حقیقت نگار منٹو؟ —— حسن غزالی

0

منٹو کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنے افسانوں میں معاشرتی حقائق پیش کیے ہیں۔ بےشمار لوگوں کو اس پر یقین ہے، اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کا منٹو کے حقیقت نگار ہونے پر ایمان ہے۔ اس دعوے میں ایک حد تک صداقت ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ منٹو نے حقیقت نگاری کے نام پر خانہ ساز حقائق بھی بیان کیے ہیں۔ منٹو کی حقیقت نگاری کے مُرکّب میں غالب جزو خانہ ساز حقائق ہیں۔ ان میں کافی حقائق کو اچھی طرح نہیں پکایا گیا ہے بلکہ ایک آنچ دے کر ہی اتار لیا گیا ہے۔ ان حقائق کی گرفت کی جائے تو یہ چٹخنے لگتے ہیں اور جلدی ٹوٹ جاتے ہیں۔ اگر منٹو کے افسانوں کو پرکھا جائے تو اس کے بیان کردہ سماجی حقائق میں ٹھوس حقائق کم ہیں، زیادہ تر کچے حقائق ہیں۔

منٹو کا ایک افسانہ ہے “ایک زاہدہ، ایک فاحشہ”۔
اس افسانے کی کہانی مختصراً یہ ہے:

سعادت کی جاوید سے گہری دوستی تھی۔ سعادت چار سال بڑا تھا اور آوارہ گرد تھا۔ جاوید کو ایک لڑکی زاہدہ سے محبت ہوگئی اور اس نے سعادت کو زاہدہ سے ایک پارک میں ملانے کا طے کیا۔
سعادت پارک پہنچا تو جاوید نے کہا کہ تم جاکر زاہدہ کو پارک میں لے کر آنا، وہ تانگے میں آئے گی۔ سعادت پارک کے دروازے پر انتظار کرنے لگا۔ ایک تانگہ آیا جس میں ایک لڑکی تھی۔ سعادت نے اسے زاہدہ سمجھا مگر وہ اصل میں ایک فاحشہ تھی۔
سعادت اس لڑکی کو چھوڑ کر پارک واپس آیا تو دیکھا کہ جاوید ایک لڑکی جو زاہدہ تھی سے بات کررہا ہے۔ لڑکی سعادت کو دیکھ کر شرمائی اور فوراً دوپٹے سے اپنا منہ چھپا لیا۔
سعادت الجھ گیا۔ اسے زاہدہ اور فاحشہ ایک جیسی نظر آنے لگیں۔

منٹو نے جاوید کے بارے میں لکھا ہے، “جاوید کی عمر بہ مشکل اٹھارہ برس کی ہوگی۔ بےحد خوب صورت، اس میں نسوانیت کی جھلک تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک خوب رو لڑکی کی مانند، وہ تو کنواری لڑکیوں سے کہیں زیادہ شرمیلا اور لچکیلا تھا۔”
جاوید اور سعادت میں اتنی گہری دوستی تھی کہ وہ دونوں روزانہ دس بارہ گھنٹے ساتھ رہتے تھے۔

1۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ جاوید جیسے لڑکے کی اس کے گھر والے سعادت جیسے آوارہ گرد سے دوستی قبول ہی نہیں کرسکتے تھے اور یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ جاوید دس بارہ گھنٹے روازنہ جاوید کے ساتھ رہ سکے۔ کالج میں ساتھ رہنے کے پانچ چھے گھنٹے اس میں شامل کرلیں تب بھی۔

منٹو نے یہ بھی بتایا ہے کہ جاوید اپنے بڑے بھائی کے سخت رویے کی بڑی برائی کرتا تھا۔ جب بڑا بھائی اتنا سخت تھا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اور گھر والے جاوید کو سعادت سے ملنے دیتے۔ خیال رہے کہ سعادت سگریٹ بھی پیتا تھا۔ تیس چالیس سال پہلے ہی کی بات ہے کہ سگریٹ پینے والے کسی نوجوان کو بہت برا سمجھا جاتا تھا، اور والدین اپنے بیٹوں پر سگریٹ پینے والے کسی نوجوان سے دوستی کرنے پر سختی کرتے تھے۔

