میری رانی میری کہانی، ایک ایسی خودنوشت جس کا مسودہ پچاس سال گُم رہا — نعیم الرحمٰن

1

’’میری رانی میری کہانی‘‘ پاکستان کے مشہور صحافی شاہین صہبائی کے والد قدوس صہبائی کی خودنوشت ہے۔ جو خود بھی اپنے دورکے نامور صحافی اورادیب تھے۔ یہ خودنوشت سعادت حسن منٹو اور باری علیگ کے اصرار پرلکھی گئی اوراس کا مسودہ پچاس سال تک گُم رہا۔ یہ کہانی بھی اپنی جگہ بہت دلچسپ ہے۔ قدوس صہبائی ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، دادا، بھائی اور اکثر دوسرے رشتے دار انگریزی فوج میں ملازم تھے۔ والد رسالدار، داداکپتان، چچا لیفٹیننٹ، کوئی میجر، کوئی حوالدار، کوئی جمعدار۔ خود ان کو بھی فوج میں بھرتی کرایا گیا۔ کمیشن میں داخلہ بھی مل گیا مگر پاسنگ آؤٹ پریڈ سے پہلے اکیڈمی سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ وہ انگریزوں اورفوج سے سخت نفرت کرتے تھے۔ آباؤاجداد قندھارسے خالص پور ملیح آباد آئے پھر انگریز فوج میں داخل ہوکر پورے ہندوستان جاتے رہے۔ سخت ترین مذہبی ماحول تھا۔ قدوس صہبائی کو بچپن ہی میں قرآن پاک حفظ کرایا گیا۔ وہ بیس سال کی عمرتک ہرسال پورے رمضان تراویح پڑھاتے رہے۔ مگر ان سختیوں نے انہیں باغی بنا دیا۔ وہ ایک مرتبہ تراویح چھوڑ کر مسجد کی کھڑکی کود کر بھاگ کھڑے ہوئے اور ہفتوں لاپتہ رہے۔ پھر معافی تلافی ہوئی اور ان کو دوسرے شہر جاکر پڑھنے کی اجازت مل گئی۔ اپنے بارے میں وہ ایک افسانوں کی کتاب میں لکھتے ہیں۔ ’’مجھے عربی اور دینی تعلیم کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن میں ایسا خودرو تھا کہ میں نے اپنی لائن نہ چھوڑی۔ آوارگی، ناول بینی، تماش بینی، غنڈہ گردی اور تھیٹربازی جاری رکھی۔‘‘ وہ علی گڑھ چلے گئے، ابھی انٹرہی کیا تھا کہ والد صاحب کا انتقال ہوگیا اور انہیں بمبئی بھیج دیا گیا۔ جہاں انہوں نے بی اے کیا اور ساتھ ہی خلافت ہاؤس میں مولانا شوکت علی کے اخبار میں نوکری مل گئی۔ لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا اس لیے تیزی سے صحافت کے گُر سیکھتے رہے۔ پھران کی زندگی میں ایک موڑ آیا اور انہیں خاندان کے دباؤ پر بمبئی سے دورایک خوبصورت ریاست میں جانا پڑا اور وہیں یہ کہا نی شروع ہوئی۔ واپس آکر کلکتہ میں ایک اخبارکے ایڈیٹر بنے اور پھر کئی دوسرے اردو اور مسلمان اخبارات میں کام کیا۔

