی دیو مالائی داستان کے برفیلے کردار معلوم ہو رہے تھے۔ ٹوسٹ ختم کرنے کے بعد میں نے سگریٹ سلگالی۔ فون کی گھنٹی بجی اور خوش گوار ماحول کو سوگواری کی چھڑی سے بدل کر رکھ دیا۔

ہوٹل کی چھت پر چائے کا کپ سامنے رکھے انگلیوں میں سلگتی سگریٹ دبائے میں یاسیت کی کیفیت میں ڈوبا جارہا تھا۔ اردگرد ہنزہ کے برف پوش پہاڑ تھے جن کی بناوٹ اور قدو قامت مبہوت کرنے کے لیے کافی تھی مگر ایک فون کال کی بدولت مجھے زندگی کے بے معنی ہونے کا احساس گھیرے ہوئے تھا۔

میرے ساتھ اکثر یہ مسئلہ درپیش آجاتا ہے کہ ذہن کسی ایسی ڈگر پر چل نکلتا ہے جس سمت میں جانا نہیں چاہتا۔ پھر یادوں کے پرانے صندوق کھلنے لگتے ہیں جس میں سے ٹوٹے پھوٹے اور گرد آلود واقعات نکل کر میرے سامنے پتلی تماشے سے ملتا جلتا بھیانک ناچ ناچنے لگتے ہیں۔ تقریبًا تمام مذاہب نے زندگی کی اہمیت کو انسان پر ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے اور اسے اپنے ہاتھوں سے ختم کرنا جرم قرار دیا ہے۔ جاپان کی ثقافت اور کلچر سے درکنار سبھی نے خود کشی کی مذمت ہی کی ہے۔ زندگی کو امانت کہا گیا ہے اور انسان کو ہر حال میں اس کی حفاظت کرنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن کچھ کمزور لمحات انسان کے ذہن کو اس قدر توڑ پھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے زندگی جیسی قیمتی نعمت کا خاتمہ کرلیتا ہے۔

میں نے گھر بات کی تھی اور موبائل میز پر رکھا تھا۔ دھوپ ٹھنڈک بھرے موسم میں لطف کا سامان پیدا کررہی تھی مگر میں دھوپ اور حرارت سے دور ہوتا جارہا تھا۔ میرے ذہن میں برف جمتی جارہی تھی۔ مجھے والدہ محترمہ نے فون پر بتایا تھا کہ تمھارے شاگرد نے چوہے مارنے والی گولیاں کھا کر خود کشی کرلی ہے۔ وہی لڑکا جو بجلی کا کام کرتا تھا اور کچھ دن پہلے ہمارے گھر کی وائرنگ کرکے گیا تھا۔ ہم ابھی اس کا چہرہ دیکھ کر آئے ہیں۔ مجھ میں تفصیل پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔ میرا فطری تجسس بھی ماند پڑ گیا تھا۔ وجہ جو بھی رہی ہو اس طرح خود کو موت کے حوالے کردینا کسی طرح بھی درست نہیں تھا۔ کہتے ہیں کہ جب انسان کی دانست میں کوئی راستہ نہیں ہوتا تب بھی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور ہوتا ہے۔

وہ لڑکا شوخ اور چنچل تھا۔ میرے پاس دو سال تک پڑھتا رہا تھا۔ میری ہی گلی کے نکڑ والے مکان میں رہتا تھا۔ بہت ہی مؤدب تھا۔ آتے جاتے سلام ضرور کرتا اور کسی بھی کام کو خوش اسلوبی سے انجام دیتا۔ وائرنگ کرتے ہوئے اس نے نہ صرف ایمانداری سے کام ختم کیا تھا بلکہ میری اچھی خاصی رقم بھی بچائی تھی۔ کیسے اس پر جذباتی کیفیت اس قدر غالب آگئی اور یاسیت نے اسے اپنے چنگل میں پھنسا لیا کہ اسے انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔ اچانک سے یادوں کے صندوق میں حرکت ہوئی اور ایک سانحہ اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ میرے سامنے آگیا۔ میں نے کربناک منظر سے آنکھیںچرانا چاہیں مگر کامیابی نہ ہوئی۔

میرے گھر سے کچھ فاصلے پر خالی میدان تھا جہاں روز بلاناغہ کرکٹ کھیلی جاتی تھی۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ عصر کی نماز کے بعد وہاں موجود ہوتا تھا۔ پھر پلاٹ تقسیم ہوئے اور پختہ مکانوں نے میدان کو نگل لیا۔ ہر روز ریلوے گرائونڈ جانا ممکن نہیں تھا۔ فاصلہ کافی زیادہ تھا اور آنے جانے میں وقت بھی ضائع ہوتا تھا۔ لہٰذا ایک چھوٹی چھوٹی دیواروں والے کشادہ پلاٹ میں ہی ہم محدود پیمانے پر کھیلنے لگے۔ جب کوئی ٹورنامنٹ ہوتا تو ریلوے گرائونڈ کا رخ کرتے۔ رفتہ رفتہ اس پلاٹ کے گرد بھی کئی پختہ مکان کھڑے ہوگئے۔