2۔ سعادت نے دیکھا کہ جاوید چپ رہنے لگا ہے۔ کبھی کبھی گھنٹوں چپ رہتا۔ سعادت نے بہت لعن طعن کی تو اس نے بتایا کہ اسے محبت ہوگئی ہے، لڑکی نے محبت قبول کرلی ہے، اور چوری چھپے کئی ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں۔

جاوید کی سعادت سے جتنی گہری دوستی منٹو نے دکھائی ہے اس کے مطابق جاوید کا اپنی محبت چھپانا سمجھ میں نہیں آتا______ اسے تو سعادت کو اپنی محبت کا چند ہی دن میں خود ہی بتا دینا چاہیے تھا۔ لطیفہ یہ ہے کہ جاوید نے زاہدہ کو سعادت سے اپنی جگری دوستی کا بتادیا تھا مگر سعادت سے چھپا رہا تھا۔
پھر کامیاب محبت پر، جاوید کا اداس رہنا اور کبھی کبھی گھنٹوں چپ رہنا بڑا عجیب ہے۔ اس کی منٹو نے جاوید کی زبانی وضاحت کی ہے۔ سعادت پوچھتا ہے، “اس اداسی کا مطلب کیا ہے جو تم پر ہر وقت چھائی رہتی ہے۔”
“سعادت تم نے کبھی محبت کی ہوتو جانو محبت اداسی کا دوسرا نام ہے۔”

دل چسپ بات یہ ہے کہ پھر باقی افسانے میں جاوید ایک لمحے کے لیے بھی اداس نظر نہیں آتا، بلکہ اتنا پرجوش اور خوداعتماد ہوجاتا ہے کہ سعادت اس کے سامنے بہت کم زور پڑ جاتا ہے۔ جاوید میں جو اتنا جوش اور اعتماد ایک جھٹکے میں آگیا تھا اس کا سرچشمہ منٹو کا قلم تھا۔

3۔ جاوید سعادت سے کہتا ہے کہ زاہدہ نے تم سے ملنے کے لیے بڑا اشتیاق ظاہر کیا ہے، اور سعادت کو راضی کرتا ہے کہ وہ زاہدہ سے ملے۔
اگر ملاقات کی خواہش ظاہر ہی کرنی تھی تو سعادت کو کرنی چاہیے تھی۔ زاہدہ کا اشیتاق ظاہر کرنا بڑا ہی بےتکا ہے، مگر کیا کیا جائے_____ یہ الٹی گنگا منٹو جیسے حقیقت نگار نے بہائی ہے۔

4۔ سعادت سے پارک میں جاوید کہتا ہے کہ وہ گیٹ پر جائے، زاہدہ تانگے میں آئے گی، اس سے اپنا تعارف کرائے اور اسے لے کر آجائے۔
زاہدہ کے بارے میں جاوید نے سعادت کو یہ بتایا تھا، “وہ پڑوس میں رہتی ہے، عمر سولہ سال کے قریب ہے، بہت خوب صورت ہے اور بھولی بھالی ہے۔”
منٹو کے دور کی سولہ سال کی ایک بھولی بھالی لڑکی، اکیلی تانگے میں صرف ایک نوٹس پر ایک پارک میں ملنے آجاتی ہے۔
لڑکی نے کم از کم دو تین گھنٹے، وہ بھی شام کے وقت، گھر سے باہر رہنے کے لیے کیا بہانہ بنایا، اس میں اکیلے تانگے میں بیٹھ کر آنے کی بےپناہ ہمت کیسے آئی، اور ایک اہم بات یہ کہ تانگے کے کرایے کے لیے پیسوں کافوری انتظام کیسے کیا؟ (منٹو کے دور کو تو چھوڑیے____ آج کل بھی بہت سی لڑکیوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے یا بہت کم ہوتے ہیں۔)