قدوس صہبائی نے انیس سوستر میں لکھا۔ ’’میں ابھی زندہ ہوں، کون جانے، کب زندگی کی دوڑ میں تھک ہار کر رُخ موڑ جاؤں، بہت سے محبوب دوست اورساتھی چلے گئے۔ اشتراکی ادیب باری علیگ اور دیوانہ (سعادت حسن) منٹو بھی مر گیا۔ ان دونوں نے جب زبانی یہ قصہ مجھ سے لاہور میں سنا تو اسے لکھ ڈالنے پر زور دیا تھا۔ میری بہت پیاری بیوی معصوم بھی چوبیس پچیس سال کی رفاقت کے بعد ساتھ چھوڑ گئی۔ وہ اس محبت کی عینی گواہ تھی۔ اس کی خواہش تھی کہ یہ کہانی لکھ ڈالوں مگراس کی خواہش اس کی زندگی کے ہزارہا جھمیلوں کی وجہ سے میں پوری نہ کرسکا۔ اب وہ باقی نہیں لیکن اس کی خواہش میرے ذہن پرتسلط جمائے ہوئے ہے۔ اس لیے میں دوسرے بہت سے کاموں کی تکمیل کر سکوں یانہ کرسکوں، اس کہانی کو ضرور لکھ ڈالنا چاہتا ہوں۔ انسانوں کے عجیب ارمان اور خواہشیں ہوتی ہیں اور میری اس خواہش کانعم البدل یہ ہے کہ کہانی کاغذ پرمنتقل ہوگئی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس کہانی کی تاریخی اہمیت نہیں لیکن تھوڑی افسانوی اور کافی سماجی اہمیت ضرور ہے کیوں کہ اس میں ایک زبردست سماجی مسئلہ سامنے آیا ہے جو شاید برصغیرمیں ابھی نصف صدی تک حل نہ ہوسکے گا۔ یہ ایک رومان ہے جیسے عام رومان ہوسکتے ہیں لیکن حقیقی رومان ہونے کی وجہ سے اس کی کچھ نہ کچھ اہمیت ہے۔ میں بیسیوں بارروپ متی کے محل میں گیا ہوں اور اس کی مشہور اور لازوال محبت کے نقوش میں نے اس تاریخی محل کے ہرطاق پر کندہ دیکھے ہیں اور میری اس کہانی کا کردار مہارانی وجے روپ ہے۔ ممکن ہے اپنے چھتیس گڑھ کے شیش محل میں اس محبت کے نقوش نہ چھوڑ سکے لیکن اس کا کردار بھی میری اس کہانی لکھے جانے کے بعد بہت دن زندہ رہے گا۔‘‘

شاہین صہبائی نے کتاب میں ’’اس کہانی کی کہانی‘‘ کے عنوان سے لکھاہے۔ ’’یہ کتاب اوریہ کہانی نہ صرف ایک ادبی اور افسانوی موضوع ہے بلکہ میرے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ مجھے خوداپنی زندگی، اپنے والد، خاندان، اپنی جڑوں اور پورے وجود کا مطلب مختلف طرح سے سمجھا تی ہے۔ اب سمجھ میں آرہاہے کہ بہت سی باتیں اور عادتیں میرے کردار میں کہاں سے آئی ہیں، والدصاحب نے جو واقعات بیان کیے اور جس ان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آئے، میں پڑھ کر دنگ رہ گیا۔ قیام پاکستان کے قریب ہم سب بمبئی سے لاہورآگئے، جہاں ادبی حلقوں میں ان کے دوستوں میں منٹو، حمید اختر، احمد ندیم قاسمی، ان کے کزن ڈان کے ایڈیٹراحمدعلی خان ان کی بیگم حاجرہ مسروراورباری علیگ شامل تھے۔ انہوں نے لکھا کہ ’جب یہ قصہ منٹو اور باری نے مجھ سے سنا تو اسے لکھنے پرزوردیا۔ تب ہی انہوں نے اس کتاب کو لکھنا شروع کیا۔‘ والد مجھے بھی صحافت کی ٹریننگ دے رہے تھے، تو 1964ء میں والدہ کے انتقال کے بعدمیں نے بھی صحافت شروع کردی۔ 1973ء میں والد صاحب نے اس کتاب کو مکمل کرلیا اور اس کی مضبوط جلد بنوا کر اسے محفوظ کردیا۔ انہوں نے مجھے یا کسی اور کو نہیں بتایا کہ کتاب میں کیا لکھا ہے اور اس کاکیاکرناہے۔ 1972ء میں میری شادی ہوگئی اور دوسال بعد میں ملک سے باہر چلاگیا۔ والد صاحب کو کراچی میں گھر دلا دیا۔ اس نقل مکانی میں کتاب گُم ہوگئی۔ ہم نوے میں اسلام آباد اور پچیانوے میں ڈان کی طرف سے واشنگٹن آگئے۔ انیس سوتہترسے دو ہزارپندرہ تک کسی کو اس مسودہ کا کچھ پتا نہیں تھا وہ کہاں ہے اوراس میں کیا لکھاہے۔ پھرخوش قسمتی سے کسی طرح بہنوں اور ان کے بچوں کے سامان سے کتاب برآمد ہوئی۔ اکثردوستوں نے اس کتاب کونہ چھپوانے کامشورہ دیاکہ اس میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جوآج کل ہر ادیب، شاعر یا صحافی اپنے اور خاندان کے بارے میں لکھنے سے کتراتاہے۔ یہ دماغ کو ہلانے والی کہانی والدنے آپ بیتی کے طور پر لکھی ہے۔ اس کامرکزی کردار وہ خود ہیں اور انگریزوں کے دور کی ہندو ریاست کی انتہائی خوبصورت نوجوان پڑھی لکھی اور آزاد خیال مہارانی سے ان کابرسوں چلنے والا افیئر اس کتاب کی مرکزی کہانی ہے، جو انیس سو چھیالیس میں ایک ایسے انجام کوپہنچ جاتی ہے جس کا کوئی تصوربھی نہیں کرسکتا۔ ایسے ایسے موڑ اور تبدیلی اتنی سرعت سے آتی ہے کہ سرگھوم جاتاہے۔ والدصاحب کے مطابق رانی وجے روپ کی تصویران کے گھر ہمیشہ سامنے رکھی رہی اور ان کی اور رانی کی آخری ملاقات، جس میں میری والدہ اوربڑی بہن بھی موجود تھیں، رانی نے کچھ تحفے بھی دیے، لیکن ہجرت اور اس انقلاب میں یہ قیمتی چیزیں گم ہوگئیں۔ ویسے تویہ رومانی داستان ہے لیکن اس میں کئی ایسے موڑ آتے ہیں جو بڑے خوفناک ہوسکتے تھے۔ ایک موقع پر اگر لوگ عقل سے کام نہ لیتے تو ہندو مسلم فسادات ہوسکتے تھے۔‘‘