ان گھروں میں سے ایک گھر ایسا بھی تھا جہاں سے مسلسل لڑائی جھگڑے کی آوازیں آتی رہتی تھیں۔ شروع شروع میں ہمیں یہ سب بہت عجیب محسوس ہوتا اور ہم میچ روک کر آوازیں سننے لگتے۔ لیکن آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ہم اس شور شرابے کے جیسے عادی سے ہوگئے۔ آوازیں بلند سے بلند تر بھی ہو جایا کرتیں مگر ہمارا میچ جاری رہتا۔ شور شرابے اور گالم گلوچ کا سبب ان کا اکلوتا لڑکا تھا جو اکثر شراب کے نشے میں دھت ہو کر دروازے پر ٹھوکریں مارا کرتا۔ وہ ہذیان بکتا، گالیاں دیتا۔ دراصل اسے جواکھیلنے کے لیے رقم درکار ہوتی۔ کافی ہنگامے کے بعد جب اس کا مطالبہ پورا ہو جاتا تو سکون کے ساتھ وہ ٹہلتا ہوا چلا جایا کرتا جیسے تھوڑی دیر پہلے والا شخص کوئی اور تھا اور اس بدتمیزسے ان صاحب کا دور دور کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

شام ہونے کو تھی اور ہم لوگ جلدی جلدی میچ ختم کرنے کے درپے تھے۔ وہ نشے میں دھت لوہے کے گیٹ پر کافی دیر سے اینٹیں برسا رہا تھا۔ اندر سے اس کی ماں نے خوب گالیاں نکالیں اور اسے ٹکا سا جواب دے دیا۔ لڑکے کا باپ مر چکا تھا۔ زمین کا ٹھیکہ آجاتا تھا۔ تین جوان بہنوں کا اکلوتا بھائی باپ کا سایہ سر پر نہ ہونے کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہو گیا تھا۔ اپنی ماں کا کورا جواب سن کر وہ مزید اشتعال میں آگیا اور اینٹوں کے ٹکڑے اٹھا اٹھا کر اپنے گھر میں پھینکنے لگا۔ جب یوں بھی بات نہ بنی تو خود کو ختم کرنے کی دھمکی دینے لگا۔ پھر تھک ہا رکر گالیاں دیتا ہوا دفان ہوگیا۔ ہم نے اسے معمول کی کارروائی سمجھا اور میچ کو جلد از جلد ختم کرنے پر تل گئے۔

تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ میں پلاسٹک کی بوتل پکڑے دوبارہ دروازہ پیٹنے لگا۔ وہ مسلسل چلا رہا تھا اور دس ہزار روپے مانگ رہا تھا۔ اس کی ماں نے کچھ دیر پہلے روتے چہرے کے ساتھ باہر جھانک کر دیکھا تھا۔ پھر وہ سسکیاں بھرتے ہوئے گھر سے نکلی تھی اور سامنے والے گھر میں چلی گئی تھی۔ شاید ان کے کسی رشتے دار کا گھر تھا اور وہ بے چاری عورت مدد کے لیے گئی تھی۔ ہم نے اپنا کھیل چھوڑ کر سسکیاں بھرتی عورت کو دیکھا تھا۔ لڑکھڑاتے ہوئے اس لڑکے نے بوتل کھولی اور ساری کی ساری اپنے اوپر انڈیل لی۔ پھر جیب سے ماچس کی ڈبیا نکالی اور جلانے لگا۔ ماچس بھیگ گئی تھی۔ اس لیے تیلی آگ نہ پکڑ سکی۔ سامنے گھر سے دو لڑکے باہر آئے اور انھوں نے اس کے ہاتھ سے ماچس چھین لی۔ وہ مشتعل ہوگیا۔ گالیاں دینے لگا اور چیخیں مارنے لگا۔ لوگوں نے اسے دھکے دے کر گھر میں داخل کیا اور کمرے میں بند کردیا۔

چوں کہ یہ ڈرامہ ہمارے سامنے کئی بار فلمایا جا چکا تھا اس لیے ہمیں کوئی خاص دلچسپی محسوس نہ ہوئی۔ ہم میچ کھیلتے رہے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے رہے۔ تھوڑی دیر بعد گھر سے عورتوں کے چیخنے اور رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ ہم سبھی اس گھر کی جانب لپکے۔ ہم دروازے تک نہیں پہنچ پائے تھے کہ آگ میں جلتا ہوا ایک جسم باہر گلی میں آگیا۔ یہ وہی لڑکا تھا۔ اس کا جسم پوری طرح آگ کی لپیٹ میں تھا۔ اونچے اونچے شعلے اٹھ رہے تھے۔ وہ چیخ رہا تھا آگ بجھانے کے لیے چلا رہا تھا۔ وہ گلی میں بھاگنے لگا۔ کسی نے پانی کی بالٹی ڈالی۔ ایک شخص بڑا سا کمبل لے آیا اور اس پر پھینک دیا۔ جب تک آگ بجھتی تب تک وہ اپنا کام دکھا چکی تھی۔ اس کی ماں اور بہنیں بین کررہی تھیں۔ قیامت کا منظر تھا۔