ان سوالات پر تو مٹی ڈالیے اور اس پر ذرا، جی ذرا سا غور کیجیے کہ جاوید نے تو زاہدہ کو یہ پیش کش کی تھی کہ وہ اسے لینے کے لیے اپنی کار بھیج دے گا مگر وہ رضامند نہیں ہوئی۔
اگر کار لڑکی کے باپ کے لیے بھیجنے کی بات ہوتی تو بات سمجھ میں آجاتی، لیکن لڑکی کے لیے بھیجنا۔ لڑکی کے لیے کار بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ جاوید کی محبت کا ایک اور رازدار بن جائے۔ قربان جائیے منٹو کے، کیا تو جاوید نے اپنی محبت کو سعادت جیسے دوست سے کافی دن چھپایا اور لعن طعن کرنے پر اس راز میں شریک کیا۔ مگر اب اسے اپنی محبت چھپانے کی پروا ہی نہیں ہے۔

اس دور میں، شہر کی کسی لڑکی سے اتنی آسانی سے ملاقات کرانا منٹو کے قلم کی کرامت ہے۔
منٹو کے دور کو چھوڑیے، تیس چالیس سال پہلے کے عاشقوں سے ہی پوچھیے کہ ایک جھلک دیکھنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلتے تھے۔

ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا
کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا

جن خوش نصیبوں کو فون کی سہولت تھی وہ بھی بات کرنے کے لیے بڑے جتن کرتے تھے تب بات ہو پاتی تھی۔ پھر جاوید کی یہ فرمائش کہ سعادت خود جاکر زاہدہ کا استقبال کرے______ منٹو کے پرستاروں کی عقل میں ہی آسکتی ہے۔
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی

اصل میں یہ منٹو کا طے شدہ منصوبہ تھا۔ افسانے کی تکمیل کے لیے صرف سعادت کا ہی جانا ضروری تھا۔ اگر جاوید جاکر زاہدہ کو لے آتا تو سعادت کی زاہدہ سے ملاقات تو ہو جاتی مگر منٹو کا افسانہ ادھورا رہ جاتا۔

اس کے علاوہ، اداس اور چپ چپ رہنے والے جاوید کا جوش اور اعتماد دیکھیے، توجہ سے دیکھیے، اور رشک کیجیے۔

5۔ آدھے گھنٹے بعد، ایک تانگے آیا جس میں ایک لڑکی برقعے میں بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ نقاب اٹھا کر اپنا چہرہ دکھا دیتی ہے۔
سعادت تانگے والے سے کہتا ہے، “یہ سواری کہاں سے آئی ہے؟”
تانگے والے نے ذرا سختی سے جواب دیا، “تمھیں اس سے کیا مطلب، جاؤ اپنا کام کرو!”
سعادت کے لڑکی کے بارے میں پوچھنے پر تانگے والے کا سختی سے بات کرنا فطری بات ہے۔ یہ اس کی اخلاقی ذمےداری تھی۔
لڑکی تانگے والے کوڈانٹتی ہے، اور سعادت کے پوچھنے پر کہتی ہے کہ ہاں، وہ زاہدہ ہے، پھر اس سے کہتی ہے کہ تانگے میں بیٹھیے، ایک ضروری کام ہے وہ کرکے چند منٹ میں واپس آتے ہیں۔
بعد میں، تانگے والا موقع پاکر سعادت سے کہتا ہے، “اس عورت سے بچ کر رہیے______ فاحشہ ہے۔ اس کا کام ہی یہی ہے کہ شریف اور نوجوان لڑکوں کو پھانستی رہے۔ میرے تانگے میں اکثر بیٹھتی ہے۔”

اب یہاں ایک سادہ سا سوال ہے کہ تانگے والا جانتا تھا کہ وہ لڑکی فاحشہ ہے، پھر اس نے سعادت کے پوچھنے پر اس سے سختی سے بات کیوں کی؟
وہ تو اکثر اس کے تانگے میں بیٹھتی ہے اور نوجوان لڑکوں کا شکار کرتی ہے۔
تانگے والے کو یہ سب پتا تھا اسے تو پھر لڑکی کے نوجوانوں سے میل جول کا عادی ہونا چاہیے۔ اس نے جو سعادت سے سختی سے بات کی اس کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی۔”
ایک سوال اور یہ ہے کہ تانگے والے نے اس لڑکی سے غداری کیوں کی؟ وہ تو اس کی گاہک تھی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غداری منٹو کے قلم نے کروائی۔

دیکھا آپ نے______ منٹو کی حقیقت نگاری کا مظاہرہ۔
اب اس پر ایک نعرہ ہوجائے

منٹو کی حقیقت نگاری! زندہ باد!!