’’میری رانی میری کہانی‘‘ کے ابتدائیہ میں قدوس صہبائی لکھتے ہیں۔ ’’میں ایک دنیا دار آدمی ہوں، میری بہت پیاری اور معصوم بیوی جس سے مجھے بیحد پیار تھا، اب زندہ نہیں، اب میرے بچے جوان ہیں اور مجھے ہر قسم کی ذمہ داریوں سے سابقہ پڑتاہے، لیکن یہ سرگزشت جوان ہے۔ یہ کہانی خوابوں کے دنوں کی کہانی ہے۔ یہ میرے اعترافِ شکست کی کہانی ہے اور میری ذات اگرخارج کردی جائے تو پھر یہ کہانی کسی قابل نہ رہے گی لیکن میری ذات کی مرکزیت کے باوجود نہ یہ خصوصیت سے صحافت کی داستان ہے نہ ادب کی تاریخ، نہ فلمی کہانیوں کی طرح ڈرامے میں ملوث ہے، نہ اسلامی ناول ہے، نہ ہندو ناول لیکن یہ محبت کی کہانی ہے اورسب کچھ ہے لیکن اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ محبت نہ ہندوہوی ہے نہ مسلمان۔ محبت کی اس کہانی پیس منظر اور پیش منظرمیں کچھ کردار ابھرتے ہیں۔ میرا زندہ کردار موجود ہے، دوسرے بھی اصلی ہیں البتہ بہت سے نام تبدیل کردیے ہیں۔ لاکھوں مربع میل کے ایک علاقے کا نام بھی اصلی ہے۔ یہ ایک ایسا غیر متمدن علاقہ تھا جہاں انسان کی قدروقیمت خس وخاشاک سے زیادہ نہ تھی۔ ہندی سماج کی قدامت پرستی اور معاشرتی ظلم وتشددکاسب سے بڑا قلعہ تصور کیاجاتاتھا۔ انگریزاس سماجی نظام کو بدلنے کی ہمت افزائی نہ کرتے تھے۔ راجوں، مہاراجوں اور رانیوں کووہاں کے اصلی باشندے کوزرعی غلاموں سے زیادہ حیثیت نہ رکھتے تھے، پرماتما کا اوتار اور مافوق البشر ہستیاں تصورکرتے تھے۔ اصلی باشندے سارے انسانی حقوق سے محروم تھے اورمیں اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ ایک انسان کو ہزارہا انسان سجدہ ریز ہوکر تعظیم دیتے تھے۔ یہ علاقہ چھتیس گڑھ تھاجس میں درجنوں ریاستیں تھیں۔ اس کی سرحد مختلف ہندوستانی صوبوں سے ملتی تھی اور ان ریاستوں میں صرف حاکم طبقے کے گنے چنے افراد خدائی اختیارات رکھتے تھے۔ میری کہانی کا دوسرا کردار ’مہارانی وجے روپ‘ تھی یہ الجھا ہوا مگر زبردست کردار اس عورت کا ہے جس سے میں نے اورجس نے مجھ سے بھرپور محبت کی ہے۔ اب مجھے کچھ علم نہیں کہ وہ کہاں ہے مگر وہ اپنے سماج کی ظالمانہ روایات سے بغاوت کرنا چاہتی تھی لیکن اسکے دل و ضمیر اتنے طاقتور نہ تھے وہ اس بغاوت کو کامیاب بناسکتی۔ وہ شکست کھا گئی اور اس کی شکست نے مجھے بھی شکست دیدی۔‘‘

