جون اپنے اشعار میں زندہ ہے —- گل ساج

0

فِکر مر جائے تو پھر جون کا ماتم کرنا
ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی۔۔

فقیر “گُلساج” جون ایلیا سے متعارف ہوا، جب یہ شعر پڑھا۔

“زندگی کس طرح بسر ہوگی
دِل نہیں لگ رہا محبت میں”

مُحبت کچھ نہیں تھی جُز بدحواسی۔۔
کہ وہ بندِ قبا کُھلا ہی نہیں

سسپنس ڈائجسٹ کے ابتدائی صفحات پہ جون کا اِنشائیہ چھپتا تھا۔
کم عمری، اوپر سے مزاج میں لاابالی پن اور اسقدر پیچیدہ و گُنجلک اردو۔۔ مضمون پیچ درپیچ، مگر بے شک دماغ سوزی کرنا پڑتی پڑھتا ضرور تھا۔۔
پھر شعر و ادب، کتاب سے رشتہ ٹوٹ گیا۔۔
بس یہ یاد رہا کہ جون بےمِثل شاعر ہے، جس سے بچپن میں تعلق جُڑا۔۔

کچھ دن قبل ایک دوست نے مجھے جون کی مشاعرہ پڑھتے ویڈیوز وٹس اپ کیں مگر میں بوجوہ نہ دیکھ سکا۔۔
ایک رات اُسی دوست نے لیپ ٹاپ پہ وہی ویڈیوز دکھائیں سنائیں۔
تو کُھلا کے جون کو سُننا جون کو پڑھنے سے کئی درجہ سرورآگیں ہے۔
تمام رات جون کو دیکھتے رہے سنتے رہے، سردُھنتے رہے۔
جون کو خوب علم تھا کہ وہ کیا شعر پڑھ رہا ہے، جنہیں علم نہیں انہیں جون اپنے انداز، و اطوار سے ادا سے خوب باور کرا دیتا یے کہ میرے شعر کی قدر و منزلت کیا ہے۔

“جون ایلیا کو بچھڑے اٹھارہ برس بیت گئیے”

جانی!! کیا آج میری برسی ہے
یعنی کہ آج مر گیا تھا میں؟
یہ استہفامیہ باور کرتا ہے کہ جون کو علم تھا کہ بدن کی ظاہری موت سے وہ مرے گا نہیں۔۔۔اپنے اشعار میں اپنے معیار میں ہمیش زندہ رہے گا۔

نثر کے بعد جون ایلیا کے فنِ شاعری سے اس شعر سے متعارف ہوا کہ درحقیقت وہ شعر میری دلی کیفیت کی غمازی کر رہا تھا.
اُس بیتی کی ترجمانی اس شعر سے بہتر ہو نہیں سکتی تھی۔

“کیا غضب ہے کہ تیری صورت بھی
غور کرنے پہ یاد آتی ہے۔۔۔۔۔۔””‘

گرچہ وارداتِ قلبی کے باوصف یہ شعر دل کو چُھوا مگر
اس سے بہتر محبتوں کی حقیقت کا اظہار ممکن نہیں۔
وہ یوں کہ وہ پری زاد پیکرِ رعنائی جسکی محبت سےدل کا صنم خانہ آباد ہوتا ہے، جس سے ہم بے تحاشا محبت کرتے ہیں گردشِ ایام میں بارہا وہ صورتیں فراموش ہو جاتی ہے اُسے یاد کرنے کے لئیے ہمیں کئی جتن کرنے پڑتے ہیں۔۔۔
یہ کہناغلط ہے کہ محبت نہیں رہی تبھی شکلیں بھول گئیں
ایسا بھی ہوتا ہے کہ دل محبت سے معمور ہوتا ہے اور آنکھ کے قرنیے سے صورت اُتر جاتی ہے۔۔
یقین مانئیے
کئی بار ایسا ہوتا کہ ہم “اُس ” کا چہرہ یاد کرنے کے لئیے کئی جتن کرتے ہیں۔
آنکھیں بند کر کے اسکے پیرہن کا رنگ، اس پہ کڑھے ہوئے پھول، لہراتی زلفوں، اسکا لہجہ، اسکا انداز، وہ درخت جسکے تنے سے ٹیک لگائے تھی وہ ماحول جسمیں ہم ملے تھے یہ سب تصورمیں لانا پڑتا ہے۔
ان تمام چیزوں کے بیچوں بیچ اچانک اسکا چہرہ بھی ذہن کی سکرین پہ جگمگانے لگتا بس پھر ہم اُس لمحے کو ذہن کے کینوس میں قید کر لیتے ہیں جس لمحے اُسکا چہرہ نقش آویز ہوتا۔۔۔
جون ایلیا نے اس شعر میں یہ تمام کیفیت بیان کر دی گئی ہے۔
بس یہاں سے جون سے محبت کا اغاز ہوا، پھر چل سو چل۔
جون کے کلام میں انسان کی اپنی اندرون شخصیت کی جھلک ملتی ہے۔
جون نے انسانی نفسیات جذبات احساسات کے وہ دریچے وا کئیے ہیں جو اس سے پہلے شاعری میں (نثر میں نہیں) شجرِ ممنوعہ تھے۔