اگلے روز ہمیں پتہ چلا کہ وہ ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔ ایک فون کال نے مجھے دوبارہ شعلوں کی لپٹیں یاد کروادی تھیں۔ دھوپ میرے جسم پرنشتر زنی کرنے لگی۔ میرے بدن میں سوئیاں چبھنے لگیں۔ فخر مسکراتا ہوا میری جانب آ رہا تھا۔ مجھے منافقت کرنا تھی اور خود کو مسکان کے لیے آمادہ کرنا تھا لیکن لاکھ کوشش کے باوجود میں ایسا نہ کرسکا۔ فخر میرے پہلو میں پڑی کرسی پر آکر بیٹھ گیا اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ میں ہوں ہاں میں جواب دیتا رہا۔ جب اسے کوئی خاطر خواہ حوصلہ افزا جواب نہ ملا تو اٹھ کر چلا گیا۔ میں دوبارہ موت کے کنویں میں جھانکنے لگا جس کی گہرائی میں اندھیرا تھا اور میں خود کو اندھیرے میں ڈوبتا ہو امحسوس کررہا تھا۔

اندھیرا کسی عفریت کی طرح چاروں اور سے منڈلانے لگا۔ دل نیچے کی جانب گر رہا تھا اور مسلسل گرتا جارہا تھا۔ میں اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ میں نے لمبے لمبے سانس لیے خود کو مصروف کرنے کے لیے پہاڑوں کی طرف دیکھنے لگا۔ سفید برف نوکیلی چوٹیوں پر جمی ہوئی تھی۔ ایسے پہاڑ چاروں طرف موجود تھے۔ میں نے خود کو شانت کرنے کے لیے ذہن کو آزاد چھوڑ دیا۔ دھوپ کی حرارت بھلی لگنے لگی۔ پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں لان میں کھڑے درختوں سے آنا شروع ہوگئیں۔ یعنی میں واپس آنے میں کامیاب ہوگیا۔ اتنے میں سبھی دوست چھت پر آگئے۔

اب تصاویر تقریب کا حصہ بن چکی ہیں۔ سیلفی کا رواج ایسا عام ہوا ہے کہ لوگ دھڑ ا دھڑ سیلفیاں بناتے چلے جاتے ہیں۔ بغیر یہ دیکھے کہ کہاں کھڑے ہیں۔ کچھ تو اس قدر خود نمائی کے نشے میں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ کسی جنازے میں شرکت کی سیلفیاں تک پوسٹ کردیتے ہیں۔ مردے کے ساتھ سیلفی بنا کر لکھتے ہیں کہ یہ مرحوم کا آخری دیدار ہے۔ چھت پر بھی یہ سلسلہ جاری تھا۔ کرسیوں کو ترتیب سے رکھا گیا۔ مجھے گروپ کے درمیان کرسی پر بٹھا دیا گیا اور تصویریں بنائی جانے لگی۔ میرا چہرہ پر سکون تھا پر اندر شور مچا ہوا تھا۔ اس مرحلے سے فارغ ہو کر سبھی نیچے آگئے اور اپنے بیگ پیک کرنے لگے۔ میں نے بیگ میں چیزیں رکھیں اور لان سے پرے کھڑی گاڑی کے پاس پہنچ گیا۔ حسب ِروایت تمام بیگ چھت پر باندھ دیے گئے۔

وین پھر سے حرکت میں آچکی تھی۔ سڑک پر خاصی چہل پہل تھی۔ گاڑی دھیمے انداز میں موڑ کاٹتی اونچے نیچے راستوں پر چلتی جارہی تھی۔ صبح دس بجے کے قریب وین بلتت قلعے کو جانے والی واحد سڑک کے آغاز میں پہنچ گئی۔ وہاں کچھ جیپیں کھڑی تھیں جو شاید مسافروں کو قلعے تک لے جاتی تھیں۔ ایک عجیب سی بحث چھڑ گئی۔ کچھ کا خیال تھا کہ پیدل جائیں تو کچھ جیپ پر جانا چاہ رہے تھے۔ میں خاموش رہا اور ان کی بے تکی دلیلیں سنتا رہا۔ میں سڑک سے آتے لوگوں کو دیکھ رہا تھا جن کی آنکھوں میں چمک تھی اور ہونٹوں پر اطمینان بخش مسکراہٹ؛ جیسے کسی نادیدہ خزانے کی کھوج کرکے آرہے ہوں۔ اللہ اللہ کرکے بحث کا اختتام ہوا۔ حتمی فیصلہ یہ ہوا کہ سبھی پیدل جائیں گے۔

جاری ہے۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20