قدوس صہبائی کی آپ بیتی کا ابتدائی باب تعارفی ہے۔ دوسرے باب سے وجے روپ کہانی میں شامل ہوجاتی ہے اور جس مرحلے میں یہ عظیم کردار، وجے روپ کی ذات اس میں داخل ہوتی ہے قاری اس مقام تک پہنچ کرکہانی کو ختم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس سادہ کہانی کانقطہ ء عروج بہت کم عرصے میں حاصل ہوا اور نقطہء زوال کسی رقیب کی نذر نہیں ہوا۔ کیونکہ اس محبت میں ایک بہت بڑی پوری قوم کی رقابت کاڈر تھا۔ اگریہ مخصوص رقابت دوسری بڑی قوم کے خلاف نشوونما پاجاتی تو بڑا الم ناک حشرہوتا۔ ایسی ہرکہانی دو سادہ دلوں کے ملاپ میں قوموں کے باہمی رشک و رقابت نے جگہ لے لی اور محبت کرنے والے پس منظرمیں چلے گئے اور دو قومیں خنجربکف ہوکر دنوں بلکہ مہینوں میدانِ کار زارمیں صف آرا رہیں۔ یہ کہانی اگر کامیاب محبت کے انجام کی شکل اختیار کرلیتی۔ اس بارے میں قدوس صاحب کا کہنا ہے۔ ’’مجھے یقین ہے کہ میں سینکڑوں ہم مذہبوں کو شہیدانِ اسلام کی صف میں شامل کراچکا ہوتا اور تاریخ میں اپنانام چھوڑ جاتا لیکن مجھے تاریخ میں اپنا نام و نشان چھوڑ جانے کی نہ پہلے امید و آرزو تھی، نہ آج ہے۔ نہ کہانی کے دوسرے کردار مہارانی وجے روپ ک واس کا ارمان تھا۔‘‘