افسانے میں واقعات قدرتی انداز میں پیش آنے چاہییں، ان میں کوئی بناوٹ یا افسانہ نگار کا جبر نہیں ہونا چاہیے، مثال کے طور پر، منٹو کے افسانے “نیا قانون” میں افسانے کے واقعات کا بہاؤ فطری ہے۔
اب “نیا قانون” حقیقت نگاری کی ایک شان دار مثال ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ منٹو کے ہر افسانے میں حقیقت نگاری کو عزت ملی ہے۔
نہیں، ایسا نہیں ہے۔ منٹو نے حقیقت نگاری کو بڑا ذلیل بھی کیا ہے، حقیقت نگاری کو ٹھوکریں ماری ہیں اور حقیقت نگاری کو دور تک گھسیٹا ہے۔

سعادت لڑکی کی حقیقت معلوم ہونے کے بعد پارک واپس آتا ہے تو دیکھتا ہے، “جاوید ایک خوب صورت لڑکی سے محوِ گفتگو ہے۔ بڑی شرمیلی اور لجیلی ہے۔ میں جب پاس آیا تو فوراً دوپٹے سے اپنا منہ چھپا لیا۔”
اس شرمیلی اور لجیلی لڑکی کا کارنامہ آپ نے سن ہی لیا کہ ایک شارٹ نوٹس پر تنِ تنہا اپنے محبوب سے پارک میں ملنے چلی آئی۔

عرض یہ ہے کہ یہ گاؤں کی لڑکی نہیں تھی جسے گاؤں میں کہیں آنےجانے کی بڑی آزادی ہوتی ہے، اور اسے اگر نہر والے پل پر بھی بلایا جائے تو وہ نہر والے پل پر بھی جاکر مل سکتی تھی۔

یہ شہر کی لڑکی تھی جس پر اس دور میں کہیں آنے جانے پر بڑی پانبدیاں ہوتی تھیں، اور وہ خود بھی خواہ مخواہ کہیں نہیں جاتی تھی۔ یہ بھی ذہن میں رہے خود منٹو نے گواہی دی ہے کہ لڑکی بھولی بھالی اور شرمیلی تھی۔ یہ شرمیلی لڑکی ہزار مِنّتوں کے باوجود اس طرح ملنے ہرگز نہیں آتی، مگر یہ منٹو کے قلم کی سیاہی تھی جس نے زاہدہ کی سیرت کو داغ دار کر دیا۔

منٹو نے اس افسانے کا آخری پیراگراف یہ لکھا ہے، “میں (سعادت) بیٹھ گیا اور کوئی سلیقے کی بات نہیں کرسکا۔ اس لیے کہ میرے دل و دماغ پر وہ لڑکی یا عورت مسلط ہوگئی تھی جس کے متعلق تانگے والے نے بڑے خلوص سے بتایا تھا کہ فاحشہ ہے۔”

اس افسانے میں منٹو نے زاہدہ اور فاحشہ میں مشابہت تلاش کی اور دونوں کو ایک جیسا قرار دے دیا۔ یہی منٹو کا کارنامہ ہے۔ اس کے لیے منٹو کے قلم نے وہ سب کچھ کیا جو کوئی تھانے دار کسی جرم کا اقرار کروانے کے لیے کرتا ہے۔
بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی شعور ہی نہیں ہے کہ
قلم
تلوار سے زیادہ
سفّاک
اور کوبرا سے زیادہ
زہریلا
بھی ہوسکتا ہے!

یہ بھی پڑھیں: منٹو کے برے افسانے --------- ذیشان حسین
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20