فقیر کا جون پہ لکھنے لکھانے کا یارا نہیں پھر جون خود کہتا ہے
”جانی !!
اگر کہیں مجھ سے محبت کرنے والے جمع ہوں تو تیرا صرف ایک کام ہے، انھیں میرے شعر سنانا، جیسے تُو میرے شعر پڑھتا ہے، ویسے انھیں کوئی نہیں سنا سکتا۔
تیرا جون مقالوں کا موضوع نہیں ہے۔
مقالہ نگاروں کے لیے تو جون ایلیا ہمیشہ ایک مسئلہ شاعر رہے گا۔
انھیں اس مسئلے سے اُلجھنے دے تُو میرے شعر سنایا کر۔
میں اپنی شاعری میں زندہ ہوں اسے زندہ رکھ تو سمجھ کہ میں زندہ رہوں گا”
تو دوستو !!
جون کو اسکے اشعار میں زندہ کرتے ہیں۔
بے کیفی و بے دلی بے رنگی و بیزاری دل کا خوبصورت بیان سنئیے۔

“کل دوپہر عجیب سی اک بے دلی رہی
بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں”

آہ خلوت کے دلنشں لمحات میں محبوب کے اقرار ا انکار کی غمازی
“یہ حشرِ ناز کہ بس، اور یہ تیز تیز نفس
تمہیں سیلقہٴ انکار تک نہیں آتا”

اپنے اندر کے سکوت سے خلاء سے گھبرا کے انسان اسکے الٹ کرتا ہے
“مستقل بولتا ہی رہتا ہوں
کتنا خاموش ہوں میں اندر سے”

ارررررے سنئیے جون کیا کہتا ہے۔

“مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا؟
کیا کہا؟ عشق جاودانی ہے
آخری بار مل رہی ہو کیا؟”

جو لوگ عشقِ مجازی میں عشقِ حقیقی کا عکس ڈھھونڈتے ہیں وہ جھوٹے اور منافق تو نہیں مگر خود فریبی میں ضرور مبتلا ہیں۔۔
جون منافق نہیں تبھی بول اٹھا۔

“عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں
چیختا ہوں بدن کی عُسرت میں
وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں
اُس سے کیا گفتگو ہو خلوت میں”

شعر سنیئے اور سر دھُنئیے۔
“تم میری اک خود مستی ہو، میں ہوں تمہاری خود بینی
قصے میں اس عشق کے ہم تم، دونوں بے بنیاد ہوئے”

کوئی دَم چَین پڑ جاتا مجھے بھی​
مگر میں خُود سے دَم بھر کو جُدا نہںں
​محبت کچھ نہ تھی جُز بدحواسی​
کہ وہ بندِ قبا، ہم سے کُھلا نہیں
وہ خُوشبو مجھ سے بچھڑی تھی یہ کہہ کر​
منانا سب کو، پر اب روٹھنا نہیں”

مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈھنے کی نہ تھی
مجھ میں کھویا رہا خدا میرا۔۔

اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو
وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی۔۔۔

بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا ؟

حاصل کن ہے یہ جہان خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال
جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے۔۔۔

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

جون کو مرنے سے، موت سے بے پناہ نفرت تھی وہ مُردہ کہلوانا پسند نہیں کرتا۔۔
ایسے لوگ کبھی مرتے بھی نہیں۔۔۔جب تک شعر زندہ ہے جون زندہ رہے گا۔۔

اسکے خیال کی نمود۔۔ عہد بہ عہد جاوداں
بس یہ کہو کہ جون ہے، یہ نہ کہو کہ مر گیا

یہ بھی پڑھیں: افراط و تفریط کے نرغے میں گھرا جون ایلیا - عزیز ابن الحسن
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20