خودنوشت کے پہلے باب سے عیاں ہے کہ صحافت کا عام لوگوں کی نظرمیں کیا مقام تھا۔ 1936ء میں جب قدوس صاحب ’مدینہ‘ بجنور کے مدیرمعاون تھے۔ ان کے ایک بزرگ نے انہیں مشفقانہ خط لکھا جس میں انہیں ارسطو اور افلاطون کا ہمسر گردانا۔ وہ انگریزوں کے خلاف مگر ریاستی فرمارواؤں کے غلامِ بے دام تھے۔ وہ قدوس صاحب کو پسندکرتے تھے لیکن صحافت، ادب اور شاعرہ لوسخت ناپسند۔ انہوں نے طویل خط میں پیش کش کی کہ اگروہ ان کی نصیحت پرعمل کے لیے تیار ہیں تو وہ دوہزار ایکڑ زمین، ایک گاؤں کی مستاجری، دیہات کے دو عمدہ بنگلے، نوکر چاکر، تین رائفلیں اور روپے پیسے دیں گے اور انہیں اپنی فرزندی میں قبول کرلیں گے۔ ان کی صرف دو لڑکیاں تھیں مہ جبین اورمہ لقا۔ مہ جبین کی شادی ہوچکی تھی مہ لقاان کی بن سکتی تھی۔ جو اسم بامسمیٰ اور شاید خوبصورت ترین لڑکیوں میں سے ایک تھی۔ لیکن وہ زیور تعلیم سے آراستہ نہ تھی۔ ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قدوس صہبائی نے بزرگ کی پیش کش بلاتامل منظور کرلی۔ ایک ہفتے میں اخبارسے استعفیٰ دیکر بھوپال پہنچ گئے۔ نسبت پکی ہوگئی۔ شادی بھی جلد ہوجانا تھی۔ لیکن قسمت کویہ منظور نہ تھا۔ قدوس صاحب ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہوگئے۔ جو ان دنوں وباکی صورت اختیار کرگیا تھا۔ ہونے والے ساس اور سسر نے ان کی خدمت، علاج اور تیمارداری میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ صحت یابی کے بعد انہیں چھتیس گڑھ کے صحت افزا مقام پر بھیج دیا جہاں ان کے ایک بھائی اور قدوس کے برادرنسبتی ایک ریاست کے دیوان تھے۔

یہیں سے مہارانی وجے روپ کہانی میں داخل ہوتی ہے۔ وجے روپ محبت کے معاملے میں بہت بدنصیب تھی۔ انتہائی حسین ہونے کی وجہ سے ریاست کے باشندے اسے اپسرا اورآسمانی حورکہتے تھے۔ وہ ایک بڑی ریاست کے وزیر دربار اور بڑے جاگیردارکی بیٹی تھی۔ دوبڑی بہنوں کی شادی ہوچکی تھی۔ مغربی ملکوں کی تعلیم سے باپ کے اندر قدامت پسندانہ روشن خیالی پیداکردی۔ اس نے بیٹیوں کی شادی ان کی پسند اوررضامندکے بغیرنہیں کی تھی۔ تینوں بہنیں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔ ایک گریجویٹ اور دوانے انگلستان سے سینئرکیمبرج کیاتھا۔ وجے روپ نے بھی انگلینڈ سے تعلیم حاصل کی تھی۔ چھتیس گڑھ کا نوجوان مہاراجا اس کے دامِ الفت میں گرفتارہوگیا۔ وہ شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ لیکن مغربی ممالک سے تعلیم وتربیت یافتہ تھا۔ نوجوان مہاراجا نے وجے روپ کادل جیت لیا اور اس نے وجے روپ کی یہ شرط بھی پوری کردی کہ پہلی مہارانی اجازت دے اورخود بھی دوسری شادی میں شریک ہو۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایسی دھوم دھام کی شادی چھتیس گڑھ کی تاریخ میں کبھی دیکھی سنی نہیں گئی۔ لیکن وجے روپ کی شادی کے سولہ سترہ ماہ بعد ہی مہاراجا موٹر ڈرائیوکرتے ہوئے مہلک حادثے میں ہلاک ہوگیا اور مہارانی کی پہلی محبت جو دور و نزدیک ضرب المثل بن چکی تھی ایسی ٹریجڈی میں بدل گئی جس کاذکر برسوں چھتیس گڑھ کی تاریخ میں کیا جاتا رہا۔

قدوس صہبائی جب چھتیس گڑھ پہنچے تومہاراجاکی موت کوپونے دوسال گزرچکے تھے۔ نوجوان مہارانی چھوٹے سے شیش محل کے ایک حصے میں رہتی تھی اورزیادہ تراس پہاڑی ریاست کے حسین علاقوں میں ایک رشکِ حور آسمانی مخلوق کی مانند تنہا گھومتی اورڈرائیوکرتی رہتی تھی اس عالم ِ سوگواری میں اس کی روح کو گھنے جنگل، پہاڑ، دریا، چشمے، آبشار اور گھنی سرسبز وادیاں ہی کچھ تسکین بہم پہنچاتی تھیں۔ ریاست کے عام باشندے اسے مہارانی کے علاوہ ایک مافوق البشر ہستی بھی تصورکرنے لگے تھے۔ وہ گھنٹوں ان سے باتیں کرتی لیکن وہ اس کے سامنے اس طرح مودب رہتے گویا وہ ایک عظیم مندرکی دیوی ہے۔ تنہاجنگلوں میں خونخواردرندوں سے بھی خوفزدہ نہ ہوتی تھی۔ بیسیوں بار شیروں، ارنے بھینسوں اور ریچھوں کادوسرے درندوں سے مڈبھیڑ ہوئی، کبھی کبھار ان پر فائر بھی کیے لیکن اسے کوئی گزند نہ پہنچ سکی۔

محبت کی ناکامی خواہ بے وفائی کے سبب ہویاکسی حادثے کی وجہ سے یامحبوب کی موت نے چاہنے والے کو غم و اندوہ میں ڈبو دیا ہو، لیکن اس ناکامی سے انسانوں میں عجیب عجیب روعمل پیداکیے ہیں۔ محبت کی تاریخ ایسے سینکڑوں رومانی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ بطورصحافی قدوس صاحب نے رشتے کی بہن اوردیوان صاحب کی بیوی سے معلومات حاصل کیں۔ جنہوں نے مہارانی اورمہاراجاکی بڑی ہی رنگین کہانی سنائی۔ شادی ان کے سامنے ہوئی تھی اور پھر انتہائی غم و الم اور شدید کرب کے ساتھ مہاراجا کے مہلک حادثے کا افسانہ دوہرایا۔

مہاراجا کے خاندان میں کوئی قریبی مردرشتہ دارموجود نہ تھا۔ اس کی ماں اب تک زندہ تھی اور ریاست میں اس کا بڑا رعب داب قام تھا لیکن وہ پڑھی لکھی نہ تھی اس لیے روایتوں کی غلام تھی۔ عام رعایاکے لیے وہ سنگدلی کامجسمہ تھی اور اسے روایتی حکمرانوں کی طر ح یقین تھاکہ جنگلی قبا ئل اور کھیت مزدور راجوں اور افسران کے غلام ہیں اوران کی زندگی کا مقصدصرف حاکموں کی خدمت اور اطاعت گزاری ہے۔ وہ مہارانی وجے روپ کے رویے سے سخت خوفزدہ تھی لیکن عام لوگوں کے عقیدے سے متاثر ہوکر وہ بھی مہارانی کو پراسرار سمجھنے لگی تھی اوراس کے مشاغل میں مخل نہ ہوتی تھی۔

وہ کلب لائبریری سے عمدہ کتابیں پڑھتے اور اکثرکار میں شکارکے لیے ملیوں دورنکل جاتے۔ جنگلوں میں گھومتے پھرتے قدوس صہبائی کی وجے روپ سے چند ملاقاتیں ہوئیں اوروہ اس کے عشق میں گرفتا رہو گئے۔ مہارانی نے انہیں جانوروں کے شکارسے گریز کامشورہ دیا اور دیوان صاحب سے بھی کہا۔ ’’دیوان صاحب آپ کے بھائی کومیں نے شکارکی وہ برائیاں سمجھانے کی کوشش کی ہے جودوسرے لوگوں کے سامنے بھی بیان کرتی ہوں۔ میں جانوروں کوہلاک کرنے کے خلاف ہوں شایدآپ کے بھائی جوبڑے شکاری ہیں، ان باتوں کااثرلے سکیں۔‘‘

اس واقعہ نے قدوس صاحب کادل شکارسے اچاٹ ہوگیا۔ تاہم مہارانی سے ملاقاتیں جاری رہیں۔ وہ سوچتے مہاراجا کی محبت میں سرشار وجے روپ کے لیے ایک مسلمان اجنبی کی کیا حیثیت ہے۔ مہارانی کے لطف وکرم کے متعلق جتنا سوچتے الجھ کررہ جاتے، یہ سب ایک مہمان اخبار نویس تعلیم یافتہ انسان کے لیے تھا۔ بہرحال کچھ عرصہ بعد مہارانی نے انہیں مہابن میں ملاقات کی دعوت دی۔ جہاں وہ قیامت بن کرآئی۔ حسن بے پناہ کواس روپ میں دیکھ کرمصنف دل تھام کر رہ گیا۔ انہیں ایک ادیب کا مقولہ یاد آیا کہ جو عورت محبت نہیں کرنا چاہتی وہ پہلی ملاقات میں اپنے عاشق کا دل توڑ دیتی ہے مگر وجے روپ نے ان کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا۔ اس کے استفسارپرانہوں نے مہ لقا سے ممکنہ شادی کے بارے میں بتایا کہ اس کامقصد انہیں اخبارنویسی سے ہٹاناہے اورانہیں بیوی کے ساتھ بہت سی دولت، زمین، باغ، نوکر چاکر ملیں گے۔ قدوس صہبائی نے کہا۔ پچھلی بارمہابن میں آپ نے اعتراف کیاتھاکہ دوسال بعد آپ نے قہقہہ لگایا ہے اور میں خوش قسمت ہوں کسی نہ کسی طرح آج پھر آپ کو ہنسایا۔ آپ کی یہ ہنستی ہوئی تصویر ایک روپ ہے اور غم والم میں ڈوبا پیکر دوسرا روپ۔ مگر آپ کا نام وجے روپ ہے۔ روپ کی فتح ہونی چاہیے غم والم، آہ و زاری سے روپ کو بیر ہونا چاہیے۔ وجے روپ کا ہاتھ تھام کر کہا میں اسے اب نہ چھوڑوں گا۔ میں اب تمہیں رنج والم کے سیاہ بادلوں میں واپس نہ جانے دوں گا۔ پھرآہستہ سے ہیرے کی وہ انگوٹھی جو کلکتے سے لائے تھے اس کی انگلی میں پہنادی۔ روپ، یہ میرے پیار کی نشانی ہے۔ میں آج اتناخوش ہوں کہ اپنی پوری زندگی میں کبھی اتناخوش نہ ہوسکاتھا۔ اس نے انگوٹھی کو غور سے دیکھا اور چوم لیا۔ ا س نے کہا۔ میں مجبور ہوگئی ہوں، میں بھی تمہیں چاہتی ہوں۔ پیارکی یہ نشانی جیتے جی میری انگلی میں رہے گی۔ تم بڑے ظالم اور بڑے پیارے انسان ہو، جادوگرہو۔ کیوں کہ تم نے ایسادل جیت لیاہے جس سے مقابلے کی کسی دل کوہمت نہ ہو تی تھی۔ تم خداجانے کیاکروگے مگرمیں ایک بہت بڑے، بہت ڈراؤنے خارزار میں پھنس کر رہ جاؤں گی۔ خداجانے آگے کیا ہوگا؟‘‘

مہارانی وجے روپ کے اعترافِ محبت کے بعداصل کشمکش شروع ہوئی۔ ایک ہندوریاست کی مہارانی کامعمولی مسلمان اخبار نویس سے پیارکسی طرح قابل ِ قبول نہ تھا۔ ایک ایسی صورتحال جس میں ہندو مسلم فسادکی صورت ہزارہاانسانوں کی ہلاکت کاخدشہ تھا۔ اس صورتحال میں دونوں نے اپنی محبت کی کامیابی پر انسانی جانوں کی بقا کو ترجیح دی۔ قدوس صہبائی نے شادی کرلی۔ وہ اپنی بیوی اوربیٹی کے ساتھ بھی وجے روپ سے آخری بارملے۔ یہ سب کچھ انتہائی دلچسپ اور حیرت انگیز داستان ہے۔ جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ’’میری رانی، میری کہانی‘‘ بیحد دلچسپ، قابل مطالعہ اور یکسر مختلف خودنوشت ہے۔ جسے پڑھنے والاکبھی بھول نہ پائے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20